Chitral Times

Jul 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے مخصوص مقامات کی لوک تاریخ( 14قسط) – تحریر: پروفیسر اسرار الدین 

شیئر کریں:

چترال کے مخصوص مقامات کی لوک تاریخ( 14قسط) – تحریر: پروفیسر اسرار الدین

3۔ چترال خاص یا چترال ٹاون۔ 
تعارف: چترال خاص یا چترال ٹاون پہلے تمام چترال کا صدر مقام تھا۔اب لوئر(Lower) چترال کا ہیڈکوارٹر ہے۔1992ء میں اس کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا گیا۔اس وقت یہ ٹاون 10وارڈ (Wards) پرمشتمل تھا جسمیں کل56دیہات شامل تھے۔جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
وارڈدیہات کے نام
1) خورکشان دہ: خورکشاندہ۔مستجاپان دہ
2) شیاقوٹیک: اوچشٹ،بالاحصار،مختون آباد،بکامک،ڈوم شوغور،شیاقوٹیک،پانجی کوٹی،سکاوٹ چھاونی
3) ہون: ہون،اڑیان،موڑدہ،توردہ
4) ژانگ بازار: ژانگ بازار،ٹھنگ شین،مغلان دہ، ڈانگریکان دہ۔
5) گولدور: چترال،گولدور،بازار،زرگراندہ،نوغور
6) ریحان کوٹ: ریحان کوٹ،شالدین،چیوڈوک،کڑوپ رشت،برموغلشٹ،بلچ بالا اور پائین۔
7) سنگور: شاہمراندہ۔میران دہ،لوٹ دہ،گانکورینی۔
8) دنین: شان گول،لشٹ،گزان دہ،گولوغ،دنین گول
9) ژوغور: گہتک،شاڈوک،استادان دہ،اخونزادان دہ،بپان دہ،ٹھینگ،شوتار،ژوغورلشٹ،رضان دہ،ژوغور خاص،گولوغو ٹک۔
10) بکرآباد: شین ژوغور،ہنجال،شوت،گولدور،ژوغور گول،بکرآباد پائین وبالا۔
2018ء کی مردم شماری کے مطابق ان دیہات پرمشتمل چترال ٹاون کی آبادی49784بنتی ہے۔گذشتہ کئی سالوں کے دوران شمال کی طرف چترال یونیورسٹی کی سین لشٹ میں تعمیر کی وجہ سے چترال ٹاون وہاں تک پھیل گیا ہے۔اسلئے دولومچ اورسین  لشٹ بھی آئیندہ جاکے چترال ٹاون میں شامل کئے جاسکتے ہیں۔اس طرح یہاں کی آبادی 50ہزار سے تجاوزکرجائے گی۔
چترال ٹاون لمبوتری شکل میں شمال سے جنوب کی طرف دریاے چترال کے ساتھ پھیلاہوا ہے۔(دیکھئے نقشہ ).اسکی لمبائی تقریباً آٹھ میل اور چوڑائی ایک اورڈیڑھ میل کے درمیان ہے۔تمام ٹاون آبی ساختہ چبوتروں (Alluvial fans) پرآباد ہے۔جن کے نام دنین،سنگور بلچ،ژوغور،چترال خاص اور سین لشٹ ہیں۔ان کے علاوہ تین بلند چبوترے
(Terraces)
دولومچ،بکرآباداوربیرموغلشٹ ہیں جوٹاون کوشمال،مغرب اور جنوب میں گھیرے ہوئے ہیں۔دریاے چترال بل کھاتا ہوا اسکے شمال سے جنوب کی طرف بہتا ہے اور یہاں کے دیہات کو مشرقی اور غربی اطراف میں دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
چترال ٹاون کے وجود میں آنے کی وجوہات
(1) پہاڑوں کی تنگ وادیوں میں ایک کھلا زرخیز وسیع میدان،
(3) چترال گول،ژوغورگول،دنین گول وغیرہ نالوں میں سدا بہنے والے پانی کے وسائل پر دریاسے نہروں کے ذریعے بعض حصوں کی سیرابی۔
(3) شمال۔شمال مغرب اور جنوب کے سنگم پر اس کا محل وقوع۔
 تاریخی پس منظر : چترال کی معلوم تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مقام کافی زمانے سے اہم حیثیت کامالک رہا ہے۔1320ء تک یہ کالاش حکمرانوں کا پایہ تحت رہا،روایات کے مطابق ان کا قلعہ بالاحصار(اوچشٹ)میں واقع تھا۔اس وقت بالائی چترال پرکٹورحکمرانوں کی حکومت  تھی ۔جبکہ زیرین چترال مختلف کلاش حکمرانوں میں تقسیم تھا۔ بلہے سنگھ آخری کلاش بادشاہ تھا۔ جسکے ماتحت کاری (یا برے نس ) سے بروز کا علاقہ تھا۔ 1320ء میں ریئس خاندان کا بادشاہ شاہ نادر نے یہ علاقہ ان سے چھین لئے۔چترال خاص ابلہے سنگھ کا پایہ تحت رہاتھا۔اور بالاحصار میں ان کابڑا قلعہ تھا جسکو شاہ نادر رئیس نے مسمار کردیا۔اس نے ژانگ بازار میں اپنی رہائش گاہ قائم کی۔ روایت کے مطابق یہاں پرقلعہ بھی قائم کیا تھا جسکے ساتھ بازار اور مسجد بھی واقع تھے۔سولویں صدی کے وسط میں شاہ ناصر رئیس نے کالاشوں کو شکست دینے کے بعد تمام لوئر چترال تک اپنی سلطنت پھیلادی۔اس نے بھی چترال خاص کو اپنا پایہ تحت رکھا اور ژانگ بازار کے قلعے میں قیام پذیر رہا ہوگا۔بعد میں کٹور دور میں (پروفیسر ممتاز حسین کے مطابق)1850میں موجودہ مقام پرشاہی قلعہ کاابتدائی حصہ تعمیر ہوا۔تاریخ چترال کے مطابق شاہ کٹور ثانی (1788تا1838تک)نے ژانگ بازار کی مسجد تعمیر کی تھی۔اس کے دور حکومت میں کافی ترقیاتی کام ہوئے تھے۔جن میں چترال گول سے نہرنکال کربلچ کوآباد کرنے اور سڑکیں بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔ان کے بعد تاحال چترال خاص اس تمام علاقے کا پایہ تحت رہا ہے۔اس طرح کم از کم گذشتہ ایک ہزار سالوں کے دوران چترال خاص کی اس تمام علاقے میں نمایاں حیثیت رہا ہے۔پروفیسر مارگنسٹین جو بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں یہاں آئے تھے۔چترال خاص کے بارے میں یوں لکھتے ہیں۔۔
تمام گذرگاہیں گردونواح کے علاقوں سے دوراہ درہ اور بروغیل درہ سے آکے چترال خاص سے گذر تے ہیں اور یہاں سے آگے افغانستان اور برصغیر کی طرف نکل جاتے ہیں۔اسوجہ سے گذشتہ زمانوں میں یہ مقام ان علاقوں کے لئے اہم تجارتی مرکز رہا ہے۔زیادہ عرصہ نہیں گذرا جب یہ راستے سیاسی وجوہات کی بنا پر بند نہیں ہوے تھے اس وقت چترال کا بازار بدخشان،واخان اور ترکستان کے تاجروں سے اٹا پڑا ہوتا تھا(حوالہ مارگنسٹین1932ء)۔
موجودہ دور میں بھی بہ حیثیت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر چترال ٹاون سیاسی،انتظامی اور تجارتی مرکز تمام علاقے میں غالب پوزیشن کامالک ہے اور بطور ایک شہری علاقہ(Urban Settlement)اپنے جلومیں تمام سرکاری دفترات رہائش گاہیں،قلعے،تعلیمی ادارے،ثقافتی مراکز،ہوٹل،بینکنگ اور دیگر کمرشل ادارے،صحت عامہ کے ادارے،مذہبی ادارے(مساجد،دارالعلوم)وغیرہ  مختلف ہرقسم کی سہولیات رکھتا ہے۔چترال ٹاون کاموجودہ پھیلاؤ 1895ء کے بعد وجود میں آیا۔اس سے پہلے یہ شہرشاہی قلعہ اسکے گردونواح میں چھوٹا سا بازار،ژانگ بازار میں ایک جامع مسجد اور32چھوٹے چھوٹے دیہات پرمشتمل تھا۔اس کی آبادی (گزئیٹر1904کے مطابق)2500تھی۔یہ دیہات زیادہ ترکلاش دور میں وجود میں آئے تھے۔جب انیسویں صدی کے وسط میں موجودہ شاہی قلعے اور مرکزی مسجد (ژانگ بازار) کی تعمیر ہوئی ۔اسکے بعد یہاں سے شہرہرطرف پھیلنے لگا۔برٹش کے آنے کے بعد خاص طورشاہ شجاع الملک کے زمانے میں ذیل تعمیرات کا اضافہ ہوا۔
1۔ چھاونی،سرکاری دفترات،سول ہسپتال ڈاکخانہ،تار گھر۔
2۔ شمالی بلچ کی آبادی لٹکوہ دریا سے نہرلاکے۔
3۔ شاہی بازار،شاہی سرائے کی تعمیر،بعد میں اتالیق بازار،وقت گذرنے کے ساتھ1947تک نیو بازار،کڑوپ رشت بازار
4۔ 20ویں صدی کے شروع میں ریحان کوٹ محلہ
5۔ بیرموغلشٹ کی اورلور بکرآباد کی آباد کاری(1912)۔
6۔ شاہی قلعے کی توسیع (1915)
7۔ شاہی مسجد کی تعمیر1925ء
8۔ پن بجلی گھر کی تعمیر1931ء
9۔ چترال گول اور لٹکوہ دریا سے سنگور کے لئے نہروں کی تعمیر اور ترقی (1940-1938)
10۔ چترال سکول 1939ء

11۔ جوڈیشیل کونسل بلڈنگ1942

اس دوران شہرکے درمیان موٹر چلنے کے قابل سڑکیں بھی بن گئیں جنکو بالائی اور زیریں علاقوں کی سڑکوں سے ملایا گیا۔1920ء کے عشرے کے آخیر میں چترال میں موٹر کار اور لاری کی آمد ہوئی تھی اور1943تک ریشن تک موٹر کی سڑک بن گئی تھی۔
1947سے تاحال چترال ٹاون کی توسیع گردونواح دیہات یعنی شمال میں سین لشٹ اور جنوب میں بکرآباد تک ہوئی۔
اس دوران:
1۔ کئی سرکاری تعمیرات مثلاً چترال تھانہ اورسول لانیز،پولیس لانیز،سکرٹریٹ بلڈنگ،CADPکمپلیکس جہاں گرلز کالج واقع ہے،افیسر کالونی دنین،گورنمنٹ کالج اورکالج کالونی ژوغور،موسمیات کمپلیکس،ائیرپورٹ،ائیرپورٹ کالونی،کامرس کالج،ہیڈکوارٹر ہسپتال،زنانہ ہسپتال،ہسپتال کالونی(سنگور)پاور ہاؤس اور واپڈا کالونی(گانکورینی)،سول کورٹس اور سول کورٹس کالونی ژوغور(زیرتعمیر)،گرلز ہای سکول، ہندو کش ہایٹس،لینگلینڈ کالج دولومچ، ریاض پولو گراؤنڈ دولو مچ،  اسماعیلیہ کالونی دولومچ، بی بی جان ہوٹل گانکورینی، ریڈیو سٹیشن، پی آی اے بلڈنگ، اور
چترال یونیورسٹی وغیرہ۔
2۔ بازاروں کی زبردست توسیع: چترال بازار شمال میں دنین تک اور جنوب میں ژوغور تک پھیل گیا۔سنگور اور بلچ میں بازاروں کا اضافہ ہوا۔
3۔ بے شمار بینک،ہوٹل،فِلنگ سٹیشن۔
چترال ٹاون کا پھیلاو ابھی رکا نہیں۔آئیندہ زمانوں میں نہ معلوم یہ کہاں تک پھیل جائے گا۔لیکن قابل غور بات یہ ہے یہ تمام پھیلاو بغیر کسی منصوبہ بندی کے ہوا اور ہورہا ہے۔چترال ٹاون ایک شینٹی ٹاون(Sha nty Town) کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔اہستہ اہستہ تمام گرین ایریاز کو تعمیرات ہڑپ کررہے ہیں اور ان گرین ایریاز کو جنہیں”کورو“ کہتے ہیں اور یہاں کے چنار کے درخت ان کے نیچے بہتی ہوئی صاف شفاف پانی کی نالیاں آئیندہ جاکے ماضی کی  یادیں رہ جائیگی۔
 روایات :
چترال خاص اور گردونواح

1۔ بالاحصار(اوچشٹ) میں بلہے سنگھ  کلاش کا قلعہ ہوتا تھا۔اس کا بھائی جسکانام قراء تھا نے اوچشٹ گول کے منبع پرایک برج بنایا تھا جسکا نام قراسون تھا۔مقام داریشت سے تا موڑین گول ان کی ملکیت تھی۔

2۔ بالائی ٹھنگ شین میں پہاڑی پر ٹوپی نام کلاش کا قلعہ تھا اور موڑین گول چترال تک علاقہ اس کے تصرف میں تھا۔تمام ٹھینگ شین انگورزارتھا۔اور اس کلاش کے قبضے میں تھا۔جنالی کے اوپرچترال سے چھاونی تک تمام ٖڈھلوان حصہ کلاشوں کا انگورزار تھا۔

3۔چترال گول کے اندر شاہی بنگلہ سے زرا اوپر پہاڑی پرزراکان اور ڈوٹ نام دوکلاش بھائیوں کا قلعہ تھا اور علاقہ گولدور تازراکان دور ان کلاشوں کے تصرف میں تھا۔زراکان دور کاحصہ زراکان کاتھا۔ڈوتان دور ڈوت کا حصہ تھا۔آج بھی زراکان دور اور ڈوتان دور مشہور ہیں۔

4۔ ژوغور: دواشش کے اوپر پہاڑ کے دامن میں اونچائی پرگاؤں گلستان واقع تھا۔روغ کلاش اور سوچی کلاش ان دوگاؤں کے سربراہ تھے۔ان کا بڑا ملوش(یعنی بت کلان) دواشش میں تھا۔چونکہ کلاش زبان میں دواشش بت کو کہتے تھے۔اس لئے اس گاؤں کانام دواشش پڑگیا۔ژوغور پایان میں عبدالقادر مرحوم استاد کے گھر کے اوپر پہاڑی دہ کلاشان واقع تھا۔اس گاؤں میں موچی لوگ رہتے تھے۔آج بھی یہاں قدیم زمانے کے کویلے اور جلی ہوئی لکڑی کے آثار ملتے ہیں۔
5۔ سنگور کا علاقہ،سنگور مقام پردوکلاشوں کی حکومت تھی۔ایک  قلعہ سیرسوبیگ کا تھا۔یہ سلطان لال کے گھر کے اوپرپشتہ کلان پرواقع تھا۔جسے چاکیست نام دیتے تھے۔قلعہ کلاش سوم قلی بیگ لال کے گھر کے اوپرپشتہ کلان کے اوپر واقع ہے۔جسے نغور ڈوک کانام دیتے ہیں۔ان دوقلعوں کے درمیان ایک نالہ موجود تھا۔یہ دوکلاش آپس میں ایک قطعہ زمین جس کانام جوار کڑوم ہے کے لئے ہمیشہ جنگ اور دشمنی میں مبتلا رہتے تھے۔اور اپنے اپنے قلعوں سے ایک دوسرے پر تفنگ بازی کرتے تھے۔آخرکار میرسوبیگ کامیاب ہوا۔آج یہ زمین سلطان لال کے ہاتھ میں ہے جومیر سوبیگ کے حصے پرتصرف کرتا تھا۔
6۔ دولومچ کا وجہ تسمیہ یوں بیان کرتے ہیں۔قلعہ دولومچ سے ذرا اوپر نالے کے اندر ایک چشمہ ہے اسکو لوگ گولہ اوچ(نالہ والا چشمہ) نام دیتے تھے۔وقت گذرنے کے ساتھ یہ نام بدل کردولومچ بن گیا۔(بحوالہ تاریخ کے بکھرے اوراق۔بمشمولہ میرزہ رحمت نظر کے یادداشت)(صفحہ83تا84)
ٓٓٓ آثاریات۔ 
چترال میں آثاریات پرزیادہ کام نہیں ہوا۔بہرحال تھوڑا بہت جوکچھ ہوا ہے۔وہ گذشتہ 30,25سالوں کے دوران ہوا۔اس سے پہلے بعض سکالرز کی انفرادی کوششوں سے مستقبل میں آثاریاتی تحقیق کے بنیادبنی۔مثال کے طورپر:
1۔1968ء میں ایک یورپین آرکنالوجیسٹ سٹکل(Stacul)نے ماقبل تاریخ کے زمانے کی چارقبریں دریافت کی جو ان کو بکامک اور بالاحصار(اوچشٹ) میں اور نوغور موڑی نیزدبروز تھمیونک میں ملیں۔لیکن وہ صرف نوغور موڑی والی قبر کی کھدائی کرسکا۔جس میں سے اس کو لوہے سے بناہوا نیزےکا بھال،ایک ٹوٹا ہوا مٹی کابرتن اور انسانی ایک ڈھانچہ ملا۔
2۔ 1970ء میں کیمبرج یونیورسٹی (برطانیہ) کے مشہور ماہرین آثار قدیمہ بی ایلچن اور آر۔ایلچن کوکسی ذریعے سے اویون سے ملے ہوئے مٹی کے برتنوں کے کچھنمونے پیش کئے گئے تھے۔جن کا انہوں نے گندھارا کے زمانے کے قبروں سے تعلق جوڑ دیاتھا۔
3۔ 1972ء میں راقم (اسرار الدین) نے اپنے ایک اکیالوجسٹ دوست انعام اللہ خان مرحوم(جو اس وقت پشاور یونیورسٹی میں لیکچرار تھے)کے ہمراہ مقامی سکالر گل نواز خاکی  کی نشاندہی پرسنگور میں ایک مقام پرکھدائی کی۔جہاں پرہمیں ایک دومنزلہ قبرمل گئی۔قبرکا اوپروالا حصہ خراب کیاگیاہواتھا۔نیچے کے حصے میں نوعدد مٹی کے برتن،ایک عددپکی ہوئی مٹی کا مجسمہ ملا۔مٹی کے برتنوں میں چار صراحی،تین عدد پیالے،دوعد دودھ کے برتن تھے۔اس طرح  اس وقت پاکستان میں پہلی دفعہ دومنزلہ قبریں دریافت کی گئی تھی۔اس طرح اریائی قبروں کی ثقاف(AryanGrave culture)کے دائرے میں چترال کا علاقہ بھی شامل ہوگیا تھا بعد میں اسی سائیٹ پر برآمدشدہ ہڈیوں کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ (Radioa Carbon dating) کی گئی۔جن کا زماہ360قبل مسیح اور90عیسوی تک اندازہ لگایا گیا۔
4۔ 1977ء میں ڈاکٹر عبدالرحمان (سابق چیرمین ارکیالوجی ڈیپارٹمنٹ پشاور یونیورسٹی) کو صوبہ سرحد کے آثار قدیمہ کے محکمے کی طرف سے ضلع چترال میں آثار قدیمہ کے بارے ایک سروے کا کام سونپا گیا تھا۔ان کی ٹیم میں اس محکمے کے افسر شاکر اللہ بھی تھے۔انہوں نے چترال میں چند آثاریارتی مقامات کی نشاندہی کی۔نیز کئی کتبات اور تعمیرات کے بارے رپورٹ پیش کی۔
5۔ 1999-1998ء میں پشاور یونیورسٹی اور گلاسگو اور بریڈ فورڈ یونیورسٹی (برطانیہ) کے اشتراک سے ضلع چترال کے لئے ایک سائنسی مطالعاتی پراجیکٹ تشکیل دی گئی تھی۔جس میں مقامی اور باہر کے ممالک کے ماہرین طبقات الارض نباتات،ارضیات اور ماحولیات،اثاریات وغیرہ نے حصہ لیا تھا۔اس پراجیکٹ کے نتیجے میں 18مقامات میں پہلی دفعہ گندھارا قبریں دریافت ہوئیں۔ان میں سے15قبریں اریائی زمانے کی شامل تھیں۔بعد میں مزید تحقیق کے نتیجے میں کل89مقامات پر آثار قدیمہ کی دریافت عمل میں آئی ۔جن میں سے پرواک اور سنگور میں کھدائی کاکافی کام انجام پذیر ہوا۔
6۔ چترال ٹاون کے حوالے سے 2007-8میں ہزارہ اور ایسٹر یونیورسٹی (برطانیہ)کی مشترکہ تحقیق ڈاکٹر روتھ ینگ(ایسٹر یونیورسٹی)،ڈاکٹر محمد طاہر(ہزارہ یونیورسٹی) نے ڈاکٹر احسان (وی سی ہزارہ یونیورسٹی) کی زیرقیادت گانکورینی ٹک میں کھدائی کی اورانتہائی اہمیت کے حامل آثاریاتی شواہد اکھٹے کئے۔حاصل کردہ نتائج کی روشنی میں اس سائیٹ کی تاریخ ایک ہزار سال قبل مسیح اور ایک ہزار سال عیسوی کے درمیان بنتی ہے۔کہاجاسکتا ہے کہ گندھارا تہذیب کی قبریں اور ان کی تاریخ کا تسلسل محمود غزنوی کے ساتھ مسلمانوں کی آمد تک ہوسکتا ہے۔یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ ان قبروں سے ملتے جلتے تابوت اور متعلقہ اشیاء کی مردوں کے ساتھ تدفین یاکھلی فضامیں رکھنے کا رواج کلاش کے لوگوں میں ماضی قریب تک چلاآرہا تھا جو آریائی تہذیب کے نسل کی کڑی ہے۔
7.رئس دور میں ژانگ بازار میں ان کا قلعہ تھا۔ اور بازار بھی وہیں تھا۔ دو سو شہسوار جوان یہاں موجود رہتے تھے۔ اور دو سو چالیس نو جوان لڑکیاں روزانہ آفتابہ لے کے نالے سے پانی بھرنے جاتی تھیں۔ مسجد کے صحن اور ڈی س ہاؤس کے سامنے جو چنار کے درخت ہیں یہ اس وقت رئس بادشاہ کی بیٹی کے ہاتھ کے لگاے ہوے تھے ۔ ژوغور میں چموٹی چنار نام کا درخت اس زمانے کا لگایا ہوا تھا جو اب کاٹا گیا ہے۔ یہ درخت سات سو سال پرانے ہیں اور دنیا کے قدیم درختوں میں سے ہیں۔
(حوالہ تاریخ چترال کے بکھرے *اوراق صفحات53-61)۔
 چترال خاص کے قبائل:
چترال خاص کے مختلف مقامات میں کلاش قوم سے تعلق رکھنے والے کئی قبیلے آباد ہیں جن میں سے خورکشہ(خورکشاندہ میں)،زمبورے(ہون میں)اورچیوے گولدور میں قابل ذکر ہیں۔قوم خورکشہ کے بارے میرزا رحمت نظر(مرحوم)کی یادداشتوں سے ذیل اقتباس پیش ہے۔
”جب شاہ کٹور کلان نے کیسو کو آباد کیا تو کھایوڑ کالاش نے جو جنجرت کا رئیس تھا۔بارہ جوڑی بیل بمع ہل وغیرہ کھیتی باڑی کا سامان اور بارہ نوجوانان کام کرنے کے لئے شاہ کٹور کی خدمت میں بھیجا۔جس سے اس وقت توبادشاہ بہت خوش ہوا ہوگا لیکن کچھ عرصے کے بعد سازش کراکے کھایوڑ کوقتل کرایا اور اس کے بیٹوں کو گرفتار کراکے چترال لایا گیا۔خورکش کھایوڑ کا بیٹا تھا۔جس کو بادشاہ نے اپنی ملازمت میں رکھا۔بعد میں اس کی خدمات سے خوش ہوکے اس جگے جو اب خورکشاندہ ہے اس کو عطا کیا۔یہ سارا علاقہ جنگل تھا جسے اس نے آباد کیا۔اب یہاں زیادہ تر اسکی اولاد سکونت رکھتی ہے۔بعد کے زمانوں میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ کٹور بادشاہوں کی محاصحبت میں رہے اور قلعہ بندی کے بعد اشرف نامی ایک صاحب کو چارویلو کا عہدہ تفویض ہواتھا باقی قبیلوں میں مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں جو گذشتہ کئی سوسالوں کے دوران مختلف مقامات سے آکر چترال خاص کے مختلف دیہات میں آباد ہیں۔
یعنی کٹورے گولدور،اوچشٹ،ژوغور،مغلاندہ، ژنگ بازار،زرگراندہ،بکرآباد،دولومچ وغیرہ میں۔یہ موڑکھو سے آئے۔
(2)۔ رضاخیل:مغلان دہ،ژانگ بازار،ژوغور،سنگور وغیرہ۔یہ بھی موڑکھو سے آئے۔
(3)۔ سنگالے: یہ تورکھو سے آئے۔بکامک،اوچشٹ،بکرآباد،سنگور میں آبادہیں۔                                                                              (4)۔ روشتے(موڑکھو سے آئے)ہون،زرگراندہ،بکرآباد وغیرہ میں۔
(5)۔ لالیکے: یہ رئیس دور میں بدخشان سے آئے تھے۔زیادہ ترکھوت میں آباد ہیں کچھ خاندان ہون(چترال) میں آباد ہوئے ہیں۔اہم رسوخ والی قوم رہی ہے۔
(6)۔ خوشے: تورکہو سے کچھ خاندان ہون میں آباد ہوئے ہیں۔
(7)۔ خواجہ خیل: گولدور اور مغلان دہ میں آباد ہیں۔تریچ سے آئے تھے۔
(8)۔ خسراوے: برے نس سے آئے تھے۔موڑدہ اور زرگراندہ میں آباد ہیں۔
(9)۔ شاہ نوے:موڑکھو سے۔موڑدہ اور زرگراندہ میں ہیں۔
(10)۔ اتم بیگے:موڑدہ،گولدور اور بکرآباد میں آباد ہیں۔
(11)۔شغنیے:کوغوزی سے۔گولدور میں آباد ہیں۔
(12)۔حسن خیل(شاہ غوٹئے)اویر سے۔گولدور میں آباد ہیں۔
(13) بوشے کشم (موڑکھو) سے آئے۔زرگراندہ،سینگور اور ژوغور اوربکرآباد میں آباد ہیں۔
(14)۔قوزیے:زرگراندہ میں آباد ہیں۔پرانے زمانے  میں بشقار سے کھوت آئے تھے وہاں سے کچھ خاندان یہاں آباد ہوئے ہیں۔
(15)۔موسنگے:اوژنو سے آئے۔بکرآبادمیں آباد ہیں۔
(16)۔کشمی:کشم سے آئے بکرآبادمیں آباد رہیں۔
(17)۔سلطانے:اوژور(کریم آباد)سے آئے بکرآباد میں آباد رہیں۔
(18) محمد بیگے:موڑکھو سے آئے۔بکرآباد میں آباد ہیں۔
(18)تا (22)۔اویری،مداکچی،ملپک،موردیریکو،تریچیغ خاندان بکرآباد میں آباد ہیں۔
(23)۔سلطان خیل(باپیے)ژوغور میں آباد ہیں۔
(24) مغلے،مغلان دہ اور سنگور (لوٹ دہ) میں آباد ہیں۔رئیس دور میں سردار مغل کے ساتھ شاہ نادر رئیس بادشاہ کی مدد کے لئے آئے تھے۔ان کی مدد سے کلاش بادشاہ بلبے سنکھ کی شکست ہوئی تھی۔
(25)۔ غاشقے۔جد اعلےٰ غاشق ایوب افغانستان سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر پہلے اویر آئے۔پھر یہاں مستجاپاندہ میں آباد ہوئے۔
(26)۔حیدارے۔ خورکشاندہ میں آباد ہیں،بدخشان سے ان کا جد اعلےٰ حیدر رئیس دور میں چترال آئے۔روایات کے مطابق حیدر کے اپنے بھائی میر سے ناچاقی ہوئی تھی۔اسلئے پناہ لینے اسے چترال آنا پڑا تھا۔یہاں پر خورکشاندہ کا کچھ حصہ جو غیر آباد جنگل تھا اسکو آباد کرکے یہاں سکونت پذیر ہوا۔
27۔بروڑے: یہ رئیس دور میں غالباّ بدخشان سے آئے تھے۔اور مورڈہ میں آباد ہیں۔
28۔شاہ میرے سنگور کے شاہ میران دہ میں آباد ہیں۔اخونزادہ کے مطابق ان کے جداعلےٰ کانام شاہ میر تھا۔ان کا تعلق ازبک مغل قبیلے سے تھا۔جن کا تعلق وسط ایشیاء میں ثوق قبیلے سے تھا۔افغانستان میں اس قبیلے کے افراد کثیر تعداد میں آباد ہیں۔یہ قوم رئیسہ دور میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر افغانستان سے ہجرت کرکے چترال میں وارد ہوئے۔رئیس دور میں اس قبیلے کے بڑوں کو کافی رسوخ حاصل تھا۔اور کلیدی عہدوں پرفائزتھے۔کٹور دور میں ان کوزوال آیا ان کی پانج شاخیں شاہ میراندہ(سنگور)میں آبادہیں۔جو عزیزے،بوڈئیے،جونے،ایان بیگے اورگرگے پر مشتمل ہیں۔
صوبہ خان (چارویلو)اور ان کے بیٹے محمد حیات اور عبداللہ جان پچھلی صدی میں اہم شخصیات رہے ہیں۔عبداللہ جان پولوکا مشہور کھلاڑی تھا اور شندور ٹورنمنٹ میں بھی حصہ لیا کرتا تھا۔اس قبیلے سے تعلق رکھنے والا گل نواز خاکی بھی کھوار زبان کا اہم شاعراور فن کار گذرا ہے اور سیاسی کارکن بھی رہا ہے۔اس قبیلے کا جدامجد شاہ میر خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ان کا مزار گرم چشمہ روڈ اور سنگور روڈ کے دوراہے پر واقع ہے اور مرجع خلایق ہے۔
29۔میراثیے: اس قبیلے سے تعلق طرکھنے والا خاندان ژوغور،دنین،سنگور اور بروز میں آباد ہیں۔روایات کے مطابق اس قبیلے کے بڑے رئیس دورمیں تجارت کے غرض سے بدخشان سے آئے تھے۔میرزا رحمت نظر کی یادداشت کے مطابق اس کا دادا عہد رئیس میں بدخشان سے آیا تھا۔یہ شخص تاجر تھا اور بہت سارے تحفے رئیس بادشاہ کی خدمت میں لاکر پیش کئے۔رئیس بادشاہ نے گہتک (دنین) میں زمین عطا کیا تھا جہاں وہ آباد ہوگئے(حوالہ تاریخ چترال کے بکھرے اُوراق صفحہ83)۔
اخونزادہ کے مطابق اس قوم کے جد اعلےٰ کانام درنیاب تھا۔وہ ترکستان سے تعلق رکھتا تھا اور گھوڑوں کی تجارت کرتا تھا۔اسی حوالے سے ان کا رئیس بادشاہ شاہ ناصر سے تعارف ہوا اور چترال آیا اور رئیس بادشاہ کے دربار میں ان کی عزت افزائی ہوئی۔رئیسوں کے زوال کے بعد کٹورے دور میں اس خاندان کے کانگار نامی ایک مصاحب کو بروز میں ان کے خدمات کے صلے رئیسوں کے نام میراث شدہ زمین عطا کی گئ۔ جسکے حوالے سے ان کانام میراثیہ پڑگیا(اقوام چترال195-194۔
 ایک اور روایت کے مطابق میراثیے دراصل میر رئیسے ہے۔جن کا تعلق رئیس خاندان سے تھا۔جوکٹورے خاندان سے پہلے چترال کے حکمران تھے۔ان کو کٹور بادشاہوں کے عتاب سے اپنے کوبچانے کے لئے اپنے اصل نام کو بگاڑنا پڑگیا تھا اور میراثیے نام کے آڑ میں پناہ لینی پڑگئی تھی۔بہرحال وقت بدلتے دیر نہیں لگتی بعد کے زمانوں میں اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے بعض اصحاب اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئے۔مہترامان الملک کے زمانے میں نبات کے بیٹے وزیرعنایت خان،وفادار خان اور نصرت علی خان اُبھرکرسامنے آئے اور بادشاہ کے اعلےٰ مشیروں اور وزیروں میں شامل ہوئے۔وزیرعنایت خان اوروفا دار خان کاچترال گزیٹر1904میں بھی تذکرہ آیا ہے بعد میں اس قوم سے تعلق رکھنے والی شخصیت استاد عمرحیات خان مرحوم پشاور سے تعلیم حاصل کرکے آکے چترال سکول کے ابتدائی اساتذہ میں شامل ہوئے جن کے شاگردوں کے شاگردآج تمام چترال میں پھیلے ہوئے ہیں۔دوسری شخصیت معراج الدین پشاور یونیورسٹی سے ایم اے(انگریزی) کے بعدچترال سٹیٹ سروس بعد میں صوبائی حکومت کی سروس میں شامل ہوئے اور بہ حیثیت کمشنر ریٹائرہوئے۔ریٹائرمنٹ کے بعد وفاقی محتسب ادارے کے رکن بھی تاحیات رہے۔آپ انگریزی اور کھوار کے شاعر بھی تھے۔اسی خاندان کے ایک اور فرزندپاکستان کی سپرئیرسروس میں سلکٹ ہوئے اور بہ حیثیت ڈپٹی اکاوننٹنٹ جنرل ریٹائرڈ ہوئے۔مولانا عبدالرحیم مرحوم چترالی جو صوبہ خیبرپختونخواہ کے جید علماء میں سے تھے اور چترال سے قومی اسمبلی کے ممبر بھی منتخب ہوئے تھے کابھی اس خاندان سے تعلق تھا۔
30۔اخونزادگان:الف۔ یہ خال دیر سے تقریباً7پشت پہلے آئے تھے اور مستجاپاندہ میں آباد ہیں۔پہلے پانج پشت کے نام مستجب،جگاوات،اسماعیل اورنورالہادی ہیں۔
ب۔اخوانزادگان (گولدور) ان کا جدامجد بدخشان سے تھے۔ان طکانام باباادم تھا۔بتایا جاتا ہے کہ یہ تین سو سال پہلے اشاعت اسلام کے سلسلے میں چترال آکر آباد ہوا تھا۔اخونزادہ کے مطابق اویر میں قاضی منصور کا خاندان اور گولدور مں خاندان آئمہ کاتعلق ان کی نسل سے ہیں۔اس خاندان کاچترال میں اشاعت اسلام کے سلسلے میں بڑی خدمات ہیں۔
ج۔اخوانزادگان (ژوغور)۔یہ خاندان وسط ایشیاء کے شہربخارا کے اخون قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور اخونزادہ کے مطابق اس کو وسط ایشیاء کا علمی قبیلہ سمجھا جاتا ہے۔اس خاندان کا بزرگوار باباادم تقریباّ تین سوسال پہلے چترال آئے تھے۔اس خاندان کے آباواجداد کی خدمات کی وجہ سے چترال میں دین اسلام کی روشنی پھیلنے میں مدد ملی۔اس خاندان سے تعلق والے لوگ دواشش(ژوغور)گہریت اور کیسومیں آباد ہیں۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والا سیدزین العابدین ہزہائی نس شجاع الملک کے زمانے میں قاضی القضات اور خطیب رہے تھے۔سرناصر الملک کے زمانے میں اسی خاندان کامولانامحمد یوسف مرحوم(فاضل دیوبند) چترال کے سکول کے ابتدا میں عربی اور اسلامیات کااستاد رہا تھا۔بعد میں دارالعلوم چترال کے صدر رہے۔ان کی شرافت طبع اور علم وعمل کی اعلےٰ صفات کی وجہ سے لوگوں میں ان کی بڑی عزت اور قدر رہی۔
نئی تاریخ چترال کے مطابق باباادم رئیس دور کے شاہ ناصر کے عہد میں چترال آئے تھے۔اس زمانے سے تاحال اس خاندان سے تعلق رکھنے والے نامور علمائے کرام کے اسم ہائے گرامی تاریخ میں کہکشان کی صورت میں موجود ہے۔
31۔قدیم قاضیان چترال: تاریخ چترال کے مطابق یہ خاندان ملا دانشمند رستانی(بدخشان) کی اولاد سے ہے۔یہ بزرگ رئیس حکمرانوں کے عہد حکومت میں چترال آئے تھے۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی علماء کئی پشتوں تک چترال کے قضاۃ کے عہدوں پر متعین رہے۔جن میں قاضی توکل،قاضی شہاب الدین،قاضی عبدالقہار،قاضی عبدالرحیم،قاضی محمد احرار اور قاضی محمد نظر مشہور ہیں۔اس خاندان سے منسوب قاضیان وہ خاص چترال میں اہم محلہ ہے۔اس کی بعض شاخیں شیاقوٹیک اور اورغچ میں بھی آباد ہیں۔شجاع الملک مہتر کے زمانے میں قاضی احرار کا لڑکا عالم الرحمان ہندوستان سے تحصیل علم کے بعد واپس آئے اور نامورہوئے۔
32۔ملایان بازار کہنہ: یہ خاندان رئیس حکمرانوں کے دور سے اہم علما چلے آتے رہے ہیں۔نئی تاریخ چترال کے مطابق شاہ کٹور ثانی کے دور میں ملا غلام رسول معتبر عالم تھے۔بعد میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والے عبدالروف اور عبدالدیان اہم علماء رہے۔عبدالدیان مرحوم ہندوستان سے تحصیل علم کے بعد جب آئے تو مفتی اعظم کے منصب پر متمکن ہوئے۔اورمیزان شرع کے رکن رہے۔اس خاندان کے کئی حفاظ اور قراءبھی مشہور رہے۔جن میں عبدالحق کا نام قابل ذکر ہے۔
33۔خاندانی گیلانی بغدادی: سیدجمال الدین آفندی گیلانی جن کا بنیادی تعلق بغداد سے تھا اور جوخود بمبئی میں قیام پذیر ہوئے تھے۔1925ء میں شاہ شجاع الملک کے مہمان کے طورپر چترال تشریف لائے تھے۔یہاں پر بعد میں شاہ شجاع نے اپنی دختر محترمہ کا نکاح ان سے کرلیا۔جن سے دوبیٹے سید صلاح الدین اور سید عبداللہ معزالدین پیداہوئے۔سید صلاح الدین نے بعد میں کراچی میں سکونت اختیار کی۔اور سید معزالدین یہں چترال ہی میں گولدور میں قیام پذیر رہے۔آپ اپنی خاندانی وجاہت ومرتبت نیزاپنی ذاتی شرافت دردمنداری،تقویٰ،رضعداری،خوشدلی اور نرم روئی کی وجہ سے خاص وعام میں بہت زیادہ مقبول رہے۔ان کی ایک صاحبزادی اوردو صاحبزادے ظہیر الدین گیلانی اور معین الدین گیلانی یادگار ہیں۔آپ کے مریدین اور معتقدین کا سلسلہ پاکستان میں لاہور اورکراچی تک اور ہندوستان میں بمبئی تک پھیلا ہواتھا۔اب اس سلسلے کو آپ کا صاحبزادہ ظہیر الدین گیلانی آگے بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔
34۔داشمنے: کٹور دور میں موڑکھو سے اس قوم کا ایک خاندان سنگور کے لوٹ دہ میں آباد ہوا تھا۔اس قوم سے تعلق رکھنے والا میرزا محمد(المعروف صوفی صاحب سنگور) امان الملک اور شجاع الملک مہتران کے زمانے سے اپنے زہد وتقویٰ کی وجہ سے مشہور ومعروف تھے۔ان کا ذکر خیر پہلے آچکا ہے۔
36۔بدخشی: یہ کسی زمانے میں بدخشان سے آئے تھے اور ہون میں آباد ہیں۔
37۔ ڈانگیریک: یہ کسی زمانے میں (غالباّ کٹور دور) میں تانگیر سے آئے تھے اور ڈانگیریکاندہ کو آباد کرکے یہیں سکونت پذیر ہوگئے تھے۔
38۔اماخیل قدیمی قبیلہ ہے اور ہون میں آباد ہیں۔
39۔مطربان۔یہ ورشگوم سے کٹورے دورمیں (غالباّ)چترال آئے تھے اور ریحانکوٹ کے ساتھ ان کا محلہ ہے۔جم سال ،گاش بپ،زیارت ولی۔ اور زیارت قبول اس خاندان کے اہم شخصیات رہے ہیں۔
40۔گاسے۔یہ قبیلہ زیادہ تر اویر میں آباد ہے وہاں سے اس قبیلے کا ایک خاندان سنگور میں تین پشتوں سے آباد ہے۔اصلیت میں ان کے بزرگوں کا تعلق بشگال(نورستان) سے تھا۔وہاں سے شاہ فرامرد کے ہمراہ اسلام قبول کرکے چترال آئے تھے۔اور ابتدائی طورپر اویر میں آباد ہوئے تھے۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ فرامرد کے ساتھ اس زمانے میں بشگال سے کئی خاندان اسلام قبول کرکے چترال آئے تھے۔جو چترال کے مختلف حصوں میں آباد ہیں۔ان میں سے ایک خاندان قریشی نام سے مستوج میں آباد ہے۔جن کا ذکر مستوج کے حوالے سے ہوگا۔
41۔زوندرے(قوم بوڈوق)۔اس خاندان کا تعلق زوندرے قبیلے سے ہے۔میرزہ رحمت نظر کی یادداشتوں کے مطابق یہ کٹور کلان کے زمانے میں سنوغر سے پہلے اویون آئے وہاں سے بعد میں بادشاہ نے ان کو اوچشٹ میں زمین دی جہاں وہ آباد ہوئے۔یہ خاندان چارویلو گل فطرت شاہ سے اگر حساب کرلیں تودسوین پشت میں سرنگ ثانی سے ملتا ہے۔10ویں پشت میں قربان علی پہ جاکے مستوج کے چارویلو صاحب نگین کی شاخ سے ان کا اتصال ہوتا ہے۔اس شاخ سے تعلق رکھنے والا گل فطرت شاہ،شجاع الملک اور اسکے بیٹوں کے زمانے میں چترال کا چارویلو رہاتھا۔شہزادہ ناصر الملک کی رضاعت میں بھی حصہ داررہا تھا۔
42۔ افغانی: چترال میں پختونخواہ یا افغانستان سے منتقل ہونے والے پشتون لوگوں کو اڑغانی کہتے ہیں جو افغانی کی بگڑی شکل ہے۔چترال میں پشتون قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئی خاندان انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران آکر آباد ہوگئے تھے۔ان میں سے اکثرتجارت پیشہ لوگ تھے۔اسلئے یہاں آکر مستقل سکونت اختیار کرلی۔ان لوگوں کی دو خصوصیات خاص طورپر واضح تھیں۔ایک یہ کہ انہوں نے اپنی شناخت بہ حیثیت پشتون برقرار رکھی۔اسوقت حکمرانوں نے ان کو رہنے کے لئے الگ محلہ ریحانکوٹ (حیران کوٹ) کے نام سے دیا۔جہاں یہ الگ تھلک رہنے لگے۔آپس میں شادیاں کرکے اپنی لسانی اور نسلی حیثیت کو برقرار رکھا۔ان کی دوسری خصوصیت ان کا تجارت پیشہ ہونا ہے۔جس زمانے میں یہ لوگ یہاں آئے۔اس وقت یہاں کی تجارت ہندوں اور سکھوں کے ہاتھوں میں تھی۔ان کے بعد پشتون خاندانوں کا نمبرآتا تھا۔اس وقت چترال کے لوگ تجارتی اُمور سے نابلد تھے۔اسلئے ان لوگوں کی چترال میں موجودگی یہاں کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔کیونکہ ہندووں اور سکھوں کے پاکستان سے جانے کے بعد انہوں نے یہاں کی تجارت کو سنبھالا۔ان لوگوں کا زیادہ ترتعلق جندل (دیر)کے یوسف زئی قبیلے سے تھا۔بتایا جاتا ہے کہ تقریباً سوسال پہلے وہاں ایک قسم کی بیماری پھیل گئی تھی جس کی وجہ سی کافی لوگ دوسرے علاقوں کو چلے گئے تھے۔مجید خان بھی اپنے خاندان کے کئی افراد کے ساتھ چترال آگئے۔یہ وہاں کے ملک تھے۔ان کا آنا عارضی طورسے تھا۔بعد میں یہاں مستقل ہوگئے۔تجارت کے پیشے کو اپنایا جس میں آگے بڑی ترقی ہوئی۔ان کے سات بیٹے تھے جو آجکل چترال بازار کے چوٹی کے تاجروں میں شمار ہوتے ہیں۔اسی طرح جندول سے عزیز کاکا یہاں آکے آباد ہونے والوں میں شامل ہوئے ہیں۔نئی تاریخ چترال میں مقوال الدین کاکاخیل کا ذکر آیا ہے وہ بھی کاروبارتجارت کے سلسلے میں یہاں آکے مقیم رہے تھے۔ان کے ساتھ ان کا نواسہ میاں آزاد گل بھی تھے چترال میں شاہ شجاع الملک کے دربار میں ان کی رسائی ہوئی۔ریاستی اہلکاروں میں شامل ہونے اورریاست کے مالیہ کے محکمے کا ناظم بنا۔ان کی یہاں وفات کے بعد ان کے خاندان کے بعض حضرات نے یہاں پر مستقل سکونت اختیار کرلی۔
ایک اہم خاندان رفیع اللہ خان(جمعدار)کی ہے۔جو یہاں آباد ہے۔ان کا تجارت سے تعلق نہیں تھا۔البتہ یہ نوشہرہ کلان سے ہزہائی نس شجاع الملک کے زمانے میں جب شاہی مسجد کی تعمیر ہورہی تھی۔چیف معمار یا ارکیٹکٹ کے طورپر آئے تھے۔اور شاہی مسجد کی تعمیر کی شروع سے آخر تک نگرانی کرتے رہے۔جب مسجد تیار ہوئی تو شاہ شجاع الملک نے ان کو ریحانکوٹ کے قریب کڑوپ رشت میں مکان اور جائیداد عنایت فرمایا۔ان کے وفات کے بعد ان کی اولاد یہاں آباد ہے۔
کچھ افغانی مختلف زمانوں میں دیر سے آکے ہون،موڑدہ اور بکرآباد میں آباد ہوتے رہے ہیں۔انہوں نے کافی حدتک کھوار زبان اپناکے مقامی آبادی میں مل گئے ہیں۔
42۔عمرا خان جندول کی اولاد: عمرا خان جندول جن کا تعلق دیر کے جندول سے تھا۔جس نے بیسویں صدی کے آخری عشرے میں چترال کے مجاہدین کے ساتھ ایکاکرکے سرکار انگریز کے خلاف محاذ کھڑاکرکے تمام برطانوی حکومت کی مشینری کوایکشن میں لانے پر مجبور کردیا تھا کی وفات کے بعد ان کا بیٹا خان غلام قادر خان جندول اپنی والدہ کے ساتھ چترال آیا۔آپ شاہ شجاع الملک کے ہمشیرہ زادے تھے۔بادشاہ نے ان کی والدہ کو ژانگ بازار میں جائیداد عطا کی جہاں وہ آباد ہوئے ان کے بعد ان کی اولاد یہاں مقیم ہے اب یہ لوگ مقامی آبادی میں گل مل گئے ہیں۔
44۔مندرجہ بالا کے علاوہ کئی اورچھوٹے خاندان ہوں گے جو چترال میں جگہ جگہ آباد ہیں۔ان میں عرب خاندان اور کشمیری خاندان قابل ذکر ہیں۔گولدور میں ایک عرب خاندان آباد ہے۔جو محمد بن صالح (المعروف عرب بابا) کی اولاد ہیں۔یہ بیت اللہ(مکہ مکرمعظمہ) کےساتھ ایک محلہ شبیکہ کا رہنے والا تھا۔شاہ شجاع الملک جب 1924میں حج پرگئے توان سے واقفت ہوئی۔اسی واقفیت نے ان کو چترال کا راستہ دکھایا اور یہاں آکر آباد ہوئے۔اب ان کی اولاد یہاں پر مقیم ہیں۔اور کھوارزبان بولنے والوں کے ساتھ گل مل گئے ہیں۔
غلام محمد المعروف کشمیری کا تعلق سری نگر سے تھا۔شاہ شجاع الملک نے ان کو چترال لاکر آباد کیا۔وہ ہرفن مولا قسم کے انسان تھے۔اس لئے بادشاہ نے ان کی بڑی قدردانی کی۔اور انکو موڑدہ میں گھر اور جائیداد عطا کی۔جہاں ان کی اولاد رہائش پذیرہے۔ان کا بڑا بیٹاغلام نبی کھوار زبان کے گیت نگاراور ستارنواز کے طورپر مشہور ہوئے۔
سید احمد المعروف پشاوری درزی کا ذکر بھی بے محل نہ ہوگا۔جو دستکاری کے ماہر تھے۔جن کو شاہ ناصرالملک نے خاص طورپر چترال میں دست کاری کی صنعت کو فروغ دینے کے لئے چترال بلایا۔یہاں اسکی شادی کرالی۔اور ژوغور میں ان کو آباد کیا۔آپ پہلے شخص تھے جس نے چترالی پٹی سے چغہ بناے کا کام شروع کیا۔اور کئی خواتین کو اس کی تربیت دی۔اور چترال سے باہر چترالی چغے کا تعارف کرایا۔
45۔چترال ٹاون سے تعلق رکھنے والے ہائی سکول چترال کے چند اولین اساتذہ کرام کاذکر مناسب ہے۔جن کی وجہ سے چترال کے سکول کی بنیاد پڑی اور جن کے شاگردوں کے شاگرد جگہ جگہ پھیلے ہوئے ہیں،ان کے اسمائے گرامی استاد عبدالقادر خان(ژوغور)،خادم دستگیر(ژوغور)،گلاب سید(المعروف ڈاکٹر استاد)گولدور،محمد شریف استاد(ژانگ بازار)، در امان (المعروف ٹرائی استاد)گولدور ہیں۔عبدالقادر استاد پچھلی صدی کے شروع میں ان چند محصوص شخصیات میں سے تھے جنہوں نے عصری تعلیم میں پنجاب یونیورسٹی سے انٹر نس پاس کیا تھا۔واپسی پرشروع میں ان استادوں میں شامل ہوئے جو شہزادوں کی تربیت پرمامور تھے۔بعد میں چترال سکول کے اولین اساتذہ کرام میں شامل ہوئے۔
خادم دستگیر (المعروف پھوک استاد) کا تعلق بھی ژوغور سے تھا۔اور استاد عبدالقادر کے قریبی تھے۔آپ بھی چترال سکول کے ابتدا سے اس کے ساتھ منسلک ہوئے اور کافی عرصہ یہاں استاد رہے۔گلاب سید استاد(المعروف ڈاکٹر استاد)آپ کا تعلق پشتون قبیلے سے تھا اب بہ حیثیت دندان ساز شجاع الملک کے زمانے میں چترال آئے تھے۔بعد میں انہوں نے معلمی کا پیشہ اختیار کیا اور چترال کے سکول کے ابتدا سے اس کے ساتھ منسلک رہے۔اب گولدور میں آباد ہوئے اور وہیں پرایک معزز خاندان میں شادی کی اور یہاں کی کلچر میں گل مل گئے۔ان کے بعد ان کی اولاد یہاں آباد ہے۔
محمد شریف استاد کا تعلق ژانگ بازار سے تھا۔چترال سکول کی بنیاد سے پہلے آپ نے مقامی ایک مدرسے میں بطور استاد کام کیا تھا۔بعد چترال سکول میں متعین ہوئے۔اور آخر تک اس سے منسلک رہے۔
در امان۔۔۔(المعروف ٹرائی استاد)آپ کا تعلق گولدور سے تھا۔پشاور میں تعلیم حاصل کرکے آئے چترال کے سکول میں استاد لگ گئے۔آپ طلبا میں بہت مقبول تھے۔چونکہ وہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ”ٹرائی کرو“کا لفظ استعمال کرتے تھے۔اسی پربچوں نے یہ نام اس پر چسپان کرلیا۔
chitraltimes chitral town map old

شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
90413