Chitral Times

Jul 22, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پشاور کسے اپنا مدعا بیان کرے – جہانزیب سرحدی

شیئر کریں:

پشاور کسے اپنا مدعا بیان کرے – جہانزیب سرحدی

ناجائز تجاوزات نے پشاور کی گلیوں کو اور بازاروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اس سلسلے میں پشاور کے مشہور بازار جن میں مسلم بن بازار ”کوچی بازار کوہاٹی گیٹ شاہین بازار کریم پورہ بازار گھنٹہ گھر اور اشرف روڈ جی ٹی روڈ خوشحال بازار ہشت نگری بازار سکندر پورہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں صوبہ خیبر پختون خواہ کے دور دراز علاقوں سے انے والے افراد نے کہیں ہاتھ ریڈیوں سے شہر کے بازاروں پر قبضہ کیا ہوا ہے تو کہیں دکانداروں نے اپنی دکانوں کے اگے فٹ پاتھ کرائے پر دے رکھے ہیں جس کی وجہ سے بازار سمٹ کر گلیوں میں تبدیل ہو گئے ہیں جبکہ جبکہ کئی افراد نے تو باقاعدہ دکان سجا لی ہے ان میں وہ افغان مہاجرین بھی شامل ہے جو غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں اس وقت پاکستان کی معیشت پر قابض ہے اور پاکستانی قانون کو بالائے طاق رکھ کر باقاعدگی سے یہاں کاروبار کر رہے ہیں اس سلسلے میں دیکھا گیا ہے کہ انتظامیہ بالکل خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اور پشاور کے باسی شدید تکالیف میں مبتلا ہیں

 

شہر کے گلی کوچے خواہ وہ سڑکیں ہوں یا کھلے بازار ان ناجائز سے جائزات کی وجہ سے بدحالی کا شکار ہو رہے ہیں اور ہوئے ہیں یاد رہے کہ چند ماہ پہلے حکومت نے غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں رہنے والوں کے خلاف اپریشن کا اغاز کیا تھا اور غیر قانونی طریقے سے رہنے والے یہ افغان مہاجرین گرفتاری کے ڈر سے زیر زمین چلے گئے تھے مگر صوبائی حکومت اور انتظامیہ اور پولیس کی خاموشی کی وجہ سے وہ دوبارہ منظر عام پر ا کر اب دوبارہ شہر کی گلیوں کوچوں شاہراؤں اور روڈوں پر قابض ہو گئے ہیں اس سلسلے میں یہ بھی دیکھنے میں ا رہا ہے کہ نہ تو ان پہ کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے اور انتظامیہ ان کے خلاف کوئی کاروائی کرتی ہے جس کی وجہ سے ان کو باقاعدہ شہ ملی ہوئی ہے دیکھنے میں ایا ہے کہ پشاور میں جتنے بھی کرائم ہو رہے ہیں ان میں سے بیشتر افراد کا تعلق ہمسائے ملک افغانستان سے ہے اور یہ افراد وارداتوں کے بعد افغانستان چلے جاتے ہیں دیکھنے میں یہ بھی ایا ہے کہ پشاور کے کئی با اثر افراد افراد کی ان کو پشت پناہی حاصل ہے جبکہ کئی دو بازاروں کے صدر بنے ہوئے ہیں اور باقاعدگی سے انہوں نے اپنے کارڈ بھی چھاپے ہوئے ہیں اور جب کوئی مظاہرہ ہوتا ہے حکومت کے خلاف تو یہ سب سے اگے ہوتے ہیں

 

پشاور کے باسیوں نے یہ بات کافی حد تک محسوس کی ہے کہ ان کی خاموشی اور شرافت اکثر ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے کیونکہ پشاور کے رہائشیوں کا موڈ کافی دوستانہ اور پرامن ہوتا ہے لیکن یہ لوگ جب بھی اپنے مسائل لے کے کسی دفتر جاتے ہیں تو ان کو اگے سے دوسرے راستے بتائے جاتے ہیں اور جب بھی یہ اس ناجائز تجائزات کے خلاف کہیں رپورٹ درج کرنے جاتے ہیں یا درخواست دینے جاتے ہیں تو اگے سے ان کو لمبے چوڑے راستے دکھانے کے بعد درخواست واپس لینے کے لیے کہا جاتا ہے پشاور کے شہریوں نے اس بات پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس مرتبہ تو الیکشن بھی ہو گیا لیکن کوئی پشاوری اس الیکشن میں منتخب نہیں ہو سکا اور افغانستان کہ ایک سگرٹ کے بین الاقوامی سمگلر کو اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اس مرتبہ دیکھنے میں ایا ہے اور ہر مرتبہ دیکھنے میں اتا ہے کہ جب الیکشن نزدیک ہوں تو پشاور کے کئی خیر خواہ پشاور کے گلی کوچوں میں نظر اتے ہیں لیکن جون ہی الیکشن ختم ہوتا ہے تو یہ فرشتہ صفت انسان غائب ہو جاتے ہیں خواہ وہ پشاور کے شہریوں کا جو مسئلہ بھی ہو خواہ وہ پانی کا ہو یا صفائی کا یا ناجائز تجاوزات کا تو یہ افراد غائب رہتے ہیں اور الیکشن کے دنوں میں نمودار ہو جاتے ہیں

 

اس سلسلے میں پشاور کے ایک مشہور خاندان سے تعلق رکھنے والے اور ایک فلاحی تنظیم کی سربراہ حاجی لال محمد کا کہنا ہے کہ پشاور کے لوگ افغان جنگ کے بعد اور ارد گرد کی ابادیوں سے اور پہاڑوں سے انے والے ریلے میں بہ گئے ہیں اور پشاور میں صرف وہ لوگ رہ رہے ہیں جن کے پاس باہر جانے کے لیے سرمایہ نہیں ہے کیونکہ بیشتر افراد پشاور سے کوچ کر کے حیات اباد . گلبہار اور پوش علاقوں میں انہوں نے سکون اختیار کر لی ہے لیکن متوسط طبقہ جو پشاور شہر میں رہائش پذیر ہے مختلف مسائل کا شکار ہے جن میں صاف پانی صفائی تعلیم اور رہائش جیسے مسائل کا سامنا ہے اس تحریر کے دوران انہوں نے کہا کہ ایا ہماری شکایات اب کون سنے گا کیونکہ ہم ناجائز تجاوزات کے خلاف اور غیر قانونی تاریکین وطن کے خلاف کئی مرتبہ اوازیں اٹھا چکے ہیں لیکن ہم جتنی بھی اوازیں اٹھاتے ہیں مسائل اتنا ہی سر اٹھا رہے ہیں سمجھ نہیں ارہی کہ ہم اپنا مدعا کسے بیان کریں کیونکہ ہم پشاور کے شریف لوگ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پشاور کے لوگ خوش اخلاقی کی وجہ اور میل جول کی وجہ سے کافی مشہور ہے وہ اس وقت مسائل کا شکار بھی ہے اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ ایا کوئی بھی ادارہ یہ پڑھ کر اس مسائل کی طرف توجہ دے گا کہ نہیں یہ چند سطریں جو تحریر کی جا رہی ہے ویسے ہی سیاہی میں دب کر رہ جائیں گی یا اس پر ہماری انتظامجن میں ڈی سی پشاور ائی جی ائی جی خیبر پختون خواہ اور دیگر متعلقہ ادارے جن میں میئر پشاور بھی شامل ہے جو پشاور کے پرانے باسی کے بیٹے ہیں اس پہ ایکشن لیں گے کہ نہیں کیا یہ تحریر ایسے ہی پڑھنے کے لیے رہ جائے گی .


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
85572