Chitral Times

Jul 23, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پاکستان پوسٹ کا ایک اور کمال، نصف صدی سے قائم چترال کے تین ڈاک خانے بند کردیئے گئے

Posted on
شیئر کریں:

پاکستان پوسٹ کا ایک اور کمال، نصف صدی سے قائم چترال کے تین ڈاک خانے بند کردیئے گئے

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) پاکستان پوسٹ نے عوامی خدمت میں کمال کا مظاہر ہ کرتے ہوئے چترال بھر میں تین ایسے ڈاک خانے بند کردیا جوکہ گزشتہ نصف صدی سے قائم تھے جن میں اپر چترال میں دراسن جبکہ لویر چترال میں کوغوزی اور عشریت کے ڈاک خانے شامل ہیں جبکہ اس سے چترال کے مختلف ڈاک خانوں میں کلاس فور کی درجنوں اسامیوں پر غیر مقامی افراد کو بھرتی کرنے کے بعد انہیں ان کے مقامی اضلاع میں تعینات کردئے گئے ہیں جس سے چترال میں پوسٹل نظام پہلے ہی ابتر حالت میں تھی۔ چترال میں تین ڈاک خانہ جات کے خاتمے پر عوام میں بے چینی پید ا ہوگئی ہے کیونکہ یہی ادارہ چترال جیسی دورافتادہ اور پسماندہ علاقے کے چپے چپے میں ترسیل ڈاک کی سہولت فراہم کرتی تھی۔ چترال میں ڈاک خانہ جات کی بندش اور گزشتہ سال پی ڈی ایم حکومت کے دور میں کلاس فور ملازمین اور دوسرے کم اسکیل کے ملازمین کی بھرتی میں چترال میں خالی اسامیوں پر چترال سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو یکسر نظرانداز کرکے دوسرے اضلاع سے امیدواروں کو بھرتی کرنے کے بعد یہاں پر ڈیوٹی سرانجام دینے کے لئے نہ بھیجنے پر چترال کے عوام شدید احتجاج کررہے ہیں۔

 

انہوں نے وزیر اعظم شہازشریف سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ چترال کے عوام کے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کرنے والے پاکستان پوسٹ کے پوسٹ ماسٹرجنرل سمیت دوسرے افسران کے خلاف فی الفور کاروائی کی جائے اور چترال کے ڈاک خانہ کے تین قدیمی شاخوں کو بند کرنے کے ظالمانہ فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ چترال کے مختلف ڈاک خانہ جات میں خالی اسامیوں کو پر کیا جائے تاکہ یہاں محکمہ ڈاک کا نظام درست ہوسکے۔ اپر چترال کے گاؤں وریجون میں منعقدہ ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وی سی چیرمین عبدالرفیع، پی پیپی کے جنرل سیکرٹری حمید جلا ل اور دوسروں نے کہاکہ دراصل پاکستان پوسٹ کے اعلیٰ افسران اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے دراسن سمیت دوسرے علاقوں میں گزشتہ پانچ دہائیوں سے قائم ڈاک خانے بند کررہے ہیں تاکہ چترال کے نام پر بھرتی کردہ ملازمین کو وہاں پر پوسٹنگ کا جواز مل سکے۔ انہوں نے کہاکہ دراسن پوسٹ آفس پر تریچ سے لے کر کوشٹ تک 55ہزار آبادی اور آٹھ یونین کونسلوں کا دارومدار تھا اور وہ اس سہولت کو ایک افسر کی بیک جنبش قلم ختم کرنے کے فیصلے کو کبھی بھی قبو ل نہیں کریں گے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
87800