Chitral Times

Jul 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وفاقی حکومت کی طرف سے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ کرنے پر صوبائی حکومت بھی یکساں اضافہ کرے گی.مزمل اسلم

Posted on
شیئر کریں:

وفاقی حکومت کی طرف سے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ کرنے پر صوبائی حکومت بھی یکساں اضافہ کرے گی تا ہم یہ اضافہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے پورے ٹیکس واجبات کی ادائیگی سے مشروط ہوگا، مشیر خزانہ خیبر پختونخوا، مزمل اسلم

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) وفاقی حکومت کی طرف سے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ کرنے پر صوبائی حکومت بھی یکساں اضافہ کرے گی تا ہم یہ اضافہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے پورے ٹیکس واجبات کی ادائیگی سے مشروط ہوگا جواس سال دسمبر 2024 میں یکم جولائی سے یکمشت ادا کیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے مختلف سرکاری ملازمین کی ایسوسی ایشن کی مذاکراتی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مذاکراتی کمیٹی میں روئیداد خان، وزیر زادہ، نصیر الدین، سلیم خان، افسر خان، ملک اعجاز، اختر بی بی، عشرت ملک، رفاصیت مہر، شفا رس خان، عبدالغفور، سراج الدین اور عزیز اللہ و دیگرشامل تھے،اجلاس میں سرکاری ملازمین کی مختلف ایسوسی ایشن نے مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم کو سول سیکٹریٹ پشاور میں اپنے اپنے مطالبات پیش کیے جس پر مشیر خزانہ نے کہا کہ اس اجلاس میں صرف اجتماعی مطالبات کو زیر غور لایا جائے گا جبکہ باقی ایسوسی ایشن کے مطالبات کو جولائی سے باقاعدہ الگ الگ سنا جائے گا، اور اس کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے، مذاکراتی کمیٹی نے پنشن اصلاحات کے حوالے سے مختلف تحفظات کا اظہار کیا جس پر مشیر خزانہ نے مل بیٹھ کر حکمت عملی اپنانے کا کہاجس پر وفاقی بجٹ کے بعد کام کا آغاز کیا جائے گا۔

 

مشیر خزانہ نے کہا کہ بغیر اصلاحات کے اسی تناسب سے پنشن کا نظام چلتا رہا تو ایک دن آئے گا کہ حکومت دو آپشن میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہوگی کہ پنشن دیں یا تنخواہیں۔مذاکراتی کمیٹی کو مشیر خزانہ نے صوبے کی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ مطالبات بہت زیادہ ہیں اور ہم اپنے وسائل کے مطابق اس کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے، مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پہلے دن سے صحت کارڈ کو بحال کیا ہے اور دیگر ریلیف کے کاموں کے لیے فنڈز جاری کیے ہیں، مزمل اسلم نے کہا کہ صوبے کی کل آمدن ساڑھے چھ فیصد ہے جبکہ 93.5 فیصد آمدن وفاق سے آتی ہے اور صوبے کی آمدن بڑھانے کے لیے اخراجات میں کمی اور ٹیکس اصلاحات سے آمدن بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مشیر خزانہ نے کہا کہ تمام جائز مطالبات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

 

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89564