وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا صوبے میں جاری لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کا عمل تیز کرنے کی ہدایت
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے متعلقہ حکام کو صوبے میں جاری لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کمپیوٹرائزیشن کی تکمیل کے لیے درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے سروس ڈیلیوری سنٹرز کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے بھی مطلوبہ وسائل کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ جو سروس ڈیلیوری سنٹرز مکمل ہیں انہیں عوام کی سہولت کے لیے بلاتاخیر فعال بنایا جائے، جہاں زمین یا سرکاری عمارت دستیاب نہیں وہاں کرائے کی عمارتوں میں سروس ڈیلیوری سنٹرز قائم کیے جائیں مگر تاخیر نہ کی جائے۔ وہ بدھ کے روز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر برائے ریونیو نذیر عباسی اور سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو سید امتیاز حسین شاہ کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
صوبے میں جاری لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن پر اب تک کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ہدایت کی ہے کہ جو پٹواری اپنے حلقوں/ موضع جات سے باہر بیٹھتے ہیں ان کی متعلقہ حلقوں میں شفٹنگ یقینی بنائی جائے اور اس سلسلے میں پندرہ دن کی حتمی ڈیڈ لائن دی جائے اور عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے موضع جات کے چار سالے بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے نتھیا گلی میں اراضی کے ممکنہ مسائل سے بچنے کے لیے لینڈ سیٹلمنٹ شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰنے ضم اضلاع میں لینڈ سیٹلمنٹ اور ڈیجیٹائزیشن کے لیے درکار گاڑیوں کا انتظام کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا کہ لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن وقت کی اشد ضرورت اور بدعنوانیوں کے تدارک کا موثر ذریعہ ہے۔ لینڈ ریکارڈ کی جی آئی ایس میپنگ پر خصوصی توجہ دی جائے، ان منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر یا سست روی برداشت نہ کی جائے، جہاں سٹاف کی ضرورت ہے وہاں فوری طور پر سٹاف کا عارضی انتظام کیا جائے اور ساتھ ہی مستقل بھرتیوں کا عمل بھی شروع کیا جائے۔
اجلاس کو لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن پر اب تک کی پیش رفت بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے دو مراحل میں شامل 3562 موضع جات میں سے 3296 موضع جات کی کمپیوٹرائزیش مکمل ہے جبکہ 2945 موضع جات کو فعال بنایا جا چکا ہے۔ ایبٹ آباد، مردان، بونیر، کوہاٹ، ٹانک، شانگلہ اور ہنگو اضلاع سوفیصد کمپیوٹرائزیشن کے ساتھ سر فہرست ہیں۔ پشاور میں بھی لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل 98 فیصد مکمل کر لیا گیا ہے۔ صوبے میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کی مجموعی پیش رفت 83 فیصد ہے جبکہ ضم اضلاع، دیر اپر اور دیر لوئر میں لینڈ سیٹلمنٹ کا کام جاری ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں 23 سروس ڈیلیوری سنٹرز کی تعمیر مکمل جبکہ 23 سنٹرز پر کام جاری ہے۔
خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ نے میران بلاک کی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کے لیے بڈنگ کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا، میران بلاک کے 49 فیصد شیئرز فروخت کر دیے گئے جبکہ 51 فیصد شیئرز بغیر کسی رسک کے خیبر پختونخواہ آئل اینڈ گیس کمپنی کے پاس ہی رہیں گے۔
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ نے میران بلاک کی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کے لیے بڈنگ کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے جس کے تحت میران بلاک کے 49 فیصد شیئرز فروخت کر دیے گئے جبکہ 51 فیصد شیئرز بغیر کسی رسک کے خیبر پختونخواہ آئل اینڈ گیس کمپنی کے پاس ہی رہیں گے۔ منصوبے کے تحت صوبے میں 22 ارب روپے کی ڈائریکٹ سرمایہ کاری کی جائے گی۔ایکسپلوریشن مرحلے کے سو فیصد اخراجات بھی متعلقہ کنسورشیم برداشت کرے گا۔ یہ بات گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ کے اجلاس میں بتائی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے توانائیطارق سدوزئی، سیکرٹری توانائی نثار خان، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اور دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے میران بلاک کی بڈنگ کا عمل کامیابی سے مکمل کرنے پر کے پی او جی سی ایل کی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ کے پی او جی سی ایل نے کامیاب بڈنگ کے ذریعے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے جو کمپنی کو مزید مستحکم بنانے اور خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔اجلاس میں وزیر اعلی کو کمپنی کی کارپوریٹ بزنس اسٹریٹجی، صوبے میں تیل و گیس کی استعداد، حالیہ دریافت و سرمایہ کاری اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ملک میں تیل اور گیس کی پیداوار میں خیبرپختونخوا کا بڑا کردار ہے۔ صوبے میں تیل کی یومیہ پیداوار 30 ہزار بیرل ہے جو مجموعی ملکی پیداوار کا 42 فیصد بنتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں گیس کی یومیہ پیداوار 410 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جو مجموعی ملکی پیداوار کا 13 فیصد ہے۔
اسی طرح صوبے میں ایل پی جی کی یومیہ پیداوار 800 ٹن ہے جو مجموعی ملکی پیداوار کا 40 فیصد ہے۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ تیل اور گیس کے دیگر متعدد بلاکس میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ دیرپا اثرات کی حامل چار نئی دریافتوں سے صوبے میں گیس کی یومیہ پیداوار میں 180 ایم ایم ایس سی ایف کا اضافہ ہوا ہے۔مذکورہ دریافتوں کے نتیجے میں تیل کی یومیہ پیداوار میں بھی 5550 بیرل کا اضافہ ہوا۔ 2013 سے 2024 تک کمپنی کا ایکویٹی انجیکشن 4 ارب روپے بنتا ہے۔ کمپنی کے بجٹ تخمینہ جات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبائی کابینہ کے منظور شدہ انویسٹمنٹ پلان کی روشنی میں کمپنی کا سالانہ بجٹ تیار کیا گیا ہے۔نئے بلاکس کی ایکسپلوریشن کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر صوبے میں پن بجلی کے جاری منصوبوں پر بھی کام کی رفتار کو تیز کرنے جبکہ ضم اضلاع میں چھوٹے پن بجلی گھروں کی تعمیر کے لئے سروے منعقد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے مساجد اور گھروں کی سولرائزیشن کے منصوبے پر جلد کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو درپیش بجلی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ مساجد اور گھروں کی سولرائزیشن کا منصوبہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کو بروقت مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔
