Chitral Times

Jul 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب کا معاملہ: پی ٹی آئی 4 گروپس میں تقسیم

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب کا معاملہ: پی ٹی آئی 4 گروپس میں تقسیم

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے انتخاب کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چار گروپس میں تقسیم ہوگئی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے 4 امیدوار وزارت اعلیٰ کیلئے سامنے آگئے، علی امین گنڈاپور جنوبی اضلاع، اکبر ایوب اور مشتاق احمد غنی ہزارہ سے امیدوار کی دوڑ میں شامل ہوئے ہیں جبکہ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اپنے بھائی عاقب اللہ کیلئے سرگرم ہیں۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے ہم خیال ایم پی ایز کو اپنے ساتھ شامل کرنے کیلئے رابطوں کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا۔پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاسوں میں نئے وزیراعلیٰ اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطوں کیلئے مشاورت ہوئی، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں سے رابطوں پر غور جاری ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے انتخابات کا حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی کریں گے۔ذرائع کے مطابق اختلافات ختم کرنے کیلئے ماضی کی طرح غیر متنازعہ شخصیت لائی جا سکتی ہے۔

 

حافظ نعیم الرحمان کا پی ایس 129 کی نشست سے دستبرداری کا اعلان

کراچی(سی ایم لنکس)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے صوبائی حلقہ پی ایس 129 کی نشست سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ایس 129 پر آزاد امیدوار سیف باری جیتا تھا، ہمیں خیرات کی کوئی سیٹ نہیں چاہیے، جو جیتیں ہیں ان کو جتواؤ، جماعت اسلامی کو ایک ووٹ بھی ناجائز نہیں چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس الیکشن کو الیکشن کہنا نا انصافی ہے، جعلسازی کرنے والے خود پھنس گئے، اب یہ نہیں نکل سکتے، ایم کیو ایم کے باضمیر لوگوں کو کہتا ہوں سامنے آئیں، مصطفیٰ کمال سمیت بہت سارے ایم کیو ایم والے ہار چکے ہیں، ان کو جتوایا گیا ہے،ہم ایک ایک ووٹ سامنے لائیں گے۔امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ جعلی مینڈیٹ پر جشن منانے والے ڈوب مریں، فرانزک آڈٹ کرایا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، ہماری جیتی ہوئی سیٹیں واپس کی جائیں، بدترین مخالف کیلئے بھی یہی کہیں گے کہ جو جیتا ہے اس کو سیٹ دیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تباہ حال شہر کو مزید تباہ کرنا چاہتے ہیں، اب قوم میں شعور پیدا ہوگیا ہے، ہم اپنی نسلوں کو تباہ نہیں ہونے دیں گے، ہم لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف نہیں لے کر جانا چاہتے، ہم پرامن سیاسی مزاحمت کریں گے۔حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری لڑائی عوام کے حق کیلئے ہے، ہم خاموش ہو کر گھر نہیں بیٹھیں گے، قانونی و آئینی جنگ لڑیں گے، کراچی شہر کا دل جماعت اسلامی کے ساتھ دھڑکتا ہے، ہمیں عوام کے دلوں سے نہیں نکال سکتے، ہماری لڑائی اداروں سے نہیں، ہم نظام کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

 

پشاور ہائیکورٹ: انتخابی نتائج کے خلاف درخواستوں پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ) پشاور ہائیکورٹ نے انتخابی نتائج میں مبینہ تبدیلی کے خلاف درخواستوں پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا۔جسٹس شکیل احمد اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل پشاور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پی ٹی آئی رہنماؤں کی درخواستوں پر سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انتخابی نتائج کی تیاری امیدواروں اور آبزرور کی موجودگی میں ہوتی ہے، فارم 45 میں نتائج ہمارے حق میں تھے، فارم 47 میں تبدیل کر دیئے گئے۔وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ بیشتر حلقوں کے فارم 49 جاری کر دیئے گئے ہیں۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ رولز کے مطابق آپ کے کیس میں دوبارہ گنتی نہیں ہو سکتی، فارم 49 جاری ہوچکا ہے پھر تو ہم اس کو معطل نہیں کر سکتے۔عدالت نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ گنتی دوبارہ کریں، سپریم کورٹ نے ان کیسز میں بڑا چھوٹا مارجن رکھا ہوا ہے، ان مقدمات میں ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار بہت کم ہے۔دوران سماعت کامیاب امیدواروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کیس قابل سماعت نہیں، الیکشن کمیشن اس میں حکم دے چکا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ نتائج روکنے سے متعلق حکم امتناع کی استدعا پر بعد میں فیصلہ کیا جائے گا، انٹر ریلیف پر ہم بعد میں آرڈر جاری کریں گے۔بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے 2 روز میں جواب طلب کر لیا۔واضح رہے کہ اس کیس میں درخواست گزاروں میں تیمور جھگڑا، کامران بنگش، محمود جان، ارباب جہانداد، محمد عاصم، علی زمان، شہاب اور ساجد نواز شامل ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
85249