Chitral Times

Jul 23, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وادی ریچ کے رونگ کیس کا عدالتی فیصلہ سپریم کورٹ  میں عوام کے حق میں فیصلہ ہونے کے باوجود عملدرامدمیں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ باشندگان ریچ تورکہو 

شیئر کریں:

وادی ریچ کے رونگ کیس کا عدالتی فیصلہ سپریم کورٹ  میں عوام کے حق میں فیصلہ ہونے کے باوجود عملدرامدمیں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ باشندگان ریچ تورکہو

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز )اپر چترال کے ریچ تورکھو گاؤں کے باشندوں نے صدر پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور پشاور ہائی کورٹ، آئی جی پولیس اور پراسیکیوٹر جنرل خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ وادی ریچ کے مشہور زمانہ رونگ کیس کا عدالتی فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں عوام کے حق میں فیصلہ ہونے کے باوجود عملدرامد کرنے میں رکاوٹ ڈالنے اور ذاتی اثرو رسوخ استعمال کرکے مخالفین کو تنگ کرنے اورپولیس کے ذریعے تنگ کرنے پر پبلک پراسیکیوٹر ز سمیت تھانہ شاگرام کے ایس ایچ او کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ اتوار کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریچ گاؤں کے نمائندوں مقصددرست، سید عبدالناصر شاہ، سید نادر شاہ اور سید یوسف شاہ نے کہاکہ وادی ریچ میں رونگ نامی جائیداد پرکیس صرف چھ گھرانوں پرمشتمل خوشے قوم اور 550گھرانوں پر مشتمل عوام ریچ کے درمیان اپیلیٹ کورٹ میں عوام ریچ کے حق میں فیصلہ ہوچکا ہے مگر اپر چترال کے پولیس اور خصوصاً تھانہ تورکھو کے ایس ایچ او نے غیر قانونی، غیر روایتی، غیر پیشہ ورانہ اور ذاتی تعلقات کی بنا پر خوشے قوم سے تعلق رکھنے والے پبلک پراسیکیوٹرز ایاززرین اور محمد افضل کی ایما پر انتظامیہ اور عدلیہ کو من گھڑت اور قیاس آرائی پر مشتمل باتوں سے گمراہ کرکے علاقے کی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مذکورہ چراگاہ پہاڑی سلسلوں اور ریور بیڈ پر مشتمل ہزاروں ایکڑ پر محیط ہے جس سے اس علاقے کے باشندے قدیم الایام سے ذاتی ملکیت کے طور پر استفادہ کرتے آرہے ہیں جبکہ خوشے قوم بعد میں نقل مکانی کرکے یہاں آباد ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سرکار میں اپنی اثرو رسوخ اور عوام ریچ کی غربت سے فائدہ اٹھاکر اس چراگاہ کو اپنے نام کرنے کی کوششوں کو عوام نے عدالت کے زریعے ناکام بنادیا اور اپیلیٹ کورٹ نے اسے اسٹیٹ پراپرٹی قرار دیتے ہوئے رعایتی حقوق کے تحت عوامی استفادے کے لئے آزاد قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ مقدمہ میں فریق ایاز زرین اور محمد افضل اپنی سرکاری منصب کو استعمال کرتے ہوئے پولیس کے ذریعے ان پر پولیس کیس بناکر انہیں جیلوں میں ڈال دیا۔انہوں نے ارباب اختیار سے اپیل کی ہے کہ ان د وافسران کے خلاف سول سرونٹس ایکٹ کے تحت محکمانہ کاروائی عمل میں لایا جائے اور ایس ایچ او تورکھو کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے۔ انہوں نے حکام سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ ان کے جائز آئینی اور قانونی مطالبات پر غور کیا جائے بصورت دیگر تنگ آمد بجنگ آمد کے طور پر علاقے میں ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
81263