Chitral Times

Jul 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہنگائی بڑھ رہی ہے – قادر خان یوسف زئی  

Posted on
شیئر کریں:

مہنگائی بڑھ رہی ہے – قادر خان یوسف زئی

 

ملک مہنگائی کے خوفناک جھکڑ میں پھنسا ہوا ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے اور مہنگائی کا جن قابو میں ہی نہیں آرہا ۔حکومت کی جانب سے مہنگائی میں نمایاں کمی کے دعوے تو کئے جاتے رہے ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مہنگائی میں مزید کمی ہوگی، لیکن زمینی حقائق اس کے برخلاف ہیں اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ اداروں کی توجہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس لگانے اور متوسط طبقے پر بوجھ بڑھانے پر مرکو ز ہے، بجٹ پیش کرجاچکا ہے اور اس میں عوام کے لئے کسی حوصلہ مند پیکچ کے آثار اس لئے نظر نہیں آ رہے کیونکہ حکومت کے بجٹ کا نصف سے زیادہ تو صرف سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ پرائیویٹ اداروں میں کام کر نے والوں کیلئے کوئی خوش خبری نہیں لایا، بلکہ ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافے سے مزید مایوسی پھیل رہی ہے۔ بالخصوص بجلی، گیس کے بلوں میں نت نئے اضافے، ٹیرف میں تبدیلی اور فکسڈ چارجز کے نئے رجحان نے تنخواہ دار طبقے کے چودہ طبق روشن کر دئیے ہیں۔

حکومت جہاں سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں اضافے اور پینشن جیسے ہاتھی کا بوجھ اٹھائے ہوئی ہے کیا انہوں نے اس امر پر غور کیا کہ یہ جو مزدور کی کم از کم اجرت مقرر کی جاتی ہے تو کیا اس پر کوئی عمل بھی کررہا ہے یا کاغذات میں سب ٹھیک ہے، کی گردان اور چور دروازوں سے مزدور کی اجرت پر ڈاکہ ڈالنے طریقے استعمال کئے جا رہے ہیں پاکستان کی ہفتہ وار افراط زر میں حالیہ اضافہ، جیسا کہ حساس قیمت کے اشارےSensitive Price Indicator (SPI) سے ماپا جاتا ہے، ایک ایسی نشاندہی ہے جس پر پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 20 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے SPI میں 0.94% اضافہ، 23.78% سال بہ سال اضافے کے ساتھ، یہ بتاتا ہے کہ ملک میں افراط زر کا دباؤ بڑھ رہا ہے اس اضافے کے پیچھے بنیادی ڈرائیور ضروری اشیاء، خاص طور پر سبزیوں اور دالوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ٹماٹر، آلو، پیاز، لہسن اور دالوں جیسی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، عید الاضحی کے پیش نظر ٹماٹر کی قیمتیں اوسطاً 60 روپے فی کلو سے 250 روپے فی کلو تک پہنچی۔ قیمتوں میں یہ تیز اضافہ ممکنہ طور پر عوامل کے امتزاج کی وجہ سے ہے، جس میں عید کی خوشیوں کے دوران مانگ میں اضافہ اور سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹیں شامل ہیں مزید برآں، دیگر روزمرہ کی ضروریات جیسے دودھ، انڈے، ایل پی جی اور آلو کی قیمتوں میں بھی قابل ذکر اضافہ دیکھا گیا ہے، جو کہ 0.83% سے 5.61% تک ہے۔یہ قیمتوں میں اضافے کی توقع ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں میں آنے والے اضافے سے عام لوگوں پر مزید بوجھ پڑے گا۔

بجٹ کو آئی ایم ایف سے نئے بیل آؤٹ پروگرام کے حصول کے لئے سخت شرائط پر بنایا گیا، بجٹ کے حوالے سے خود حکومت کی اتحادی جماعتوں میں تحفظات پیدا ہوئے جس کا پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اظہار بھی کیا، وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کچھ اعتماد کی فضا بحال تو ہوئی ہے لیکن ایک جانب پی پی پی کا شکوہ کہ انہیں اعتماد میں لیا گیا تو دوسری جانب کابینہ میں شامل ہونے کا واضح اشارہ نہ دینا م ظاہر کررہا ہے کہ پی پی پی کسی بیک اپ پروگرام پر چل رہی ہے مہنگائی اور بجلی و گیس کی بندش اور کمی کے علاوہ بلوں میں اضافے سے عوام پر بوجھ بڑھنے کے غم و غصے سے بچنے کے لئے پی پی پی حکومت کے سخت اقدامات پر سنبھل کر چلنے کی کوشش تو کر رہی ہے لیکن وہ اس معاملے سے باہر اس لئے نہیں ہوسکتی کیونکہ حکومت سازی میں لئے جانے والے بڑے آئینی عہدے اور وزارت عظمیٰ کے لئے ووٹ و سپورٹ کرچکی ہے، لہذا عوامی ردعمل سے خود کو بچانے کی سعی کرنا بے سود ہے کیونکہ عوام تمام جماعتوں کے بیانیہ کو باریکی سے جانچ رہی ہے اور روز بہ روز ان میں برداشت کا مادہ ختم ہوتا جارہا ہے۔

افسوس ناک صورتحال یہ بھی کہ مہنگائی کے خلاف اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں، اس کی کئی وجوہ ہیں، جس میں سب سے بڑی وجہ سمگلنگ ہے ملک میں قربانی کے جانوروں کی کمی کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی، جس کی وجہ ان جانوروں کی افغانستان سمگلنگ کو قرار دیا گیا ہے۔ طلب اور رسد کے درمیان اس عدم توازن نے مہنگائی کے دباؤ میں حصہ ڈالا ہے، کیونکہ ان جانوروں کی دستیابی کی کمی نے ان کی قیمتوں کو بڑھا یا یہ اس سے متعلق ہے کہ حکومت کے پہلے مہنگائی کی سطح میں کمی کے دعوے اور زمینی حقیقت کچھ اور ہی تصویر پیش کرتی ہے۔ اشیائے ضروریہ، خاص طور پر سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی تاثیر اور افراط زر پر قابو پانے کی صلاحیت کے لیے ایک لٹمس ٹیسٹ کا کام کرتا ہے آگے بڑھتے ہوئے، حکومت کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اس مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجوہات کو دور کرنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ اس میں سپلائی چین کو مضبوط بنانے، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کو روکنے اور آبادی کے سب سے زیادہ کمزور طبقات کو ٹارگٹڈ سبسڈی یا ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ ایسا کرنے میں ناکامی عام لوگوں کو درپیش معاشی مشکلات کو مزید بڑھا سکتی ہے، جس سے حکومت کی ساکھ اور ملک کی مجموعی اقتصادی بہبود کو بہتر بنانے کی اس کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

توانائی اور مہنگائی کے اس بحران سے فالفور حل نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کا غیر واضح روٹ میپ بھی عوام سمجھنے سے قاصر ہے کیونکہ جو طریق کار اور پالیسیاں اختیار کی جارہی ہیں جس کا نقشہ بجٹ میں سامنے آیا ہے وہ مستقبل کا حشر نامہ پیش کررہا ہے کہ اس کیفیت کو بروقت نہ روکا گیا اور اوپری سطح پر عملی اقدامات و خسارے پر قابو نہ پایا گیا تو عوام میں سول نافرمانی کی ایک ایسی تحریک بھی پیدا ہوسکتی ہے جس کا روح رواں اور لیڈر خود ہی ہوں گے، انتشار اور افراتفری کا بڑا طوفان اٹھ سکتا ہے جسے روکنا کسی کے لئے بھی ممکن نہ ہوگا۔ مقتدر ادارے مستقبل کی پیش بینی میں تنخواہ دار طبقے کے بجائے ایسے اشرافیہ پر نظر جمائے جنہوں نے ملکی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور قانون کے لمبے ہاتھ بھی ان تک نہیں پہنچ پا رہے۔

 

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
90340