ملکِ خداداد میں خواتین کی غیر محفوظ زندگی – تحریر: ایڈووکیٹ ذیشان زرین
پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک سنگین سماجی چیلنج بن چکے ہیں۔ یہ مسئلہ محض انفرادی جرائم تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری سماجی ذہنیت کا عکاس ہے جو خواتین کی آزادی، سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی اور سب سے بڑھ کر ان کے انکار کو برداشت نہیں کر سکتی۔ حالیہ دنوں میں 17 سالہ ٹک ٹاک اسٹار ثناء یوسف کا اسلام آباد کے پوش علاقے میں دن دہاڑے قتل اس پریشان کن رجحان کی تازہ ترین مثال ہے۔ ثناء یوسف کو 23 سالہ عمر حیات نامی شخص نے گولی مار کر قتل کیا جس کی وجہ “ریپیٹڈ ریجیکشن” یعنی ثناء کا قاتل کی دوستی کی پیشکش کو بار بار مسترد کرنا بتائی گئی۔ یہ واقعہ “انسیل مینٹالٹی” کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایک مرد کسی خاتون کے انکار کو اپنی توہین سمجھتا ہے اور اسے زندہ رہنے کا حقدار نہیں سمجھتا۔ انسیل کلچر نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ زہر بھر رہا ہے کہ اگر کوئی خاتون انکار کر دے تو اس کی اتنی اوقات نہیں ہونی چاہیے کہ وہ آپ کو رد کرے۔ یہ رجحان جسے 80-20 رول کے ذریعے تقویت دی جاتی ہے، جہاں 80% خواتین صرف 20% مردوں میں دلچسپی رکھتی ہیں باقی مردوں کو زبردستی خواتین کو اپنی طرف مائل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ پاکستان میں جاری غیرت کلچر کا تسلسل ہے۔ کوئٹہ میں 14 سالہ امریکی شہری لڑکی کا اپنے باپ اور ماموں کے ہاتھوں ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانے پر قتل، خوشاب میں اقراء اعظم کا ماموں کے بیٹے کے ہاتھوں ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانے سے انکار پر نو گولیاں مار کر قتل اور کراچی میں زینب آرکیڈ میں چار خواتین کا گلا چھری سے کاٹ کر قتل جیسے واقعات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ خواتین کی جان کی قدر، اجتماعی غیرت کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ یہ غیرت کلچر انسانی جان کی تکریم پر خاندان کی عزت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس ذہنیت کو “عزت و تکریم کلچر” سے بدلنے کی اشد ضرورت ہے جہاں انسانی جان سب سے مقدم ہو۔
ثناء یوسف کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ صارفین کی جانب سے اس قتل کو برے کاموں کا برا نتیجہ قرار دے کر جشن منانا ایک انتہائی پریشان کن سماجی رویہ ہے۔ “بہت خوشی ہوئی، آہستہ آہستہ گند صاف ہو رہا ہے” اور “اسی طرح دس بارہ اور چلے جائیں تو بہت سکون ہوگا” جیسے کمنٹس ظاہر کرتے ہیں کہ ایک بڑی تعداد خواتین کی سماجی موجودگی، خاص طور پر سوشل میڈیا پر ان کی فعالیت کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتی ہے۔ یہ ایک ایسی ذہنیت ہے جو خواتین کی شکل دکھنے پر تیزاب پھینکنے یا انہیں جینے کے قابل نہ چھوڑنے کی خواہش رکھتی ہے۔ اگر کسی کے لباس یا سوشل میڈیا رویے پر اعتراض بھی ہو، تب بھی قتل کا کوئی جواز نہیں۔ قرآن کہتا ہے: “ناحق ایک جان لینا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے”۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “مسلمان کا خون چند شرعی حدود کے سوا حلال نہیں”۔ اسلام نرمی، حکمت اور ہمدردی سے اصلاح کا درس دیتا ہے، نہ کہ ظلم کی حمایت۔
اس کے ساتھ ہی مظلوم کو قصوروار ٹھہرانے کا رجحان بھی عام ہے۔ متاثرہ لڑکیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا یا انہیں احتیاط کا درس دینا درحقیقت مجرم کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی عورت نے چاہے جیسے بھی کپڑے پہنے ہوں اگر کسی دوسرے نے اس کی زندہ رہنے کا حق چھین لیا ہے تو صرف اور صرف ایک مجرم ہے اور وہ مارنے والا ہے۔ بلاشبہ والدین کو اپنے معصوم بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے، مگر جو حادثہ ہوا ہے اس کے جواز نہیں ڈھونڈنے چاہییں۔
پاکستان کا عدالتی اور قانونی نظام بھی خواتین کے خلاف جرائم پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ نور مقدم قتل کیس میں ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رہنے کے باوجود، اسی سماعت کے دوران ایک جج کا یہ کہنا کہ “اگر اس طرح کے تعلقات رکھیں گے تو یہ ہمارے کلچر کے خلاف تو ہے نا” عدالتی ذہنیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ سابق صدر مشرف کا گینگ ریپ کا شکار مختاراں مائی کے بارے میں بیان کہ “اس طرح کی عورتیں تو جان بوجھ کر اپنے ساتھ یہ کروا لیتی ہیں تاکہ کینیڈا کا ویزا مل جائے” ریاستی سطح پر موجود اس گھناؤنی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب اسلام گناہگار کی اصلاح کے لیے نرمی، حکمت، خیرخواہی اور دعا کا حکم دیتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ اخلاق اور ہمدردی سے لوگوں کو راہِ حق دکھائی نہ کہ جبر یا تحقیر سے۔ اسلام دلوں کو جیتنے اور تدریجی اصلاح پر زور دیتا ہے۔
بچوں کے خلاف تشدد اور جنسی زیادتی کے اعداد و شمار بھی پریشان کن ہیں۔ 2024 میں بچوں کے خلاف تشدد اور جنسی زیادتی کے 768 کیسز ہوئے یعنی روزانہ 21 بچے متاثر ہوئے۔ اسی سال 350 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار شدید طور پر کم رپورٹ ہوتے ہیں کیونکہ 20 سے 30 فیصد سے زیادہ کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی بڑی وجہ وہی غیرت ہے جو ایف آئی آر درج کرانے سے روکتی ہے تاکہ خاندان کا نام خراب۔نہ ہو۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ جنسی جرائم میں پاکستان میں صرف 3% مجرموں کو سزا ملتی ہے جبکہ 97% چھوٹ جاتے ہیں۔ یہ کم سزا کا تناسب مجرموں کو کھلی چھوٹ دیتا ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر بندوقیں اور مہلک تیزاب اتنی آسانی سے دستیاب کیسے ہیں کہ ہر گھر سے ایک اٹھتا ہے اور آ کر فائر مار کے یا تیزاب پھینک کر چلا جاتا ہے۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں تیزاب کی خرید و فروخت کو باقاعدہ بنانے کے لیے اب تک کوئی قانون سازی ہی نہیں ہوئی ہے۔
اس سنگین مسئلے کا حل صرف قوانین بنانے میں نہیں، بلکہ سماجی ذہنیت کی تبدیلی میں مضمر ہے۔ گھروں میں خواتین (ماؤں) کے ساتھ ناروا سلوک اور ان کی کم حیثیت دیکھ کر بچے (بیٹے) بھی یہی سیکھتے ہیں کہ خواتین کا انکار برداشت نہیں کرنا۔ یہ تشدد کے تسلسل کو دہراتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کو اسکولوں میں جنسی تعلقات، خواتین کے حقوق اور انسیل کلچر جیسے نظریات کے منفی اثرات کے بارے میں تعلیم دی جائے۔ قانونی نظام، فوجداری انصاف کے نظام، والدین کی تعلیم اور ادارہ جاتی تعلیم میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
نتیجتاً یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان خواتین کے لیے ایک محفوظ ملک نہیں ہے۔ مختلف عالمی انڈیکسز میں بھی اسے خواتین کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جا چکا ہے۔ پاکستانی خواتین کی حفاظت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ آج ایک ثناء یوسف ہے، کل ہزاروں ہوں گی۔ کیا ہم بحیثیتِ معاشرہ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے تیار ہیں؟

