Chitral Times

سہ روزہ تریچ میر سپورٹس گالا 2024 – قلم کی آواز ۔عبد الحی

Posted on

سہ روزہ تریچ میر سپورٹس گالا 2024 – قلم کی آواز ۔عبد الحی

وادی تریچ شادابی، ہریالی، زرخیزی، رنگینی، دلکشی، مردم خیزی، محبت و مودت، خلوص و جاذبیت، تمدن و ثقافت کا ذخیرہ ۔۔۔۔۔۔۔ٹھنڈے چشموں، بہتے پانیوں، گرتے آبشاروں، مسکراتی سبزہ زاروں، گنگناتے نالوں، لہلہاتے کھیتوں، جنگلی پھولوں، قدرتی رعنائیوں، اونچے درختوں، صندل کے پودوں، فلک بوس پہاڑوں، پرف پوش چوٹیوں، بل کھاتے رستوں، سرسراتی ہواؤں، یخ بستہ فضاؤں، سرد ہوا کی دلکش سرگوشیوں، چہچہاتے پرندوں، کوئل کی سریلی صداؤں ، قومی پرندہ چکور کی خوش آہنگ آوازوں، دلفریب نظاروں، سورچ کی سنہری کرنوں،ڈھلتے سایوں، صندلیں شاموں، چاندنی راتوں، جگمگاتے ستاروں، شبنم کے قطروں، مہکتے پھولوں، قدرتی جھیلوں، کا انتہائی خوب صورت مسکن ہے ۔

 

کوہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی تریچ میر(7,708m) بھی وادی تریچ میں واقع ہے جس کو سر کرنے کیلئے دنیا کے کئی مشہور کوہ پیماؤں نے تریچ روٹ کو استعمال کیا ہے. تريچ میر کو پہلی مرتبہ سر کرنے کا اعزاز ناروے کے مشہور فلاسفر اور کئی کتابوں کے مصنف Arne Naess کو حاصل ہے.
اس پر مستزاد یہ کہ(Rock climbing) کے کئی مشہور چوٹیاں بھی اس وادی میں واقع ہیں. جن میں سے
Langshar (laghshore). 6089m
Istoronal NW. 7,403 m (24,288 ft)
Saraghrar 7,340 m
عالمی سطح پر(Rock climbing)کیلئے مشہور ہیں.

 

گزشتہ سال آسٹریا کے مشہور اسکینگ کوہ پیماؤں نے تریچ میر گلیشیر کا دورہ کر کے تریچ میر اور دیگر چوٹیوں کو اسکیٹنگ کوہ پیمائی کے لئے موزوں ترین لوکیشنز قرار دیئے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ گزشتہ سال کے دوران فارن کشتی رانوں نے دریائے تریچ کو پہلی مرتبہ kayaking کیلئے استعمال کیا جو علاقے میں Adventure tourism میں ایک نمایاں اضافہ ہے جس سے علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا.

 

اتحاد ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن تریچ نے علاقے کی سیاحتی اور جغرافیائی اہمیّت کو مدنظر رکھتے ہوئے تریچ میر بیس کیمپ چترال کا اخری گاوں شاگروم میں سہ روزہ “تریچ میر سپورٹس گالا 2024” کا کامیاب انعقاد کیا۔ علاقے سے کثیر تعداد میں نوجوانوں نے اس تین روزہ سپورٹس گالا سے محظوظ ہوئے۔ اس طرح کے صحت مند تفریحی پروگرامز سے نہ صرف علاقے میں نوجوانوں کو مختلف تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملتا ہے بلکہ ملکی وغیر ملکی سیاحوں کو صوبے کی سب سے اونچی چوٹی تک رسائی کے لئے موزوں اور قریب ترین آزمودہ روٹ کے بارے میں آگاہی بھی حاصل ہوتی ہے.

 

ہم حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ قدرتی حسن سے مالا مال اور Adventure Tourism کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر شہرت رکھنے والی اس وادی کو صوبے کے ٹورازم زونز میں شامل کرکے علاقے میں Adventure Tourism کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں ۔

 

 

chitraltimes terichmir .jpgchitraltimes terichmir sports gala chitraltimes terichmir sports gala

Posted in تازہ ترین, مضامین
90117

صحافی اور کالم نگار – فرق اور فطرت – خاطرات : امیرجان حقانی

Posted on

صحافی اور کالم نگار – فرق اور فطرت – خاطرات : امیرجان حقانی

صحافی اور کالم نگار میں فرق کو سمجھنے کے لیے ایک باغبان اور مصور کی مثال لی جا سکتی ہے۔ ایک باغبان کا کام ہے کہ وہ باغ کی دیکھ بھال کرے، پودوں کو پانی دے، اور وقت پر کھاد ڈالے۔ وہ حقیقت میں باغ کی نشوونما کا ذمہ دار ہوتا ہے، باغ کی ساری بہاریں اسی کے دم سے ہیں۔ اسی طرح ایک صحافی کا کام ہے کہ وہ خبروں کو جمع کرے، ان کی تحقیق کرے اور عوام تک پہنچائے۔ وہ حقائق کی چھان بین کرتا ہے اور عوام کو صحیح معلومات فراہم کرتا ہے۔ شاید یہ آپ کو معلوم ہو کہ پاکستان میں صحافت جان جوکھوں کا کام ہے۔ حقیقی صحافی کا ایک پیر ہمیشہ جیل میں ہی ہوتا ہے۔ اسے دسیوں مافیاز سے خطرہ رہتا ہے۔

 

دوسری طرف، ایک مصور کا کام ہے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کینوس پر اپنی سوچ اور خیالات کا اظہار کرے۔ اسی طرح ایک کالم نگار کا کام ہے کہ وہ اپنے خیالات اور تجزیے کو تحریر کی شکل میں پیش کرے۔ وہ مختلف موضوعات پر اپنی رائے اور نظریات پیش کرتا ہے۔

 

پندرہ سال پہلے جب میں نے یونیورسٹی میں صحافت کی تعلیم میں قدم رکھا، تو میرا سفر بھی ایک صحافی طالب علم کے طور پر ہی شروع ہوا تھا۔ میں نے باقاعدہ یونیورسٹی سے صحافت کی تعلیم حاصل کی، بیس پیپر پاس کیے اور کئی درجن صحافتی اسائنمنٹ مکمل کیے۔ اسی زمانے میں، میں نے بہت سی خبریں جمع کیں، رپورٹیں تیار کیں اور انہیں عوام تک پہنچایا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ، میری دلچسپی کا محور تبدیل ہوتا گیا۔ لکھنا میرا ذوق تھا، گریجویشن کے بعد اخبار میں کالم لکھنا شروع کیا تھا جو ہفت روزہ چٹان میں چھپتا تھا اور دہھر کچھ اخبارات و رسائل میں بھی۔ آج بھی میری تیار کردہ نیوز رپورٹس گلگت بلتستان کے اکثر اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔ یہاں کے نیوز ایڈیٹر صاحبان من و عن شائع کر دیتے ہیں۔ سرخی بھی وہی جما دیتے ہیں جو میں نے لکھ کر بھیجا ہوتا ہے۔

 

گزشتہ اٹھارہ سال سے، میں کالم لکھ رہا ہوں ۔ کالم لکھتے وقت، میں نے محسوس کیا کہ یہ کام میری تخلیقی صلاحیتوں کو زیادہ موقع دیتا ہے۔ اچھا کالم لکھنے کے لئے مجھے اچھا مطالعہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ کالم لکھنا ایک آزادانہ عمل ہے جہاں میں اپنے خیالات اور نظریات کو بے باک انداز میں پیش کر سکتا ہوں۔ سخت سے سخت بات استعارہ و کنایہ میں کہہ جاتا ہوں۔ لوگ تلملا اٹھتے ہیں مگر کچھ کہنے یا کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ میری تحریریں صرف حقائق پر مبنی نہیں ہوتیں بلکہ ان میں میری رائے، تجزیے اور تجربات و تاثرات کا رنگ بھی شامل ہوتا ہے۔

 

اکثر لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے اور مجھے صحافی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ مگر میں جانتا ہوں کہ عملی صحافت ایک ذمہ داری کا کام ہے جہاں حقیقت کو بغیر کسی تحریف کے پیش کرنا ہوتا ہے، جبکہ کالم نگاری ایک تخلیقی کام ہے جہاں میں اپنے خیالات کو آزادانہ طور پر پیش کر سکتا ہوں۔ یہ بست ضرور ہے کہ کالم نگاری صحافت کی ایک صنف ہے مکمل صحافت نہیں۔

 

تو، جب لوگ مجھے صحافی کہتے ہیں تو میں صرف مسکرا کر کہتا ہوں کہ “ان سے کیا الجھنا”، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میری شناخت ایک کالم نگار کی ہے، نہ کہ ایک صحافی کی۔ اس فرق کو سمجھنا اور اسے برقرار رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ ہم اپنے کام کی نوعیت اور اس کی اہمیت کو صحیح طریقے سے پہچان سکیں۔

 

میری تحریروں کا اصل مقصد ہے کہ قارئین کو سوچنے پر مجبور کروں، ان کے ذہنوں میں سوالات پیدا کروں اور انہیں ایک نئے زاویے سے دنیا کو دیکھنے کی ترغیب دوں۔ اور اپنے خاطرات ان تک پہنچانا ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں خود کو ایک کالم نگار کہلوانا زیادہ پسند کرتا ہوں، کیونکہ یہ میری شناخت کا صحیح عکاس ہے۔

 

ہاد رہے! ایک کہنہ مشق صحافی بہترین کالم نگار بن سکتا ہے اور میری طرح کوئی مدرس بھی کالم نگاری میں اپنا مقام بنا سکتا ہے مگر بنیادی طور پر ان دونوں میں فرق واضح ہے جن کو مثالوں کے ذریعے بیان کیا ہے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
90111

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا مالی بحران اور حل – خاطرات :امیرجان حقانی

Posted on

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا مالی بحران اور حل – خاطرات :امیرجان حقانی

 

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی (KIU) گلگت بلتستان کی علمی و تحقیقی خدمات کا مرکز ہے،کسی حد تک گلگت بلتستان کی تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔ یہ یونیورسٹی صدر مشرف کا تحفہ ہے۔گزشتہ بیس سال میں قراقرم یونیورسٹی بہت سے نشیب و فراز سے گزری ہے، تاہم اب کی بار شاید یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ یونیورسٹی کے اس حال تک پہنچنے میں کچھ اپنوں کی بے رعنائیاں ہیں اور کچھ اندر والوں کی ریشہ دوانیاں، جو بحرحال افسوسناک ہے۔ حالیہ مالی بحران اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے یونیورسٹی کے دیامر، غذر اور ہنزہ کیمپسز کی بندش کا اعلامیہ ایک افسوسناک واقعہ ہے جو علاقے کی تعلیمی ترقی پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔قراقرم یونیورسٹی کے ساتھ بلتستان یونیورسٹی بھی کرائسس کا شکار ہے۔

 

اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے کچھ تجاویز پیش کی جا رہی ہیں جو دونوں یونیورسٹیوں کو مالی بحران سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ سردست ہم دونوں یونیورسٹیوں کی کمزوریوں اور خامیوں اور ان کے کارپردازوں کی رنگینیوں اور لاپرواہیوں کو ڈسکس نہیں کریں گے۔ وہ پھر کبھی، سردست ہمیں اپنے ان اداروں کو مشکلات سے نکالنا ہے۔یہ ادارے ہم سب کے ہیں اور فرض بھی سب کا ہے۔ تجاویز ملاحظہ ہوں۔

حکومت پاکستان اور حکومت گلگت بلتستان سے تعاون لینا بہت ضروری ہے۔ وفاقی حکومت کو قراقرم یونیورسٹی کے لیے خصوصی فنڈز جاری کرنے چاہئیں تاکہ یونیورسٹی کے مختلف کیمپسز کو فعال رکھا جا سکے۔ اس کے لیے تعلیمی بجٹ میں اضافی مختصات کی ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کو بھی دونوں یونیورسٹیوں کی مالی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔خصوصی گرانٹس، سبسڈیز اور تعلیمی پروگرامز کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جائے۔ اور بہت سارے طریقے ہوسکتے ہیں جن کے ذریعے دونوں یونیورسٹیوں کو اس نزاعی حالت سے نکالا جاسکتا ہے۔

ایچ ای سی ایک ذمہ دار آئینی ادارہ ہے۔ گلگت بلتستان کی دو ہی یونیورسٹیوں کو اس طرح بے یار و مددگار نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ایچ ای سی کو چاہیے کہ قراقرم یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی کے لئے خصوصی فنڈز کی بحالی کا کوئی ڈسیجن لیں۔ اس کی بھی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔

 

1.فوری اور ہنگامی اپیل:
یونیورسٹی انتظامیہ کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے فنڈز کی بحالی اور اضافی گرانٹس کی درخواست کرنی چاہئے۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی مداخلت بھی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ اور دیگر ذمہ دار ادارے بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

2.طویل مدتی منصوبہ بندی:
ایچ ای سی کو قراقرم اور بلتستان یونیورسٹی کے ساتھ مل کر طویل مدتی فنڈنگ پلان تیار کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسے بحران سے بچا جا سکے۔ قراقرم یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی کے پروفیسروں اور منتظمین کے پاس ایسے پلان مرتب شکل میں ہونے چاہئے جو HEC کے ساتھ طویل مدتی فنڈنگ کے لیے کیے جاسکتے ہیں۔

 

دنیا بھر میں ہزاروں ایسے ادارے ہیں جو تعلیمی اداروں بالخصوص تیسری دنیا کے تعلیمی اداروں کو مضبوط کرنے اور انہیں مدد دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ عالمی اداروں اور رفاہی تنظیموں سے فنڈ ریزنگ کے لیے بھی بلتستان اور قراقرم یونیورسٹی کو ورک پلان تیار کرنا چاہیے۔ دونوں یونیورسٹیوں کو عالمی اداروں جیسے ورلڈ بینک، یونیسکو، اور دیگر بین الاقوامی تعلیمی فنڈنگ اداروں سے رابطہ کرنا چاہئے۔ انہیں یونیورسٹیوں کی اہمیت اور اس کے مالی بحران کی صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔

ملکی اور غیر ملکی رفاہی تنظیموں سے مالی مدد حاصل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔ اس میں انڈوومنٹ فنڈز، سکالرشپس، اور تعلیمی پروجیکٹس کے لیے گرانٹس شامل ہو سکتی ہیں۔

سوشل میڈیا اور عوامی حمایت بھی بہت ضروری ہے۔ جب سے یونیورسٹی نے مالی بحران کا اعلامیہ جاری کیا ہے سوشل میڈیا میں غم و غصہ پایا جاتاہے ۔ طنزیہ پوسٹیں زیئر ہورہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری غم و غصہ کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے۔ ایک مربوط سوشل میڈیا کیمپین کے ذریعے عوام کو یونیورسٹی کی اہمیت اور مالی بحران سے آگاہ کیا جائے تاکہ عوامی حمایت حاصل کی جا سکے۔ اس کے لئے یونیورسٹی ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہنگامی ٹاسک تفویض کریں۔

حکومت کے تمام ادارے عوامی ٹیکس سے ہی چلتے ہیں۔ ایسی بحرانی کیفیت میں دونوں یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ عوام اور مختلف کاروباری اداروں سے عطیات جمع کرنے کے لیے آن لائن اور آف لائن مہمات شروع کریں۔ اس میں یونیورسٹی کے سابق طلباء، مقامی کمیونٹی اور کاروباری حلقے شامل ہو سکتے ہیں۔

مقامی کمیونٹی اور کاروباری اداروں کے ساتھ پارٹنرشپ قائم کی جائے تاکہ یونیورسٹیوں کے مختلف منصوبوں میں مالی معاونت حاصل کی جا سکے۔اسی طرح مقامی اور ملکی صنعتوں سے تعاون حاصل کرنے کے لیے موٴثر حکمت عملی تیار کی جائے، تاکہ انڈسٹری اور یونیورسٹی کے مابین تحقیقی و تعلیمی منصوبوں کے ذریعے مالی معاونت حاصل کی جا سکے۔

اور سب سے بڑھ کر دونوں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر صاحبان اور دیگر انتظامی و اکیڈمیا کے لوگوں کو کفایت شعاری سے کام لینا چاہیے۔ سچ یہ ہے کہ آپ کے بے جا شاہ خرچیوں اور غیر مربوط پالیسیوں کی وجہ سے یہ تعلیمی ادارے اس کیفیت میں مبتلا ہوئے ہیں۔ دوسروں سے مدد اور قربانی طلب کرنے سے پہلے خود شروع کریں تو ان شا اللہ بہتری آئے گی۔

مختصراً عرض ہے کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی کی بقاء اور ترقی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔حکومت پاکستان، حکومت گلگت بلتستان، ایچ ای سی، عالمی ادارے، رفاہی تنظیمیں، اور عوامی حمایت کا حصول دونوں یونیورسٹیوں کو موجودہ مالی بحران سے نکال سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل جل کر جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ یونیورسٹیوں کا روشن مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔اللہ سے دعا ہے کہ ان قومی اداروں کو مشکلات سے نکالے۔

Karakurom international university KIU GB 1

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
90088

دھڑکنوں کی زبان ۔ ایک نوعمر پی ایچ ڈی ۔ محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان ۔ ایک نوعمر پی ایچ ڈی ۔ محمد جاوید حیات

۔پی ایچ ڈی سکالر بڑا پروفاٸل رکھتا ہے اس کے لیے اردو میں کبھی “حکیم ” لفظ استعمال ہوتاتھا کہ جس کامطلب لوگ علمی ڈاکٹر لیا کرتے تھے اسی کے لیے ” علامہ ” کا لفظ بھی آتا تھا جس کا مطلب ہوتا کہ یہ بندہ ہر علمی مسلہ حل کر سکتا ہے وہ علم کا خاموش سمندر ہوتا تھا زمانہ بدلہ تو لفظ بھی اپنا معیار کھو بیٹھا ۔۔تحقیق کی جگہ کاپی پیسٹ نے اس کو کسی کا نہ چھوڑا ۔أج میں جس نوجوان پی ایچ ڈی کا ذکر کرنے لگا ہوں وہ اس معیار پر پورا اترتا ہے ۔۔وہ نیچرل سانٸس کا طالب علم ہے باٹنی پڑھی ہے مگر تین کتابوں کا پہلے ہی مصنف ہے اردو ان کی مادری زبان نہیں مگر انھوں نے اس میں شاعری کر کے “ورید”کے نام سے مجموعہ شاٸع کرایا ۔۔

 

اردو افسانوں کا مجموعہ “برف کے گالے ” منظر عام پہ أیا ۔۔انگریزی زبان میں معاشرتی ناول جس کے اندر چترال کی تہذیب رچی بسی ہوٸی ہے اور خودکشی جیسے قبیح عمل کی مذمت ہے A reverie, seven days, seven nights کے نام سے زیر طبع ہے انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے ریکارڈ تین سال میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی ۔اس پی ایچ ڈی پر لکھنے کو دل چاہا کہ وہ آگے بھی بہت کچھ کرنا چاہتا ہے یہ نہ تھکنے والا پی ایچ ڈی سکالر عزیز الرحمن عزیز ہیں جو چترال اپر کے خوبصورت گاٶں واشچ میں ایک علمی خونوادے میں أنکھ کھولی باٸکے قبیلے سے تعلق رکھنے والے آپ کے ابو( ر) صوبیدار عزیز بیگ صاحب چترال سکاٶٹ میں ایجوکشن سے وابستہ رہے اور ریٹاٸرڈ ہوکے بڑے نامی گرامی پبلک سکوں کے پرنسپل رہے اب بھی ان کے گھر میں بچوں کا تانتا بنا رہتا ہے اور علم کی روشنی اٹو سیزن ٹیچر کے طور پر پھیلا رہا ہے ۔۔

 

عزیز الرحمن عزیز کی سکولنگ عارف پبلک سکول میں ہوٸی ڈگری کالج چترال سے ایف ایس سی کیا پشاور یونیورسٹی سے بی ایس ،ایم فل اور پھر پی ایچ ڈی کیا جون 2024 کو آپ کا ڈیفس سیشن ہوا ۔عزیز الرحمن عزیز دس سالوں سے کیڈٹ کالج چواسیدن شاہ کالج چکوال میں بطور لکچرر کام کر رہے ہیں اور کالج میں ایک محنتی اور ماڈل استاذ کے طور پر مانے جاتے ہیں ۔ان کی شخصیت میں خاکساری ، ملنساری اور تواضع بھری پڑی ہے ۔ان سے مل کر رشک ہوتا ہے درمیانے قد کا خوبرو نوجوان پہلی نظر میں عام سا بندہ نظر آۓ گا ۔جب بات کرنے لگو تو منہ سے پھول جھڑیں گے اور حقیقت میں پی ایچ ڈی لگے گا ۔حقیقی علم کی دولت میں جتنا اضافہ ہوتا جاۓ گا اتنی عاجزی شخصیت کا حصہ بنتی جاۓ گی اور بندے کی شخصیت کرشماتی ہوتی جاۓ گی ۔وہ شہد کی طرح شرین اور ریشم کی طرح نرم ہوتا جاۓ گا۔آج کل غرور فیشن بن گیا ہے اور غرور کا انجام رسواٸی کے سوا کچھ نہیں ۔

 

ڈاکٹر عزیز الرحمن عزیز انسانی صفات سے مالامال ہیں ان کی ذات کرشماتی ہے اس میں غرور کا شاٸبہ تک نہیں ان کے چہرے پر شرافت کی روشنی پھیلی رہتی ہے ۔وہ ایک محقق ہیں۔۔ رسرچر۔۔۔ جس کی زندگی جستجو کا مرقع ہے ۔ان کے پاس سٹیمینا ہے تھکن سے دور ذوق و شوق سے بھر پور پریکٹیکل بندے ہیں ۔ڈاکٹر عزیز کے بہن بھاٸی سب اعلی تعلیم یافتہ اور باپ کی اچھی تربیت نے ان کو مذید نکھارا ہے ۔ڈاکٹر عزیز کم گو ،خوشگو اور علمیت سے بھری پوری شخصیت ہیں ۔ان کی سوچیں بلند اور عزم جوان ہے وہ جوانوں کے لیے مثال ہیں ۔

 

ماں باپ اور بزرگوں کا بے حد قدردان اور اپنے بچوں سے بے حد پیار کرنے والے اچھے باپ ہیں ۔انہوں نےجستجو اور جد و جہد کی مثال قاٸم کی ہے ذوق شوق کی اس چٹان نے صرف ایک منزل سر کر لی ہے ان کی پرواز بہت بلند ہے اور أسمان سامنے اور بھی ہیں ڈاکٹر عزیز الرحمن نے یہ ثابت کیا ہے کہ مشکل جغرافیہ کامیابی کے راستے میں کوٸی روکاوٹ نہیں ۔انہوں نے علاقے کی پسماندگی کو اپی محنت کے راستے میں روکاوٹ بننے نہ دیا پسماندگی ذہن اور سوچوں کی نہیں ہونی چاہیے ۔ڈاکٹر عزیز اس سے پاک ہیں ۔۔وہ قوم اور علاقے کا سرمایہ ہیں ۔۔اقبال نے ایسے جوانوں سے محبت کا دعوی کیا تھا جو ستاروں پہ کمند ڈالتے ہیں ڈاکٹر عزیز ان جوانوں میں سے ہیں ۔۔۔اللہ ان کی حفاظت فرماٸے.

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامین
90094

داد بیداد – بنی اسرائیل تب اور اب – ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد – بنی اسرائیل تب اور اب – ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اسرائیل کا نا م فلسطینیوں پر بے جا اور نا روا ظلم کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی نظر میں دشمن کانا م ہے اور دشمن بھی ایسا جو مسلمان کے نا م کا دشمن ہے یعنی اسلا م کا دشمن ہے حا لانکہ اسرائیل جلیل القدر پیغمبر اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چھوٹے بیٹے حضرت اسحا ق علیہ السلام کانام ہے بنی اسرائیل ان کی اولا د کو کہا جا تا ہے حضرت اسحا ق علیہ السلا م کی تاریخ 6ہزار سال سے اوپر ہے جبکہ ہمارے دشمن اسرائیل کا قیام 1917کے با لفور معا ہدے کے تحت عمل میں آیا اس معا ہدے کی تاریخ صرف 106سال ہے اُس وقت کے بر طا نوی وزیر خار جہ با لفور (Balfur) نے عا لمی صیہونی تنظیم کے ساتھ دو عرب لیڈروں کی ضما نت پر اسرائیل کے نا م سے فلسطین میں صیہونی ریا ست کے قیا م کا معا ہدہ کیا عرب لیڈروں کو معا ہدے کی رو سے دو مرا عات دی گئیں ان کی خوا ہش پر تر کوں کی عثما نی خلا فت کے حصے بخرے کئے گئے،

 

عرب لیڈروں کو عثما نی خلا فت کے کھنڈرات اور بچے کھچے ملبے پر کٹھ پتلی حکومت کے لئے ما لی اور فو جی امداد دی گئی، یوں با لفور معاہدے کے دو فریق نہیں تھے بلکہ چار فریق تھے فلسطینی مسلما نوں کی قسمت کا فیصلہ ہو رہا تھا اور فلسطینی اس فیصلے سے مکمل طور پر بے خبر تھے آگے جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک باب ہے اب اس تاریخ میں بر طانیہ کا کر دار امریکہ اداکر رہا ہے، عرب شیو خ معا ہدہ بالفور کی روح کے مطا بق کٹھ پتلی حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں، اسرائیل ایٹمی ملک بن چکا ہے اور عرب دنیا پر اس کا پورا غلبہ ہو چکا ہے امریکہ اپنے سیا سی اور ما لیاتی مفا دات کے لئے اسرائیل کے ساتھ فو جی مدد کر رہا ہے جس میں ہر سال اضا فہ دیکھنے میں آتا ہے،

 

بر طا نیہ معا ہدہ با لفور کے تحت اسرائیل کا اتحا دی ہے صورت حا ل یہ ہے کہ 1917ء میں تر کوں کی اسلا می سلطنت کو دنیا میں بڑی طا قت کادرجہ حا صل تھا 106سال بعد وہ در جہ اسرائیل کو حا صل ہوا ہے اسلا می مما لک افراتفری کی کیفیت سے دو چار ہیں انڈو نیشیا اور تر کی سمیت کوئی بھی اسلا می ملک اسرائیل کے مقا بلے کی طا قت نہیں رکھتا، ایسا کیوں ہوا؟ اس کا موا زنہ مشکل نہیں بہت آسان ہے مسلما نوں کی مو جود ہ تاریخ 1400سالوں پر محیط ہے 610عیسوی میں خا تم لانبیاء محمد مصطفٰے ﷺ کو نبوت ملی، 623عیسویں میں نبی کریم ﷺ نے مکہ سے یثرب کی طرف ہجر ت کی اُس وقت سر زمین حجا ز میں یہودیوں کی بستیاں مو جو د تھیں، یہو دیوں کے را ہبوں کی بھی کا فی شہرت تھی بحیرہ راہب نے حضور ﷺ کے مبعوث ہونے کی پیشگوئی کی تھی ساتویں صدی عیسوی میں یہو دی اس طرح تتر بتر ہو چکے تھے جس طرح اکیسویں صدی میں مسلما نوں کا حال ہے،

 

انتشا ر اور نفاق با ہم کی کیفیت سے نکلنے کے لئے 1840اور 1860کے درمیا نی عر صے میں جر منی اور روس کے یہو دی لیڈروں نے آپس میں ایک معا ہدہ طے کیا جس کے تحت دنیا میں صیہو نی مقا صد کے حصول کے لئے چند رہنما اصو ل طے کئے گئے ان اصو لوں میں با ہمی اتفاق، دنیا کے وسائل پر قبضہ، ما لیا تی اداروں، اسلحہ کے کا رخا نوں اور ذرائع ابلا غ پر اجا رہ داری پر اتفاق کیا گیا، 100سال سے بھی کم عرصے میں یہودیوں نے اپنے تما م اہداف حا صل کر لئے آج امریکہ، بر طا نیہ، فرانس، روس، جر منی اور جا پا ن کی طا قتور حکومتیں یہو دیوں کی محتاج ہیں امریکہ میں کوئی حکومت یہودیوں کی حما یت کے بغیر نہ بن سکتی ہے نہ قائم رہ سکتی ہے

 

پا نچ سال پہلے ڈو نلڈ ٹر مپ نے ابرا ہیمی مذا ہب کے پیرو کا روں کو متحد کر کے مشرق وسطیٰ کا مسلہ افہا م و تفہیم سے حا صل کر نے کے لئے روڈ میپ دیا تو اس کو نشان عبرت بنا یا گیا اور اسکی پارٹی کو پیچھے دھکیل دیا گیا 2024کے صدارتی انتخا بات سے پہلے ری پبلکن پارٹی کے سامنے رکا وٹوں کا پہاڑ کھڑا کیا گیا ہے تاکہ فلسطینیوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے ڈیمو کریٹ اگلے 4سالوں کے لئے پھر اقتدار میں آسکیں الغرض 14سو سال پہلے یہودیوں کی جو حا لت تھی آج مسلمانوں کی وہی حا لت ہے اور مسلما نوں کے پا س اتحا د اور بھا ئی چا رے کی جو قوت تھی وہ قوت یہودیوں کے ہا تھوں میں آگئی ہے علا مہ اقبال نے قو موں کے عروج و زوال پر یوں تبصر ہ کیا ہے ؎
تقدیر کے قا ضی کا فتویٰ ہے ازل سے
بے جر م ضعیفی کی سزا مر گ مفا جات

Posted in تازہ ترین, مضامین
90073

چترالی زبان یا چترالی زبانیں؟ – ظہور الحق دانش

چترالی زبان یا چترالی زبانیں؟ – ظہور الحق دانش

کچھ سرکاری و نجی میڈیا چینلوں، ریڈیو سٹیشنوں اور لکھاریوں کی توجہ چاہتے ہوئے دست بستہ عرض ہے کہ “چترالی زبان” نام کی کوئی زبان وجود ہی نہیں رکھتی۔ چترال میں کُل 12 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اُن سب کے لیے “چترالی زبانیں” کا فقرہ آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن صرف کھوار زبان کو ہی “چترالی زبان” قرار دینا دوسری زبانوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ ہاں کھوار “ایک چترالی زبان” ہے، لیکن کلَی طور پر صرف کھوار ہی”چترالی زبان” نہیں ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ چترال میں رہنے والے دوسرے لسانی گروہوں کے لیے کھوار زبان ایک “لینگوا فرانکا” یعنی رابطے کی زبان ضرور ہے۔ پھر بھی صرف کھوار کو ہی “چترالی زبان” کا لیبل لگانا مناسب نہیں ہے۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ “کھوار ‘ایک چترالی زبان’ ہے، چترال میں بولی جانے والی ایک بڑی زبان ہے، چترال کا لینگوا فرانکا ہے، رابطے کی زبان ہے” وغیرہ۔ لیکن صرف کھوار ہی “چترالی زبان نہیں ہے۔ چترال میں بولی جانے والی 12 زبانوں کے نام یہ ہیں: پالولا، پشتو، دمیلی، کالاشہ، کتہ وِری، کمویری، کھوار، گجری، گوَرباتی، مدک لشٹی، وَخی، اور یدغا۔

اکثر میڈیا چینلز یا میڈیا تحریروں میں کسی کھوار گیت یا کھوار کتاب کی بات کرتے ہوئے “چترالی زبان میں گیت” یا “چترالی زبان کی کتاب” کا فقرہ سنتے یا پڑھتے ہوئے بہت دقت محسوس ہوتی ہے۔ ایسا نہ کیا کریں۔

لسانیاتی اصولوں کے مطابق تمام زبانیں یکساں مقام اور یکساں اسٹیٹس رکھتی ہیں۔ لسانیاتی طور پر کوئی زبان برتر یا کم تر نہیں ہوتی۔ کسی زبان کی “بڑی زبان” ہونے میں دوسرے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ وہ عوامل ڈیموگرافِک/عدی ہوسکتے ہیں، سماجی ہو سکتے ہیں، تعلیمی ہو سکتے ہیں، معاشی ہو سکتے ہیں، مذہبی ہو سکتے ہیں، سیاسی ہو سکتے ہیں وغیرہ۔ یاد رکھیے یہ سارے عوامل غیرلسانیاتی عوامل ہوتے ہیں، جن کا لسانیاتی اصولوں اور لسانیاتی پیمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

لہٰذا صرف انگریزی کو ہی گلوبل لینگویج قرار دینا، صرف اردو کو ہی پاکستانی زبان قرار دینا، صرف پشتو کو ہی صوبائی زبان قرار دینا اور صرف کھوار کو ہی چترالی زبان قرار دینا دوسری زبانوں اور لسانی گروہوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ سراسر ناانصافی ہے۔
ساری انسانی زبانوں کا یکساں احترام کرکے جیو! نرگسیت کے خول باہر نکل کر جیو! لسانی مرکزیت کے عینک اتار کر جیو!

Posted in تازہ ترین, مضامین
90075

جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ: ایک ظالمانہ رویہ  – خاطرات :امیرجان حقانی

Posted on

جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ: ایک ظالمانہ رویہ  – خاطرات :امیرجان حقانی

عیدالاضحیٰ کا موقع مسلمانوں کے لیے ایک مقدس اور عظیم موقع ہوتا ہے، پوری دنیا میں مسلمان اللہ کی رضا کے لیے لاکھوں جانور قربان کرتے ہیں۔ یہ فریضہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی یاد میں ادا کیا جاتا ہے، جس میں ان کی اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ شامل ہے۔ ہر سال کروڈوں مسلمان اس عمل سے گزرتے ہیں ، جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ اس مقدس فریضے کو بھی منافع خوری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
قربانی کے جانوروں کی قیمتیں عیدالاضحیٰ کے قریب آتے ہی آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ جو جانور عام دنوں میں ساٹھ ہزار روپے کا ہوتا ہے، قربانی کے دنوں میں اس کی قیمت لاکھوں میں پہنچ جاتی ہے۔ یہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ دینی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ لوگوں کی استطاعت سے باہر قیمتیں وصول کرنا نہ صرف ظلم ہے بلکہ قربانی کی روح کو بھی مجروح کرتا ہے۔ گزشتہ تین دن سے مناسب قیمت پر جانور کی تلاش میں ہوں مگر قیمتیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔ عام انسان جس کے پاس ایک دو جانور ہیں وہ بھی دگنا وصولنے کے چکر میں ہیں ۔
مغربی ممالک میں کرسمس اور ایسٹر جیسے تہواروں پر حکومتیں اور تاجر اشیاء کی قیمتیں کم کر دیتے ہیں تاکہ عوام اپنی خوشیاں بھرپور طریقے سے منا سکیں۔ کرسمس کے موقع پر مارکیٹ میں مختلف اشیاء پر خصوصی رعایتیں دی جاتی ہیں، اور لوگ اپنی مذہبی تقریبات کو اطمینان کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہواروں کا اصل مقصد لوگوں کو خوشی اور سکون فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ان کی مشکلات میں اضافہ کرنا۔ کاش مسلمان مغرب سے اتنا بھی سیکھ لیتے۔
کچھ عملی تجاویز ذہن میں آرہی ہیں۔ دل کرتا ہے آپ سے شئیر کروں۔ آپ بھی اپنے طور پراس چیز کو باریک بینی سے دیکھ لیں۔ہمیں اپنے رویے اور تجارتی طرز عمل میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قربانی کا اصل مقصد حاصل ہو سکے.
1.اخلاقی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا:
ہمیں اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اصولوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ قربانی کا اصل مقصد اللہ کی رضا ہے، نہ کہ مالی فائدہ۔ تاجروں کو چاہیے کہ وہ اس موقع پر جانوروں کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ نہ کریں اور اپنی نیت کو خالص رکھیں۔ تاجر تو چھوڑیں عام مسلمان بھی، جس کے پاس دو چار جانور ہوں دگنا قیمت وصولنے کے چکر میں ہوتا ہے۔
2.حکومتی اقدامات:
حکومت کو چاہئے کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اس سلسلے میں موثر حکومتی پالیسیز اور نگرانی کا نظام ضروری ہے۔ حکومتی ماہرین کوئی فارمولا وضع کرسکتے ہیں۔
3.عوامی شعور بیدار کریں:
ہمیں مجموعی طور پر عوام کو یہ شعور دینا ہوگا کہ غیر ضروری طور پر مہنگے جانور خریدنے سے گریز کریں اور اعتدال پسندی کو اپنائیں۔ ہمیں اپنی مالی استطاعت کے مطابق قربانی کرنی چاہیے اور دکھاوے سے بچنا چاہیے۔
4.تجارتی تنظیموں کا کردار:
 تاجر برادری کو چاہیے کہ وہ اپنے ممبران کو اخلاقی تعلیمات سے آگاہ کریں اور انہیں ترغیب دیں کہ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں مناسب حد میں رکھیں۔ تجارتی تنظیموں کو بھی اس موقع پر خصوصی رعایتوں کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ قربانی کر سکیں۔
5.سوشل میڈیا مہم:
سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے شعور بیدار کیا جائے تاکہ لوگ اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کریں اور مہنگے جانور خریدنے کی دوڑ میں شامل نہ ہوں۔ اس کے علاوہ، علماء اور دینی رہنما بھی لوگوں کو اس حوالے سے رہنمائی فراہم کریں۔ اور یہ مہم بھی چلنا چاہیے کہ جو لوگ یا جن علاقوں میں جانور مہنگے کیے جاتے ہیں یا مصنوعی مہنگائی کی جاتی ہے ان کا بائیکاٹ کرکے دوسری جگہوں سے جانور خریدے جائیں۔
قربانی ایک عظیم دینی فریضہ ہے جو ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس موقع پر اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کریں اور اس عمل کو آسان بنائیں۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اپنی دنیاوی فائدے کے بجائے اللہ کی رضا کو ترجیح دیں۔
آئیے، اس عیدالاضحیٰ پر ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم قربانی کے اس عظیم فریضے کو اعتدال کے ساتھ ادا کریں گے اور اپنے بھائیوں کی خوشیوں میں اضافہ کریں گے۔ اگر جانور مہنگے کیے جائیں تو بہت سارے مخلص اور سفید پوش مسلمان قربانی سے رہ جائیں گے۔
اللہ ہمیں صحیح معنوں میں دین کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے۔ آمین۔اور اگر ہم جانور کے تاجر ہیں تو ناجائز منافع خوری سے بچنے اور اعتدال کی راہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
90068

عوامی اسمبلی اور داخلہ بند – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

عوامی اسمبلی اور داخلہ بند – میری بات:روہیل اکبر

 

حکومت کسی کی بھی یا کوئی بھی حکومت میں ہو مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ عوام کو مشکلات سے نکال کر ملک کو خوشحالی کی طرف لیکر جانا ہے اور اگرخوش قسمتی سے حکومت عوامی نمائندوں کی ہو تو پھرکیا ہی کہنے ایم پی اے اور ایم این اے حضرات خود لوگوں کے پاس جاکر انکے مسائل معلوم کرتے ہیں بلکہ عوامی نمائندوں کو تو عوام کے مسائل عوام سے زیادہ معلوم ہوتے ہیں جن ممالک میں حقیقی جمہوریت یا عوام نمائندے اقتدار میں ہوں وہ ملک آج ترقی اور خوشحالی میں اتنے آگے ہیں کہ ہم جیسے ممالک کے لوگ اپنا سب کچھ بیچ کر وہاں جانے کو بے قرار ہیں جبکہ ہمارے ہاں ہمارے عوامی نمائندے عوام سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ انہوں نے عوام سے دوری اختیار کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے جینت والے اپنے حلقوں میں نہیں جاتے اور لاہور میں آکر ان سے ملنا ناممکن ہے اور تو اور عوام کے ووٹوں سے آنے کے دعویدار جب پنجاب اسمبلی میں اجلاس پر آتے ہیں تو عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کردیتے ہیں

 

ایوان اقبال چوک سے لکشمی چوک کی طرف جانے والی سڑک جس جو عرصہ دراز سے کھڈوں سے بھر پور ہے جہاں سے ایم پی اے اور وزیروں سمیت تمام انتظامیہ گذرتی ہے اور کسی کی کوئی توجہ نہیں ہے لیکن اجلاس شروع ہوتے ہی اسے عام عوام کے لیے بند کردیا جاتا ہے کہ وہاں سے عوامی نمائندوں نے گذرنا ہے اگر یہ سڑک کھلی بھی رہے تو کیا فرق پڑتا ہے اور اوپر سے اس حکومت نے ایک کام یہ بھی کیا ہوا ہے کہ عوام نمائندوں اخباری نمائندوں کی پہنچ سے دور رکھنے کے لیے انکا اسمبلی کے اندر داخلہ بڑی سختی سے بند کررکھا ہے اور اسمبلی پریس گیلری کے عہدیداران کبھی کبھی سپیکر کے ساتھ بیٹھ کر تصویر بنوا کر خوش ہوجاتے ہیں اس نئی اسمبلی سے پہلے پرانی اسمبلی میں صحافی بلا روک ٹوک اپوزیشن لیڈر کے چیمبر سمیت ہر جگہ آجا سکتے تھے جہاں سے خبریں بھی ملتی رہتی تھی لیکن اب سوائے پریس گیلری کے اور کسی جگہ جانے پر پابندی ہے اسمبلی اجلاس کے دوران جو کچھ گیلری سے دیکھا بس وہی رپورٹ کردی اس کے بعد یا پہلے کیا ہوتا رہا کسی کو کچھ معلوم نہیں شائد یہی وجہ ہے کہ اس وقت کانٹے دار سیاست کا ماحول اپنے عروج پر ہے اسمبلیوں کے اندر تلخی بڑھتی جارہی ہے اور باہر عوام کا جینا مشکل ہو رہا ہے

 

 

1947سے چلنے والے لوگ ابھی تک اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے جبکہ فارم47والے اپنی اپنی منزلوں تک پہنچ چکے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوام کی راہوں میں پھول بچھانے کا جھانسہ دیکر کانٹے بچھا دیے مفت بجلی دینے کا لالی پاپ دیکر بجلی مزید مہنگی کردی خیر یہ تو اب پرانی باتیں ہیں اب اس عوامی حکومت کو چاہیے کہ عوام کی آسانی کے لیے کام کریں سڑک بند کرنے کے بجائے اسے کھلی رکھیں صحافیوں کا نئی اسمبلی کے اندر داخلہ کھولیں کیونکہ یہ عوامی ایوان نمائندگان ہے جو پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 106 کے تحت قائم کیا گیا تھا جس میں کل 371 نشستیں ہیں جن میں 297 جنرل نشستیں 66 نشستیں خواتین کے لیے اور 8 غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہیں یہ اسمبلی 16 ایکڑ پر محیط ہیں جو 1935 میں مکمل ہوئی تھی پنجاب کی تقسیم اور پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد یہ عمارت پنجاب کا انتظامی مرکز بن گئی جبکہ نیا اسمبلی ہال پرانی اور نئی اسمبلی کی عمارتوں کے درمیان تعمیر کیا گیا ہے اس میں مرکزی ہال میں 500 نشستیں اور مہمانوں کے لیے گیلریوں میں 600 نشستیں اور ایوان کی کارروائی کی کوریج کرنے والے میڈیا پرسنز کے لیے پریس گیلری میں 300 نشستیں ہیں نئے ہال سے متصل اسپیکر چیمبر، ریکارڈ روم، ریکارڈنگ روم، میڈیا روم، سیکیورٹی روم اور آئیز اور نوز کے لیے لابی ہے نئی عمارت میں تین کمیٹی روم، ایک کانفرنس روم، لائبریری، کیفے اور 400 کی گنجائش والی پارکنگ بھی شامل ہے

 

اس کے علاوہ وزیراعلیٰ، سپیکر، ڈپٹی سپیکر، وزراء اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے نئے دفاتر سیکرٹریٹ کی نئی عمارت میں قائم کئے گئے جس کا افتتاح 2 جنوری 2023 کو ہوا تھااگر ہم پرانی اسمبلی کی بات کریں اس کا اسمبلی کو آرکیٹیکچر سرکل کے چیف آرکیٹیکٹ بازل ایم سالون نے ڈیزائن کیا تھا اسمبلی چیمبر کا سنگ بنیاد 17 نومبر 1935 کو وزیر زراعت سر جوگندر سنگھ نے برطانوی راج کے دوران رکھا تھا اس کی تعمیر 1938 میں مکمل ہوئی۔پہلی منزل میں اسمبلی ہال ہے جو ہندوستانی اور رومن فن تعمیر کو یکجا کرتا ہے اس کاہال ایک پبلک ایڈریس سسٹم اور کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن سسٹم سے لیس ہے اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کے لیے گیلری میں 200 افراد کے بیٹھنے کی جگہ تھی بعد میں اس گیلری کو اراکین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ممبران کے لیے مختص کردیا گیا تھااسمبلی کا ممبر بننے کے لیے آئین کے آرٹیکل 62 میں بیان کردہ قومی اسمبلی کی رکنیت کی اہلیت صوبائی اسمبلی کی رکنیت کے لیے بھی لاگو ہوتی ہے چنانچہ ایک رکن صوبائی اسمبلی بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کا شہری ہو اس کی عمر کم از کم پچیس سال ہونی چاہیے اور کسی بھی انتخابی فہرست میں بطور ووٹر اندراج ہونا ضروری ہے

 

 

اسکے ساتھ ساتھ ایک امیدوار کو اچھے کردار کا ہونا چاہیے اور عام طور پر اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرنے والے کے طور پر جانا نہیں جانا چاہیے اسلامی تعلیمات کا علم ہونا چاہیے اور اسلام کی طرف سے متعین فرض فرائض پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنے والا ہونا چاہیے جبکہ سمجھدار، نیک، غیرت مند، اور ایماندار ہونا بھی ضروری ہے اورامیدوار کو اخلاقی پستی یا جھوٹی گواہی دینے کے جرم میں کبھی بھی سزا نہ ہوئی ہو قیام پاکستان کے بعد کبھی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف یا نظریہ پاکستان کی مخالفت بھی نہ کی ہویہ ہیں وہ سادہ سی شرائط جن پر کاربند رہتے ہوئے ایک عام انسان بھی ممبر اسمبلی بن سکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں الیکن ایمانداری اور شفاف انداز میں ہو پیسے،دھونس اور دھاندلی سے جیتنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے ایسے امیدواروں کو منتخب کیا جائے جو عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کام کریں نہ کہ وہ اسمبلی ممبر بننے کے بعد عام لوگوں کا جینا مشکل کردیں انتقام کی سیاست کرنے والوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وقتی طور پر آپ پولیس کی زریعے کسی کی ماں بہن،بیٹی اور بچوں کو رسوا کروگے تو کل کو آپ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو سکتا ہے اس لیے کسی کو انتقام کا نشانہ بنانے سے پہلے ایک بار ضرور سوچ لیں کہ ملک میں بادشاہت ہے اور نہ ہی اقتدار سدا رہنے والا ہے رہی بات پولیس کی وہ تو کسی کام کی نہیں رہی سوائے حکمرانوں کے دروازے کھولنے اور بند کرنے کے یا پھر غریب لوگوں پر تشدد کرنے کے اور کوئی کام نہیں رہا۔

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89980

داد بیدا د ۔ سیز فائر کی ضرورت ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیدا د ۔ سیز فائر کی ضرورت ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

سیز فائر سے مراد غزہ، رفع اور فلسطین میں سیز فائر نہیں اپنے صو بہ خیبر پختونخوا میں دو بڑے گھروں سے ایک دوسرے پر ہونے والی گو لہ باری کا خا تمہ ہے اس، بات پر پا رلیمانی سیا ست کے طا لب علموں سے لیکر بڑے سکا لر وں تک سب کا اتفاق ہے کہ ہمارے صو بے کی پا رلیمانی روایات میں تہذیب، شائستگی اور شرافت کی نما یاں مثا لیں پائی جا تی ہیں، دوسرے صو بوں کی طرح ہڑ بونگ اور ہلہ گلہ یا شور شرابہ ہماری روایات کے خلاف ہے، پنجاب میں گور نر اور وزیر اعلیٰ کے با ہمی اختلافات کی وجہ سے ما ضی میں بہت نا خو شگوار واقعات دیکھنے میں آئے ہیں بلو چستان سندھ اور کشمیر میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں جو ریکارڈ کا حصہ ہیں خیبر پختونخوا کے سیا ستدانوں نے کبھی ما ضی کی اچھی روا یات سے انحراف نہیں کیا مارچ 1972میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعتہ العلمائے اسلا م نے صوبے میں مخلوط حکومت بنا ئی، فروری 1973میں مر کزی حکومت نے بلوچستان میں دونوں پارٹیوں کی مخلوط حکومت کو ختم کر کے گورنر راج لگا یا تو خیبر پختونخوا کے گورنر ارباب سکندر خان خلیل اور وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود نے 15فروری 1973کو اپنے عہدوں سے استغفیٰ دیا،

 

اپنی حکومت رضا کارانہ طور پر ختم کی اور مر کزی حکومت کو اقلیتی جما عتوں کی نئی حکومت بنا نے کا موقع دیا حا لانکہ محاذ ارائی کا نا در موقع تھا اور محاذ ارائی کی گنجا ئش بھی مو جود تھی مگر اُس وقت کوئی محاذ ارائی نہیں ہوئی کیونکہ یہ صوبے کے عوام کے مفاد میں نہیں تھی اور صوبے کی پا رلیمانی روایات کے خلاف تھی اس بات سے صوبے کا بچہ بچہ واقف ہے کہ با ہمی اختلاف اور محاذ ارائی کا نتیجہ ہمیشہ تبا ہی اور بر بادی کی صورت میں سامنے آتا ہے جبکہ افہام و تفہیم اور خیر سگا لی کا نتیجہ ترقی، خوشحا لی اور استحکام کی شکل میں نمو دار ہوتا ہے، ہمارا صو بہ 1979سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے، بد امنی کی صورت میں صوبے کی معا شی حالت بر بادی کے دہا نے پر پہنچ گئی ہے ایسے حالات میں ہم سب کو مل کر صو بے میں امن کے ساتھ معا شی ترقی پر تو جہ دینے کی ضرورت ہے اگر صوبے کے دو بڑوں نے آپس کے اختلا فات کو مزید ہوا دے کر صو بے کو کسی نا گہا نی آفت یا متوقع مداخلت کا شکا ر کر لیا تو عوام کے حقوق متاثر ہونگے جو ہمارے دہشت زدہ اور پسماندہ صو بے کا بہت بڑا نقصان ہو گا

 

عالمی مفکر ین نے سیا ست کو قوت برداشت کا کھیل قرار دیا ہے بر طانوی پا رلیمنٹ میں چر چل کا مخا لف اس کو برے الفاظ میں یاد کر تا تھا بعض اوقات گا لیاں بھی بکتا مگر چر چل اس کو جواب نہیں دیتا تھا ایک بار اخبار نویسوں نے سوال کیا کہ آپ کا مخا لف آپ کو برا بھلا کہتا ہے آپ اس کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ چر چل نے کہا ”میری تر بیت بہتر ماحول میں ہوئی ہے شا ید میرے ماں باپ بہتر خاندان سے تعلق رکھتے تھے“ حال ہی میں ہمارے پڑو سی ملک میں انتخا بات ہوئے ہیں، سب نے انتخا بی نتائج کو تسلیم کیا ہے کوئی شور شرابہ نہیں ہوا، کوئی ہنگا مہ نہیں ہوا، گویا ایک جمہوری عمل تھا جو انجام پذیر ہوا جیتنے والا بھی بڑا دل رکھتا ہے ہار نے والا بھی کشادہ دلی اور وسیع القلبی سے اپنی شکست تسلیم کر تا ہے مر کز میں کسی ایک پارٹی کا اقتدار ہوتا ہے صوبے میں دوسری پارٹی حکومت بنا تی ہے لیکن دونوں میں محاذ ارائی نہیں ہو تی کیونکہ محاذ آرائی سے جمہوریت کے نا م پر دھبہ آتا ہے،

 

ماضی میں پنجا ب کے اندر محاذ ارائی کے کئی ناخوشگوار واقعات ہوئے ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں سیا ستدانوں نے جمہوری اقدار، پارلیمانی روایات اور صوبے کی تہذیب و ثقا فت کی پا سداری کر تے ہوئے شا ئستگی کا مظا ہرہ کیا اور ثا بت کیا کہ ہم لو گ جمہوریت کو بہتر سمجھتے ہیں سیا سی ذہن اور سیا سی سوچ رکھتے ہیں ہمارا کلچر دوسروں سے بہتر ہے اب بھی اسی جذبے کو پروان چڑھا نے کی ضرورت ہے اگر وزیر اعلیٰ کسی ایک پارٹی سے آیا اور گورنر دوسری پارٹی سے آیا تو کیا ہوا؟ دونوں کو صوبے کا مفاد عزیز ہے دونوں جمہوری سوچ رکھتے ہیں مل جل کر صوبے کی خد مت کرینگے اس لئے سیز فائر وقت کا اہم تقا ضا ہے

Posted in تازہ ترین, مضامین
89927

کیا نیٹکو بس حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور تھا؟ – شاہ عالم علیمی

کیا نیٹکو بس حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور تھا؟ – شاہ عالم علیمی

14 فروری 2023ء کو میری ایک تحقیقاتی رپورٹ اخباروں میں چھپی جو کہ ایک پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کمپنی کی گاڑیوں کے حوالے سے تھی۔ اس رپورٹ میں تفصیل سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ کس طرح اس مخصوص کمپنی کی ناکارہ گاڑیاں پچھلے دس پندرہ سال کے اندر متعدد حادثات میں سینکڑوں گلگت بلتستانیوں کی جان لے چکی ہیں۔ فروری 2023ء کو بھی اس کمپنی کی گاڑی کا قراقرم ہائی وے پر حادثہ ہوا تھا جس میں دو درجن سے زیادہ قیمتی جانوں کا ضیائع ہوا۔

 

انھی دنوں میں نے اس کمپنی کے دفتر واقع راولپنڈی جنرل بس اسٹینڈ کا چکر لگایا۔ انھوں نے ایک بینر آفس ھذا میں آویزاں کیا ہوا ہے جس میں لکھا ہے کہ ہمارے ساتھ سفر کرنے والے ہر مسافر اگر ایک مخصوص رقم کرایے کے ساتھ اضافی ادا کرے تو حادثے میں موت کی صورت میں اس کو اتنی رقم ملے گی۔

گویا کہ انھوں نے اپنے ماضی سے یہی سیکھا ہے کہ حادثہ تو ہونا ہی ہونا ہے، اس میں ہمارا کیا قصور!

پچھلے چند سالوں میں گلگت بلتستان میں روڑ حادثات کے حوالے سے راقم کی متعدد رپورٹیں اخباروں چھپی۔ جن میں اس بات کی خصوصیت کے ساتھ نشاندھی کی گئی تھی کہ ان سڑکوں پر، اور خصوصی طور پر قراقرم ہائی وے پر، چلنے والی گاڑیاں سیفٹی اسٹینڈرڈ پر نہیں اترتی، یہی وجہ کہ ان کے حادثات پیش آتے ہیں۔

میں جب بھی اسلام آباد سے غذر سفر کرتا ہوں ہمیشہ نیٹکو کے ساتھ سفر کرتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پپلک پراپرٹی ہے۔ یہ ترقی کریں اس کا فائدہ عوام ہی کو ہوگا۔ مگر اب نیٹکو کے اندر بھی مس منیجمنٹ اور اقرباء پروری کی بو آرہی ہے۔

 

گزشتہ دنوں میں نیٹکو کے ساتھ سفر کررہا تھا۔ ان کی جو بسیں اسلام آباد سے غذر چلتی ہیں وہ قراقرم ہائی وے پر چلنے کے قابل بالکل بھی نہیں ہیں۔ ایسی ہی ایک گاڑی میں سفر سے پہلے ہی میں نے یہ سوال کیا کہ کیا یہ بس اپنا سفر مکمل کرسکے گی؟ ہوا یوں کہ حویلیاں سے تھوڑا سا آگے پہنچتے ہی اس کے پچھلے دو ٹائیر پھٹ گئے۔ خوش قسمتی سے چڑائی کی وجہ سے رفتہ آہستہ تھا سو کسی بڑے حادثے سے بال بال بچ گئے۔ چلتے چلتے تین چار گھنٹے بعد اس گاڑی کا آگے والا ٹائیر پھٹ گیا، یہاں بھی چالیس سے زیادہ مسافروں پر خدا کا کرم ہوا۔

اس معاملے کو ہم نے سوشیل میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے رکھا۔ اور اس بات کی نشاندھی کی کہ ان گاڑیوں کو اس روٹ پر چلانے کا مطلب عوام کی زندگیوں سے کھیلنا ہے۔ اگلے ہی دن غذر سے راولپنڈی جانے والی نیٹکو بس کا ہزارہ موٹر وے پر حادثہ ہوا۔ گاڑی جل کر خاکستر ہوگئی۔ خوش قسمتی سے تیس سے زیادہ مسافر معجزاتی طور پر بچ گئے۔

اگلے ایک ہفتے میں اس حادثے کے حوالے سے ان کی رپورٹ سامنے آئی، جس میں ڈرائیور کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے اور سارا ملبہ اس بیچارے کے سر ڈال کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر اس ڈرائیور کی غلطی تھی تو مذکورہ بالا بس کی خرابی کا ذمہ دار بھی اس کا ڈرائیور ہی ہوگا۔ تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ نیٹکو نے سارے غیر تربیت یافتہ اور ناتجربہ کار ڈرائیور رکھا ہوا ہے؟

میں سمجھتا ہوں کہ یہ رپورٹ صیح نہیں ہے۔ ادارہ اور متعلقہ زمہ داران اپنی ذمہ دای سے چشم پوشی نہیں کرسکتے۔ ان کو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ غیر حقیقت پسندانہ رویے سے کل کلاں پھر حادثہ ہوگا۔ لہذا حادثات کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ان کا تدارک اشد ضروری ہے۔

اس ساری کہانی سے آپ عوام کی بے بسی سرکار کی بے حسی اور اداروں کی نااہلی کا آسانی کے ساتھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔

عوام کے نمائندوں سے عوام کا مطالبہ ہے کہ وہ حرکت میں آجائیں اور اپنی زمہ داریاں نبھائیں۔ کم از کم نیٹکو جیسے ادارے کو ٹھیک سے چلائیں۔

 

گلگت بلتستان میں روڑ حادثات روکنے کے لیے گاڑیوں کی سیفٹی اسٹینڈرڈ اور ڈرائیوروں کی، قراقرم ہائی وے جیسے شاہراہ کو سامنے رکھ کر، خصوصی مہارت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ نیٹکو کی گاڑیاں، خاص کر، غذر سے اسلام آباد اور گلگت سے چترال چلنے والی گاڑیاں سیفٹی اسٹینڈرڈ پر نہیں اترتی۔ مگر ٹرانسپورٹ کے ادارے سے منسلک ماہرین کو نجانے یہ کیوں نظر نہیں آتا خدا ہی جانے!

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
89925

کینسر کی وجہ۔۔؟؟؟ – میری بات:روہیل اکبر

کینسر کی وجہ۔۔؟؟؟ – میری بات:روہیل اکبر

ہم لوگ جہاں ترقی و خوشحالی میں سب سے پیچھے ہیں تو وہی بیماریوں میں بھی دوسروں کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں سگریٹ والی دوکان سے ڈبی پر اگر کوئی خطرناک کینسر والا نشان موجود نہ ہو تو خریدار فورا کہتا ہے کہ بھائی ہمیں وہ ڈبی چاہیے جس میں نشان بنا ہوا ہے اس کا مطلب کیا ہوا؟کہ ہم سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے کینسر جیسے مرض کو پیسے سے خرید کر اپنے جسم کا حصہ بنا رہے ہیں وہ تو شکر ہے کہ ہمارے پاس کینسر کے ہسپتال اور مختلف سرکاری ہسپتالوں میں کینسر وارڈز ہیں جہاں اس موذی مرض کا علاج ہورہا ہے بلاشبہ پاکستان میں سرطان کے پھیلاؤ میں ہمارے قومی ادارے بھی شامل ہیں جنکی سرپرستی میں گٹکا،چھالیہ اور نسوار سرے عام ملک بھر میں فروخت ہورہا ہے یہ وہ نشہ کی ابتدائی اشیاء ہیں جنکے بعد انسان چرس،شراب،ہیروئن اور آئس پر لگ جاتا ہے اس وقت ملک میں کینسر کے حوالہ سے بہت اچھے اچھے ڈاکٹر موجود ہیں لیکن لاہور کے جنرل ہسپتال میں ڈاکٹر خضر گوندل اپنی ٹیم کے ہمراہ مریضوں کی جو خدمت کررہے ہیں وہ قابل تعریف ہے

 

ہمارے ہاں ایسے حسن اخلاق والے ڈاکٹر بہت کم ہیں جن کی باتوں سے ہی مریض آدھا شفا یاب ہو جاتا ہے وہ کینسر کے مرض کو بخوبی سمجھتے ہیں اور آئے روز مریضوں کا آپریشن بھی کرتے ہیں انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں منہ کا سرطان یا کینسر صحت کا ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے اور اس کے علاج میں تاخیر اس مرض کے طاقتور ہونے کا سبب ہے پاکستان دنیا کے اْن تین ممالک کی صف میں شامل ہے جہاں منہ کے سرطان سے متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد ہے ملک میں اس مرض کے پھیلنے کے اسباب میں پان، چھالیہ، گٹکا، نسوار، ماوا اور سگریٹ وغیرہ جیسی مضرِ صحت نشہ آور اشیاء کاکثیر استعمال شامل ہے جبکہ منہ کے سرطان کے علاج میں مرض کی فوری تشخیص بہت اہم مرحلہ ہے منہ کا سرطان زبان، ہونٹ، مسوڑھوں اور رخسار سمیت منہ کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتا ہے مرض کی فوری تشخیص کے لیے کسی بھی فرد کے منہ اور گلے کا کلینکل معائنہ کیا جانا چاہیے

 

اس وقت ویسے بھی دنیا بھر میں منہ کے کینسر کا پھیلاو بہت زیادہ ہے 2020ء میں دنیا بھر میں 3لاکھ77ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے پاکستان میں منہ کے کینسر سے متاثرہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر حکومت کو چاہیے کہ اس موذی مرض کے بہتر علاج معالجے کے لیے الگ سے ہسپتال قائم کیے جائیں اور جن ہسپتالوں میں کینسر کی وارڈ بنی ہوئی ہیں انہیں مزید بہتر کیا جائے جبکہ جنوبی پنجاب،سندھ،بلوچستان اور کے پی کے میں اس مرض کے تدارک کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے نشہ آوراشیاء پر سختی سے پابندی لگائی جائے کیونکہ کینسر ایک جان لیوا عارضہ ہے جس میں مریض کو منہ کھولنے میں سخت ناکامی کا سامنا ہوتاہے منہ کے سرطان کی اہم علامات میں گردن میں گانٹھ، دانتوں کا ڈھیلا ہونا، سوجن یا ہونٹوں پر زخم جو ٹھیک نہیں ہوتے کھانانگلنے میں مشکل، بولنے میں تکلیف اور منہ زبان یا مسوڑھوں پر سرخ یا سفید دھبے یا وزن کا گھٹنا وغیر شامل ہیں

 

ایسی علامات جب کسی میں ظاہر ہوں تو ایسی صورت میں گھبرانا بلکل نہیں اور نہ ہی کسی قسم کے ٹوٹکے اور ٹونے کے چکر میں پڑنا چاہیے بلکہ فوری تشخیص کے لیے کسی متعلقہ سرجن سے رابطہ کرنا چاہیے جہاں اس مرض کی تشخیص اور تسلی بخش علاج ہو سکے اگر ہم ملک بھر میں کینسر کے مریضوں کی تعداد کا ذکر کریں تو اس وقت مریضوں کی کل تعدادتقریبا 111,941 ہے اور ان میں سے زیادہ تر مریض پنجاب میں 67.6 فیصد جبکہ خیبر پختونخواہ 20.2 فیصد ہیں جبکہ ہمارے پاس گلگت بلتستان،آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں کینسر کے مریضوں کے لیے یہ ہسپتال موجود ہیں جہاں کینسر کے مریض اپنے قریبی علاقہ میں جا کر اپنا بہترین علاج کرواسکتے ہیں ان ہسپتالوں میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی،مرکز برائے نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (CENAR)، کوئٹہ،گلگت انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن آنکولوجی گلگت،نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اور ریڈیو تھراپی انسٹی ٹیوٹ (NORI) (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز)،شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد،نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر پشاور،شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر پشاور،بنوں انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی (BINOR)، بنوں انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی (INOR) ایبٹ آباد،انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو تھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (IRNUM) پشاور،سوات انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی (SINOR) سیدو شریف،شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر لاہور،پنک ربن بریسٹ کینسر ہسپتال،کینسر کیئر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر، لاہور،وزیر حبیب کینسر سنٹر (WHCC) لاہور،بہاولپور انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی (BINO) بہاولپور،سینٹر فار نیوکلیئر میڈیسن (CENUM) لاہور،گوجرانوالہ انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن (GINUM) گوجرانوالہ،انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی (INMOL) لاہور،ملتان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (MINAR) ملتان،پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (PINUM) فیصل آباد،شعبہ سرجری اور سرجیکل آنکولوجی شیخ زید میڈیکل کمپلیکس لاہور،کمبائنڈ ملٹری ہسپتال راولپنڈی نیورو اسپائنل اینڈ کینسر کیئر انسٹی ٹیوٹ (NCCI) کراچی،ضیاء الدین کینسر ہسپتال یونیورسٹی کراچی،بیت السکون کینسر ہسپتال کراچی،کینسر فاؤنڈیشن ہسپتال کراچی،آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی،شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کراچی،اٹامک انرجی میڈیکل سینٹر (AEMC) کراچی،کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو تھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (KIRAN) کراچی،لاڑکانہ انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو تھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (LINAR) لاڑکانہ،نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (NIMRA) جامشورو،نیوکلیئر میڈیسن آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی انسٹی ٹیوٹ نواب شاہ،سائبر نائف جناح ہسپتال کراچی،سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کراچی،پاک آنکو کیئر کراچی اورانڈس چلڈرن کینسر ہسپتال کراچی موجود ہیں جہاں کینسر جیسے مرض کا علاج ہوتا ہے کچھ ہسپتالوں میں علاج مفت ہے کچھ میں سستا ہے اور کچھ ہسپتالوں میں بہت مہنگا علاج ہے جہاں مریضوں کے کپڑے تک بک جاتے ہیں اس لیے ہمیں ایسی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے جن کی بدولت کینسر جیسا مرض قریب آئے۔

 

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامین
89923

دھڑکنوں کی زبان ۔احتجاج۔محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان ۔احتجاج۔محمد جاوید حیات

احتجاج کی تاریخ پرانی ہے لیکن نوعیت میں فرق ہوتا ہے۔،حضرت عقیل رضی اللہ تعالی شیر خدا کے پاس آکر فرماتے ہیں ۔۔مجھے بیت مال سے کچھ دےدیں گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ۔۔۔شیر خدا بیت المال کی چابیاں نوکر کی طرف پھینکتے ہیں جاٶ بیت المال کا دروازہ عقیل رضی اللہ تعالی کے لیے کھول دو ۔۔حضرت عقیل رضی اللہ تعالی غصے سے کہتے ہیں کہ کیا تم مجھ سے چوری کرانا چاہتے ہو شیر خدا فرماتے ہیں کہ کیا یہ چوری نہیں کہ میں لوگوں کی اجازت کے بغیر آپ کو بیت المال سے کچھ دے دوں یاد رہے یہ امیر المومنین ہیں اور یہ ان کا بھاٸی۔۔۔یہ دونوں احتجاج تھے ۔۔یہ اپنی نوعیت کے پاکیزہ احتجاج تھے ۔۔دونوں کو اپنی پاک دامنی کی فکر تھی ۔۔

 

مسجد نبوی میں امیر مومنین کو خطبہ دینے سے پہلے احتجاج کے زریعے روکا جاتا ہے یہ ناانصافی کے لیے احتجاج تھا جب سائل کو مطمین کیا جاتاہے تو وہ سو سوجان سے نثارہوتا ہے ۔۔۔ہر ظلم کے خلاف احتجاج ہوتا ہے احتجاج مجبور عوام کا وہ رد عمل ہے جو ظلم، نا انصافی اور حق تلفی کے خلاف ہوتا ہے ۔دنیا میں بڑے بڑے احتجاج انارکی کی یادگار ہیں ۔قریب زمانے میں زار روس کے خلاف احتجاج، موزیتگ احتجاج، فرانسیسیوں کا احتجاج، بلیک امریکن کا احتجاج، مسلمانان بر صغیر کا احتجاج شی گویرا منڈیلا وغیرہ کا میدان عمل میں اترنا ۔۔ایرانیوں کی جدو جہد یہ سب احتجاجات انقلاب کی شکل اختیار کر گئے پھر عوام کے سمندر کے آگے ظلم کے بند ٹوٹ گئے ۔۔احتجاج کسی ملک اور ریاست کے لیے نیک شگون نہیں۔۔۔ بے چینی۔۔۔ اور ناکامی کی علامت ہے ۔اگر کسی ریاست میں انصاف کا بول بالا ہو عوام خوشحال اور مطمین ہوں حقوق پامال نہ ہوں تو احتجاج نہیں ہوتا ۔۔بےچینی آہستہ آہستہ پھیلتی ہے اور پھر تنگ آمد بہ جنگ آمد ہوجاتی ہے اس کو دبایا نہیں جاسکتا ۔۔

 

ملک خداداد احتجاجوں کی زد میں ہوتاہے آۓ دن مختلف طبقہاۓ زندگی سڑکوں پر ہوتے ہیں ان کے مطالبات جاٸز ہوتے ہیں لیکن شنواٸی نہیں ہوتی ۔اب یہ احتجاجات دھرنے کی شکل اختیار کر جانے لگے ہیں ہمارے پاس طویل سیاسی دھرنوں کا رکارڈ موجود ہے اور دھرنے کے نعرے بھی الارم سے کم نہیں ۔۔۔جینا نہیں مرنا ہوگا دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا ۔۔۔۔

اب معاشرے کا حساس طبقہ اہل قلم اور شعرا کے لہجوں میں بھی تلخیاں أگٸی ہیں ۔معاشرہ دو واضح حصوں میں بٹ گیا ہے ۔۔ایک اشرافیہ اور أفیسر شاہی ہے دوسرا غریب عوام ہے اس کا جینا حرام ہے اور اشرافیہ اور أفیسر شاہی کی عیاشیوں کی حد نہیں ۔۔قرض پر پلنے والے اس ملک میں ان کی عیاشیاں دیکھو تو مایوسی نہیں تو اور کیا پھیلے گی ۔احتجاج اور دھرنا ہوگا اور کیا ہوگا ۔کسی بھی محکمے کو دیکھو اس کے ملازمیںن مطمین نہیں تنخواہ دار کی تنخواہیں کاٹی جاتی ہیں پنشنر کا پنشن ختم کیاجارہا ہے اور المیہ یہ کہ أفیسر شاہی وغیرہ کی تنخواہیں پنشن مراعات بڑھاٸی جارہی ہیں ان کی عیاشیوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اگر غریب طبقے کی بات آجاۓ تو خزانے پر بوجھ ہونے اخراجات کم کرنے قربانی دینے حکومت سے تعاون کرنے کی بات آتی ہے ۔۔

 

اگر ایک جج اپنی پنشن دس لاکھ کی رقم بنگلہ پروٹوکول سرکاری پانی بجلی گاڑی تیل وغیرہ کم کرے تو أسمان ٹوٹے گا یہ قومی خزانے پر کوٸی بوجھ نہیں اگر ایک معمولی نوکر کو معمولی جیب خرچ پنشن کے نام پہ دی جاۓ تو خزانے پہ بوجھ ہوگا ۔”خزانہ خالی ” یہ ایک ٹرم ہے لیکن خزانے والے سے دریافت کون کرے کہ کیوں خالی ہے ؟ خالی ہونے کی وجہ کیا ہے ؟ ۔۔یہ شاید غیر متعلقہ سوالات ہیں جن کا جواب دہ ان کا جواب دینا تک اپنی توہین سمجھتا ہے ۔۔تب احتجاج ہوگا اور کیا ہوگا ۔فریاد ہوگی ۔۔دھاٸی ہوگی البتہ کوٸی یہ نہ سوچے کہ ان أہوں کا کوٸی اثر نہیں ہوتا ۔۔۔أہ کو اثر ہونے میں عمریں ضرور لگتی ہیں لیکن بے اثر کبھی نہیں ہوتیں ۔۔۔احتجاج بے چینی کی علامت ہے ہمارے حکمرانوں کو اس بے چینی کا ادراک کرنا چاہیے ایسا نہ ہوکہ چنگاری جولا بن جاۓ اور اونچے اونچے ایوانوں کوراکھ کردے ۔۔

Posted in تازہ ترین, مضامین
89929

نیشنل سیکیورٹی کی اہمیت اور ضرورت – خاطرات:امیرجان حقانی

Posted on

نیشنل سیکیورٹی کی اہمیت اور ضرورت – خاطرات:امیرجان حقانی

 

گلگت بلتستان کے کیپٹل ایریا گلگت میں حال ہی میں تین روزہ نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی وزراء، ممبران اسمبلی، یوتھ اسمبلی کے ممبران، KIU کے سٹوڈنٹس، صحافی حضرات، اہم شخصیات اور عسکری حکام نے شرکت کی۔ اس ورکشاپ کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کمانڈر FCNA کا کردار نہایت اہم رہا۔ یہ انفارمیشن ہمیں اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذرائع سے معلوم ہوئی۔

 

نیشنل سیکورٹی، یا قومی سلامتی، کسی بھی ملک کی بقاء اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس کے ذریعے ایک ریاست اپنے داخلی اور خارجی خطرات سے نمٹنے کے قابل ہوتی ہے۔ نیشنل سیکورٹی کے بغیر کسی بھی ملک کی سالمیت اور خودمختاری برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ گلگت میں پہلی دفعہ منعقدہ نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کا مقصد شرکاء کو قومی سلامتی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرنا اور انہیں ان مسائل کی نوعیت اور اہمیت کا شعور دلانا ہوگا۔ اس ورکشاپ میں شرکت کرنے والے افراد کو اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کے بارے میں آگاہی ملی ہوگی اور انہیں یہ سمجھنے کا موقع ملا ہوگا کہ نیشنل سیکورٹی کے معاملات میں کس طرح کا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔

 

نیشنل سیکورٹی کے حوالے سے ایک اور اہم ورکشاپ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) میں سالانہ منعقد ہوتی ہے، جو اپنی نوعیت کی ایک بہترین ورکشاپ ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے اس کی فیس زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم جیسے عام آدمی کے لیے اس میں حصہ لینا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، ہم نے 2021 میں نیشنل میڈیا ورکشاپ میں شرکت کی، جو کہ ایک شاندار تجربہ تھا۔ اس ورکشاپ میں مختلف شعبوں کے ماہرین نے کھلے دل سے لیکچر دیے اور سوال جواب کی مکمل آزادی تھی۔ میں نے یونیورسٹی میں دوران ورکشاپ، جی ایچ کیو اور دیگر مقامات کے وزٹ پر سب سے کھلے کھلے سوالات کیے اور ان سوالات کے بہترین جوابات دیے گئے۔ ہمیں سولات کرنے پر شاباش بھی ملی۔ کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس ورکشاپ میں چیتھم ہاؤس رولز لاگو تھا، چیتھم ہاؤس رولز کا مطلب ہے کہ کسی بھی ورکشاپ، سیمینار، میٹنگ یا مباحثے میں شریک افراد کو آزادی سے بولنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اس میں ہونے والی معلومات کو باہر شیئر کرتے وقت کسی بھی بات کو کسی فرد یا تنظیم کے ساتھ منسوب نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مقصد شرکاء کو کھل کر بات کرنے کا محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

 

نیشنل سیکورٹی کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور عوام کو اس کی اہمیت سے روشناس کرانا نہایت ضروری ہے۔ نیشنل سیکورٹی کا مفہوم صرف فوجی معاملات تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس میں اقتصادی، سیاسی، سماجی اور ماحولیاتی عوامل بھی شامل ہیں۔ کسی بھی ملک کی نیشنل سیکورٹی مضبوط تب ہوتی ہے جب اس کے شہری اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں اور ملکی سالمیت کے لیے ہر ممکنہ قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔
نیشنل سیکورٹی یا قومی سلامتی کا واضح اور آسان فہم مفہوم یہ ہوسکتا ہے۔

1.ریاست کی حفاظت:
نیشنل سیکورٹی کا مطلب ریاست کی سالمیت، خودمختاری اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

2. شہریوں کی حفاظت:
ملک کے تمام شہریوں کی جان و مال، حقوق اور آزادیاں محفوظ رکھنا۔

3. اقتصادی و معاشی استحکام:
قومی معیشت کو داخلی و خارجی خطرات سے بچانا اور مستحکم رکھنا۔

4.دفاعی پالیسی:
ملک کی فوجی طاقت اور دفاعی حکمت عملی کی تشکیل اور ان پر عملدرآمد۔

5. انٹیلیجنس یا خفیہ نظم:
جاسوسی اور اطلاعاتی ایجنسیوں کے ذریعے ممکنہ خطرات کی پیش بندی اور ان کا تدارک۔

نیشنل سیکورٹی کی ضرورت و اہمیت پر چند اہم پوائنٹ احباب سے شئیر کرنا بھی اہم سمجھتا ہوں۔

 

1.علاقائی سالمیت کا تحفظ:
دشمن ممالک یا دہشت گرد گروہوں کے حملوں سے ملک کی حدود کی حفاظت۔

2. سوشیو-اکنامک استحکام:
ملکی معیشت کو بحرانوں سے بچانا اور عوام کو معاشی تحفظ فراہم کرنا۔

3.سیاسی استحکام:
داخلی سیاسی خطرات، جیسے کہ بغاوت یا داخلی کشمکش، سے ملک کی حکومت اور نظام کی حفاظت۔

4.سائبر سیکورٹی یا ڈیجیٹل دہشت گردی: م
ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ پر مبنی حملوں سے ملک کے ڈیٹا اور معلومات کی حفاظت۔ آج کل ڈیجیٹل دہشت گردی بہت زیادہ ہورہی ہے.

5. بین الاقوامی تعلقات:
عالمی سطح پر ملک کی ساکھ اور مفادات کی حفاظت اور فروغ دینا۔

6. عوامی تحفظ:
قدرتی آفات، وبائیں، اور دیگر غیر روایتی خطرات سے عوام کی حفاظت۔

7. انرجی سیکورٹی:
توانائی کے وسائل کی دستیابی اور تحفظ کو یقینی بنانا۔

8. قانون اور نظم و ضبط: داخلی امن و امان کو برقرار رکھنا اور جرائم کے خلاف موثر کاروائی کرنا۔

 

نیشنل سیکورٹی ایک جامع تصور ہے جو ریاست اور اس کے عوام کی حفاظت اور خوشحالی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اور ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہ سب کچھ ملکی قوانین اور آئین پاکستان کی روشنی میں کیا جاسکتا۔

 

نیشنل سیکورٹی ورکشاپس اور سیمینارز کے انعقاد کا مقصد عوام میں اس شعور کو بیدار کرنا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سلامتی کے حوالے سے حساس ہوں اور ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ اس طرح کی ورکشاپس نہ صرف علمی معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ لوگوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع بھی دیتی ہیں۔

 

نیشنل سیکورٹی کی ضرورت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہمیں چاہیے کہ ہم اس طرح کے پروگرامز میں زیادہ سے زیادہ شرکت کریں اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی اس میں شامل ہونے کی ترغیب دیں۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اپنے ملک کی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

 

اس مختصر تحریر میں یہ عرض کرنا کرنا چاہوں گا کہ نیشنل سیکورٹی کی اہمیت کو سمجھنا اور اس کے لیے کوشش کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ہمیشہ تیار رہیں اور اس سلسلے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنے ملک کی بقاء کو یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ اسے ایک محفوظ اور ترقی یافتہ ملک بنا سکتے ہیں۔ اور یہ بات فوجیوں سمیت ہر انسان کو دل سے نکالنا چاہیے کہ نیشنل سیکورٹی کا مطلب فوج اور فوجی ادارہ ہے۔ ایسا کچھ نہیں یہ ملک، قوم اور تمام شہریوں کا معاملہ ہے۔ اور یہ بات بھی خوش آیند ہے کہ گلگت بلتستان میں اس کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے کو جاری و ساری رکھنا چاہیے اور مقاصد کو فوکس کرنا چاہیے۔ صرف مخصوص لوگوں کو بلاکر خانہ پوری کرنے سے اس کے مقاصد حاصل نہیں ہونگے۔ اور لیکچر دینے والے بھی اپنی فیلڈ کے ماہرین ہوں جیسے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ماہرین کو بلایا جاتا۔

 

 

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
89889

وما یعمر من معمر ۔ از:کلثوم رضا

وما یعمر من معمر ۔ از:کلثوم رضا

 

پچھلی مرتبہ اپنی پیدائش کے دن کے حوالے سے اپنے تاثرات لکھ کے شئیر کئے تو بیٹی نے کمنٹ کیا کہ “بوختواوو نو لہ نان “.(امی ڈرائیں مت)
تو اسی بات سے کچھ اور باتیں لکھنے کو دل کیا۔

ایک حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو۔۔
جامع ترمذی، ۲۳۰۷

لیکن اس کے برعکس جب موت کا ذکر کہیں بھی ،کسی بھی مجلس میں ہوتا ہے تو سبھی ڈر جاتے ہیں حالانکہ موت برحق ہے۔ اس نے آنا ہی آنا ہے۔ کوئی بچہ ، جوان ، بوڑھا یعنی عمر کی کوئی قید نہیں سب کو موت آتی ہے موت کو “اجل” بھی کہا جاتا ہے ۔جس کے معنی ہے “وقت معین” مقررہ مدت۔۔۔
یعنی کہ “مقررہ وقت” نہ ایک سکینڈ آگے نہ پیچھے ۔جب مقررہ وقت آن پہنچتا ہے تو اچھے خاصے ،ہٹے کٹے انسان کو بھی لبیک کہنا پڑتا ہے اور جب مقررہ وقت نہیں پہنچتا تو بوڑھے سے بوڑھا، کئی سالوں سے بیماری میں مبتلا شخص چاہتے ہوئے بھی اپنی سانسیں نہیں روک سکتا۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک ایسی بچی کی موت واقع ہوئی جس کی چند دنوں بعد شادی کی تاریخ بھی طے ہوئی تھی۔شادی کے لیے ساری خریداری بھی اس نے خود کی ۔اچانک بیمار ہوئی، مہنگے ہسپتالوں میں ایک مہینہ زیر علاج رہی کوئی افاقہ نہیں ہوا ،آخر کار چل بسی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

جبکہ اس کے نانا کو کئی سال پہلے بتایا گیا تھا کہ لاعلاج ہے ،چند دنوں کا مہمان ہے وہ اچھی خاصی صحت کے ساتھ حیات ہیں الحمدللہ ۔
جب مقررہ وقت پہنچا تو علاج بے کار۔۔۔۔نہیں پہنچا تو معمولی دوا بھی کارگر ثابت ہوتی ہے۔
کئی ایسے بیماروں کو صحت یاب ہوکر لمبی عمر پاتے دیکھا گیا جن کو دیکھ کے لگتا تھا کہ شاید ایک آدھ دن بھی جی نہ پائیں گے اور کئی ایسے صحت مند انسانوں کو رخصت ہوتے ہوئے دیکھا جنھیں دیکھ کر کم سے کم سو سال عمر پانے کا گمان ہوتا تھا۔

انسان کی سوچ اس بات کا احاطہ نہیں کر سکتی کہ کس نے کتنی عمر پانی ہے؟
کس نے کب مرنا یے۔؟
ہو گا وہی جو میرا رب چاہے گا۔ عمروں کا حساب رکھنے والا صرف وہی ہے۔

وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتاب

(سورہ فاطر آیت نمبر 11)

ترجمہ:کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا یے۔”

مفہوم: یعنی جو شخص بھی دنیا میں پیدا ہوتا ہے اس کے متعلق پہلے ہی یہ لکھ دیا جاتا یے کہ اسے دنیا میں کتنی عمر پانی ہے۔کسی کی عمر دراز ہوتی ہے تو اللہ کے حکم سے ہوتی ہے ،اور چھوٹی ہوتی ہے تو وہ بھی اللہ ہی کے فیصلے کی بنا پر ہوتی ہے۔ بعض نادان لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ پہلے نوزائیدہ بچوں کی موتیں بکثرت واقع ہوتی تھیں اور اب علم طب کی ترقی نے ان اموات کو روک دیا ہے اور پہلے لوگ کم عمر پاتے تھے ،اب وسائل علاج بڑھ جانے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ عمریں طویل ہوتی جا رہی ہیں۔ لیکن یہ دلیل قرآن مجید کے اس بیان کی تردید میں صرف اس وقت پیش کی جا سکتی تھی جب کہ کسی ذریعے سے ہم کو یہ معلوم ہو جاتا کہ آللہ تعالیٰ نے فلاں شخص کی عمر مثلاً دو سال لکھی تھی اور ہمارے طبی وسائل نے اس میں ایک دن کا اضافہ کر دیا ۔اس طرح کا کوئی علم اگر کسی کے پاس نہیں ہے تو وہ کسی معقول بنیاد پر قرآن کے اس ارشاد کا معارضہ نہیں کر سکتا۔ محض یہ بات کہ اعدادوشمار کی رو سے اب بچوں کی شرح اموات گھٹ گئی ہے، یا پہلے کی بنسبت اب لوگ زیادہ عمر پا رہے ہیں، اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ انسان اب اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو بدلنے پر قادر ہو گیا ہے ۔آخر اس میں کونسی بات بعید از عقل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف زمانوں میں پیدا ہونے والے انسانوں کی عمریں مختلف طور پر مقرر فرمائی ہوں۔اور یہ بھی اللہ عزو جل ہی کا فیصلہ ہو کہ فلاں زمانے میں انسان کو فلاں امراض کے علاج کی قدرت عطا کی جائے گی اور فلاں دور میں انسان کو بقائے حیات کے فلاں زرائع بخشے جائیں گے۔

(تفہیم القرآن جلد نمبر چہارم صفحہ نمبر 225)

اس میں ڈرنے والی کوئی بات نہیں بلکہ “ذکر موت ” سے انسان کے دل میں خوف خدا بستا ہے اور یہی خوف خدا انسان کو دنیا کی لذتوں کے پیچھے بھاگنے سے روک کر اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے سرگرداں کرتا ہے۔ فانی دنیا کو مسافر خانہ تصور کرکے مسافروں جیسی زندگی گزارنے پر آمادہ کرتا ہے۔
یہی ذکر موت انسان کو عارضی دنیا کی بنسبت ابدی زندگی کے لیے عمل کرنے پر اکسا کر اجرو ثواب کمانے کا سبب بن سکتا ہے۔۔

موت کا ایک دن معین ہے
نیند رات بھر کیوں نہیں آتی

مرزا غالب
یہ وہ ذائقہ ہے جسے ہر کسی نے چکھنا یے۔۔
اس میں ڈرنے والی کوئی بات نہیں ۔

بوختوئے نو لہ نانو ژان ۔۔(امی کی جان ڈریں مت)

 

 

 

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
89907

قومی نشریاتی ادارے کا تعمیری کردار – تحریر: محمد شریف شکیب

Posted on

قومی نشریاتی ادارے کا تعمیری کردار – تحریر: محمد شریف شکیب

بزرگوں کا قول ہے کہ اگر تمہاری منزل ہزار میل دور ہو۔لیکن آپ منزل تک پہنچنے کا عزم رکھتے ہوں اور اپنے سفر پر پہلا قدم رکھ دیں تو منزل خود بخود آپ کے قریب آ جاتی ہے۔یہ مختصر تمہید خیبر پختونخوا میں بولی جانے والی تیسری بڑی زبان کھوار کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے باندھی گئی ہے۔ہمارے صوبے میں مجموعی طور پر 27 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ان میں سے چودہ زبانیں چترال میں بولی جاتی ہیں تاہم کھوار ہی چترال میں بسنے والی مختلف قومیتوں کے درمیان رابطے کا سب سے بڑا زریعہ ہے۔ کھوار زبان اپر اور لوئر چترال کے علاوہ گلگت بلتستان کے علاقہ ہنزہ، غذر، یاسین،پونیال، سندھی،سوات کے بالائی علاقہ کالام اور چند وسطی ایشیائی علاقوں میں بھی بولی جاتی ہے اس لحاظ سے کھوار زبان سمجھنے اور بولنے والوں کی تعداد بارہ سے پندرہ لاکھ کے درمیان ہے۔کھوار زبان گذشتہ دو صدیوں سے تحریری شکل میں موجود ہے کھوار کے حروف ابجد کی تعداد 42 ہے۔سرکاری تعلیمی اداروں میں پانچویں جماعت تک درسی کتب بھی کھوار زبان میں شائع ہو چکی ہیں۔

 

ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا نے بھی کہوار زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔کھوار بولنے والوں کی ادبی تنظیم انجمن ترقی کھوار کا بھی اس زبان کو زندہ رکھنے اور فروغ دینے میں بڑا ہاتھ ہے۔قومی سطح پر کھوار زبان کو پہلی بار نمائندگی 1965 میں اس وقت ملی جب ریڈیو پاکستان پشاور سے کھوار مجلس کے نام سے پندرہ منٹ دورانیے کا پروگرام شروع ہوا۔بعد میں اس پروگرام کا دورانیہ نصف گھنٹہ اور بعد ازاں ایک گھنٹہ کردیا گیا۔اسی پروگرام کے زریعے چترال کے لوگوں کو کاشت کاری، شجرکاری کے جدید طریقوں سے روشناس کرایا گیا۔لوک گیتوں اور کہانیوں کو محفوظ کیا گیا یہاں تک کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کے نتائج بھی ریڈیو پر نشر ہونے لگے۔

 

چترال کے ادبی، سیاسی اور سماجی حلقوں، اہل علم اور دانشوروں نے پاکستان ٹیلی وژن جیسے بڑے قومی ادارے میں کھوار زبان کو نمائندگی دلانے کے لئے طویل جدوجہد کی۔بالاخر پی ٹی وی پشاور سینٹر کے منتظمین،ایم ڈی اور جی ایم نے پی ٹی وی نیشنل پر کھوار خبروں اور نصف گھنٹے کے ہفتہ وار پروگرام داستان چترال کی منظوری دیدی۔اور 23 جولائی 2023 کو پی ٹی وی پشاور سینٹر سے پہلی بار کھوار خبریں نشر ہوئیں اور ہفتہ وار پروگرام داستان چترال کا باقاعدہ آغاز ہوا.جس کاسہرا پی ٹی وی کے ایم ڈی مبشر توقیر، جنرل منیجر پشاور سید اسد علی نقوی اور سینئر نیوز ایڈیٹر محمد عرفان خان کے سر ہے۔اس پروگرام میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کو بلا کر روزمرہ زندگی کے مسائل، تعلیم، صحت اور دیگر موضوعات پر ان ماہرین کی آراء ناظرین تک پہنچائی گئیں ان اہم شخصیات میں پروفیسر اسرار الدین، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، ڈاکٹر محمد صدیق، ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر فیض الاعظم، ایس آر ایس پی کے سربراہ شہزادہ مسعود الملک، اعلی تعلیم پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم روز کے سربراہ ہدایت اللہ، پولو کے نامور کھلاڑی شہزادہ سکندرالملک،ماہر تعلیم شیر ولی خان اسیر، علی اکبر قاضی،الطاف الرحمن رومی کے علاوہ امور خانہ داری، فنی تعلیم اور کاروبار سے تعلق رکھنے والی خواتین اور فن و ادب کے ماہرین شامل ہیں۔

 

ایک سال سے بھی کم عرصے میں پی ٹی وی سے نشر ہونے والے پروگرام کو غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔پی ٹی وی انتظامیہ نے صوبے کی تیسری بڑی زبان کو اس کا جائز مقام دیتے ہوئے کھوار خبریں ہفتہ وار کے بجائے روزانہ نشر کرنے کی منظوری دیدی۔یکم مئی2024 سے کھوار خبریں پی ٹی وی نیشنل پشاور سے روزانہ دوپہر دو بج کر بیس منٹ پر نشر ہو رہی ہیں۔جس کی چترال کے عوام اور ادبی حلقوں نے زبردست پذیرائی کی ہے۔توقع ہے کہ قومی نشریاتی ادارہ کھوار زبان کے پروگرام کا دورانیہ بڑھانے کے ساتھ اسے روزانہ نشر کرنے کی بھی منظوری دے گا۔جس کی بدولت کھوار زبان کو ترقی ملنے کے ساتھ چترال کی ٹقافت، ادب اور اقدار کو بھی فروغ ملے گا جس کی بدولت اس جنت نظیر وادی میں سیاحت بھی فروغ پائے گی اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔۔

Posted in تازہ ترین, مضامین
89850

داد بیداد ۔ پہلی بچت پہلی بار۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ پہلی بچت پہلی بار۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ایک اچھی خبر آئی ہے کہ حکومت نے روان ما لی سال کے حساب میں پہلی بار بچت کی طرف تو جہ دی ہے اس سلسلے میں حکومت نے اراکین اسمبلی کو دی جا نے والے صوابد یدی فنڈ کو ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے، نیز یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ بہت جلد اراکین اسمبلی اور سر کاری عہدوں پر رہنے والے سیا ستدانوں کے ساتھ دونوں درجوں کے افیسروں اور ججوں کے اثا ثے میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے رکھے جا ئینگے اگر حکومت نے اراکین اسمبلی کو ملنے والے صوابدیدی فنڈ ختم کر دیے تو یہ اس دور کا سنہرا کارنا مہ ہو گا ایک رکن اسمبلی کو 10کروڑ روپے ہر سال ملتے ہیں اگر ملک کے گیارہ سواراکین اسمبلی کو 5سالوں میں ملنے والے فنڈ کا حساب کیا جا ئے تو اس کی کل ما لیت آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے ملنے والے سودی قرض کی مجمو عی ما لیت سے دگنی ہوجا تی ہے خبر میں بتا یا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے مجوزہ تین سالہ قرض پرو گرام کی منظوری کے لئے مطا لبات کی جو فہرست حکومت پا کستان کو پیش کی گئی ہے

 

اس فہرست میں ارا کین اسمبلی کے صوابدیدی فنڈ کو ختم کرنے کا مطا لبہ بھی شا مل ہے خدا کرے کہ یہ مطا لبہ آئی ایم ایف کا مطا لبہ ہو اور خدا کرے کہ یہ قرض ملنے کی شرائط میں سے ایک شرط ہو اور خدا کرے کہ ہماری حکومت بادل نا خواستہ اس شرط کو پوری کرے ”بادل نا خواستہ“ اس لئے لکھنا پڑا کہ اس بندر بانٹ میں سب سے زیا دہ ما ل سرکاری بنچوں پر بیٹھنے والے اراکین اسمبلی کو ملتا ہے اس کا بڑا حصہ مر کزی اور صو بائی وزرا کو ملتا ہے غریب غر باء کو کچھ بھی نہیں ملتا بقول فیض کچھ واعظ کے ہاں کچھ محتسب کے گھر جا تی ہے ہم میکشوں کے حصے کی مئے جا م میں کمتر جا تی ہے آئی ایم ایف کا دیا ہوا قرض اوپر، اوپر ہوا میں اڑا یاجا تا ہے اور سود سمیت اصل زر کی ادائیگی غریب غر باء پر ٹیکس لگا کر کی جا تی ہے تجزیہ نگا روں اور ٹیکس گذار وں کو تعجب ہوتا ہے کہ اب تک پا کستان میں سرکاری خزانے کے پیندے کی سیوریج نا لی سے بہنے والا یہ سرمایہ ہمارے مہر بان آئی ایم ایف کو بھلا کیوں نظر نہیں آیا تھا،

 

بعض خو ش فہم اور زور رنج دوستوں نے آئی ایم ایف کے بزر جمہروں کو مشورہ دینا شروع کیا ہے کہ لگے ہاتھوں پا کستان کے سرکار ی خزا نے پر ڈاکہ ڈالنے والے مزید چو ہوں کا صفا یا کیا جا ئے مثلاً 5لا کھ روپے سے لیکر 75لا کھ روپے تک تنخوا ہ لینے والے سرکاری حکام کو سالا نہ 6کھر ب روپے کا تیل اور گیں مفت ملتا ہے مزید 6کھر ب روپے کی بجلی مفت ملتی ہے اس کو بھی بند کر دیا جا ئے وزیروں کے پرو ٹو کول پر ہر سال ایک کھر ب روپے کا خر چہ آتا ہے یہ رقم آئی ایم ایف کے قرض کی ایک قسط کے برا بر ہے، بزر جمہروں کا یہ بھی مشورہ ہے کہ پا کستان میں 10بڑے گھروں کا سرکاری خر چہ ہر سال قومی خزا نے کا 10کھر ب روپے کھا جا تا ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس خر چے کی کوئی ضرورت نہیں، چاروں صو بوں کے گور نر ہا وس اور وزیر اعلیٰ ہاوس با لکل فضول ہیں، قومی مفاد کا کوئی کام ان سے وابستہ نہیں ان کا عملہ، ان کے بجلی، گیس اور تیل کا خر چہ قومی خزا نے پر بو جھ ہے اس طرح ہمارے ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاوس کا حجم بھی واشنگٹن ڈی سی کے وائٹ ہاوس سے دس گنا زیا دہ ہے کسی خلیجی ریا ست کے عیا ش باد شاہ کا ذا تی خر چہ بھی پا کستانی حکمرانوں کے بر ابر نہیں، آئی ایم ایف کو قرض کی نئی قسط جا ری کر تے وقت پا کستان کی حکومت کو بتا نا چاہئیے کہ 10بڑے گھروں کی نجکاری کر کے عا لیشان ہو ٹل بنا ؤ اور قرضوں کے بو جھ کو ہلکا کرو، مشورہ دینے والوں نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ پا کستان کی قومی اور صو بائی حکومتوں میں ملا زمین کا حجم ضرورت سے 100گنا زیا دہ ہو گیا ہے

 

ہر آنے والی حکومت اپنے سیا سی کار کنوں کو بھر تی کر تی ہے جہاں ایک ملا زم ہونا چاہئیے وہاں 100بندے بٹھا ئے گئے ہیں اس لئے آئیندہ دس سا لوں کے لئے سی ایس ایس، پی ایم ایس، آئی ایس ایس بی کو بند کیا جا ئے، سکیل 1سے 17تک تما م آسا میوں پر پا بندی لگا ئی جا ئے، تا کہ تر قی یا فتہ مما لک کی طرح افیسر خو د اُٹھ کر چا ئے اور پا نی پینے کی زحمت کرے نچلی سطح پر 100کلر کوں کا کام ایک کمپیو ٹر سے لیا جا ئے تو قومی خزا نے پر بو جھ کم ہو گا، یہ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت ایجنڈا بنے گا جس کی مدد سے پا کستان مو جو دہ بحرا نوں سے نکل سکے گا، اللہ کرے کہ اراکین اسمبلی کے صوابدیدی فنڈ ختم کر کے حکومت سرکاری خزانے کی بچت کا یہ منصو بہ مر حلہ وار شروع کرے اور قوم کو قرضوں سے نجا ت دے کر تر قی کی راہ دکھا ئے۔

Posted in تازہ ترین, مضامین
89797

میرا سرمایہ گھلا جا رہا ہے – از: کلثوم رضا

Posted on

میرا سرمایہ گھلا جا رہا ہے – از: کلثوم رضا

 

مجھے ہمیشہ یاد رہنے والی تاریخ چھ جون۔۔۔

ایک اینٹ اور گر گئی دیوار حیات سے۔۔۔

 

یقیناً انسان کی زندگی میں پیش آنے والا ہر دن اس کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔۔خاص کر اس کا جنم دن۔۔۔جو اسے دنیا کی ہیچ وتاب اور نشیب و فراز سے واقف کرانے کا سبب بنتا ہے۔یعنی اس دنیا سے واقفیت رکھنے کے لیے اسے اس دنیا میں آنا ضروری ہوتا ہے ۔جب وہ دنیا میں آتا ہے تو اس کے والدین خوشیاں مناتے ہیں کہ ان کی نسل آگے بڑھی، دنیا میں ان کا مطیع اور ان کے بعد ان کا نام لیوا پیدا ہوا یا ہوئی۔۔یوں انکی یہ اولاد انکی آنکھوں کی ٹھنڈک بن کر ان کی گود میں پلتی ہوئی سال،دو سال،تین سال،چار اور پانچ سال یعنی بچپن،لڑکپن اور جوانی دہلیز پار کرتے ہوئے اپنی ازدواجی زندگی میں داخل ہونے تک انکی مرکوز نظر رہتی ہے۔۔بلکہ شادی کے بعد بھی والدین کو ان کی اولاد سے وابستہ ہر دن،ہر خوشی یاد رہتی ہے۔(جیسا کہ چند دن پہلے میری امی نے بتایا کہ جون کا مہینہ قریب اتے ہی آپ کی بہت زیادہ یاد اتی ہے۔)۔

 

اور پھر بچوں کی شادی کے بعد وہی سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ انکے بچے ہوتے ہیں پھر ان کی زندگی اسی طرح چلتی ہے جیسے والدین کی۔۔۔کسی کی تھوڑی مختلف ہوتی ہے اور کسی کی زیادہ مختلف۔۔۔کوئی دنیا کے پیچھے بھاگتا یے،کسی کے پیچھے دنیا بھاگتی ہے۔لیکن دونوں کی بھاگ دوڑ ایک ہی جانب ہوتی ہے جس کی جانب ہر ذی روح نے جانا ہوتا ہے۔۔یعنی کے موت کی جانب۔۔۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی کا سرمایہ گھلا جا رہا ہے جیسے ایک برف بیچنے والے کا سرمایہ گھلتا ہے۔زندگی کا ہر لمحہ گزر کر ماضی بنتا چلا جاتا ہے اور اٹھنے والا ہر قدم موت کی طرف اٹھتا ہے۔
ہم میں سے ایک ایک شخص کو ایک ایک قوم کو جو عمر کی مدت دی گئی ہے۔ یہی ہمارا اصل سرمایہ ہے جو ایک برف کے گھلنے کی مانند تیزی سے گزر رہی یے اور ہم سمجھ رہے ہیں کہ انے والا وقت ہمارا ہے۔

کوئی اپنے جنم دن کی خوشی کیک کاٹ کر اور پٹاخے چھوڑ کر مناتا ہے اور کوئی اپنے ہر گزرتے سال کا حساب اپنی اوقات سے بڑھ کر نعمتیں ملنے پر شکر کر کے مناتا یے۔۔۔اسی طرح میں بھی جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو میرا بچپن سے اب تک کا سفر ہر سال نئے نئے تجربات کے ساتھ گزرا۔میری زندگی میں آنے والی ہر خوشی نے مجھے زندگی کی نئی امنگ عطا کی، تو حسب دستور ملنے والے نا خوشگوار واقعات نے نئی ہمت اور اپنا محاسبہ کرنے کی جرات بخشی۔

 

اب کی بار بھی چھ جون کی تاریخ آتے ہی ہر گزرتے سال کا ہر دن جب یاد کرتی ہوں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ جس تیز رفتاری سے میری زندگی کا سرمایہ گھلا جا رہا ہے،میری زندگی کی ہر ان گزر کر ماضی بنتی چلی جا رہی ہے،اور ہر ان آ کر مستقبل کو حال اور حال کو ماضی بنا رہی ہے۔۔۔کیا میں اسے بچا پاؤں گی۔۔۔؟
جب سوچتی ہوں نہیں تو بس رب سے یہی دعا کرتی ہوں کہ الہی!جو وقت گزر گیا اس پر گرفت نا کر۔۔۔ درگزر فرما۔۔۔
جو گزر رہی ہے اس میں اپنی رضا شامل کر۔۔۔
۔۔۔ اور جو گزرنے والی ہے اسے صرف اور صرف اپنی اطاعت میں گزار دے۔۔۔۔

۔۔۔اس باقی ماندہ سرمائے کو ضائع ہونے سے بچا لے مولا!۔۔۔میرے ہاتھ میری صرف ایک ہی کمائی یے تجھے اس کا واسطہ میرے رب! کہ جو بھی ملا تیری رضا سمجھ کے قبول کیا اور تیری طرف سے ملنے والی ہر نعمت کی شکر گزار رہی۔۔۔بس یہی میری کل کمائی ہے۔۔

میرے مالک!۔۔۔جو کام مجھ سے لینا چاہتا ہے اسے اس کم وقت میں بڑھا چڑھا کے مجھ سے لے لے۔تاکہ جس دن میں تیری طرف لوٹائی جاؤں تو میرے ہاتھ خالی نہ ہوں اور جب پھر سے اٹھائی جاؤں تو میرا دامن خوشیوں سے بھرا ہوا ہو۔اور میرے پاس تیرے وعدے کے مطابق مومنوں کے لیے تیار کردہ ہاؤسنگ سکیم میں ایک گھر کی چابی موجود ہو۔اور میں وہاں جا بسوں۔امین

 

یقینا تیرا وعدہ سچا ہے اور تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔اور اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے،انھیں مایوس کبھی نہیں کرے گا ان شائاللہ۔

 

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
89793

حریمِ ادب تربیتی نشست کی روداد – از قلم : عصمت اسامہ

حریمِ ادب تربیتی نشست کی روداد – از قلم : عصمت اسامہ

خواتین لکھاریوں کی ادبی اصلاحی انجمن حریمِ ادب کی تربیتی نشست کا انعقاد لاہور منصورہ میں کیا گیا۔ ڈپٹی سیکرٹری حریم ادب وسطی پنجاب شاہدہ اقبال نے حریمِ ادب کا تعارف پیش کیا۔مہمان خصوصی سرپرست اعلیٰ حریم ادب ،سیکریٹری جنرل جے آئی وومن ونگ ڈاکٹر حمیرا طارق تھیں ۔ معاشرے کی اصلاح و تربیت میں ادیب کا اہم کردار ہے ۔ادیب سماجی سوچ کو موڑنے اور نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں موجودہ نسل کاغذ اور قلم کے رشتے سے دور ہوتی جارہی ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لئے عربی زبان کی تفہیم لازم ہے۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جس کا نفاذ اور ترویج ضروری ہے۔سید ابوالاعلیٰ مودودی نے دین_ اسلام کا صحیح چہرہ پیش کیا ۔آپ نے ڈارون کے نظرئیے کو رد کرتے ہوۓ ،اسلامی فلاسفی کو روشناس کروایا۔ جب امت معذرت خواہانہ رویہ اختیار کر چکی تھی ،دین اور دنیا کو الگ کردیا گیا تھا ،مولانا نے سمجھایا کہ سیاست دراصل اصلاح_ معاشرہ کا نام ہے۔

 

سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریک کو” عالمی اسلامی تحریکوں کی ماں” کا درجہ حاصل ہے۔خواتین کے لئے ” جہاد بالقلم ،جہاد بالسیف کے ہم پلّہ” ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حمیرا طارق سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعتِ اسلامی نے ” حریم ادب تربیتی نشست” سے خطاب کرتے ہوۓ کیا۔ نشست میں ڈاکٹر صائمہ اسماء ،مدیرہ چمن_ بتول نے ” مؤثر تحریر کے لوازم ” کے موضوع پر مفصل لیکچر دیا۔”حریمِ ادب وسطی پنجاب ” کی تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مدیرہ چمن_ بتول ،ڈاکٹر صائمہ اسماء نے تحریر کو مؤثر بنانے کے لیے عملی مشق پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ادیب خود کو تنقید کے لئے تیار رکھیں ،آپ کی تحریر کے پیچھے مقصد ہوگا تو تاثر بنےگا۔مقصدیت کو فن پر حاوی نہ ہونے دیں ۔لکھاری کے لئے شوق آغاز کے لئے اہمیت رکھتا ہے لیکن منزل تک پہنچنے کے لئے مہارت سیکھنا پڑتی ہے۔ مطالعے کے کینوس کو وسیع کریں تاکہ تخیل کو بھی پرواز کا موقع ملے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ تحریر کو موضوع تک محدود رکھیں ،اسے بارہ مصالحوں کی چاٹ نہ بنائیں۔متعلقہ معلومات اور دلائل کو پیش نظر رکھ کے لکھیں۔ آپ نے ” ادب کی ماہیت” کے موضوع پر ایک مضمون بھی نشست کی شرکاء خواتین کو فراہم کیا۔ سیکرٹری حریمِ ادب وسطی پنجاب عصمت اسامہ نے موجودہ دور کو “ڈس انفارمیشن کا دور” قرار دیتے ہوۓ خبر کی تحقیق اور سچائی کی تلاش کی اہمیت بیان کی تاکہ معاشرے سے افواہوں کا سد_ باب ہوسکے ۔ادیب اور لکھاری خود ریسرچ کرکے اہل_ علم سے درست معلومات لے کر لکھیں تو تحریر میں تاثیر پیدا ہوگی۔ نشست میں عصمت اسامہ کی کتاب ” میرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم” کی تقریب_ رونمائی کی گئ ۔ نشست میں اسماء حبیب ،انیلہ عمران اور ندا اسلام کو ” مقابلہ مقصد کہانی ” کے تحت انعامات دئیے گئے۔ شرکاء محفل میں لاہور کی لکھاری خواتین ،ادیبات اور شاعرات نے شرکت کی اور حریم ادب کی کاوشوں کو سراہا۔

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
89770

شندور میلے میں وی آئی پی کلچر: ایک ناجائز اور نا قابل قبول عمل! ۔تحریر: کلیم کاوش۔

Posted on

شندور میلے میں وی آئی پی کلچر: ایک ناجائز اور نا قابل قبول عمل! ۔تحریر: کلیم کاوش۔

 

چترال، جو کہ اپنی نمایاں روایت، ثقافت، پر امن ماحول، ہم آہنگی اور مہمان نوازی کے لیے عالمی سطح پر جانا جاتا ہے، سالانہ شندور میلہ 2024 کی میزبانی کرے گا جو ہر سال چترال اور گلگت کے درمیان دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ میں کھیلا جاتا ہے۔ اس سال یہ تہوار 28 جون کو شروع ہونے اور 30 ​​تاریخ کو اختتام پذیر ہونے کی امید ہے۔

چترال اور گلگت کے باشندے ہر سال بڑی تعداد میں اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے اور اپنے دنوں کو گننے کے قابل بنانے کے لئے آتے ہیں۔ جب ہر جگہ سماجی بیگانگی، معاشرتی مایوسی اور وقت کی کمی پروان چڑھ رہے ہو، ایسے میں شندور جیسے فیسٹیول کا ہونا کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ تہوار ایک پابند قوت کے طور پر کام کرتا ہے جس نے چترال اور جی بی کے لوگوں کو دہائیوں سے باندھے رکھا ہے اور ہمارے درمیان برادرانہ تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔

تاہم، اس کے ساتھ ایسا مسئلہ بھی ہے جو ہمیں جذباتی طور پر مایوس کرتا ہے، ہمارے اندر احساس کمتری کو پروان چڑھاتا ہے اور ہمیں ان بنیادی حقوق کی واضح تصویر دکھاتا ہے جن سے ہمیں کئی دہائیوں سے محروم رکھا گیا ہے۔

شروع کرتے ہے مقامی تماشائیوں سے، جو اپنی سماجی، خاندانی اور علمی وابستگیوں پہ سمجھوتہ, اور اپنے مصروفیات سے وقت نکال کر میچ دیکھنے آتے ہیں، ان کے ساتھ وہاں پرایون اور تھرڈ کلاس سٹیزین جیسا سلوک کیا جاتا ہے. اسی گراونڈ کے دوسرے کونے پر ایک الگ قسم کے مخلوق ہوتے ہیں جن کو فرانگیوں کی زبان میں وی آئی پیز (VIPs) بولتے ہیں، ان مخصوس شخصیات، ان کے اہل خانہ، بچوں اور حتیٰ کہ رشتہ داروں کے لیے بھی پر سکون ماحول تعمیر کی گئی ہے، جو کہ سکون سے سائے تلے، فلٹر اور ٹھنڈے پانی ہاتھ میں لئے، آرام دہ نشستوں پر بیٹھ کر فیسٹیول سے لطف اندوز ہوتے ہیں جن کی گراونڈ کے اس کونے پہ بیٹھے مقامی مخلوق صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔
1.
ہمارے بزرگوں کو جون کی چلچلاتی دھوپ کے نیچے, دھول آلود زمین میں بیٹھایا جاتا ہے
2.
ہماری مائیں اور بہنیں، جن کو اپنے خاندانی کاموں سے شاذ و نادر ہی فرصت ملتی ہے، ان کو گراونڈ سے دور تندور سے بھی گرم پتھروں پر بیٹھنے پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں سے رویت حلال کمیٹی کی دوربین سے بھی پولو گراؤنڈ کو ٹھیک سے دیکھا نہیں جا سکتا۔
3.
کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس طرح کے میگا ایونٹ میں واش رومز کا انتظام نا ہو، خاص کر خواتین کے لئے۔
4.
پچھلے سال فیسٹول دیکھنے شندور جانا ہوا، دوکان سے کچھ بسکٹ خرید کر کھایا، اور پورا دن کاغذ ہاتھ میں لئے ڈاسٹ بین ڈھونڈنے میں گزر گیا۔ افسوس یہ کہ ایک بھی نہ ملا ، ہم نرالے قوم ہے، اور ہمارے کام بھی نرالے ہے!

6.
آخری بات مقامی کمیونٹی کو پولو گراؤنڈ کے قریب اپنا خیمہ لگانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ آس پاس کی جگہیں مقدس گایوں کے لیے مخصوص ہیں — نام نہاد VIPs کے لئے۔ اور یہ وی آئی پیز زیادہ تر ہمارے محافظ گروہ کے لوگ ہیں جن کی تعداد پچھلے سال تماشائیوں سے بھی زیادہ تھا۔

ہمارا مطالبہ سادہ ہے:
چترال کا دورہ کرنے والے اپنے مہمانوں کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں، ان کو تمام سہولیات فراہم کریں، وہ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کے مستحق ہیں۔ لیکن، اس کے ساتھ ساتھ، مقامی کمیونٹی کو ایک ادنیٰ مخلوق سمجھنا بھی بند کریں۔ کم از کم، بیٹھنے کے لیے مناسب نشستیں ہونی چاہئیں، اگر کرسیاں نہیں تو کم از کم پولو گراؤنڈ چترال جیسی سیمنٹ کی سیڑیان بنائی جائے، جہاں ہم آرام سے بیٹھ کر میچ دیکھ سکے۔ اس کے علاوہ، مقامی خواتین کمیونٹی کے لیے آرام دہ اور قابل رسائی واش روم کو یقینی بنائیں تاکہ وہ بھی تہوار کو پرسکون ہو کر دیکھ سکے۔ گراونڈ کے ہر کونے میں ڈسٹ بین انسٹال کرے تاکہ مقامی لوگوں کی مال مویشیوں کی بھی تھوڑی خیر ہو، اور پیسے اگر تھوڑے بچ جائے تو آپس میں بانڈھنے کے بجائے، گرونڈ کے قریب ایک پانی کی پائیپ لگا لے تاکہ جب گلہ سوکھ جائے تو ایک بوند پانی کے لئے ایک گنٹھے کا سفر نہ طے کرنا پڑے۔

یہ سب ہمارا بنیادی اور قانونی حقوق ہے جن کو مانگنے کی نوبت ہی نہیں آنی چائیے تھی، ان سب پر غور اور عمل کیا جانا چاہیے۔

شکریہ!

shandur polo festival 2022

shandur ground

shandur festival by kalim

Posted in تازہ ترین, مضامین
89735

داد بیداد ۔ شہر داری کی نا ز برداری ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ شہر داری کی نا ز برداری ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

دو خبریں تھوڑے وقفے سے آگئی ہیں اللہ کرے دونوں خبریں درست ہوں اور اللہ کرے دونوں خبروں پر عمل بھی ہو جا ئے پہلی خبر یہ ہے کہ صو بائی حکومت نے 2025کے بلدیاتی انتخا بات کو دو سا ل موخر کرنے پر سنجید گی سے غور شروع کیا ہے دوسری خبر یہ ہے کہ صو بائی حکومت نے 2021میں منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں کو تر قیا تی فنڈ جا ری کرنے کے لئے عالمی بینک کے ساتھ ایک پیکیج پر بات چیت کا آغا ز کیا ہے، پیکیج منظور ہونے کے بعد صوبے کے بلدیا تی اداروں کو تر قیا تی فنڈ جا ری کرنے کا آغاز کیا ہے، پیکیج منظور ہونے کے بعد صو بے کے بلدیا تی اداروں کو تر قیا تی فنڈ جا ری کئے جا ئینگے انگریزی لفظ میونسپیلٹی کا اردو تر جمہ بلدیہ کیا جا تا ہے فارسی میں اس کے لئے خو ب صورت تر کیب ”شہر داری“ استعمال ہو تی ہے پا کستان سے ہمارا مختصر وفد ستمبر 2004میں یو نیسکو (UNESCO) کے ایک بین الاقوامی ورکشاپ میں شر کت کے لئے ایران گیا تھا، ہم نے ایران کے چار صو بوں میں 10شہر داریوں کا دورہ کیا ہر شہر داری پا کستان کی صوبائی حکومت کے برا بر تھی بلکہ بعض معا ملا ت میں بہتر تھی

 

ہر شہر داری کے پا س بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا اپنا نظا م تھا جو بہترین سسٹم کے تحت کام کر تا تھا ہر شہر داری کے پاس عوامی ٹرانسپورٹ کا بے مثال نظام تھا جس کی ہر بات مثا لی تھی ہر شہر داری کے پاس عجا ئب گھر وں اور کتب خا نوں کا مر بوط سسٹم تھا ہر شہر داری میں ایک کثیر المقاصدتالار (ہال)قائم تھا جہاں سیمنار ز اور کانفرنسوں کے لئے 5زبانوں میں خود کار تر جمے کی سہو لت والے ہیڈ فون دستیاب تھے وہاں کی شہرداری اس لئے ثروت مند اور با اختیار تھی کہ اس پر مر کزی حکومت کا کوئی جبر نہیں تھا صوبے کے گورنر کا کوئی جبر نہیں تھا، پا سداران انقلا ب کی طرف سے کوئی حکم نہیں تھا ملکی عدالت کی طرف سے کوئی ظلم نہیں تھا شہر داری اپنے دائرہ اختیار میں خو د مختار تھی صو بائی گور نر ہمارے ورکشاپ کے آخری اجلا س کے لئے ایسے وقت پر آئے جب ہم با ہر لا ن میں چائے پی رہے تھے،

 

ہم پاکستانی یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ صو بائی گورنر کے پا س کوئی گارڈ نہیں تھا ایک ڈرائیور اور ایک سکر ٹری تھا ایک ہی گاڑی تھی شہر داری کے مدیر نے ان کا استقبا ل کیا ذکر چھڑ گیا جب قیا مت کا، بات پہنچی تیری جوا نی تک میرا مو ضوع خیبر پختونخوا تھا شہر دار ی کے ذکر سے بات دور نکل گئی یہ بات باعث اطمینان ہے کہ صو بائی حکومت کو بلدیاتی اداروں اور ان اداروں کے اندر منتخب عوامی نما ئیند وں کا خیال آگیا ہے 2021ء میں صو بے کے عوام نے بڑی امیدوں کے ساتھ بلدیاتی انتخا بات میں ووٹ ڈالے تھے سر کاری طور پر بتا یا گیا تھا کہ انتخا بات پر گیارہ ارب روپے کا خر چہ آیا انتخا بات کے بعد چیئر مین، میر اور نا ظم بننے والے عوامی خد مت کے جذبے سے سر شار تھے اور ”اُمید سے“ تھے کہ ان کوا ختیار ات اور فنڈ ملینگے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بعض کو دفتر دکھا یا گیا کچھ ایسے ہیں جن کو دفتر بھی نہیں ملا،

 

اپریل 2022میں نئی حکومت آئی تو بلدیاتی کونسلو ں کو غیر اعلا نیہ طور پر عاق کر دیا گیا، صو بائی حکومت کی طرف سے لا تعلقی کے مظا ہرے کے بعد بلدیاتی نمائیندے ووٹر وں کو منہ دکھا نے کے قابل نہیں رہے ان میں سے کچھ وطن میں رو پوش ہو گئے کچھ بیرون ملک چلے گئے، ایک آدھ بار بلدیاتی نمائیندوں نے احتجا جی مظا ہرے بھی کئے مگر نگران حکومت کے کا نوں میں جوں تک نہیں رینگی اس حال میں اگر 2025ء کا سال پھر انتخا بات کی نوید لیکر آ جا تا تو نہ کوئی کا غذات نا مزد گی داخل کر تا نہ کوئی گیا رہ ارب روپے والے شو (Show) میں ووٹ ڈالنے جا تا شکر ہے حکومت کو اس قسم کی بد اعتما دی کا حال معلوم ہوا، گراس روٹ لیول سے رپورٹیں آگئیں اور حکومت نے انتخا بات ملتوی کر کے مو جو دہ نمائیندوں کی مدت میں دو سال کی تو سیع کرنے پر غور شروع کر دیا، اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی با عث اطمینا ن ہے کہ صو بائی حکومت نے وسائل کی کمی کا احساس کر کے بلدیاتی نظا م کو تر قی یا فتہ ملکوں کی طرح مستحکم کرنے کے لئے عالمی بینک کے ساتھ ایک پیکیج پر مذا کرات کا آغاز کیا ہے تہران، بیجنگ، ٹو کیو، لندن اور وا شنگٹن میں قومی یا صو بائی حکومت کا کوئی نا م نہیں لیتا شہر کی مقا می حکومت کا نا م لیا جا تا ہے، اللہ کرے ہمارے ہاں اس طرح کی سیا سی بلو غت دیکھنے میں آئے اور ”شہر داری کی ناز بر داری“ دیکھنے کو ملے۔

Posted in تازہ ترین, مضامین
89708

حکومتی اور سیاحتی آنکھوں سے اوجھل کھوت ویلی:  –  تحریر: کلیم اللہ 

Posted on

حکومتی اور سیاحتی آنکھوں سے اوجھل کھوت ویلی:  –  تحریر: کلیم اللہ

(میرا گاوں)

چترال کے انتہائی شمال میں واقع ایک ایسا گاؤں بھی ہے جو آج تک حکومتی اور سیاحتی آنکھوں سے اوجھل ہے۔
آئیے اس کے بارے میں تھوڑا جانتے ہیں۔

 

محل وقوع: (Location)
کھوت ویلی سطح سمندر سے 9930 فٹ کے بلندی پر واقع چترال کا پرانا ترین گاؤں ہے۔ اس کے شمال میں ریچ ویلی، جنوب میں مستوچ، مشرق میں یارخون (کھوتان درے کے ذریعے)، مغرب میں بوزوند اور شاگرام واقع ہے۔

 

موسم: (Weather)

موسم چترال کے دوسرے دور دراز علاقوں کی طرح سردیوں میں انتہائی سرد اور گرمیوں میں انتہائی معتدل ہوتا ہے۔ جون اور جولائی سال کے سب سے گرم مہینے ہیں۔

یوں تو یہ گاؤں اپنے سرسبز، لہلہاتی کھیتوں، چراگاہوں، میڈوز، بلند بالا پہاڑوں، برف کے تودوں، آسمان کو چھوتے ہوئے درختوں، مہمان نواز لوگوں، سادہ طرز زندگی، پانی، آب و ہوا، اتفاق و اتحاد سے بندھے ہوئے برادریوں، محبت، برداشت، بھائی چارے سے جڑے ہوئے باسیوں اور اپنی شاندار تاریخ اور قد آور شخصیات کی وجہ سے پورے چترال میں مشہور ہے۔

انتہائی دور افتادہ ہونے کے باوجود بھی اس خوبصورت گاؤں کے باسی ریاستی دور ہو یا جدید دور، زندگی کے ہر شعبے میں اپنا منفرد مقام رکھتے آ رہے ہیں۔

لوگ انتہائی مضبوط، محنتی، مہمان نواز، مذہب پسند، قدردان،اپنے کھو روایات سے جڑے ہوئے اور اپنے اقدار سے پیار کرنے والے ہیں۔ کوئی بھی غیر اسلامی، غیر شرعی اور جدید دور کی کوئی بھی بیہودگی ان کی شخصیت کو جلدی متاثر نہیں کر سکتیں۔
کوئی بھی علاقائی کام ہو اپنے ذاتی انٹرسٹ کو پیچھے رکھ کر علاقائی فائدے کے لیے میدان میں کودنے والے، نا حق کے خلاف سب سے پہلے صف میں کھڑے ہونے والے اور حق کو ووٹ اور چھین کر لینے کے فلسفہ پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔

شخصیات: (Personalities)
اس خوبصورت سر زمین نے بہت سے قد آور شخصیات کو جنم دیا ہے۔
ان میں ریاستی دور کے سب سے اثر رسوخ رکھنے والے “دیوان بیگی ہزار بیگ”، اپنے دور کے انتہائی طاقتور “اطالیق تیغوں”، “چرویلو نیت زرین”، “محمد عیسیٰ پہلوان” سرفریست ہیں۔

کھیل: (Sport’s)
کھیل کے میدان میں بھی اس علاقے کے باسی کسی سے پیچھے نہیں رہتے تھے۔
چوگان (پولو) کے بہترین کھلاڑی حوالدار میر گوڑی خان بابا (قوضیاندور، میرا پر دادا) اور خیر امن بابا (تھور کھوت) اپنے دور کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے تھے۔

جب پولیٹکل ایجنٹ کے حکم پر چترال کا پولو میچ پہلی مرتبہ ریاستی پشت پناہی میں رکھی گی تو تورکھو کے ٹیم نے تاریخی فتح حاصل کر کے ٹرافی اپنے نام کیے تھے۔ بد قسمتی سے آج پورے تورکھو میں ایک بھی پولو کھلاڑی آپ کو نہیں ملے گا۔
(اس کے بہت سے وجوہات ہیں ان شا اللہ اگر موقع ملا پھر کبھی اس کے بارے میں لکھوں گا).

 

معاشرتی نظام: Social) system)
اس کے ساتھ قدیم ایام کے سوشل ضروریات کو پورا کرنے کے لیے”گرم” کا کنسپٹ، غاری بیک، غاری نسیک، یاردوئی، اور دوسرے قدیم معاشرتی روایات اب تک فعال ہیں۔

chitraltimes khot village torkhow upper chitral 4

خوراک۔ (Foods)

جہاں تک میں نے نوٹ کیا ہے۔خوراک میں زیادہ تر لوگ گوشت اور دودھ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں کیونکہ علاقہ انتہائی وسیع ہے اور قدرت کی دیوی بھی اس سر زمین پر بڑا مہربان ہے۔ ان میں چراگاہیں، گھاس کے میدان بڑے پیمانے میں پائے جاتے ہیں۔

چند مشہور خوراک۔
1۔ چھیرا شاپیک
2۔ مول
3۔شولا۔
4۔ ڑیگانو
5۔قلائے بت
7۔ سناباچی.
8۔ شوشپ درے شاپیک
9۔ بوز
10۔ چھیر گرینچ۔
11۔ ٹار برٹ
12۔ غلمندی
13۔شوشپ (چھوچھو، تیل، ژوڑ شوشپ)
14۔ کڑی
وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

(خوراک کے نام ایڈ کر سکتے ہو۔)

چراگاہیں۔ (Pastures)

chitraltimes khot village torkhow upper chitral 3

یوں تو علاقہ پورا سرسبز ہے لیکن سردیوں میں گاؤں میں شدید برف باری کی وجہ سے لوگ اپنے مال مویشیوں کو دور چراگاہوں میں چھوڑ آتے ہیں۔ تاکہ وہ شدید سردی میں بھی صحت مند اور تر و تازہ رہے۔
تین چراگاہیں بہت مشہور ہیں جو علاقے کی تقریباً پورے آبادی اس میں اپنے جانوروں کو چرنے کے لیے چھوڑ آتے ہیں۔

1۔ اوجو
2۔ پوتین
3۔ بھول گۓ (معذرت)

نہری نظام: (Irrigation system)

اس کے علاوہ اس علاقے کا نہری نظام بھی منفرد ہے۔ علاقے کو جان بخشنے کے لئے اس میں انتہائی قدیم آرٹیفشل نہری نظام موجود ہے جس کو “را ژوئے” کا نام دیا گیا ہے۔

یہ نہری نظام بھی ایک عجوبہ سے کم نہیں۔ دشوار گزار پہاڑوں، چٹانوں اور اونچے جگہوں سے انتہائی مہارت کے ساتھ بنائی گئی ہے اور اس کو دیکھنے والے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ آج کے جدید دور میں جدید مشینوں سے بھی ایسی مہارت اور باریکی کے ساتھ کھدائی کرنا مشکل لگ رہا ہے، نا جانے اس دور میں وہ کون عظیم لوگ ہوں گے جنہوں نے اس شاہکار کو تعمیر کیے۔

اور ان کی ذہنی اور جسمانی مضبوطی کی گواہی وہ خود دے رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ مکمل کچہ ہے اس میں ایک انچ بھی سیمنٹ کا کام نہیں کیا گیا ہے۔
اس میں سال میں صرف گرمیوں میں پانی چھوڑا جاتا ہے۔ سردیوں میں یہ مکمل بند رہتا ہے۔ اس کو ایشیاء کا سب سے بڑا کچہ اریگیشن سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔

(اسٹٹسٹکس غلط بھی ہوسکتا ہے)۔
را ژوئے کی صفائی اور اس میں علاقے کا کردار کے بارے میں پھر کبھی لکھوں گا۔ انشاء اللہ۔

 

سیاحتی مقامات: (Tourist spots)

سیاحت کے شوقین لوگوں کے لیے کھوت جنت سے کم نہیں۔ یوں تو پورے علاقے کو ٹورسٹ اسپوٹ کہنا غلط نہیں ہوگا۔ علاقہ سر سبز، آب و ہوا تازہ، تازہ پانی، پہاڑ، برفانی تودے، پُرسکون ماحول سب اللہ تعالی نے اسے عطا کیے ہیں۔ اس میں سب سے مشہور اور مناسب
“شاقلشٹ میڈو” ہے جو سیاحوں کو اپنے کھلے میدان، اس میں چرتے ہوئے جانور، تازہ آب و ہوا، میٹھے پانی کے چشمے، صحت بخش فضا، اور جولائی کے مہینے میں بھی برف دیکھنے کو ملیں گے۔

اس میں ہر سال جولائی کے مہینے میں میلہ لگتا ہے اس میں شرکت کرکے روایتی کھیلوں کے ساتھ ساتھ اپنی روح کو بھی تازہ کر سکتے ہیں۔
نوٹ: انتہائی دور افتادہ ہونے کی وجہ سے ہوٹل کا کوئی سسٹم علاقے میں موجود نہیں ہے۔ اس لیے اپنے ساتھ صرف ایک عدد ٹینڈ لانا نا بھولیے گا۔ باقی اشیائے خورد و نوش کے تمام سامان آسانی سے آپ کو کھوت بازار سے ملیں گے۔ جس جگہ دل کرے ٹینڈ لگائے اور نیچر کو انجائی کرے۔

chitraltimes khot village torkhow upper chitral 1

نوٹ: اگر کسی جگہ غلطی ملے تصحیح کا مکمل حق حاصل ہے۔ تنقید برائے تعمیر اور تصحیح کرنے والوں کی مہربانی ہوگی۔
شکریہ۔

chitraltimes khot village torkhow upper chitral 2

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89701

گلگت بلتستان میں منشیات کی وبا: مسائل اور حل – خاطرات :امیرجان حقانی

گلگت بلتستان میں منشیات کی وبا: مسائل اور حل – خاطرات :امیرجان حقانی

ہمارے دوست اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت کے پروفیسر برادر ضیاء اللہ شاہ نے راقم کو تجویز دی کی منشیات کی روک تھام اور یونیورسٹیوں میں منشیات کلچر پر ایک تحقیقاتی کالم لکھوں. یہ بات انہوں نے ایک کمنٹس کے جواب میں تحریر کی تھی. شاہ جی کی تجویز و مشورہ صائب اور بروقت ہے. تحقیقاتی کالم لکھنے کے لئے وقت اور ڈیٹا دونوں ضروری ہیں. اگر شاہ جی یا کوئی دوسرا فرد یا ادارہ درست معلومات مہیا کریں تو مفصل کالم لکھا جاسکتا ہے، تاہم سردست منشیات کی لعنت کو روکنے کے لیے چند تجاویز پیش خدمت ہیں جن کو اپنا کر کسی حد بہتری لائی جا سکتی ہے.

یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں منشیات کی وبا ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جس نے خاص طور پر نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے.ہر طرف منشیات کا دور دورہ ہے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی بیان کے مطابق، منشیات کی فراہمی کا سلسلہ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات تک پہنچ چکا ہے۔ اس خطرناک رجحان کو روکنے کے لیے حکومت، انتظامی ادارے، اساتذہ، اور دیگر متعلقہ فریقین کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے درج ذیل تجاویز پیش کی جا رہی ہیں:

1. سخت قوانین اور ان کا نفاذ
حکومت کو منشیات کی فروخت اور استعمال کے خلاف سخت قوانین بنانا اور ان کا مؤثر نفاذ کرنا ہوگا،. اگر قوانین موجود ہیں تو ان کا فوری اطلاق ضروری ہے۔ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کاروائی اور سزاؤں کا تعین کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک ایسی خطرناک لعنت ہے جو ہم سب کو برباد کرکے رکھ دے گی.

2. خصوصی فورسز کا قیام
منشیات کے خلاف لڑنے کے لیے خصوصی فورسز کا قیام ضروری ہے جو کہ منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کو توڑ سکیں اور نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھ سکیں۔گلگت بلتستان جیسے چھوٹے سے علاقے میں یہ کام آسانی سے کیا جاسکتا ہے.

3. آگاہی سیمینارز اور مہمیں
اساتذہ، طلبہ اور والدین کو منشیات کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے باقاعدہ سیمینارز اور مہمات چلائی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف لیکچرز، ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے۔ حکومتی ادارے اور این جی اوز اس مد میں تعلیمی اداروں کے ساتھ فوری طور پر کام شروع کرسکتے ہیں.

 4. کمیونٹی کا معاونتی سسٹم 
مقامی کمیونٹی کی مدد سے ایک سپورٹ سسٹم بنایا جائے جہاں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول کیا جائے۔ کھیل، ثقافتی پروگرامز اور دیگر صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ جب تک ہر یونین اور علاقے میں کمیونٹی کو فعال نہیں بنایا جائے گا، منشیات فروشوں کو شکست دینا ممکن نہیں. سماج کی بہتری میں کمیونٹی کا کردار سب سے حاوی ہوتا ہے.

 5. کونسلنگ اور نفسیاتی مدد
منشیات کے عادی افراد کے لیے کونسلنگ اور نفسیاتی مدد کی فراہمی کی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کو دوبارہ صحیح راستے پر لا سکیں۔ یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں۔ یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے.  بڑے شہروں میں کچھ اچھے سینٹر موجود ہیں. ان کو گلگت بلتستان میں لایا جاسکتا ہے.

 6. خفیہ اطلاعاتی نظام
منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کے لیے خفیہ اطلاعاتی نظام کو مضبوط کیا جائے۔ عوام کو بھی اس میں شامل کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر منشیات فروشوں کی اطلاع دے سکیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اتنے “خفیہ” کے لوگ موجود ہیں جو منشیات فروشوں کا پتہ نہیں لگا پا رہے ہیں. خفیہ والو! تمہیں تھوڑی سی شرم آنی چاہیے. کہیں تم خود اس کالے دھندے میں ملوث تو نہیں؟ اگر نہیں تو ہر سطح پر ان کالی بھیڑیوں کی کمر کیوں نہیں توڑ دیتے؟ پلیز جاگ جاؤ میرے “خفیہ” کے بھائیو.

 7. تعلیمی اداروں اور مساجد کا کردار
تعلیمی ادارے منشیات کے خلاف پالیسیز اپنائیں اور طلبہ و طالبات کی نگرانی کریں۔ غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوانوں کا وقت مثبت سرگرمیوں میں صرف ہو۔ اس حوالے سے تعلیمی اداروں کا کردار بھی زیرو فیصد ہی ہے. مساجد میں بھی اس حوالے سے تعلیمات اسلامی کو عام کرنا چاہیے. لگی بندھی تقاریر سے ایسے ہم سماجی موضوعات پر تقاریر اور خطبات دیے جانے چاہئیں. کاش علماء و خطباء حضرات بھی ایکٹیو ہوجائیں.!

 8. والدین اور سرپرستوں کی تربیت
والدین اور سرپرستوں کو اپنے بچوں کی نگرانی اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے بارے میں تربیت دی جائے۔ والدین کو آگاہ کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کے دوستوں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ اس کا ہمارے ہاں شدید فقدان ہے. تعلیمی ماہرین اس کا کوئی بہترین حل نکال لیں تو بہتر ہوگا.

 9. مقامی اور سوشل میڈیا کا کردار
میڈیا کو اس مسئلے پر روشنی ڈالنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ٹی وی، ریڈیو، اور اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے منشیات کے نقصانات اور اس کے تدارک کے بارے میں آگاہی پھیلائی جائے۔ سوشل میڈیا کے جملہ ٹولز بھی خوب استعمال کیے جاسکتے ہیں. غیر ضروری سیاسی و مذہبی اور علاقائی منافرت پر مبنی بحثوں کی بجائے منشیات کے خلاف جنگ جیسے ضروری موضوعات پر مکالمہ کا رواج ڈالنا بہت اہم ہے. مقامی میڈیا کے احباب اور سوشل میڈیا کے صارفین اور انفلوئنزر کو بھی میدان میں آنا چاہیے.

 

 10. بین الاقوامی اداروں سے تعاون لینا
حکومت، سماجی ادارے منشیات کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کا تعاون حاصل کرسکتے ہیں۔ دیگر ممالک کی تجربات اور وسائل سے فائدہ اٹھایا جائے اور مشترکہ کاروائیاں کی جائیں۔
تلک عشرۃ کاملۃ یعنی سردست یہ دس تجاویز کافی ہیں.

 

گلگت بلتستان میں منشیات کی وبا کو روکنے کے لیے حکومت، انتظامی ادارے، اساتذہ، والدین اور کمیونٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ مذکورہ بالا تجاویز پر عمل درآمد کرکے ہم نوجوان نسل کو اس خطرناک وبا سے بچا سکتے ہیں اور انہیں ایک محفوظ اور صحت مند مستقبل فراہم کر سکتے ہیں۔
احباب سے گزارش ہے کہ اس بحث کو طول دیں. اپنی تجاویز شئیر کریں. مکالمہ کا ماحول پیدا کریں. ہم اپنے حصے کا کام کریں. باقی اللہ مالک ہے. شاہ جی آپ کا بہت شکریہ، آپ نے ہمیں متوجہ کرکے اپنے مختصر خیالات شئیر کرنے کا موقع عنایت کیا.

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
89710

جسٹس حمودالرحمن اور انکی رپورٹ – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

جسٹس حمودالرحمن اور انکی رپورٹ – میری بات:روہیل اکبر

 

ایسا لگتا ہے کہ جیسے حکومت اور اس حکومت کے لانے والوں کے ذہنوں پر عمران خان سوار ہے کمرہ عدالت سے اسکی ایک تصویر باہر کیا نکلتی ہے پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے اور اگلے ہی دن اس رنگ کی شرٹس مارکیٹ میں نایاب ہو جاتی ہے عمران خان کی طرف سے حمودالرحمن کمیشن کے بارے میں اس سوشل میڈیا پر ایک ٹویٹ ہوتی ہے جو پاکستان میں بند ہے لیکن اسکے باوجود پورے ملک سمیت دنیا بھر میں تھرتھلی مچ جاتی ہے حالانکہ اس میں کوئی نئی بات نہیں وہی باتیں ہیں جسے میاں نواز شریف ٹیلی وژن پر بار بار دھراتے رہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی لیکن قیدی نمبر 804 نے وہی بات کہہ دی تو پوری حکومتی مشینری پریس کانفرنسز میں مصروف ہوگئی کہ عمران خان جیل میں مٹن کھاتا ے،ورزش کرتا ہے اور کئی کمروں پر مشتمل بلاک اسکے حوالے کیا ہوا ہے

 

پوچھنا صرف یہ ہے کہ کیا عمران خان خیبر پختون خواہ میں قید ہے جہاں اسکی حکومت ہے اور و ہ یہ ساری موجیں کررہا ہے بلکل نہیں وہ تو پنجاب کے ڈویژن راولپنڈی کے علاقے اڈیالہ میں سنٹرل جیل کے اندر قید ہے جہاں سابق وزیر اعظم میاں نواز شیرف کی بیٹی مریم نواز شریف صوبہ کی وزیر اعلی ہے اور مرکز میں میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف وزیراعظم ہیں اور اسکے باوجود وزراء کا رونا دھونا سمجھ سے باہر ہے کیاجیل حکام انکی مانتے نہیں یا پھر انکے اختیار میں نہیں خیر یہ باتیں تو چلتی رہیں گی اصل بات ہے حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کی جو سرکاری طور پر تو پبلک نہیں ہوسکی لیکن ویسے ہر جگہ موجود ہے انٹرنیٹ پر پوری کی پوری کہانی پڑھی جاسکتی ہے

 

یہ رپورٹ جس شخص نے تیار کی اسکا نام جسٹس(ر) حمودالرحمن تھا اور بہت کم لوگ ایسے ہیں جنکی حب الوطنی،خلوص،ایمانداری اور قابلیت پر ایک فیصد بھی شک کیا جاسکے ان میں حمود الرحمن سر فہرست ہیں جبکہ اس طرح کے لوگ اب بھی موجود ہیں جو پاکستان اور پاکستان کی عوام کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا یہ نظام انکو چلنے نہیں دیتاقیام پاکستان کے بعد جو پہلا تحقیقاتی کمیشن قائم ہوا وہ حمود الرحمن کمیشن تھا جس نے تقسیم بنگال کے اسباب،وجوہات اور حقائق تلاش کرنے تھے حمود الرحمن کمیشن ایک عدالتی تحقیقاتی کمیشن تھا جس نے 1947 سے 1971 تک مشرقی پاکستان میں پاکستان کی سیاسی،فوجی مداخلت کا جائزہ لیا کمیشن کو حکومت پاکستان نے چیف جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں 26 دسمبر 1971 کو قائم کیا تھا حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ ایک قیمتی دستاویز ہے جسے ایک واضح مقصد کے ساتھ تیار کیا گیا تھا کہ جنرل یحییٰ خان اور زیڈ اے بھٹو کی جانب سے کی گئی مختلف غلطیوں کوآئندہ نہ دہرایا جائے جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہوئی حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کی اصل میں 12 کاپیاں تھیں جنہیں زیڈ اے بھٹو کے حوالے کیا گیا تھا

 

اس رپورٹ کو بھٹو اور نہ ہی 1977 میں اقتدار سنبھالنے والی فوج نے عام کیا اس رپورٹ کو پوری ایمانداری اور خلوص نیت سے تیار کرنے والے حمود الرحمن ایک پاکستانی بنگالی ماہر قانون اور ماہر تعلیم تھے جنہوں نے 18 نومبر 1968 سے 31 اکتوبر 1975 تک پاکستان کے چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں حمود الرحمان نے کراچی یونیورسٹی کی فیکلٹی میں قانون کے پروفیسر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دیں اسکے ساتھ ساتھ وہ ملک بھر میں خواندگی کے فروغ کے لیے سرگرم رہے بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد حمود الرحمان کے خاندان نے پاکستان کی شہریت برقرار رکھی اور ان کا بیٹا اقبال حمیدالرحمن بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت میں مصروف ہے جو پہلے لاہور ہائیکورٹ بار کے سیکریٹری رہے پھر لاہور ہائیکورٹ کے جج بنے اسکے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنے پھر سپریم کورٹ کے جج بنے اور آجکل فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس ہیں انہوں نے 2007 میں صدر پرویز مشرف کی جانب سے نومبر 2007 میں ایمرجنسی نافذ کرنے والے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیاتھا جبکہ انکے والد جسٹس حمود الرحمن پاکستان کی عدلیہ میں ایک قابل احترام شخصیت رہے ان کی دیانتداری اور حب الوطنی کے لیے آج بھی مثالیں دی جاتی ہیں جبکہ ماہر قانون اور سیاسی درویش سید منظور علی گیلانی کا حمود الرحمان کے بارے میں یہی کہنا ہے کہ “ان کا کمیشن سب سے معزز کمیشن تھا ” حمود الرحمن 1 نومبر 1910 کو پٹنہ، بہار برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے بہار میں پیدا ہونے کے باوجودحمود الرحمان کا تعلق بنگالی مسلمان گھرانے سے تھا

 

حمود الرحمن کا خاندان تقسیم ہند سے پہلے ماہر قانون تھا ان کے بھائی مودود الرحمان بھی ایک بیرسٹر تھے جو کلکتہ ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر فائزرہے ان کے والد خان بہادر ڈاکٹر داؤد الرحمان غیر منقسم ہندوستان میں پہلے مسلمان سول سرجن تھے جنہوں نے رائل کالج لندن سے FRCS کیا وہ امیر کویت کے ذاتی سرجن بھی رہے ان کے سسرچوہدری اشرف علی خان بھی بیرسٹر تھے جو کلکتہ ہائی کورٹ میں پریکٹس کرنے والے ایک قابل وکیل تھے اشرف علی نے بعد میں 1930 میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لیا اور بنگال کی قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے جبکہ تقسیم ہند سے قبل بنگال کی قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے طور پر خدمات بھی سر انجام دیں حمود الرحمن کی تعلیم کلکتہ میں ہوئی اور کلکتہ یونیورسٹی کے سینٹ زیویئر کالج میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے گریجویشن کی اسکے بعد لندن یونیورسٹی میں حصول تعلیم کے لیے برطانیہ گئے جہاں انھوں نے ایل ایل بی کی ڈگری گرے ان لندن سے حاصل کی انہیں 1937 میں لندن میں بار میں بھی بلایا گیا حمود الرحمن نے 1938 میں کلکتہ ہائی کورٹ میں قانون کی پریکٹس شروع کی اور 1940 میں کلکتہ کارپوریشن کے قانونی کونسلر کے طور پر خدمات انجام دیں 1943 سے 1947 تک مشرقی بنگال کے جونیئر اسٹینڈنگ کونسل اور پاکستان کی آزادی کے بعد انہوں نے مشرقی پاکستان کا انتخاب کیا اور 1948 میں ڈھاکہ میں سکونت اختیار کی وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پہلے قانونی مشیربھی رہے انہوں نے ہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تمام قوانین اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے قوانین کا مسودہ تیار کیا 1953 میں انہیں مشرقی پاکستان کا ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا 1954 تک اس عہدے پر فائز رہے

 

جسٹس حمود الرحمن نے 1954 سے 1960 تک ڈھاکہ ہائی کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں اسکے بعدانہیں صدر پاکستان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کا سینئر جسٹس مقرر کردیا حمود الرحمن نے11 مئی 1958 سے 14 دسمبر 1960 تک ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دیں جبکہ کراچی یونیورسٹی میں قانون کے وزیٹنگ پروفیسر بھی رہے سپریم کورٹ میں سینئر جسٹس کے طور پر اپنے کیریئر کے دوران حمود الرحمن مختلف باوقار عہدوں پر فائز رہے اور ملک بھر میں خواندگی کو فروغ دینے میں مصروف رہے 1959 سے 1960 تک وہ بین الاقوامی عدالت برائے ثالثی کے رکن رہے جو ہیگ نیدرلینڈز میں مقیم ہے 1964 میں حمود الرحمن نے وزارت تعلیم (MoEd) کی درخواست پر “کمیشن آن اسٹوڈنٹس پرابلمس اینڈ ویلفیئر” کی سربراہی کی جس کے چیئرمین کے طور پر انہوں نے رپورٹ کی تصنیف کی اور کیس اسٹڈی کی سفارشات 1966 میں حکومت پاکستان کو پیش کیں 1967 میں وہ “قانونی اصلاحات کمیشن” کے رکن تھے جس نے وزارت قانون (ایم او ایل) کی جانب سے پاکستان میں زمینی اصلاحات پر مختلف کیس اسٹڈیز کیں جسکی رپورٹ 1970 میں صدر پاکستان کو پیش کی گئی تھی 1968 میں سینئر جسٹس حمود الرحمان کو سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلیس نے چیف جسٹس نامزد کیا تھا ان کی بطور چیف جسٹس تقرری صدر ایوب خان نے منظور کی تھی چیف جسٹس جسٹس حمود الرحمان 1975 میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ریٹائر ہوئے

 

انکی رپورٹ میں پی اے ایف کے ایئر مارشل انعام الحق (پاکستان ایئر فورس کی ایسٹرن ایئر کمانڈ کے اے او سی)، وائس ایڈمرل محمد شریف (مشرقی بحریہ کے فلیٹ کمانڈر) سمیت اعلیٰ فوجی افسران لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان (پاکستان آرمی کی ایسٹرن آرمی کمانڈ کے جی او سی) اور سابق جرنیل امیر خان نیازی اور راؤ فرمان علی کے خلاف کورٹ مارشل اور فوجی ٹرائل کی سفارش کی گئی ہے تھی کمیشن کی جانب سے فیلڈ کورٹ مارشل کی سفارش کرنے کے باوجوداس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو یا اس کے بعد آنے والی حکومتوں کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی اس رپورٹ میں تقریباً 300 افراد کے انٹرویوز کیے گئے اور پھر حتمی جامع رپورٹ 23 اکتوبر 1974 کو چیف جسٹس حمود الرحمن نے وزیراعظم سیکرٹریٹ کو پیش کی جب یہ رپورٹ اس وقت کے وزیراعظم بھٹو کو پیش کی گئی تو وزیراعظم نے چیئرمین و انکوائری کمیشن چیف جسٹس حمود الرحمان کو خط لکھا کہ کمیشن نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے کمیشن کو فوجی “شکست کے پہلو” پر غور کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا سیاسی ناکامی کے پہلو پر نہیں جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے کمیشن کی اشاعتوں کی درجہ بندی کی اور اس کی رپورٹ کو “ٹاپ سیکرٹ” لکھ کر کھوہ کھاتے میں ڈال دیا۔جب تک اس رپورٹ کو سرکاری طور پر عوام کے لیے کھولا نہیں جاتا تب تک یہ ایک سیاسی ایشو بنتا رہے گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامین
89628

کیا صحافت ڈگری کی محتاج ہے؟ – خاطرات:امیرجان حقانی

کیا صحافت ڈگری کی محتاج ہے؟ – خاطرات:امیرجان حقانی

 

 

گلگت بلتستان میں صحافیوں کے حوالے سے دو باتیں زور و شور سے کہی جاتیں ہیں. ایک یہ کہ یہاں کے صحافیوں کے پاس صحافت کی ڈگری نہیں. دوسری بات اکثر صحافی مختلف اداروں اور شخصیات کے ترجمان ہیں اور پیڈ ہیں. دونوں باتوں میں بڑا وزن ہے اور کسی حد تک حقیقت بھی یہی ہے. ہم آج پہلی بات کو ڈسکس کریں گے کہ:

کیا واقعی صحافت کے لیے صحافتی ڈگری ہونا ضروری ہے؟

 

صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جو تجسس، تحقیقی صلاحیت، اور حقائق کی کھوج پر مبنی ہے۔ اس میدان میں کامیابی کے لیے محض کتابی علم یا ڈگری کافی نہیں ہوتی، بلکہ عملی تجربہ، مشاہدہ اور لکھنے کی صلاحیت اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسے بہت سے معروف صحافی ہیں جنہوں نے بغیر کسی رسمی صحافتی ڈگری کے اپنی پہچان بنائی اور صحافت کی دنیا میں قابل قدر مقام حاصل کیا۔

 

باکمال صحافی جن کے پاس صحافتی ڈگری نہیں تھی، ان میں ابوالکلام آزاد، شورش کاشمیری، ظفرعلی خان، عبدالمجید سالک، غلام رسول مہر، ارشاد احمد حقانی اور الطاف حسن قریشی جیسے سینکڑوں نام نمایاں ہیں.

 

عارف نظامی: پاکستان کے مشہور صحافی اور نواے وقت گروپ کے بانی مجید نظامی کے بیٹے، جنہوں نے بغیر کسی رسمی صحافتی تعلیم کے نواے وقت میں اپنی خدمات انجام دیں اور پاکستانی صحافت میں اہم کردار ادا کیا۔

 

طلعت حسین: پاکستانی صحافی اور ٹی وی اینکر، جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے صحافت کے میدان میں اعلیٰ مقام حاصل کیا، حالانکہ ان کے پاس صحافت کی رسمی ڈگری نہیں ہے۔

 

مجید نظامی: نواے وقت گروپ کے بانی اور معروف صحافی، جنہوں نے بغیر کسی رسمی صحافتی ڈگری کے پاکستانی صحافت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ایسے بہت سے اور نام ہیں جن کے پاس باقاعدہ صحافتی ڈگری نہیں مگر صحافتی دنیا کے چمکتے ستارے ہیں.

 

ڈگری کے بغیر کامیاب صحافی کیسے؟

 

صحافت میں کامیابی کے لیے صرف کتابی علم کافی نہیں ہوتا۔ عملی تجربہ، مشاہدہ، اور لکھنے کی قدرتی صلاحیت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ لوگ جو خود کو مسلسل بہتر بناتے رہتے ہیں، میدان میں کام کرتے ہوئے نئے تجربات سیکھتے ہیں اور اپنی رپورٹنگ میں تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں، وہ بغیر ڈگری کے بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر باقاعدہ ڈگری کیساتھ یہ سب کچھ ہو تو نور علی نور ہے.

 

دوسری جانب بہت سے افراد ہیں جو اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں رکھتے ہیں لیکن عملی میدان میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحافت میں صرف نظریاتی علم کافی نہیں ہوتا بلکہ عملی تجربہ اور میدان میں کام کرنے کی صلاحیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔

 

صحافت کے میدان میں ڈگری ضروری نہیں ہے، بلکہ صحافی کے اندر سچائی کی تلاش، مشاہدے کی طاقت، لکھنے کی مہارت اور رپورٹنگ کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو کسی ڈگری سے نہیں، بلکہ عملی تجربے اور لگن سے آتی ہیں۔

 

گلگت بلتستان کے دسیوں ایسے عامل صحافیوں کو جانتا ہوں جن کے پاس صحافت تو کیا پراپر کسی مضمون میں ایم اے یا گریجویشن بھی نہیں،مگر عملی صحافت میں اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں. فیلڈ رپورٹنگ سے لے کر نیوز ڈیسک اور ایڈیٹنگ و قلم کاری تک کرتے ہیں. اور ایسے کئی احباب کو بھی جانتا جن کے پاس صحافت کی ڈگری موجود ہے جو باقاعدہ بڑی یونیورسٹیوں سے لی ہوتی ہے مگر صحافت کے کسی بھی صنف میں ان کا کنٹریبیوشن نہ ہونے کے برابر ہے.

 

لہٰذا، اگر آپ صحافت میں قدم رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی مہارتوں پر توجہ دیں، عملی تجربات حاصل کریں، اور مسلسل خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں، جملہ جدید سکلز سیکھیں اور بے تحاشا مطالعہ کریں. صحافت کا میدان آپ کے لیے کھلا ہے، چاہے آپ کے پاس ڈگری ہو یا نہ ہو۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
89626

چترال کے منتخب مقامات کی لوک تاریخ (13قسط) – پروفیسر اسرار الدین

Posted on

چترال کے منتخب مقامات کی لوک تاریخ (13قسط) – پروفیسر اسرار الدین

حصہ دوم: ضلع لور چترال(چترال پائین)

الف:تحصیل چترال

1۔برے نس: یہ گاؤں ضلع اپر چترال اور لور چترال کے درمیان حدبندی ہے۔یہاں سے لورچترال کا ضلع شروع ہوجاتا ہے۔دریائے مستوج (چترال) کے ساتھ جنوب کی طرف کاری گاؤں تک کا علاقہ کوہ بھی کہلاتا ہے۔یاد رہے کہ علاقہ چترال میں تورکھو اور موڑکھوکے علاوہ مختلف وادیوں اورنالوں کے ساتھ کوہ لفظ کالاحقہ لگاہوا ہے۔مثلاًلٹکوہ،جنجرت کوہ،شیشی کوہ وغیرہ۔یہ سب لور چترال میں واقع ہیں۔اپرچترال میں صرف لون کوہ نالہ جس کے ساتھ کوہ کالفظ ہے اس سے مشتشنی ہے۔

کوہ اگرچہ فارسی لفظ ہے اور اسکے معنی پہاڑ کے ہیں۔لیکن کھوارزبان میں زیرین وادی اور زیرین علاقے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اس کا ضد لفظ سرحد ہے جونسبتاً ٹھنڈعلاقے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔لیکن راقم کے ذہن میں لفظ کوہ اور کھو کے حوالوں سے کچھ اشکال ہیں جوماہرین کے غور کے لئے پیش خدمت ہیں۔یونانی وقت کے تاریخوں میں چترال دریا تاجلال آباد کھوسپس دریا کے نام سے موسوم ہے۔جس کا مطلب ظاہرہے۔کہ
اس لفظ کاتعلق کھوسے ہے اس سے آگے جہاں کابل کا علاقہ آجاتا ہے۔یونانی تاریخ میں کوپھن(Cophen)کہلاتا ہے چینیوں نے اسے چیپھن لکھا)سوال یہ ہے کہ کیا لفظ کوہ(یعنی زیرین علاقہ) کا کوپھن والے لفظ سےکوی تعلق ہے کہ نہیں۔

پروفیسر ممتاز حسین ”کھو“کے بارے میں لکھتے ہیں۔کہ یہ دراصل کلاشہ زبان سے ماخوذ لفظ ہے۔اصلیت میں یہ ”کوئی“ہے۔جیسا کہ کلاشہ میں جنجرت ”کوئی“۔کھوار میں آکر یہ لفظ تبدیل ہوا۔اور ”کھو“بنا۔دوسرا امکان وہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ فارسی لفظ کوہستان سے لیا گیا ہوا لفظ ہے بدخشان کے لوگوں نے شاید اس علاقے کوکوہستان کہاہو جو بعد میں کھوستان بن گیا ہو۔ان کا تیسرا ممکنہ قیاس یہ ہے کہ پرانی فارسی کتابوں میں تورکھو اور موڑکھو کوتوری کوپ موڑی کوپ نامون سے تذکرہ کیاگیا ہے اسلئے ممکن ہے کہ کھودراصل کوب ہوگا۔

راقم اگرچہ ان امور کے رموز کے سلسلے میں حتمی طورپر کچھ کہنے کا اپنے کواہل نہیں سمجھتا لیکن مستندتاریخی حوالوں کے مطابق میں جوکچھ لکھتارہاہوں وہ یہ ہے کہ اس علاقے کانام یونانیوں نے جونام لکھے ہیں اس میں کھولفظ خاص طورپرعیاں ہے۔مثلاً یونانیوں کے دئیے ہوئے نقشے میں دریائے چترال کانام کھواسپس ہے۔بطلیموس(Ptolemy)دریاے سوات (جسکانام سواستوتھا)کودریاے کھواس کامعاون بتایا ہے۔میگستنھیز نے بھی دریاے سوات کو دریاے کوپھن(کوپھس)یعنی دریاے کابل کا معاون ظاہر کیا ہے۔ڈاکٹرسٹائین نے ان وادیوں میں سکندراعظم کے ہندوستان کے لئے گذرگاہ پربھی بحث کی ہے اور کہتے ہیں۔”یہ پائین کنڑوادی ہے۔جہاں سکندر اعظم کے فوجیوں نے دریاے کھوس(Khoes)کے کنارے مختلف قبیلوں جن کوایسپاسیان کہتے تھے۔کے خلاف مہم جوئی کاآغاز کیا تھا۔“کھولفظ کے بارے ایک دلچسپ با ت میں نے یہ نوٹ کی کہ کئی زبانوں میں یہ لفظ موجود ہے۔جن کے مختلف معانی دئیے گئے ہیں۔چینی زبان میں تعریف کردہ(Praised)اورمطیع(Submi tted)معنی دئیے ہوئے ہیں۔

چین کے مشہورسات صدی کے سیاح ہیون سانگ کے حوالے سےKho-to-loنام کے ایک ملک کا ذکر آیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ جسکی لمبائی مشرق سے مغرب تک 1000li(liتقریبا1/3انگلش میل کے برابر)اوراتنی ہی لمبائی شمالاًجنوباًہے۔اس کے مشرق میں سن لنگ(T’sung-ling)یعنی پامیر کے پہاڑ ہیں۔یہ Kio-mi-toملک تک پھیلا ہوا ہے۔اسی تذکرے میں ایک ملک واکش(WAKSH)(راقم کے مطابق غالباًواخان)کاحوالہ ہے جو بتاتے ہیں شرقاًغرباً500لی ہے۔اس کے مشرق کی طرف جاتے ہوئےKho-to-loپہنچاجاتا ہے۔واکش شومانShumanاور خولان(Kholan)کے شمال میں ہے۔Kho-to-loلفظ میں to-loکے حوالے یہ ذکرکرنامناسب لگتا ہے کہTati-lo,To-liاورTo-liالفاظ بھی ہیون سانگ نے استعمال کئے ہیں۔جوسٹائین کے مطابق داریل کاعلاقہ ہے۔راقم ان حقایق کا حوالہ بلا تبصرہ پیش کرتا ہے۔بطورناظرین کےfood forlhoughtکے لئے۔
راقم کے خیال میں کلاشہ لفظ”کوئی“دراصل”کھو“کی بگڑی شکل ہے۔”کھو“کوئی“کی بگڑی شکل نہیں ہے۔کیونکہ کلاشہ ان علاقوں میں گیارھویں صدی کے بعد آئے۔جبکہ اس وقت سے پہلے یہاں کانام”کھو“پڑچکاتھا۔

جہاں تک”کھوہستان“(یعنی کوہستان یا پہاڑوں کاعلاقہ)والے نام کاتعلق ہے۔ابھی تک یہ نام کوہستان سوات کوہستان،دیرکوہستان اورہزارہ کوہستان میں رائج ہے۔سوال یہ ہے کہ ان علاقوں کو کس نے کھوستان کیوں نہ کہا۔میرا مطلب یہ ہے۔کھولفظ کاکوہستان سے کوئی تعلق نہیں بلکہ کھوایک مخصوص نام ہے جو اس علاقے (یالوگوں سے)منسوب رہا ہے۔اس کا ماخذ کیا ہے۔یہ الگ سوال ہے؟بلکہ چترال کے لئے کھوھستان کا لفظ کے بجائے کھوستان استعمال کریں توزیادہ مناسب رہے گا۔کوب کالفظ اگرفارسی دانوں نے سکندر یونانی کے جغرافیہ دانوں کے تذکروں کے بعد یاچینی سیاحوں کے بیانات کے بعد استعمال کیا ہے تو یہ کھو کالفظ کابگاڑ ہے۔اگرپہلے کا ہے پھراسکی گنجایش بن سکتی ہے۔

برے نس ایک بڑاقصبہ ہے اور قدیم زمانے سے آباد ہے۔پروفیسر ممتاز حسین اس کی وجہ تسمیہ کے بارے لکھتے ہیں کہ یہ کھوار لفظ باریسون سے نکلاہے جسکا مطلب ہے بوجھ اُٹھانے کی جگہ۔وہ بتاتے ہیں کہ پُرانے زمانے میں لوگ جنگل سے ایندھن کاٹ کے اترائی پر گھسیٹ کے لاتے تھے اور اس جگے پرجمع کرتے تھے اوریہاں گدھوں پریااپنی پیٹھوں پراٹھاکے گھروں کے لے جاتے تھے۔اسلئے اس جگے کانام بریسوں پڑگیا۔جسے بعد میں بگاڑ کے برے نس بنادیا گیا۔برے نس میں کئی چھوٹے دیہات ہیں۔ جن میں موڑین،موڑین دہ،اترش،بیگانان دہ،توردہ،لشٹ،جوگومی اورشاچار شامل ہیں۔برے نس کے بارے بعض تاریخی اورآثاراتی کوائف دلچسپ ہیں۔سرآرل سٹائین برے نس کے سامنے دریا کے پارپختوری دینی بوخت(پتھر)پرکندہ شدہ کتبے(Rock carving)کاتفصیل سے ذکر کرتے ہیں جس کاخلاصہ یہ ہے:”پریت گاؤں سے تین میل کے فاصلے پر(شمال کی طرف)دریاکے دائیں طرف جام شیلی کے بالمقابل ایک جگہ ہے جس کا نام پختوری دینی ہے۔یہ ایک بڑا پتھر ہے جوسڑک سے ذرا پرے واقع ہے۔اس پربراہمی سکرپٹ میں حروف درج ہیں۔اس میں ایک سٹوپہ(Stupa) کی شکل بھی ہے۔جومیں نے کاشغر اور ختن میں دیکھے تھے“۔

سٹائین ایک دوسرے سکالر ایم۔فاوچر(M.Foucher)کے حوالے سے لکھتے ہیں۔”پختوری دینے کے یہ نقوش ہندوکش کے شمال میں جگہ جگہ موجود نقوش سے بہت زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔اورہیوں سانگ(چینی سیاح)نے بلخ میں اس قسم کے سٹوپہ کا ذکر کیا ہے اور بتاتے ہیں کہ اس سٹوپہ کے ماڈل (نمونہ) کی نشاندہی گوتم بدھ نے خود کی تھی۔“سٹائین مزیدلکھتے ہیں کہ پختوری دینی کی یہ راک کارونگ(کتبہ) اور چرن پتھر کے نقوش یہ بتاتے ہیں کہ ہندوکش کے پرے علاقوں اورخاص طور بختر(Bactria)کی۔چترال کی سیاسی تاریخ پرکیااثرات رہے ہیں۔کندہ شدہ الفاظ کے بارے جوسنسکرت میں ہیں۔سٹائین بتاتے ہیں۔اسکے الفاظ یہ ہیں۔دیوادھرمویام راجہ جیواروامانا(mdevadharma’yam Rajajivermanah)۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جیوارمان کی طرف سے دیوتاؤں کی بارگاہ میں ھدیہ“۔سٹائین یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ کتبے بدھ مت کے دور میں جوپرانے زمانے میں ان دوردورعلاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔اس وقت کے بادشاہوں نے جگہ جگہ اس قسم کے کتبے بنوائے تھے۔چرن کے پتھر کاکتبہ بھی معمولی فرق کے ساتھ اس کتبے کے بنانے والے نے بنایا تھا۔

سٹائین یہاں ایک غلط فہمی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کس طرح جان بڈلف نے کسی دوسرے کے کہنے پراپنی کتا ب ہندوکش کے قبائل میں ”جے ورمن“ کی جگہ”جے پال“ ذکر کیا تھا۔جس کی وجہ سے بعض مورخین نے غلطی سے جے ورمن کوجے پال ہندوبادشاہ سے ملادیا تھا اور اس علاقے میں ہندؤں کاتسلط ظاہرکیا ہے۔مندرجہ بالا کتنے(Rock carving) کے علاوہ برے نس میں نوغوران گری میں پُرانے قلعے کے کھنڈرات موجود ہیں اور دول دینی ٹک بھی پُرانے زمانے کی یادگار بتائی جاتی ہے جہاں جنگ کے موقع پر جنگ کے اطلاع کے لئے ڈھول بجایا جاتا تھا۔کلیران دہ ایک اور مقام ہے جوکہ قدیم زمانے میں میدان جنگ ہوتا تھا کہتے ہیں یہ جنگیں عموماًشمال میں کھوقبیلے اور کوہ کے لوگوں کے درمیان ہوتی تھی یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ کلاش قبیلے کی حکومتیں برے نس تک پھیلی ہوئی تھی،اس ے اوپر اگرچہ کلاش لوگوں کی جگ جگہ آبادیاں رہی ہیں لیکن ان کی حکومت کی حدبندی عام طورپریہاں تک بتائی جاتی ہے۔یہاں کے مشہور قبیلوں میں خسراوے،سروالے،واکیلے،زوندرے،اخوانزادہ خیل اور عثمانے ہیں۔یہاں کاسب سے قدیم قبیلہ سروالے ہے ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا جدامجد جسکا نام نجیب سرور تھا۔کابل سے رئیس دور میں یہاں آئے۔اخونزادہ کے مطابق یہ لوگ پنج شیر،ایران کے مختلف علاقوں،چارسدہ،سندھ اور گلگت میں بھی آباد ہیں اور صاحب منزلت ہونے کے ساتھ جائیدادوں کے مالک ہیں“۔

روایات کے مطابق نجیب سرور کی یہ اولاد جو سروالے کہلاتی ہے کابل سے آکے اس گاؤں کے ایک حصے کوپہلی دفعہ آبادکیا تھا۔اس کے دوبیٹے تھے۔محمد فرید الدین اور محمد خیرالدین۔ان کی اولاد 16پشتوں سے یہاں آباد ہے۔بتایا جاتا ہے کہ رئیس دور میں یہ خاندان کافی رسوخ کے مالک رہے۔بعدمیں کٹور دور میں اگرچہ ان پرنشیب وفراز آئے پھر عام طورپر ان کی پوزیشن برقراررہی۔شکورشاہ اس قوم میں اہم شخصیت گذرے ہیں ۔

ان کے بعد وکیلے قبیلہ نرسات(افغانستان) سے آکے یہاں کے ایک حصے میں آباد ہوا۔ان کے بعد خسراوے آئے۔بتایا جاتا ہے کہ اس قبیلے کاجدامجد جسکانام خسرو تھا۔باباایوب کے ساتھ خراسان سے چترال آئے تھے۔پھر اس نے یہاں برے نس کے ایک حصے کو جوغیرآباد تھا آباد کرکے رہنے لگے۔خسرو کے پانچ بیٹے تھے۔قزاق،بیگان،فولاد بیگ،بدور اور نظار۔ان کی اولاد اب دس بارہ پشت پرمبنی ہے۔اس قبیلے کی اصلیت کے بارے میں اخونزادہ نے یہ روایت بیان کی ہے کہ اس قوم کے اجداد ایران کے روساء تھے۔وازرتوں اور سفارتوں پرفائز تھے۔بارہیویں صدی میں جب شاہ ایران نے شعائیراسلام کی بےحرمتی شروع کی تواس قوم کے بزرگوں نے بادشاہ کی شدید مخالفت کی اور شاہ کے خلاف اعلان جہاد کیا۔نتیجہتاًشاہ ایران نے اس قوم کے بزرگوں کوان کے عہدوں سے معزول کیا اور قیدوبند کی اذیتیں دی۔ان حالات میں خسروخیل قوم کے بزرگوں نے ایران سے ہجرت کرکے بعض نے افغانستان کو اپنامسکن بنایا اور بعض چترال آکر سکونت پذیر ہوئے۔

خسروخیل قوم کے جن بزرگوں نے افغانستان میں سکونت اختیار کی ان میں احمد شاہ مسعودکانام قابل ذکرہے۔خسروخیل قوم نے عہد کٹور یہ میں بھی اپنی انفرادیت اور امتیازی شان کوبرقرار رکھا۔اس قوم کے افراد عہد کٹور میں بلند مناصب مثلاً حاکم کوہ،حاکم ارندوودیگر سفارتی عہدوں پرفائز رہے۔
اس قوم کی ایک شخصیت خداداد خان بن عصر احمد خان کو سرشجاع الملک مرحوم کی رضاعت وتربیت کی زمہ داری سونپی گئ تھی ۔جوانہوں نے بہترین اندازمیں سرانجام دیا۔ اور اہم مقام پایا۔ ان کے بعد ان کی اولاد میں سے کئی اہم عہدوں پرتعین رہے۔
دیگر قبیلے داشیگے ورشگوم سے قریباً دس پشت پہلے، اخونزادہ خیل اویرسے10پشت پہلے،افغانے افغانستان سے 5پشت پہلے،عثمانے پریت سے10پشت پہلے اور زوندرے مستوج سے6پشت پہلے یہاں آکر بس گئے ہیں۔

(2) کوغوزی: یہ دریاے چترال کے بائین کنارے پرقدیمی دیہات میں سے ایک اہم گاؤں ہے۔کوغوزی کوہ اور غوزی کامرکب ہے۔جسطرح سرغوز کے حوالے سے عرض کی گئی تھی۔غوز یاغوزی فارسی زبان میں کوزپشت یامنخی پشت یاکھبڑے کوکہتے ہیں۔سرغوز کی طرح کوغوزی کے قریب بھی دریا کی وادی مخنی شکل اختیار کرتی ہے۔غالباًًاسی وجہ سے فارسی والوں نے اس کانام غوزی رکھا ہوگا۔لیکن چونکہ دریاپار بلندی پہاڑ کے ساتھ برغوزی آباد ہے۔اسی لئے اس کانام برغوزی (یعنی اپرغوزی)پڑگیاہوگا۔اسی مناسبت اس گاؤں کانام کوغوذی (یعنی زیرین غوزی)رکھا گیاہوگا۔یہ تینوں نام کی ایک بڑی اچھی ترتیب بنتی ہے۔یعنی سرغوزیعنی سب پہلے آنے والی غوز،برغوز(یعنی بالاغوز)اورکوغوز۔

یاد رہے چترال میں فارسی سے متعلق جگہوں کے کئی نام موجود ہیں۔مثال کے طورپر کوغوذی کے نزدیک راغ ایک گاوں ہے۔جوفارسی نام ہے۔جسکا مطلب سبزہ زار بتایاجاتا ہے۔یہ بتایا جاتا ہے ہے کہ بدخشان میں بھی اسی نام کے دیہات موجود ہیں۔اس سے غوز کے بارے راقم کی قیاس آرائی کچھ بعید نہیں معلوم ہوتی ہے۔کوغوزی میں پانچ قبائل یعنی شیغنئے،دانشمندخیل،سروکیلے،کٹورے اورکلاشے آباد ہیں۔
برغوزی میں داشمنے خوشے اور شیغنے اصل قبیلے ہیں۔کلاشے کوغوزی کے قدیم قبیلے ہیں۔یہ کلاش دور سے یہاں آباد ہیں۔اندازہ لگایا جاتاہے۔کہ اس گاؤں کوسب سے پہلے انہوں نے آباد کیا ہوگا۔روایات کے مطابق یہ تمام علاقے کافی اوپرتک کے دیہات تک کلاش لوگوں سے آبادتھے۔مرکیلے قبیلہ کلاش کے بعد آ ئے اور یہاں کے کچھ حصوں کوآباد کرکے وہاں سکونت اختیار کی۔شغنیے تقریباًچھ سات سوپہلے بدخشان سے منتقل ہوکے چترال آئے تھے۔یہ یہاں کا نہایت اہم قبیلہ ہے۔

یہ اُن قبیلوں میں سے ہے جو رئیس دور میں وسطی ایشیاء کے مختلف علاقوں سے چترال میں آکر آباد ہوئے۔مختلف زمانوں میں گردونواح کے علاقوں سے چترال منتقل ہونے والوں قبیلوں کومختلف گروہ میں تقسیم کرتے ہیں۔ایک گروہ وہ ہے۔جواپنے اصلی علاقوں میں رسوخ والے لوگ تھے لیکن مرور زمانے کے انقلابات کی وجہ سے ان کو وہاں سے چترال میں منتقل ہونا پڑا۔یہاں کے حکمرانوں نے ان کی سابقہ حیثیت کے پیش نظر ان کی پذیرائی کی۔اور وہ یہاں بھی بدستور اہم حیثیت کے مالک رہے۔دوسرا گروہ وہ ہیں جوان بااثر لوگوں کی معیت میں آئے تھے۔وہ ان کے ساتھ ملحق رہے۔اور پشتوں تک ان کے ساتھ تعلق نبھاتے رہے۔تیسرا گروہ وہ ہیں جو اپنے اصلی ٹھکانوں سے ذاتی حالات کی وجہ سے پناہ گزین ہوکے چترال آئے۔یہ لوگ یہاں آکر یاتوکسی رئیس کے ساتھ اپنے کونتھی کردیا اور پشتوں تک ان کے زیرسایہ رہے یا کسی طرح براہ راست حکمرانوں کی ملازمت میں آئے پھر یااپنی قابلیت کی وجہ سے اہم مقامات کے مالک رہے یامعمولی حیثیت سے شاہی ملازمتوں سے متعلق رہے۔شغنیے قوم کا بھی روایات کی مطابق اصلی وطن شغنان(بدخشان) تھا۔یہ رئیس دور میں اپنے قدیمی علاقے سیاسی افراتفری کی وجہ سے پناہ حاصل کرنے کے لئے چترال آئے اور یہیں کے ہورہے۔رئیس بادشاہ نے ان کے اہم پس منظر کے پیش نظر ان کو اہم حیثیت دی۔بعد میں کٹور حکمرانوں کے دور میں بھی یہ اہم پوزیشن کے مالک رہے۔اور ریاست میں ان میں کئی حضرات اہم عہدوں پرفایز ہوتے رہے ہیں۔اور حال کے زمانوں میں اس قبیلے کاایک قابل فرزند حکومت پاکستان کے سول سروس میں منتخب ہوکر اعلےٰ ملازمت میں شامل رہے۔اس خاندان میں چترال ایک حکمران سیف الرحمان کی رضاعت بھی ہوی تھی۔
یہ قبیلہ روایات کے مطابق چھ سوسال پہلے چترال میں وارد ہواتھا۔

اس گاؤں میں کٹورے اور داشمنے قبیلے کے لوگ بھی آباد ہیں جوگذشتہ دوسوسالوں کے دوران چترال کے دوسرے حصوں سے یہاں آکرآباد ہوئے ہیں۔ داشمنے قبیلے سے تعلق رکھنے والے استاد عبد المنان مرحوم بھی قابل ذکر شخصیت گذرے ہیں۔ جو چترال کے ہای سکول کے اولیں اساتذہ کرام میں سے رہے ہیں جنہوں نے اس سکول کو مظبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔کوغوزی کے گردونواح کے بعض دیہات مثلاً برغوزی میں داشمنے،خوشے اور شیغنے آباد ہیں۔توری اور موڑی موری میں کٹورے،سنگالے،ژیگنے،داشمنے،سلطان خیل،ہھوکے،ماڑے،خوشال بیگے،نیازے،شاہ نوئے آباد ہیں۔

کوغوزی سے آگے راغ اور کاری (دریا کے بائیں طرف) اور پریت اور کوجو (دریا کے بائیں طرف) گاؤں ہیں۔اسکے بعد کاربیٹڑی کی تنگ گذرگاہ۔اسکے بعد دنین گاؤں آجاتاہے۔یہاں سے چترال ٹاون کاایریا شروع ہوجاتا ہے۔
(آئیندہ قسط میں چترال ٹاون پر بات کرینگے انشاء اللہ)

Posted in تازہ ترین, مضامین
89617

فری سٹائل پولو اور حکومتی رویہ – تحریر: محکم الدین ایونی

Posted on

فری سٹائل پولو اور حکومتی رویہ – تحریر: محکم الدین ایونی

بادشاہوں کا کھیل اور کھیلوں کے بادشاہ کے نام سے شہرت پانے والا چترال کا مقبول ترین کھیل پولو کو زندہ رکھنے کیلئے اس کے کھلاڑیوں کو کن مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ،اس کا اندازہ عام لوگ اور تماشائی نہیں کر سکتے، ” شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ” لیکن چترال کے پولو کھلاڑی اپنی شوق کی تکمیل سے زیادہ اس قدیم ثقافتی کھیل کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس کھیل کیلئے کھلاڑیوں کے ساتھ تعاون نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود چترال کی نوے فیصد سول پولو ٹیمیں لاکھوں روپے کی قیمت پر گھوڑے خریدتے ہیں، ان کی پرورش پر ذاتی مشقت کے علاوہ بھاری اخراجات پرداشت کرتے ہیں۔ اور لوگوں و سیاحوں کیلئے فری سٹائل پولو کی تفریح مہیا کرتے ہیں۔ جبکہ موجودہ وقت میں گھوڑا پال کر اس مہنگے ترین کھیل کو زندہ رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

 

چترال کاشندور پولو فیسٹول عالمی سطح پر مشہور ہے۔ جوہر سال حکومت کی سرپرستی میں کیلنڈر ایونٹ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ شندور پولو فیسٹول کیلئے کھلاڑیوں کی سلیکشن ڈسٹرکٹ کپ پولو ٹورنامنٹ میں کیا جاتا ہے۔ اسی ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کے حامل کھلاڑی اور گھوڑوں کو شندور کیلئے سیلکٹ کیا جاتا ہے۔ اور پانچ ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں۔ چترال پولو ایسوسی ایشن کو یہ اعزاز حاصل ہے۔ کہ انہوں نے گذشتہ دس سالوں کے دوران شندور پولو فیسٹول کیلئے بہترین سیلکشن کی۔ جس کے نتیجے میں چترال اور گلگت کی ٹیموں کے مابین شندور میں ہونے والے پولو کے مقابلوں میں چترال کو ہمیشہ کامیابی ملی۔خاص کر فائنل میچ میں کامیابی تو چترال کا حق بن چکا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے۔ کہ شندور میں یہ میچز جیتنے کیلئے کھلاڑیوں اور پولو ایسوسی ایشن کو جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اس کا کوئی ریوارڈ کھلاڑیوں کو نہیں مل رہا۔بلکہ کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والے پولو کے ان ہئروز کو ٹرخایا جاتا ہے۔ اور سیاحت کے فروغ کا فنڈ آفیسران وان کی فیملیز کی مہمان نوازی اور دیگر غیر ضروری مقاصد پر اڑایا جاتا ہے۔ اصل لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔ اور تو اور کھیل کے دوران زخمی ہونے والے کھلاڑیوں کے علاج معالجے کے اخراجات بھی نہیں اٹھائے جاتے۔جس کی واضح مثال گذشتہ سال شندور پولو سی ٹیم کے نوجوان کھلاڑی شکیل احمد عرف (ژانہ) ہے۔ جو شندور میں کھیل کے دوران شدید زخمی ہوا۔ اور بارہ دن تک کو ما کی حالت میں رہا۔ اس دوران خاندان پر جو حالت گزری، وہ ناقابل بیان ہے ، خاندان کے افراد لاکھوں روپے اس کے علاج پر خرچ کرکے ذہنی اور مالی طور پر متاثر ہوئے۔ لیکن اب تک اس زخمی کھلاڑی کے ساتھ کوئی امداد نہیں ہوئی۔ اس طرح بہت سے کھلاڑی شندور میں زخمی ہونے کے بعد ذاتی اخراجات سے اپنا علاج کراتے ہیں۔ مگر کلچر اینڈ ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی۔

چترال پولو ایسوسی ایشن کے صدر شہزادہ سکندالملک نے اپنے حالیہ میڈیا ٹاک میں اس امر کا اظہا ر کیا ہے۔ کہ ہم نے پہلے ہی کھلاڑیوں کے فیصلے سے حکومت کو آگاہ کیا ہے۔ کہ زخمی پولو کھلاڑی کے علاج کے اخراجات ادا کئے جائیں، ڈسٹرکٹ کپ پولو ٹورنامنٹ کے فورا بعد فی گھو ڑا پندرہ ہزار روپے الاونس ادا کئے جائیں۔ اور شندور کیلئے سیلکٹڈ کھلاڑیوں کو ملنے والی الاونس کو بڑھاکر فی کھلاڑی تین لاکھ روپے کئے جائیں۔ اسی طرح پولو کوچز، جیوری ممبران ٹیم منیجر و دیگر عملیکے الاوسز میں بھی اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ کہ ابھی تک ان کے مطالبات پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے۔ کہ ان کے مطالبات کو اہمیت نہیں دی جارہی۔ اس لئے وہ حکومت کے نوٹس میں یہ بات لانا چاہتے ہیں۔ کہ ان کے مطالبات کو اہمیت نہیں دی گئی۔ تو وہ شندور فیسٹول کا بائیکاٹ کریں گے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89609

امجد ندیم: امید کی کرن – خاطرات :امیرجان حقانی

امجد ندیم: امید کی کرن – خاطرات :امیرجان حقانی

خدمت خلق ایک ایسا عمل ہے جس کی جڑیں دل کی گہرائیوں میں پیوست ہوتی ہیں۔ یہ انسانیت کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے اور سماج میں محبت، ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔ جو لوگ خدمت خلق کے میدان میں قدم رکھتے ہیں، وہ دوسروں کی مشکلات کو اپنی مسرت میں بدلنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کی محنت، ایثار اور قربانی معاشرے کے پسے ہوئے طبقوں کے لیے ایک نیا اُجالا اور امید کی کرن ثابت ہوتی ہے۔ خدمت خلق کرنے والے افراد انسانیت کے حقیقی ہیرو ہیں، جو اپنی خودی کو بھلا کر دوسروں کی خدمت کو مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں۔ ان کی بے لوث محبت اور انتھک محنت معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے کا باعث بنتی ہیں اور انہیں ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتی ہیں۔

 

آج کی محفل میں ایسے ہی ایک شخص کی کہانی بیان کرنی ہے جس نے خدمت خلق کے ذریعے ہزاروں غریبوں، معذوروں اور کمزوروں کے دل جیتے ہیں. بلکہ مجھ جیسے ناقدین کو بھی اپنا گرویدہ بنایا ہے. اور اس نے خود بھی انتہائی کسمپرسی کے دن گزارے ہیں اور معذوری کی حالت میں معذوروں کا سہارا بنے ہیں.

 

میری ان سے صرف دو ملاقاتیں ہیں مگر میں ان کے کام کا کئی سالوں سے باریک بینی سے جائزہ لیتا آرہا ہوں.

آئیے! آج کالے کالے پہاڑوں، برف پوش چوٹیوں اور بہتے پانیوں کی سرزمین گلگت بلتستان کے ایک عظیم شخص امجد حسین عرف امجد ندیم کی داستان حیات سن لیں. شاید اس میں ہمارے لئے بہت کچھ کرنے کا راز پوشیدہ ہو.

 

امجد ندیم کا نام گلگت بلتستان کی سرزمین پر امید کی کرن کے طور پر جگمگاتا ہے۔ ان کا تعلق نپورہ گلگت سے ہے۔ وہ کبھی شاعری بھی کرتے اور شاعر کی حیثیت سے ندیم تخلص اختیار کیا، یوں امجد ندیم کے نام سے معروف ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پرائمری سکول نپورہ اور میٹرک سرسید احمد خان ہائی سکول گلگت المعروف ہائی سکول نمبر ایک سے حاصل کی۔ ان کے والد کا نام رجب علی تھا جو پی ڈبلیو ڈی میں ملازم تھے اور 9 جولائی 1997 کو دوران ڈیوٹی الیکٹرک شاک لگنے سے وفات پا گئے۔ تب امجد ندیم شاید آٹھویں کے طالب علم تھے. والد کی وفات کے بعد امجد ندیم اور اس کی فیملی کی مشکلات شروع ہوئیں. بطور بڑے بھائی امجد ندیم کے لیے یہ وقت انتہائی کٹھن تھا کیونکہ وہ ایک کم عمر طالب علم تھے اور نو چھوٹے بہن بھائیوں کے سربراہ بن گئے۔

 

دن گزرتے گئے اور امجد ندیم کی باہمت والدہ نے انہیں تعلیم کے لیے پشاور بھیجا، جہاں انہوں نے ایف ایس سی کی اور انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیا۔ امجد ندیم نے تعلیم کے ساتھ ساتھ کالج کے کینٹین میں ملازمت بھی کی۔ لیکن ابھی تعلیم مکمل ہونے میں کچھ ہی وقت باقی تھا کہ کسی دہشت گرد کی گولی کا نشانہ بنے اور ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے۔

 

یہ شاید 2007 کا سال تھا، معذوری کے بعد امجد ندیم گلگت واپس آئے اور پھر کمر کی تکلیف کی وجہ سے کراچی شفٹ ہوئے۔ وہاں انہوں نے ریڑھی لگا کر اپنے خاندان کی کفالت کی اور اپنے بہن بھائیوں کو بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی۔ انہی دنوں ہاشو گروپ میں بطور سب انجینئر ملازمت کی اور ساتھ شادی بھی کی، شادی کے بعد ان کی بیٹی کی پیدائش نے ان کی زندگی میں خوشیوں کی بہار بھر دی۔ بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہے اور اس کی پیدائش کے بعد امجد ندیم کے دن بدل گئے اور ان کی زندگی میں شاندار تبدیلی آئی، بیٹی کی عظمت، رحمت اور برکت کا امجد ندیم کو شاندار تجربہ ہوا۔

 

2013 میں امجد ندیم نے معذوروں کی بحالی اور رفاہ کے لیے عبدالستار ایدھی اور رمضان چھیپا کے ساتھ کام شروع کیا اور بھرپور محنت کی۔ 2017 میں کچھ دنوں کے لئے اپنے آبائی شہر گلگت واپس آئے، کچھ دن رہ کر واپس کراچی جانا تھا مگر انہی دنوں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے ساتھ ملاقات ہوئی اور حافظ حفیظ نے انہیں گلگت میں اپنا کام جاری رکھنے کی دعوت دی، یوں گلگت بلتستان میں ان کے تعاون سے معذوروں کی فلاح و بہبود کے کام شروع کیے۔ اور آگے بڑھتے گئے. وہ آج بھی حافظ حفیظ الرحمن کو اپنا محسن سمجھتے ہیں. بیٹی کی پیدائش اور حفیظ سے ملاقات، امجد ندیم کی زندگی کے ٹرننگ پوائنٹ تھے.

 

امجد ندیم نے گلگت بلتستان کے ہر ڈسٹرکٹ میں معذوروں کی تنظیمیں بنائیں اور انہیں ایک لڑی میں پرویا۔ ان کی کوششوں سے، حفیظ دور میں گلگت اسمبلی سے معذوروں کے لیے قانون سازی بھی ہوئی۔

 

2020 میں امجد ندیم فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی اور پورے گلگت بلتستان میں معذوروں اور یتیموں کی مدد کا سلسلہ شروع کیا۔ کرونا کے دنوں میں بہت سارے غریبوں اور مستحق لوگوں میں اشیائے خوردونوش تقسیم کیں۔ امجد ندیم فاؤنڈیشن کے ذریعے بہت سے پروجیکٹ متعارف کرائے گئے اور ایک انڈیپینڈنس لیونگ سینٹر قائم کیا گیا۔ اس سینٹر میں معذوروں اور خواتین کو کئی ہنر سکھائے جارہے ہیں۔ امجد ندیم کا یہ سینٹر اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن، ہینڈزپاکستان اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی معاونت اور اشتراک سے کام کرتا ہے. اس سینٹر میں300 سے زیادہ غریب بچوں کو کمپیوٹر سکلز، بیسک ایجوکیشن، فری لانسنگ، فیزیوتھراپی، سلائی کڑھائی اور دیگر ہنر سکھائے جارہے ہیں۔

 

امجد ندیم نے اپنی ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذریعے گلگت بلتستان کے علاقے تانگیر سے غذر تک لوگوں کی مدد کی، کاروبار کے لیے چھوٹے چھوٹے قرضے دیے اور ہزاروں بیساکھیاں اور ویل چیئرز تقسیم کیں۔ وہ نہ صرف معذوروں اور غریبوں کی رفاہ کے لیے کام کرتے ہیں بلکہ مسلکی ہم آہنگی اور سماجی رواداری کے فروغ کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ وہ اہل تشیع ہیں لیکن اہل سنت کے تبلیغی اجتماعات میں شرکت کرکے محبت اور اتحاد کا پیغام دیتے ہیں۔ چلاس تبلیغی اجتماع سے واپسی پر چکر کوٹ میں ایک جنازے پر ان سے ملاقات ہوئی تھی. ان کا یہ عمل نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے گلگت بلتستان میں مسلکی ہم آہنگی کے فروغ کا باعث بنا ہے، جب وہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لئے چلاس گئے تو انتظامیہ اور اہلیان چلاس نے انہیں بہت عزت دی اور ان کی کاوشوں کو دل سے سراہا۔چلاس کے سفر میں ان کے یار غار عبدالرحمن بخاری بھی تھے. امجد ندیم کی کامیابی میں محسن گلگت بلتستان جنرل ڈاکٹر احسان محمود کا بھی بڑا ہاتھ ہے.

 

امجد ندیم نے معذوری کو بہانہ بناکر کمزوری دکھانے کی بجائے معذوری کو ایک موقع کے طور پر لیا اور معذوروں کی بحالی کے لیے عظیم الشان کام شروع کیے۔ وہ کمزوروں، بیماروں، معذوروں اور بے ہمت لوگوں کے لیے امید کی کرن ہیں۔ ان کی داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مشکلات کے باوجود عزم و حوصلے سے بھرپور زندگی گزارنا ممکن ہے۔ امجد ندیم کی زندگی کا ہر لمحہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انسان اپنی محنت، لگن اور عزم سے کسی بھی چیلنج کو شکست دے سکتا ہے۔

 

امجد ندیم کی زندگی ان کے عظیم عزم، محبت، اور خدمت کی مثال ہے۔ وہ نہ صرف معذوروں کے لیے ایک رہنما ہیں بلکہ وہ معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ میں بھی پیش پیش ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف معذوروں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثال ہیں۔ امجد ندیم کی کاوشیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ حقیقی کامیابی اور خوشی دوسروں کی خدمت میں ہے۔ ان کا سفر ایک مشعل راہ ہے، جو ہمیں انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے اور امید کی کرن بن کر ہمارے دلوں کو روشن کرتا ہے۔

 

امجد ندیم کی داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کی مشکلات اور مصائب کے باوجود، حوصلہ اور عزم کبھی کم نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو مثال بنا کر یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد بلند، تو کوئی بھی رکاوٹ آپ کے راستے کی دیوار نہیں بن سکتی۔ ان کی محنت، لگن اور انسانیت کی خدمت کے جذبے نے انہیں ایک حقیقی ہیرو بنا دیا ہے۔ امجد ندیم کی فاؤنڈیشن آج بھی معذوروں، غریبوں اور یتیموں کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ ان کی یہ کاوشیں ہمیں مسلسل یہ پیغام دیتی ہیں کہ ہم بھی اپنی زندگی میں کچھ ایسا کریں جو دوسروں کے لیے مفید ہو، ان کی مشکلات کم کرے اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرے۔

 

امجد ندیم کی زندگی ایک جیتی جاگتی مثال ہے کہ مشکلات میں گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ ان کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ ان کی محنت، عزم اور خدمت کے جذبے نے انہیں امید کی کرن بنا دیا ہے جو ہر دل میں روشنی بکھیرتی ہے اور ہمیں انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہے۔ ان کا سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی دوسروں کے لیے جینے میں ہے، اور یہی وہ سبق ہے جو امجد ندیم کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے۔

 

امجد ندیم کی شخصیت خدمت خلق کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ ان کی ہمت و عزم کی داستان ایک ایسے چراغ کی مانند ہے جو تاریک راتوں میں روشنی بکھیرتا ہے۔ ان کے دل میں انسانیت کے لیے محبت کا دریا موجزن ہے، جس کی موجیں ہر محتاج اور مجبور شخص کی تشنگی بجھاتی ہیں۔ ان کا عزم فولادی، ارادے بلند اور نیتیں پاکیزہ ہیں۔ وہ ایک ایسے مسیحا ہیں جو دوسروں کی مشکلات کو اپنی خوشی میں بدلنے کا فن جانتے ہیں۔ ان کی بے لوث خدمت، ایثار اور قربانی کے جذبے کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ ان کی ہر مسکراہٹ، ہر قدم اور ہر لمحہ انسانیت کے نام وقف ہے۔ امجد ندیم کی خدمات ہمیشہ تاریخ کے سنہری اوراق پر جگمگاتی رہیں گی اور ان کا نام ہمیشہ خدمت خلق کی عظیم مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

انہیں خدمات کے عوض حکومت گلگت بلتستان و پاکستان نے انہیں 23 مارچ 2024 کو تمغہ امتیاز سے نوازا. پاکستان میں امجد ندیم پہلا شخص ہے جو خود معذور ہیں اور معذوروں کی رفاہ اور خدمت خلق کے عوض تمغہ امتیاز سے نوازا گیا. اسے پہلے کسی معذور شخص کو تمغہ امتیاز نہیں دیا گیا. یہ تمغہ امجد کو دے کر تمغہ کا وقار بڑھایا گیا ہے ورنہ تو ہمیشہ ایسے تمغوں کی بے توقیری کی گئی ہے.

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
89593

کالی بھیڑیں اور کھوٹے سکے- میری بات: روہیل اکبر

Posted on

کالی بھیڑیں اور کھوٹے سکے- میری بات: روہیل اکبر

کالی بھیڑیں اور کھوٹے سکے قیام پاکستان سے ہی اسکی جڑوں میں بیٹھے ہوئے ہیں کالی بھیڑوں سے مراد وہ نہیں جنکی طرف وزیر اعظم نے اشارہ کیا ہے بلکہ ہمارے ہاں کالی بھیڑیں وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کی ترقی کی راہ میں روڈے اٹکائے جنہوں نے اچھے خاصے پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا بلکہ ترقی کے اس پہیے کو الٹا گھمانا شروع کردیا جو ایوب خان دور تک بڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف جا رہا تھا رہی بات ہماری عدالتوں کی میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت یہی ایک ادارہ ہے جس نے ملک کو بچا کررکھا ہوا ورنہ تواس وقت کوئی ادارہ اپنا کام درست کررہا ہے اور نہ ہی کوئی سیاستدان ہر طرف وعدوں کا ایک لالی پاپ ہے جو 25کروڑ عوام کو دیا جارہا ہے ہمارے پاس اصل کالی بھیڑیں تو پولیس میں ہیں جنکی غنڈہ گردی اور بدمعاشی سے جرائم ختم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی جاتے ہیں جس ادارے میں خود چور بیٹھے ہو وہاں سے خیر کی توقع کیا رکھی جاسکتی ہے

 

آپ کسی بھی پولیس لائن میں چلے جائیں کسی بھی تھانے کے اس رہائشی علاقے میں چلے جائیں جہاں پولیس کے شیر جوان رہتے ہیں وہاں انکے صندوق کے تالے ٹوڑ کر اپنے پیٹی بھائیوں کا سامان چوری ہونا معمول کی بات ہے ہماری صرف پولیس میں ہی اتنی کالی بھیڑیں ہیں جنکی وجہ سے معاشرہ تباہ ہورہا ہے اور انکی سرپرستی ہمارے حکمران کرتے ہیں رہی بات کھوٹے سکوں کی جو ہر محکمہ میں پوری تندہی سے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنی میں مصروف ہیں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے ملک حاصل کرنے بعد، زیارت میں تیمارداری کے لئے آئے ہوئے مسلم لیگی وفد کے بارے میں اپنی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو بصد افسوس کہا تھا کہ یہ کھوٹے سکے ہیں۔ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انگریز کے خادم خاص،مخبر اور وفا دار تھے جنہیں انگریز نے تقسیم ہند کے وقت چار صوبے میں بے شمار اراضی سے نوازا تھا انہیں خطابات بھی دیئے گئے اور ان پر طرح طرح کی دیگر نوازشات بھی کی گئی تھیں

 

اس وقت برصغیر کی فوج کا ایک حصہ، بیوروکریسی کی مختصر سی تعداد بھی پاکستان کو ملی تھی لاہور ہائی کورٹ کا ڈھانچہ بھی وطن عزیز کے حصے میں جوڈیشل سیٹ اپ کے طور پر دیا گیا تھا قائد اعظم نے کس ادارے یا گروہ کو کھوٹے سکے کہا تھا؟ شاید انہوں نے کسی کو بتایا ہوگا تاہم ملک کے قیام کے بعد انہیں مشورہ دیا گیا کہ ملحقہ ریاست کشمیرپر قبضہ کیا جائے جس پر اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل گریسی نے اتفاق نہ کیا مگر پاکستان نے کشمیر کے ایک حصے میں قبضہ کر لیا جس پر تنازعہ کشمیر پیدا ہوا اور اقوام متحدہ میں بھی گیا لیکن آج تک زیر غور چلا آ رہا ہے جب پاکستان بن گیا تو محسن قوم شدید علیل ہوگئے اور ہسپتال جاتے ہوئے سرکاری گاڑی میں خرابی کے باعث انتقال کر گئے ابھی ان کا کفن میلا نہیں ہوا تھا کہ ایک سویلین وزیری اعظم لیاقت علی خان کو سرِ عام جلسے میں قتل کر دیا گیا دونوں سانحات پرہمارے ادارے آج تک بے بس اور خاموش ہیں انکی وفات کے بعد ملک پر حکومتی سرکل چلنے لگا۔ کبھی بیوروکریٹس کبھی سویلین، کبھی فوجی اور کبھی ملک آئین کے بغیر چلتا رہااسی دوران الیکشن ہوئے قائد اعظم کے ساتھ اور قیام پاکستان کی بنیاد رکھنے والے مسلم لیگ کے کارکن شیخ مجیب الرحمن واضح اکثریت سے جیت گئے لیکن اقتدار کے پجاریوں نے اسے اقتدار حوالے کرنے کی بجائے ملک دو ٹکڑو ں میں تقسیم کرکے اقتدار بھٹو کے حوالے کردیا بعد میں اس عظیم سانحہ پر حمود الرحمن کمیشن بنا جسکی رپورٹ آج تک نہیں آئی جب بھٹو اپنے پورے جوبن پر تھا اور تو پھر 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف منظم تحریک چلا کر اس کے اقتدار کو ختم کیا گیا

 

ملک کی دائیں بازو کی سیاسی قوتوں، فوج اور عدلیہ کو اس کے خلاف استعمال کیا گیا اور پھر ضیائی مارشل لاء لگ گیا 1985ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر ملک میں انتخابات کرا کر ایک نئی غیر سیاسی صف بندی کی گئی ان انتخابات نے ملکی قیادت کو سیاست کی بجائے برادری، گروہ اور پیسے کی بنیاد پر الیکشن جیتنے کی رسم متعارف کرائی جسے بعد ازاں سیاسی پارٹیوں نے بھی اختیار کیا جسکے بعد الیکٹبیل کی سیاست الگ ہوگئی اور کھجل خواری والی سیاست الگ ہوگئی الیکشن کے اخراجات کروڑوں روپے تک پہنچ گئے اور آج یہ الیکشن بڑے بزنس /انڈسٹری کی شکل اختیار کر گیا ہے عام ووٹرز سے پارلیمنٹیرین تک کی فروخت سرعام کسی جنس اور جانوروں کی طرح ہوتی ہے اور کسی حد تک مروجہ قانونی شکل اختیار کر گئی ہے ضیاء الحق کے بعد ملک میں دو بڑی جماعتوں نے عنان سیاست سنبھالی ایک پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کی تکمیل کی دعویدار تھی جبکہ دوسری ضیاء الحق کے مشن کی ایک ملک میں سیاسی جمہوری عمل کی دعویدار تھی جبکہ دوسری ذاتی، گروہی سیاستدانوں پر مشتمل تھی۔ دونوں کے اقتدار کا کھیل پہلے فیز میں 1999ء تک چلتا رہا جب ملک ایک دفعہ پھر مارشل لاء کی زد میں آگیا اور 2002ء میں فوجی حکمران نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے ایک دھڑے کو ساتھ ملا کر ایک حکومت قائم کر دی مگر دونوں بڑی پارٹیوں نے مل کر 2008ء کے انتخابات میں حکومتی قبضہ واپس لے لیا اور اقتدار کی کرسی دونوں جماعتوں کے گھر پھر گھومنے لگی.

 

2018ء کے انتخابات میں 1996ء میں معرض وجود میں آنے والی عمران خان کی قیادت میں ایک نئی سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نے انہیں شکست دے کر حکومت حاصل کر لی۔ مگر اس کے خلاف روزِ اول سے ہی دونوں بڑی پارٹیوں نے مل کر جدوجہد شروع کر دی اندرونی اور بیرونی سازشوں نے عمران خان کو حکومت نہ کرنے دی بلکہ رہی سہی کسر کرونا نے پوری کردی اور پھر آخر کارمولانا فضل الرحمن کی قیادت میں پی ڈی ایم نے نہ صرف اقتدار مشترکہ طور پر حاصل کر لیا ہے بلکہ اپنی مشترکہ مخالف پارٹی کو میدان سے ہی نکال دیا ور پورا الیکشن دونوں جماعتوں کے درمیان ہوا اور دونوں نے دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کر لی یہ الگ بحث ہے کہ عوام کی اکثریت نے ان پارٹیوں کا ساتھ نہیں دیا۔ 1985ء سے سلطنت کے ستون انتہائی متنازعہ چلے آرہے ہیں۔ الیکشن کمیشن 1977-85 سے اب تک ایک الیکشن بھی ایسا نہیں کروا سکا جس پر انگلی نہ اٹھائی جا سکے۔ کئی بار تو تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن جانبدار، غیر شفاف اور دھاندلی زدہ قرار دیا ہے جیسا اب 2024ء میں ہوا مختلف ملکی غیر ملکی شخصیتوں، اداروں، بین الاقوامی فورمز اور بڑے ملکوں نے بھی الیکشن کو متنازعہ اور غیر شفاف قرار دیا ہے مگر ہمارے ادارے آنکھیں بند کرکے سنی ان سنی کر رہے ہیں جسکے کے بعدملکی تاریخ کی سب سے بڑی متنازعہ حکومت قائم ہوگئی ہے جس نے الیکشن کمیشن، افسرشاہی کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور عدلیہ کے کردار پر بھی بڑے بڑے بدنما داغ لگا دیئے ہیں اور ان کی جانبداری زبان زد عام ہے ایک کروڑ سے زائد بیرون ملک مقیم ووٹرز سے حق رائے دہی چھین لیا گیا ہے

 

اس خدشے کے تحت کہ یہ ووٹ ایک مخصوص پارٹی کو نہ مل جائے اگر دیکھا جائے تو ہمارے ہاں کالی بھیڑیں اور کھوٹے سکے اصل میں وہی لو ہیں جو عوام سے انکا حق حاکمیت چھین کر کسی اور کی جھولی میں ڈال رہے ہیں اگر ہماری عدالتیں آزاد نہ ہوتی تو آج ملک میں اتنا بھی قانون نہ ہوتا جو تھوڑا بہت بچا ہوا ہے ان حالات کو دیکھتے ہوئے اس وقت ہر شخص کے ذہن میں ایک جیسے ہی سوالات ہیں کہ کیا ملک میں کبھی حقیقی جمہوریت آئے گی؟ کیا ملک میں کبھی شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ انتخابات ہوں گے؟ کیا کبھی سیاسی فیصلے منصفانہ ہوں گے؟ کیا کبھی فیصلے کا اختیار عام اور ووٹرز کو ملے گا؟ کیا کبھی خفیہ ہاتھ ملک کے اقتدار کے فیصلہ سے دستبردار ہوں گے جو اب تو تقریباً ننگے ہو چکے ہیں اورخاصے بدنام بھی ہو گئے ہیں؟ کہیں یہی تو وہ کھوٹے سکے نہیں جن کا ذکر قائد اعظم نے کیا تھا؟ کیا کبھی ان کھوٹے سکوں سے ملک کی جان چھوٹے گی؟ پا کیا ہم پر آج بھی کھوٹے سکے مسلط ہیں؟کیا ہمیں ان کھوٹے سکوں سے نجات کیلئے فرانس، سری لنکا جیسی جدوجہد کرنا ہوگی؟میں تو عام شہری ہوں مجھے کیا معلوم؟ شاید کوئی دانشور بتا دے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89567

داد بیداد ۔ محمد جناب شاہ حصہ دوم ۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ محمد جناب شاہ حصہ دوم ۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

چترال کی تاریخ و معا شرت میں ان کا تعلق ما جے (ما ژے) قبیلہ کے معزز خا ندان سے تھا تاریخ میں ذکر ہے کہ ان کا جد امجد ما ج وسطی ایشیا سے اپنی اولا د کے ساتھ نقل مکا نی کر کے چترال آیا پندر وھویں صدی میں اس قبیلے کے سر داروں نے جنگی مہمات میں بہا دری کے جو ہر دکھا ئے بعد کے ادوار میں بھی اس قبیلے کی عزت میں اضا فہ ہوتا رہا مضمون شاہ، کمال شاہ اور سمر دین نے مختلف جنگوں میں شمشیر زنی سے نا م پیدا کیا منشی محمد جی اور مرزا حبیب اللہ فارسی خط و کتابت کے ما ہر تھے اور ریا ستی دور میں دفتری عہدوں پر فائز تھے جن لو گوں نے آپ کو قریب سے دیکھا وہ آپ کی قابلیت سچائی، دیا نت داری اور امانت داری کی کئی مثا لیں دیتے ہیں، نو شہرہ میں چترال کے تاریخی گاوں اجنو تور کھو سے امیر شاہ آپ کے ہم مکتب تھے

 

وہ فٹ بال کے مشہور کھلا ڑی تھے ویمژد موڑ کہو کے ولی الدین پشاور میں آپ کے ہم جماعت تھے، مگر دونوں کا کہناتھا کہ آپ کا شمار نما یاں لڑ کوں میں ہوتا تھا آپ نے لا لہ رفیق اور لا لہ ایوب جیسے بڑے کھلا ڑیوں کی ٹیم میں شامل ہو کر کا بل میں افغا نستان کی ہا کی ٹیم کے خلا ف میچ کھیلا جو اعزاز سے کم نہ تھا دوسری جنگ عظیم کے دوران فوج کے محکمہ رسد (Log) میں چترال کے تینوں نو جوانوں نے خد مات انجام دیں اس دوران انگریز افیسروں نے آپ کو تعلیم جا ری رکھنے کا مشورہ دیا، آپ کے دونوں ساتھی 1945میں محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوئے ولی الدین نے پشاور میں خد مات انجام دیں امیر شاہ نے چترال آکر ملا زمت اختیار کی نو شہرہ میں قیا م کے دوران آپ کے ننھیا لی رشتہ دار ولی محمد خان نے آپ کی سر پرستی کی گاوں سے بھی وہی آپ کو لیکر گئے تھے زند گی بھر ان کے احسان مند رہے بڑھا پے میں وہ گاوں آگئے تو بساط بھر ان کی مدد کر تے رہے اور سب کو بتا تے رہے کہ یہ میرا محسن ہے چترال کے مر کزی قصبے میں آپ کا رشتہ روشتے قبیلہ سے تعلق رکھنے والے محمد شریف خان کی صاحبزادی کیساتھ طے ہوا

 

مقدر میں اولا د کی نعمت نہیں تھی تا ہم عمر بھر وفا دار ی نبھا ئی ان کی وفات کے 26سال بعد بھی ان کی زوجہ محترمہ بقید حیات ہیں اور شیا قو ٹیک میں آپ کے مزار کے قریب زر خرید گھر میں آپ کے بھتیجوں کے ساتھ مقیم ہیں ملا زمت کے مختلف ادوار میں اور ریٹا ئرمنٹ کے بعد جن لو گوں کو آپ کے قریب رہنے کا اتفاق ہوا وہ آپ کی زند گی اور معمولات کے بارے میں جا نتے تھے ان میں اس دور کے اساتذہ کرام عبد المنان کوغذی، عبد القادر ژوغور، غلا م محمد استارو، حا کم خان چرن اویر، مولانا صاحب الزمان اویون، مولانا محمد مجید دینین، مولانا محمد سعید فاضل دیو بند ژو غور، شریف اللہ ورکوپ، میر کلان شاہ ہون اور ان کے بیٹے سردار حسین شاہ شامل تھے اینگلو ور نیکلر سکول چترال کے اُس وقت کے طلباء آپ کے ساتھ اتنی محبت کر تے تھے جتنا بچہ اپنی ماں کے ساتھ پیار کر تا ہے حا جی شاہ عجم نے 1956ء میں میٹرک پا س کیا اور سکول میں اول آئے ان کا کہنا ہے استاد محترم کلا س روم میں بچوں کو ماں کا پیار دیتے تھے ”سمجھ میں آئی“ ان کا مشہور تکیہ کلا م تھا پیریڈ گراونڈ میں جسما نی ورزش کی کوئی بھی سر گرمی ہو، استاد محترم ہمارے ساتھ ہوتے تھے

 

دوڑ میں کوئی لڑ کا اس سے آگے نہیں نکل سکتا تھا ہا کی میں وہ بال لیکے آگے بڑھتے تو بجلی کی سی تیزی کیساتھ ڈی میں داخل ہوتے اور گول کر تے، ایک بار رسی پر چڑ ھنے کا مقا بلہ ہوا، انہوں نے کچھ دیر تک دیکھا جب لڑکے 10فٹ سے اوپرنہ جا سکے تو آپ خود میدان میں اترے20فٹ رسے پر چڑ ھنے کے بعد چنا ر کی شاخ پر پاوں رکھ کر مزید اوپر گئے اور پھر تا لیوں کی گونج میں رسی تک آگئے رسی پکڑ کر نیچے اتر ے، نا در عزیز قریشی مڈل سکول مستوج میں ان کے آخری معا ئنے کا ذکر کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنی محنت کا حا ل بتا تے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ریاضی کے ہر مشق میں ہر سوال کو 200بار حل کر تا تو مجھے یاد ہو جا تا تھا انہوں نے ہمیں بتا یا کہ تم خو ش قسمت ہو تمہارے گھر سے 6کلو میٹر یا 10کلو میٹر کے فاصلے پر مڈل سکول ہے ہمارے زما نے میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا تم آ گے بڑھوسوات، نو شہرہ، مر دان اور پشاور کے لڑ کوں سے مقا بلہ کرو، اُن سے اچھے نمبر لیکر دکھا ؤ اپنے بی ٹی کی ڈگری کا ذکر کر کے کہا کر تے تھے کہ تعلیمی نفسیا ت کا علم بی ٹی کے بغیرحا صل نہیں ہو سکتا،

 

سکول میں پڑھا نے کے ساتھ ساتھ وہ انگریز افسروں کو مقا می لو گوں کی مادری زبان کھوار بھی پڑھا تے تھے انگریزوں کا امتحا ن لیکر پر وفنیسی سر ٹیفیکٹ دیتے تھے اس پر ان کو ما ہا نہ 10روپے اضا فی الا ونس ملتا تھا 1951ء تک سلسلہ جا ری تھا ان کو افسوس تھا کہ اس کے بعد افیسروں نے کھوار سیکھنے میں دلچسپی نہیں لی کیونکہ تنخواہ کے علا وہ آمدنی کے دوسرے ذرائع ڈھونڈ لئے گئے 10روپے الا ونس کی کوئی وقعت نہیں رہی، سکول کے لا ن میں ٹینس کھیلنے کے لئے پو لیٹکل ایجنٹ بھی آتے تھے، آپ سفید وردی میں ان کے ساتھ ٹینس کھیلتے تو بڑا مزہ آتا، 1965ء میں آپ نے حج بیت اللہ کی سعادت حا صل کی واپسی پر علمائے کرام کو کار گذاری سنا تے ہوئے آپ نے کہا کہ حج کے سفر میں عر بی زبان پر عبور کا بڑا فائدہ ہوا

 

البتہ میری عر بی کتا بی زبان تھی، حرمین شریفین میں قیا م کے دوران بول چا ل میں روانی آگئی تھی آپ میرے ساتھ عربی بولیں تا کہ بول چال کی اس روانی میں فرق نہ آئے، آپ کو اپنے وطن ما لوف تیریچ اور اپنے ما جے قبیلہ سے بھی قلبی لگاؤ تھا میر زا حبیب اللہ، منشی محمد جی اور سمر دین کے کا رناموں کا ذکر کر تے تھے تاریخ چترال میں قبیلے کی دوشا خوں کا ذکر ہے ایک شاخ بر ق با شہ لکھا گیا ہے نو جوان قانون دان محب اللہ تریچوی نے بھی اس کی بجا طور پر تصدیق کی ہے آپ کو کچھ عرصہ قتیبہ پبلک سکول کے پرنسپل بننے پر راضی کیا گیا اس دوران بھی آپ نے دفتر سے زیا دہ وقت کلا س روم کو دیا سینئر کلا سوں کو انگریزی پڑھا تے رہے اُس دور کے ایک طا لب علم امتیاز احمد کہتے ہیں کہ بڑ ھا پے میں بھی جوانوں کی سی لگن اور شوق کے ساتھ پڑھا تے تھے آپ کے بھتیجے امیر نواب شاہ کا کہنا ہے کہ آخر عمر میں درس قرآن دیا کر تے تھے اور قرآن کی مختلف تفاسیر کے مطا لعے میں مگن رہتے تھے80سال کی عمر پا کر 1998ء میں آپ نے وفات پائی شیا قو ٹیک میں لنک روڈ پر آپ کا مزار واقع ہے اللہ پا ک آپ کی روح کو دائمی راحت اور سکون نصیب کرے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89560

مشرقی اُفق – رہنما ئے اعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم – میر افسرامان

بسم اللہ الرحمان الرحیم

مشرقی اُفق – رہنما ئے اعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم – میر افسرامان

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے”یقیناً تمھارے ہر اس شخص کے لیے اللہ کے رسولؐ میں بہترین اسوہ ہے جو اللہ اور روز آخرت کی اُمید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو“ (سورۃالحزاب۔ آیات21) قرآن میں ہے”اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبرؐ پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو! تم بھی پیغمبرؐ پر دوراور سلام بھیجا کرو(سورۃ الحزاب۔ آیت56) حضرت عائشہؓ ام المومنین سے صحابہؓ نے رسولؐ اللہ کے اخلاق بارے معلوم کیا تو آپؓ ؓ نے جواب دیا بس قرآن ہی آپؐ کا اخلاق تھا۔
آپ ؐکے والد کا حضرت نام عبداللہ تھا۔ عبدالمطلب کی اولاد میں حضرت عبداللہ ؓسب سے زیادہ خوبصورت تھے۔حضرت عبداللہؓ کی شادی حضرت آمنہؓ سے ہوئی۔ عبدالمطلب نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہؓ کو کھجور کی تجارت کے لیے مدینہ بھیجا۔ آپ مدینہ میں ہی فوت ہو گئے۔اس وقت اُن کی عمر پچاس سال تھی۔رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں شعبہ بنی عاشم کے اند ر9ربیع الاول  ۱  ؁عام الفیل یوم دو شنبہ کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ اس وقت 21 یا22 اپریل571ء کی تاریخ تھی۔ دلادت کے بعد آپؐ کی والدہ محترمہؓ نے عبدالمطلب کے پاس پوتے کی خوشخبری بھیجوائی۔ وہ شادماں ہوئے اور آپ ؐ کو خانہ کعبہ میں لے جاکر اللہ تعالیٰ سے دعاکی۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بعد آپؐ کام محمدؐ رکھا۔ اُس زمانے کے دستور تھا، عربی زبان کو صحیح طریقے سے سیکھنے اور شہر کی بیماریوں سے دوردیہات میں بچوں کو بھیج دیتے تھے۔ پھر اسی رواج کے مطابق شہر سے دور بدوی خاتون حلیمہؓ کے حوالے کیا۔ رضاعت کے دوران حضرت حلیمہؓ ایسے ایسے مناظر دیکھ کرحیرت زدہ رہ گئیں۔ فرماتی ہیں کہ جب بچے کو گود لیا تھا توحا الات ابتر تھے بعد میں وہ بہتر ہوگئے۔ جب دو سال پورے ہوئے تو بچے کا دودھ چھڑوا کر اُس کی والدہ کے پاس مکہ لی گئی۔ کیونکہ اس بچے کے ہمارے پاس رہنے سے ہمارے گھر پر برکتیں نازل ہوئی تو میری خواہش تھی کہ بچہ ہمارے پاس کچھ مدت مذید رہے۔
میں نے بچے کی والدہ سے کہا، مکہ میں بیماری لاحق ہو سکتی ہے، لہٰذا بچے کو کچھ دن ہمارے پاس رہنے دیں۔ آپُ کی والدہ اس پر راضی ہو گئی، تو ہم بچے کو وپس اپنے پاس لے آئے۔ولادت کے چھوتے یا پانچویں سال واقعہ شق صدر پیش آیا۔ جسے حضرت انسؓ نے صحیح مسلم کے مطابق اس طرح بیان کیا۔ رسولؐ اللہ کے پا س حضرت جبرائیل آئے۔ آپ بچوں میں کھیل رہے تھے۔ حضرت جبرائیل نے آپ کو پکڑ کر لٹایا اور سینا چاک کر کے دل نکالا۔ پھر دل سے ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا یہ تم سے شیطان کا حصہ ہے، پھر دل کو ایک طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا اورپھر اس کو جوڑ کر اس کی جگہ لگا دیا۔ اس وقعہ کو دیکھ کر دوسرے بچے ماں کے پاس پہنچے  اور کہا کہ محمدؐ کو قتل کر دیا گیاہے۔ گھر کے تمام لوگ چھٹ پٹ وہاں پہنچے اور دیکھا کہ آپ ؐ کا رنگ اُترا ہوا ہے۔ اس واقعہ سے گھبرا کر حضرت حلیمہؓ نے آپ  ؐ کو جب آپؐ چھ سال کے تھے تو آپؐ کی والدہ کے حوالے کر دیا۔ابن ہشام کا بیان ہے کہ عبدالمطلب کے لیے کعبہ کے سائے میں فرش بچھایا جاتا۔ اس لے سارے لڑکے فرش کے ارد گردبیٹھ جاتے۔ جب رسولؐ اللہ تشریف لاتے تو سیدھے عبدالمطلب کے ساتھ فرش پربیٹھ جاتے۔ آپ کے چچا آپؐ کو پکڑ کر فرش سے دور کرتے، تو وبدالمطلب اُنہیں ایسا کرنے سے روکتے اور کہتے اسے چھوڑ دو،اس شان نرالی ہے،بلکہ ان کی حرکت دیکھ کر خوش ہوتے اور پھر اپنے ساتھ فرش پر بیٹھا لیتے۔ آپؐ بکریاں بھی چرانے لے جاتے تھے۔آپؐ اپنے چچوں کے ساتھ مل کر تجارت بھی کرتے تھے۔ عبدالمطلب کی وفات کے بعد آپؐ کو شفیق چچا ابوطالب نے اپنے پاس رکھا۔ رسولؐ اللہ جب پچیس سال کے ہوئے تو شراکت کی بنیاد پر مکہ کی تاجرہ حضرت خدیجہؓ کے مال تجارت لے کر شام گئے۔ جب واپس آئے تو حضرت خدیجہؓ آپؐ کی ایمانداری سے متاثڑ ہوئیں۔ کچھ مدت بعد آپؐ سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ آپ کی شادی کے وقت آپؐ کی عمر پچیس سال اور حضرت خدیجہؓ کی عمر چالیس سال تھی۔
آپؐ نے غور خوص کی خاطر غارا حرا میں تنہائی کے دن گزارنے شروع کیے۔ پھر جن تنہائی کا تیسرا سال ہو گیا تو ایک دن حضرت جبرائیل آپُ کے پاس اللہ کا پیغام لے کر آئے۔ یہ دن ابو قتادہ کی روایت کے مطابق، جب رسولؐ اللہ سے دو شنبہ کے دن کے روزے کی بابت دریافت کیا گیا توآپ ؐنے فرمایا،یہ وہ دن جن دن میں پیدا ہوا۔ اور جس دن مجھے پیغمبرؐ بنایا گیا اور جس دن مجھ پر وحی نازل کی گئی۔ صحیح مسلم۔ جلد 1 صفحہ 368،مسند احمد جلد 5 صفحہ.297جب آپؐ غار حرا میں تھے تو حضرت جرائیل  ؑ آپ ؐکے پاس وحی لے کر آئے۔ آپؐ سے کہا کہ پڑھو! آپؐ نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے آپ کو پکڑ کر اس زور سے دبوچا کی میری قوت نچوڑ دے۔ پھر چھوڑ کر کہا پڑھو! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے دوبارا پکڑ کر دبوچا۔ پھر چھوڑ کر کہا پڑھو! میں نے پھر کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے تیسری بار پکڑ کر دبوچا۔پھر چھوڑ کر کہا۔”پڑھواپنے رب کے نام سیجس نے پیدا کیا انسان کو لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھو اور تمھارا نہایت کریم ہے“گھر واپس آکر حضرت خدیجہؓ سے کہا مھے ڈر لگ رہا ہے۔ حضرت خدیجہؓ  آپؐ کو اپنے چچرے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور سارا ماجرا سنایا۔ ورقہ بن نوفل نے کہا کہ یہ تو وہی ناموس ہے جسے اللہ نے حضرت موسیٰ  ؑپر نازل کیا تھا۔ورقہ  بن نوفل نے کہا کہ آپؐ  کو اپنی قوم
ملک سے نکال دے گی۔ کاش میں زندہ ہوتا تو آپ  ؐ ؐ کی مدد کرتا۔ پھر آپؐ پر سورۃ مدثر کی آیات”اے(محمد) جو کپڑا لپٹے پڑے ہو۔ اُٹھو اور ہدایت کر دو۔ اور اپنے رب کی بڑھائی کرو۔ اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔ اور ناپاکی سے دور رہو اور(اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کو“ تک نازل ہوئی۔ آپؐ پر شروع میں جو آیات نازل ہوئیں وہ توحید رسالت اور آخرت کے متعلق تھی۔آپؐ نے تین سال تک چھپ کردارالرقم میں، اللہ کے دین کی تبلیغ کی۔ سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ، حضرت زید ؓبن حارثۃ اورحضرت علیؓ بن ابو طالب نے اسلام قبول کیا۔حضرت ابو بکر بھی پہلے ہی دن مسلمان ہو گئے۔
حضرت ابو بکرؓ کی تبلیغ سے حضرت عثمانؓ،حضرت زبیرؓ بن العوام، حضرت عبدالرحمان ؓبن عوف،حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص، حضڑت طلحہؓ بن عبیداللہ اسلام لائے۔ پھر اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنے قرابت داروں کو دعوت دو۔ اس پر آپ ے بنو عاشم کو کھانے پر بلا کر دعوت دی۔ پھر کوہ صفا پر چڑھ کر رواج کے مطابق اعلان کیا، یا صبحا! یا صحا! یعنی صبح کا خطرہ۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو اُن سے کہا کہ اگر میں آپ حضرات سے کہوں کہ پہاڑ کی اس طرف سے دشمن تم پر حملہ کرنے والا ہے، تو آپ میری بات پر یقین کرو گے۔ سب نے کہا کہ آپؐ سچے ہیں آپ کی بات پر یقین ہے۔ آپؐ نے کہا بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ ایسا کہنا تھا کہ سب آپؐ کے مخالف ہوگئے۔ مکہ کے ہر گھر  میں جب کوئی نہ کوئی اسلام لانے لگا تو قریش، ابوطالب کے پاس شکایت لے آئے، کہ ان کو اس کام سے روکو۔ آپ نے رسولؐ باللہ سے کہا کہ قریش کے سرداروں نے آپؐ کی شکایت کی ہے۔آپ نے اپنے چچا ابو طالب سے کہا کہ یہ میرے ایک ہاتھ میں چاند اور دوسرے ہاتھ میں سورج بھی رکھ دیں، میں اللہ کے دین کی تبلیغ نہیں چھوڑوں گا۔ قریش حج کے موقع پر حاجیوں کے ساتھ ملاقاتیں کرنے بھی روکتے تھے۔
قریش نے رسولؐ اللہ سے محاذآرائی شروع کی۔ جو بھی ایمان لاتا، اس پر ظلم کرتے۔حضرت بلالؓ کو اُمیہ بن خلف تپتی ریت پر لٹاتے۔ حضرت سمیہؓ کو ابوجہل نے برچی مار کر شہید کیا۔ آل یاسر، حضرت عثمانؓ اور دیگر صحابہؓ پر مظالم کی حد کر دی۔ رسولؐ اللہ اپنے صحابہؓ  کو حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس چلے جانے کا کہا کہ وہ نیک اور عادل بادشاہ تھا۔ صحابہؓ نے دو دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔قریش حبشہ بھی تحائف لے کر پہنچ گئے اور صحابہ ؓ  کو  واپس کرنے کا کہا۔ مگر حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے صحابہ کو قریش کے حوالے نہیں کیا اور کہا کہ چین سے یہاں رہو۔حضرت حمزہؓ اور حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو کھل کر تبلیغ کرنے کی ہمت ملی۔ جب مکہ والوں نے رسولؐ  اللہ کی بات نہیں مانی تو آپ ؐ طائف والوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لیے گئے۔ مگر انہوں نے شریر بچے آپ کے پیچھے لگا دیے۔ بچوں نے آپ پتھر برسائے۔ آپ ؐ  لہوہو لہان ہو گئے۔ اللہ نے پہاڑوں کے فرشتے کو ٓاپ ؐ کے پاس بھیجا۔ فرشتے نے کہا کہ آپ ؐ حکم کریں، میں ان دو کوپہاڑوں کے درمیان پیس دیتا ہوں مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا اور فرمیا کیا پتہ ان کی نسلوں سے کو مسلمان نکل آئیں۔
رسولؐ اللہ کو خاندانِ بنو ہاشم کے ساتھ تین سال شعبہِ ابوطالب میں محاصرے میں رکھا گیا۔ ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ  کی وفات پر رسولؐ اللہ پر مصیبتیں اور زیاہ ہو گئیں۔ رسولؐ اللہ کا دل بڑھانے کے لیے اللہ نے ایک رات رسولؐاللہ مکہ کی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک معراج کا سفر کرایا۔
  حضرت معصبؓ کی محنت سے مدینہ میں آپؐ  کی وعو ت پہنچی۔گیارویں نبوت موسم حج جولائی 620ء میں کو یثرب سے چھ سعادت مند افراد جومدینہ کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے تھے آپ سے عقبہ کی گھاٹی میں مل کر بیعت کر کے اسلام کے دست و بازوو بن گئے۔پھر جون 622ء کو دوسری بیعت عقبہ ہوئی۔ اس پر قریش کے کان گھڑے ہو گئے۔ قریش نے میٹنگ کی اور ہر قبیلہ سے ایک نوجوان کو منتخب کیا اور یک باریگی سے رسولؐ اللہ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔
اس خیال سے بنو ہاشم سب قبیلوں سے لڑ نہیں سکیں گے اور خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں گے۔ اللہ نے ا پنے پیغمبرؐ  کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ آپ ؐحضرت ابو بکرؓ کو ساتھ لے کر پہلے غارثور گئے۔ پھر مدنیہ کو ہجرت کر گئے۔23 دسمبر622ء کو آپ قبا ء پہنچے۔ جب مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو پورا مدینہ اُمنڈ آیا۔ مدینہ میں رسولؐ اللہ نے اسلام کی تعلیمات کے مطابق نیا معاشرہ ترتیب دیا۔ مسجد نبوی کی بنیا رکھی۔ مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم کیا۔ مدینہ کی تجارت پر یہود سود خوروں کی اجارا داری ختم کر کے اسلامی طریقوں پر تجارت کرنے کے لیے مسجد نبوی کے برابر تجارتی مارکیٹ بنائی۔ کفار مکہ نے رسولؐ اللہ کو مدینہ میں بھی چین سے نہیں رہنے دیا۔ اللہ نے قرآن شریف میں جنگ کے اجازت دی”جن لوگوں سے جنگ کی جا رہی ہے، انہیں بھی جنگ کی اجازت دی گئی کیونکہ وہ مضلوم ہیں اور یقیناًً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے“۔سورۃ الحج آیت 39۔کفار مکہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے مہاجرین کو کئی معرکوں پر بھیجا۔کئی معرکوں میں آپؐ خود بھی تشریف لے گئے۔
اس کے بعد اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ غزہ بدرکبریٰ پیش آیا۔ ابوسفیان تجارتی قافلہ لیے مکہ کی طرف روانہ تھا۔ جب مدینہ کے قریب پہنچا تو اس نے قافلہ کی حفاظت کے مکہ ایک شخص کو بھیجا۔ اس نے رواج کے مطابق اپنے اونٹ کا کجاوہ الٹ دیا اور قافلہ کی مدد کے لیے شور مچایا۔ مکہ کے سرداران قریش قافلہ کی حفاطت کے لیے، ابوجہل بن ہشام کی سرداری میں تیرہ سو نوجوانوں، سو گھوڑوں، چھ سو زریں اور کثیر تعداد میں اونٹ اور ساتھ گانے بجانے والی لونڈیاں اور شراب میں بدمست، یہ لشکر مکہ سے اِتراتے ہوئے روانہ ہوا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے رسولؐ اللہ نے ایک اعلیٰ  فوجی مجلس منعقد کی۔ کچھ لوگ خون ریزی کا سن کر کانپ اُٹھے۔ اس موقعہ پر حضرت ابو بکوؓ، حضرت عمرؓ اور مقدادؓ بن عمرو اُٹھے اور کہا آپؐ  کو اللہ نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کیجیے۔ ہم بنی اسراعیل کی طرح نہیں کہیں گے کہ ”تم اور تمھارا رب جاؤ اور ہم یہیں بیٹھے ہیں“  تم اور تمھارا پروردگار جا کر لڑ بھڑ لو، ہم یہیں بیٹحے ہوئے ہیں“ (سورۃ۔الماہدہ آیات24)۔ رسولؐ اللہ نے انصار کی طرف اشارا کرتے ہوئے کہا،لوگو مجھے مشورا دو۔
انصار سمجھ گئے۔حضرت سعد ؓبن معاذ نے کہا ہم آپؐ کا شارا سمجھ گئے ہیں۔ ہم آپؐ پر ایمان لائے ہیں۔لہٰذا پیش قدمی کریں ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔حضرت سعد ؓ بن محاذ کی یہ بات سن کر رسولؐ اللہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ رسولؐ اللہ نے اسلامی لشکر کو بدر کے مقام تک حرکت دی۔ اللہ نے مومنین کی مدد کے لیے بارش برسا دی۔ یہ بارش اسلامی لشکر کے لیے رحمت اور کفار کے لشکر کے لیے زحمت بن گئی۔ اس موقعہ پر اللہ کافرمان ہے کہ”تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کر دے گو یہ مجرم لوگ ناپسند ہی کریں“(سورۃ الانفال۔ آیت۔5) جنگ شروع ہونے سے پہلے کفار کے سورما سامنے آئے۔ ان کے مقابلے میں انصار کے تین مجاہدسامنے آئے۔ اس پر تکبر کرتے ہوئے مشرکینِ مکہ نے کہ ہمارے پلے کے لوگ ہمارے سامنے لائے جائیں۔ اس رسولؒ ؐ اللہ نے فرمایا عبیدہ بن حارث اُٹھو!حمزہ اُٹھو! علی اُٹھو!۔ ان کے درمیان مقابلہ ہوا۔ حضرت عبیدہؓ نے عتبہ بن ربیع کو، حضرت حمزاء نے شیبہ کو اور حضرت علی نے ولید کو جہنم رسید کیا۔اس مقابلہ کے بعد عام لڑائی شروع ہوئی۔کافر بتوں کا نعرہ لگا تے تھے اور مسلمان اللہ اکبر کے نعرے لاتے تھے۔ اللہ کے نعرے کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔آج بھی اللہ پر بروسہ کرتے ہوئے غزہ میں صلیبی اتحادی فوجوں کے مقابلے میں ”اللہ اکبر“ کا نعرہ لگاتے ہوئے ان ظالموں کا مقابلہ کر رہے ہیں،اللہ بدر کی طرح غزہ میں بھی فرشتے نازل کر رہا ہے۔
رسولؐ اللہ نے جنگ بدر کے موقعہ پر اللہ سے دعا فرمائی۔”اے اللہ۱ تو نے مچھ سے وعدہ کیا تھا۔ اُسے پورا کر۔اے اللہ! میں تجھ سے تیرے وعدے کا سوال کرتا ہوں“ اے اللہ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو تیری عبادت نہ کی جائے گیَ اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جائے“ اس پر  وحی نازل ہوئی’‘ میں تمھارے ساتھ ہوں۔ تم اہل ایمان کے قدم جماؤ۔میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا“(سورۃ الانفال   آیات۔12) اس غزوہ میں چھ مہاجرین اور آٹھ انصار کل چودہ مسلمان شہید ہوئے۔ مشرکین مقتولین کی تعداد ستر(70) تھی۔ ستر ہی قید کیے گئے۔ اس غزوہ پر مکہ والوں پر غم کے پہاڑ ٹوٹا اور مدینہ والے خوش ہوئے۔ اس غزوہ پر سوۃ الانفال میں اللہ کی طرف سے تبصرہ ہوا ہے۔ اس کے مطالعہ سے قاری کو ساری تفصیل سے آگاہی ہو سکتی ہے۔ بدر کی شکست سے مشرکین، یہود اور منافقین غم و غصہ سے جل بھن گئے۔ قرآن اس پر نقشہ کھینچا ہے کہ”تم اہل ایمان کا سب سے زیادہ دشمن یہود کو پاؤ گے، اور مشرکین کو“)سورۃ الانفال۔آیت۔(82 بدر کی شکست پر ابو سفیان اگلے سال پھر جنگ کی دھمکی دے کر گئے تھے۔ ایک مشرک خمیر بن جمہی، جو قریش کے شیطانوں میں سے تھا۔ اس کا بیٹا جنگ بدر میں قیدی بنا لیا گیا تھا۔ وہ رسولؐ اللہ کو قتل کرنے کی غرض سے مدینہ پہنچا۔ اسے پکڑ کر حضرت عمرؓ نے رسولؐ اللہ کے سامنے پیش کیا۔ رسولؐ اللہ کو وحی کے ذریعے معلوم ہوگیا تھا کہ وہ آپؐ  کو قتل کرنے مدینہ آیا ہے۔ وہ رسولؐ اللہ کے سامنے چھوٹ بول رہا تھا،کہ میں اپنے بیٹے کی رہانی کی درخواست کرنے آیا ہوں۔ رسولؒ ؐ اللہ نے اس کی ساری سازش کو اس کے سامنے بیان کر دیا۔ وہ ششدر رہ گیا کہ یہ تو صرف اسے اور ایک دوسرے شخص کو پتہ تھا۔ وہ فوراً اسلام لے آیا۔ رسولؐ اللہ نے اس کے بیٹے کو رہا کر دیا۔
غزوہبدر کی شکست کے بعد  یہودی قبیلہ بنو قینقاع نے دیکھا کہ مسلمانوں کا رعب بڑھ گیا ہے۔ اس یہودی قبیلے نے معاہدے کی خلاف وردی کی۔ کعب بن اشرف اس میں سب سے آگے تھا۔ یہودی قبیلے قینقاع نے اپنے بازار میں ایک مسلمان کو ناحق قتل کر دیا۔ اس پر رسولؐ اللہ نے ان پر حملہ کر دیا۔ عبداللہ بن ابی منافق کی سفارش پر انہیں سزا دینے کے بجائے مدینہ سے نکل جانے دیا گیا۔ ایک بات قابل نوٹ ے کہ غزوہ بدر کی فتح پر ایک مغربی دانشو نے کہا کہ بدر سے پہلے اسلام ایک مذہب تھا۔ بدر کی فتح کے بعد وہ ریاست مدینہ کا مذہب بن گیا۔
غزوہ بدر کے ایک سال بعد غزوہ اُھد پیش آیا۔ قریش مکہ تین ہزار کا لشکر لے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ سواری کے لیے تین ہزار اونٹ، دو سو گھوڑے اور سات سو زریں تھیں۔ اُحد کے مقام پر لشکر قریش نے پڑاؤ ڈالا۔ مسلمانوں کا لشکر ایک ہزار پر مشتمل تھا۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اپنے تیس سو ساتھیوں سمیت جنگ سے بہانہ بنا کر علیحدہ ہو کر واپس مدینہ چلا گیا۔ جنگی چال کے طور پر رسولؐ اللہ نے ایک درے پر کچھ تیر انداز مقرر فرمائے۔ ان کو ہدایات دین کہ کسی بھی طور ر اس درے کو خالی نہیں کرنا۔ مگر جب قریش کو جنگ میں شکست ہوئی اور مسلمان مال غنیمت جمع کرنے میں لگے تو ان تیر اندازوں نے اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہو گئے۔خالد بن ولید نے بارنے والی فوج کو جمع کر اس درے سے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ جنگ کا نقشہ بدل گیا۔حضرت حمزہؓ اس جنگ میں شہید ہوئے۔ رسولؐ اللہ کی شہادت کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی۔ اس جنگ کے خوف سے ابی بن
خلف مرگیا۔اس غزوہ میں مسلمان عورتوں نے شرکت کی اور زخمیوں کو پانی پلایا۔ اس غزہ میں ستر مسلمان شہید ہوئے۔قرآن نے اس جنگ پرسورۃآل عمران میں ساٹھ آیتیں نازل کیں، ان کے مطالعہ سے تفصیل معلوم ہو سکتی ہے۔
 پھر شوال 5 ہجری غزوہ احزاب یعنی جنگ خندق پیش آیا۔ یہودی مسلمانوں کے بڑھتے ہو ئے قدموں سے پریشان تھے۔ چوں ناچہ یہودی قبیلے بنو نصیر قریش کے بیس لوگوں کاجتھا مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا۔ انہوں نے پورے عرب کا چکر لگا کر مخالفین کی فوج تیار کی۔ رسولؐ اللہ نے صحابی سلمان فارسیؓکی تجویز پر مدینہ کی حفاظت کے لیے خندق کھووائی۔ مشرکین سارے عرب کی، دس پزار اتحادی فوجوں کے ساتھ کفار مکہ مدینہ پر حملہ آورہوئے۔ جبکہ مسلمانوں فوج کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کے دل بڑھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی نشانیاں ظاہر ہوئیں۔ اس جنگ میں بھی یہودہ قبیلہ بنو قریظہ کفار کے ساتھ شریک تھا۔ اس جنگ کا سورۃ الحزاب میں ذکر ہوا ہے وہاں تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔رسولؐ اللہ کی جنگی چال سے اتحادی فوجوں میں پھوٹ پڑھ گئی۔ اللہ کی مدد آئی اور ایک ذبردست طوفان نے اتحادی فوجوں کے خیمے اُ کھار دیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے فرشتوں نے اتحادی فوجوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ اس موقعہ پررسولؐ اللہ نے فرمایا، آیندہ یہ تم پر حملہ نہیں کر سکیں گے۔ اب ہم ان پر حملہ کریں گے۔ جنگ کے بعد یہودی قبیلہ بنو قیظہ کی عین جنگ کے موقعہ پر غداری کی سزا دے کر ختم کر دیا گیا۔ پھرذی قعدہ 6  ھ میں صلح حدیبیہ پیش آیا۔ جنگوں سے فراغت ملی تو رسولؐ اللہ نے اسلام کی تبلیغ کے لیے بیرون عرب بادشاہوں کو خطوط لکھے۔ حبشہ کے باشاہ نجاشی، مقوقسشاہِ مصر،شاہ فارس خسرو پرویز، قیصر شاہ روم، مینذر بن سادی، ہوذہ بن علی یمامہ، حارث حاکم دمشق اور شاہ عمان وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے بعد رسولؐ اللہ نے حدیبیہ معاہدے میں شریک صحابہؓ خصوصاً اور دوسرے کے ساتھ عمرہ قضاء ادا کیا۔
 اس کے بعد غزوہ مکہ رونما ہوا۔ رسولؐ  اللہ دس ہزار صحابہؓ کی لشکر کے ساتھ مکہ روانہ ہوئے۔ آپ ؐنے جنگی چال کے طور پر مکہ سے باہر مرالظہران کے مقام پر پڑھاؤ کیا اور سب صحابہؓ  کو علیحدہ علیحڈہ آگ کے جلانے کا حکم دیا۔ اس سے قریش مکہ خوف زدہ ہو گئے۔ ابو سفیان اس موقعہ پر ایمان لے آیا۔ رسولؐ اللہ اپنے لشکرکے ساتھ مکہ میں شان کے ساتھ مختلف سمتوں سے داخل ہوئے۔ مکہ جنگ کے بغیر ہی فتح ہو گیا۔ معافی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی جانی دشمنوں سردارانِ قریش کو حضرت یوسف  ؑکی سنت پر عمل کرتے ہوئے معاف کر دیا۔پھر عام معافی کا اعلان جاری کیا کہ، جو خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے، جو گھروں سے باہر نہ نکلے۔ جوابو سفیان  کے گھر میں داخل ہو جائے، ان سب کو معاف کیا جاتا ہے۔ رسولؐ اللہ نے حضرت بلالؓ کو خانہ کعبہ کی چھٹ پر چڑھ کر آذان دینے کا کہا۔ خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے تین سو ساٹھ(360) بتوں کو توڑ دیا۔ چند دشمن دین کے لیے کہا کہ یہ خلافِ کعبہ سے بھی لپٹے ہوئے تو انہیں ہلاک کر دیا۔ ان میں بھی بعض کو صحابہؓ کی سفارش پر معافی دے دی۔
پھر غزوہ حنین پیش آیا۔اس غزوہ میں آپ ؐکے ساتھ باراہزار ا(12000) لوگ شامل تھے۔کچھ کم تربیت یافتہ تھے۔اسس جنگ میں ہوزن اور بنو ثقیف کے تیر اندازوں کی وجہ سے بڑا نقصان ہوا۔ بھگڈر مچ گئی لوگ اِدھر اُدھر بھاگ گئے۔ رسولؐ اللہ پہاڑ کی چٹان کی طرح جنگ میں کھڑے رہے۔رسولؐ اللہ حضرت عباسؓ سے کہا مسلمانوں کو اکھٹا کرو۔ حضرت عباسؓ نے پکارا،اے درخت والے!یعنی  بیعت  رضوان والو!الے انصاریو! رسولؐ اللہ نے موقعہ پر ایک مٹھی مٹی کی دشمنوں کی طرف پھینکی۔ پھر اللہ نے ان کے چہرے بگاڑ دیے اور ان کو شکست ہوگئی۔
آخر میں غزوہ تبوک پیش آیا۔ روم و ایران اس وقت بڑی قوتیں تھیں۔مدینہ میں اُبھرتی ہوئی اسلامی قوت کو ختم کرنے کے لیے ہر قل شاہ روم نے چالیس ہزارا(40000) کا لشکر تیار کیا ہوا تھا۔سارے عیسائی دنیا کو اپنے جھنڈے تلے جمع کر لیا۔ رسولؐ اللہ نے بھی اعلان کر دیا کہ روم سے لڑائی ہیں۔ مسلمانوں تیار ہو جاؤ۔ اللہ کی طرف سے سورۃ توبہ میں اس جنگ کی تیاری پربحث ہوئی ہے۔ اس کی رفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔ اس جنگ سے پہلے ہی رومی بھاگ گئے۔ پھر رسولؐ اللہ نے 9ھ کو حضرت ابو بکرؓ کو امیر حج بنا کر مکہ روانہ کیا۔ اعلان کرایا کہ آیندہ کوئی مشرک حج کو نہ آئے۔ نہ کوئی ننگا آدمی خانہ کعبہ کا طواف کر سکتا ہے۔
اگر غزوات کی بات کی جائے اور ان کا گھرائی سے مطالعہ کیا جائے تو رسولؐ اللہ ایک بہترین کمانڈر کے طور پر ان غزوات کی کمانڈ کی، یہ دنیا کی تاریخ کا ایک لازوال اور عظیم واقعہ ہے۔ رسولؐ اللہ، مالکِ کائنات کا پیغام ان کے بندوں تک پہنچا کر اس دنیا سے سے ظلم و جور ختم کر کے انصاف کا نظام قائم کرنے کے مشن پر لائے گئے تھے۔ اللہ کے رسولؐ   نے ہرموقعہ پرصحابہؓ  کی تربیت کرتے رہے۔ جنگوں میں شکست کھانے کے بعد لوگ دین میں فوج درجوج داخل ہونے لگے۔ا للہ تعالیٰ نے رسولؐ اللہ کو اپنا  پیغمبر بناتے وقت فرمایا تھا”اے(محمدؐ) جو کپڑا لپٹے پڑے ہو۔ اُٹھو اور ہدایت کرو۔(سورۃ المدثر۔آیات1۔2) پھر کیا تھا اللہ کے پیغمبرؐ  اُٹھ کھڑے ہوئے۔ دنیا کو واعظ ونصیحت کے ذریعے ڈارایا۔ جو واعظ ونصیحت سے نہ مانے ان کے ساتھ جنگیں کیں۔ حج الوادع کے موقع پر یہ کام انجام کو پہنچا۔ آپ نے اپنے خطبے میں ایک لاکھ چالیس ہزار(140000) صحابہؓ کے مجمع میں انسانیت کے فاہدے کی ساری ہدایت فرما دیں۔آپؐ نے فرمایا کیا میں نے آپ تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ سارے صحابہ ؓ نے یک زبان ہو کر کہا جی ہاں آپؐ نے اللہ کا پیغام ہم  تک پہنچا دیا پھر رسولؐ اللہ نے آسمان کی طرف انگلی کر کے کہا کہ، اے اللہ تری بندے گواہی دے رہے ہیں کہ میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا۔ آپ بھی  اس پر گواہ رہیں۔پھر اللہ کی طرف قرآن میں کہا گیا”
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دین پسند کر لیا“ (المائدہ
آیات3)۔ اس کے بعد آپ^ بیمار ہوئے۔ آپؐ12ربیع الاول11ھ کو  63 سال کی عمر میں مالکَ حقیقی سے جاملے۔ اب رہتی دنیا تک یہ ہی دین غالب رہے گا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے آخری پیغمبرؐ ہیں اور یہ دین آخری دین ہے۔ قیامت تک نہ کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور نہ نیا دین آئے گا۔ اب اس دین کو دوسری قوموں تک پہنچانے کا کام امت مسلمہ کرے گی۔ لہذا ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم اپنے اعمال ٹھیک کریں۔ مسلمان حکمرانوں نے اسلام کے دستور میں جتنی بھی خواہشات داخل کر دی گئیں ہیں، انہیں ایک ایک کر کے اپنے دستو ر عمل سے نکال دیں اور اپنے اپنے ملکوں میں حکومت الہیہ، اسلامی نظامِ حکومت، نظام مصطفےٰ(جو بھی نام ہو) اس کو قائم کریں او ر پھر اس اسلامی دستور کو دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ جنت کے حق دار بنیں اور جہنم کی آگ سے نجات پائیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اپنی آخری منزل جنت میں داخل ہوں۔ جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔جہاں نہ موت ہو گی نہ تکلیف ہو گی اللہ مومنوں سے راضی ہو گا اور یہی کامیابی ہے۔
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89532

داد بیداد ۔ ریا ست کا پہلا گریجویٹ ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ ریا ست کا پہلا گریجویٹ ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

محمد جنا ب شاہ (تمغہ خد مت) سابق ریا ست چترال کا پہلا گریجویٹ تھا جنہوں نے 1943ء میں اسلا میہ کا لج پشاور سے بی اے کا امتحا ن امتیازی نمبروں سے پا س کیا بظا ہر یہ کوئی بڑی بات نہیں مگر 100سال پہلے کا جعرافیا ئی ما حو ل اور اُس وقت کی سما جی و معا شرتی حا لت پر ایک سر سری نظر دوڑا نے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑا کارنا مہ تھا اُس کے گاوں زوندرانگرام تریچ سے ریا ستی پائیہ تخت چترال تک پہنچنے کے لئے 3دنوں کا پیدل سفر کرنا پڑ تا تھا چترال سے چکدرہ7دنوں کی پیدل مسا فت کا سفر تھا محمد جنا ب شاہ کی پیدائش کے صرف ایک سال بعد ان کا باپ محمد عارف چترال افغان جنگ میں بر کوٹ کے مقام پر شہید ہوا محمد جنا ب شاہ نے اسلا میہ سکول نو شہرہ سے مڈل سٹینڈرڈ کا امتحا ن 1936ء میں پا س کیا، میٹرک کا امتحا ن 20سال کی عمر میں ہائی سکول چمکنی پشاور سے 1938ء میں پا س کیا، انہوں نے عر بی اور فار سی کی تما م متدا ول کتا بیں نا مور اساتذہ سے پڑھ کر کامل استعداد حا صل کی، ہاکی کے کھیل میں نا م پیدا کیا دوڑ کے مقا بلوں میں میڈل حا صل کئیے،

 

لانگ جمپ، ہائی جمپ، رسیوں پر چڑھنے، رسی پر چلنے اور دیگر جسما نی کھیلوں میں نا مور اتھلیٹ قرار پائے، انتہائی ما لدار لو گوں کے بچوں کے ساتھ مقا بلہ کر کے اسلا میہ کا لج جیسے بڑے ادارے میں داخلہ لیا یہ سب خواب اور خیال معلوم ہوتا ہے اس قدر ہشت پہلو شخصیات بہت کم ملتی ہیں نفسیات کی اصطلا ح میں ایسی شخصیت کو ہمہ جہت کہا جا تا ہے انگریزی میں اس کے لئے ورسٹائیل (Versatile) کا لفظ استعمال ہوتا ہے سما جی علوم میں ایسی شخصیت کو ہر فن مو لا کہا جا تا ہے محمد جنا ب شاہ نے خود کو کبھی وسائل کا محتاج نہیں ہونے دیا بلکہ خا لی ہاتھ کیساتھ بڑے بڑوں کا مقا بلہ کیا اور ہر میدان میں کامیاب ہوا ان کی سوانح عمری کے ابتدائی سال بہت مشکل تھے

 

انہوں نے مسجدوں میں قیا م کر کے سکولوں میں تعلیم حا صل کی، میٹرک کے بعد ایک سال فو ج کے محکمہ رسد (log) میں بطور کلر ک کام کیا، اس دوران اسلا میہ کا لج میں داخلہ ملا تو سکا لر شپ حا صل کیا 1941میں ایف ایس سی کیا اور تھرڈ ائیر آرٹس میں داخلہ لیا 1942میں آپ کو برٹش انڈیا کی ائیر فورس میں کمیشن کے لئے منتخب کیا گیا لیکن آپ کے کا غذات چال چلن کی تصدیق کے لئے آبائی وطن بھیجد یے گئے تو آبائی ریا ست کی انتظا میہ نے اس بنا ء پر تصدیق سے انکار کیا کہ آپ کے اباو اجداد کا تعلق حکمران خا ندان سے نہیں تھا یہ واقعہ بڑا دل شکن تھا مگر آپ نے حو صلہ نہیں ہا را 1943ء میں آپ نے بی اے کر لیا تو اس کی گونج ریا ستی انتظا میہ کے ایوا نوں میں پہنچی ریا ست کا پہلا اینگلو ورنیکو لر سکول 1938ء میں کھل چکا تھا ہز ہائی نس نا صر الملک نے افتتاح کیا تھا، پشاور، دہلی اور بھوپال سے مڈل یا میٹرک پا س کر کے آنے والے اساتذہ مقرر تھے

 

چترال کے اسسٹنٹ پو لیٹکل ایجنٹ کپٹن ڈی جی تھورن بر گ نے آپ کو چترال بلا کرسکول میں پہلا گریجو یٹ استاد مقرر کیا ایک سال بعد میجر ایم ڈبلیو ایچ وائٹ نے آپ کو سکول کا ہیڈ ما سٹر مقرر کیا آپ بحیثیت استاد اور سر براہ سکول کو شہر ت کی بلندیوں پر لے گئے آپ کمرہ جما عت میں طلباء کے ساتھ مشفقانہ اور دوستا نہ رویہ رکھتے تھے، انگریزی، اردو اور ریا ضی پڑھا تے تھے مگر یک طرفہ درس نہیں دیتے تھے طلباء سے بھی سبق سنتے تھے، تلفظ کی اصلا ح کر تے تھے، کا پیاں چیک کر تے تھے ہر طا لب علم کو نا م سے جا نتے اور ان کے گھریلو حا لات سے واقفیت رکھتے تھے کھیل کے میدان اور جسما نی ورزش میں خود سامنے آکر نمو نہ دیتے تھے کھیلوں میں طلبہ کے ساتھ شریک ہو تے اور ان کی حو صلہ افزائی کر تے تھے مگر اسا تذہ کے لئے بہت سخت گیر ہوا کر تے تھے،

 

معمولی غلطی ہو جا تی تو تنخوا ہ کا ٹتے اور کڑی سزائیں دیتے تھے،ان کی شبانہ روز محنت اور قابلیت کو دیکھ کر اے پی اے عزت بخش اعوان نے 1953میں آپ کو ریا ست کا افیسر تعلیم مقرر کیا اس حیثیت میں آپ نے ریا ست کے طول و عرض میں سکول کھولے، آپ گھوڑے پر سفر کر تے ہوئے دور دراز دیہات کے سکولوں کا سال میں دوبار معا ئنہ کر تے تھے ہر سکول میں پورا دن گذارتے طلباء کے ساتھ تبا دلہ خیال کر تے استاد کا کام دیکھتے، سکول کاریکارڈ چیک کر تے، مو قع پر ہدایات دیتے استاد سے کوئی کو تا ہی ہو جا تی تو سزا بھی تجویز کر تے، آپ کی خد مات کے اعتراف میں 23مارچ 1961کو حکومت پا کستان نے آپ کو تمغہ خد مت (TK) کا سول اعزاز عطا کیا، اگست 1970ء میں آپ نے آخری بار سکولوں کا معا ئنہ کیا ہر سکول میں آپ نے طلباء سے خطاب کر کے ان کو خبر دار کیا کہ آنے والا دور تعلیم کے میدان میں سخت مقا بلے کا دور ہو گا جو محنت کرے گا وہی کامیاب ہو گا،

 

یکم جنوری 1971ء کو آپ کی ملا زمت کے 7سال با قی تھے اور آپ صو بے کے دو سینئر ترین افیسروں میں شما ر ہو تے تھے سینئر ممبر بورڈ آف ایو نیو ظفر علی خان کا لج اور سروس میں آپ سے جو نئیر تھے، صو بائی حکومت نے آپ کو جبری ریٹائر کر دیا، محمد جناب شاہ (تمغہ خد مت) درس و تدریس میں مثا لی استاد اور انتظا می امور میں بھی مثا لی منتظم تھے، انہوں نے اپنی مخلصا نہ کو شش اور انتھک محنت سے سابق ریا ست چترال میں جدید تعلیم کے چشمے بہا دیے اور نئی نسل کو بہتر مستقبل کی راہ دکھا ئی ان کا طرز عمل آج بھی نو جوا نوں کے لئے مشعل راہ ہے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامین
89513

مشکلات میں کیا کرنا چاہیے ۔ خاطرات : امیرجان حقانی

مشکلات میں کیا کرنا چاہیے ۔ خاطرات : امیرجان حقانی

زندگی میں آزمائشیں اور مشکلات آتی ہیں اور مالی مسائل بھی انہی آزمائشوں میں سے ایک ہیں۔ ایسے حالات میں جب انسان مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہو، تو اس کے ذہنی اور جسمانی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آج کی تحریر میں ان افراد کو اطمینان، سکون، اور حوصلہ فراہم کرنا ہے جو ان حالات سے گزر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چند معروضات عمومی حوالے سے بھی عرض کرنی ہیں تاکہ تحریر سے استفادہ عامہ ممکن ہو. دینی اور دنیاوی نقطہ نظر سے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح ہم ان مشکلات سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔

 

دینی نقطہ نظر

دین اسلام بھی انسان کے ہر معاملے میں مکمل رہنمائی کرتا ہے. قرآن کریم کی سینکڑوں آیات، آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے فرامین اور سیرت اس حوالے سے انسان کو بہت زیادہ رہنمائی اور موٹیویشن دیتی ہیں. تاہم ایک دو پوائنٹس دینی نکتہ نظر سے عرض کرتے ہیں.

 

1.صبر اور توکل:

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صبر کرنے کی تاکید کی ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں.

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾
ترجمہ”اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
صبر اور نماز کے ذریعے ہم اللہ کی مدد حاصل کر سکتے ہیں اور دل کو سکون پہنچا سکتے ہیں۔ یہ مجرب اعمال ہیں. اسی طرح توکل بھی ہے.

 

2.شکر گزاری:
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہمیں ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ مالی مشکلات ہیں، لیکن ہماری زندگی میں بہت سی دوسری نعمتیں بھی ہیں جن کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ

ترجمہ “اور اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔” (سورۃ ابراہیم: 7).

 

3.دعا اور استغفار:

دعا ایک ایسی عبادت یا ایکٹیویٹی ہے جس کی کیفیات ہر انسان کے لیے علیحدہ ہے. دعا کرنا اور اللہ سے مدد طلب کرنا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ استغفار کے ذریعے ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ دعا اور استغفار سے دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔

 

دنیاوی نقطہ نظر

مشکلات سے نمٹنے کے لئے دین کیساتھ دنیاوی اعتبار سے بھی بڑی رہنمائی ملتی ہیں. جو باتیں عموماً دنیاوی اعتبار سے کہی جاتیں ہیں وہ بھی دینی نقطہ نظر ہی ہوتا ہے. دین اسلام نے ان تمام ہدایات و امور کو سمو دیا ہے تاہم، ہم افہام و تفہیم کی آسانی کے لیے دنیاوی عنوان سے اس کا ذکر کر دیتے ہیں. چند اہم پوائنٹ ملاحظہ کیجئے.

 

1.خود اعتمادی اور مثبت سوچ:

دنیاوی اعتبار سے، خود اعتمادی اور مثبت سوچ اپنانا ضروری ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ آپ ہر مشکل کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہر دن کو ایک نئے موقع کے طور پر دیکھیں اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے محنت کریں۔

 

2.مدد قبول کرنا:

جب ہم بالخصوص مالی مشکلات و مسائل کا سامنا کرتے ہیں تو بعض اوقات ہم مدد لینے سے جھجکتے ہیں، لیکن مشکل حالات میں مدد قبول کرنا ضروری ہے۔ دوستوں، رشتہ داروں یا فلاحی اداروں سے مدد لیں۔ یہ یاد رکھیں کہ مدد طلب کرنا کوئی کمزوری نہیں ہے بلکہ ایک سمجھداری کا عمل ہے۔ بہت دفعہ رریاستی سسٹم میں بھی مدد کے کئی پہلو موجود ہوتے ہیں جو ہمیں معلوم نہیں ہوتے.
عمومی طور پر ایک مسئلہ پیش آتا ہے کہ لوگ مدد کرنے یا قرضہ حسنہ دینے سے کتراتے ہیں، وہ الگ بحث ہے. سردست یہ دیکھنا کہ مشکل اوقات میں دیگر احباب سے مدد طلب کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے.

 

3.نئے مواقع کی تلاش:

عموماً ہم جب بھی مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتے ہیں اور مزید خود کو کمزور اور کسیل بنا دیتے ہیں.
ایسے میں مالی مشکلات کا سامنا کرتے وقت نئے مواقع کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ کوئی نیا ہنر سیکھیں، کوئی نیا کاروبار شروع کریں یا موجودہ کام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ دنیاوی اعتبار سے، جدت اور محنت ہی ہمیں کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔

عمومی طور پر ہم جب بھی مشکلات میں پھنسے، یہ مشکلات کسی بھی نوعیت کے ہوسکتے ہیں. مالی ہونا ضروری نہیں. ایسے حالات میں ہمیں چند باتوں کا خصوصیت سے خیال رکھنا چاہیے تاکہ ان حالات و مشکلات کا مقابلہ کرسکیں.

 

1.مثبت سوچ و رویہ اپنائیں:

منفی ترین حالات میں بھی ہمیشہ مثبت پہلو دیکھنے کی کوشش کریں۔ ہر مشکل میں سیکھنے کا موقع تلاش کریں۔ ایسے حالات میں رویوں کو مزید مثبت بنانے کی اشد ضرورت ہوتی ہے.

 

2.اہداف مقرر کریں:

واضح اور قابلِ حصول اہداف طے کریں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کریں۔ یہ آپ کو سمت فراہم کریں گے اور آپ کی محنت کو بامقصد بنائیں گے۔ اہداف طے کیے بغیر زندگی بہت مشکل اور بے ڈھنگ ہوجاتی ہے. میں اپنے طلبہ کو اہداف کے تعین کے حوالے سے باقاعدہ لیکچر دیتا ہوں. یہ صراط مستقیم ہے جو ہر انسان کی الگ ہے جس کا ہر ایک کو الگ الگ جاننا ضروری ہے.

 

3.استقامت برقرار رکھیں:

کامیابی کے حصول کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتا ہے. کامیابی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی۔ کامیابی کے حصول کے لئے مستقل مزاجی اور صبر کے ساتھ کام جاری رکھیں۔ہزاروں عالمی و کامیاب شخصیات میں استقامت کامن صفت ہے. اللہ نے بھی اسی کا حکم دیا ہے.

 

4.خود پر اعتماد رکھیں:

خود اعتمادی سے ہی آپ مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یقین رکھیں کہ آپ کے پاس مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور ٹیلنٹ موجود ہے۔ آپ مسائل کو ریزہ ریزہ کرسکتے ہیں. بس اس کے لئے خود پر، اپنے سکلز اور علم پر اعتماد کی ضرورت ہے.

 

5.حوصلہ افزائی حاصل کریں:

ہم عمومی طور پر حوصلہ شکن لوگ ہیں. ہماری ناکامیوں کا ایک بڑا سبب حوصلہ شکنی ہے. ہم ذرا اوٹ اف بکس سوچنے والوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں. معاشرتی بیریر کھڑے کر دیتے ہیں، اور جی بھر کر حوصلہ شکنی کرتے ہیں. تاہم مشکل حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں جو ہماری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ڈھارس بندھاتے ہیں اور ہمیں مثبت توانائی دیتے ہیں۔ یہ لوگ بڑے غنیمت ہوتے ہیں. انہیں کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاہیے. معلوم کیجئے. رسول اللہ بھی اپنے اصحاب کو مثبت توانی دیتے رہتے تھے. کاش یہ طرز عمل ہمیں سمجھ آجائے.

 

6.تعلیم اور مہارت میں اضافہ کریں:

اپنی تعلیم اور اپنی مہارتوں میں اضافہ کرنے سے بھی انسان ایزی فیل کرتا ہے بلکہ دوسروں سے نمایاں ہوجاتا ہے. علم اور مہارتیں بڑھانے سے آپ مشکلات کا بہتر سامنا کر سکتے ہیں اور مزید مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ دور ہی تعلیم و سکلز میں مہارتوں اور بڑھاوے کا ہے. اس سے انسان میں کنفیڈینس بھی آجاتا ہے.

 

7. خود کو آرام دیں:

بعض دفعہ ہم مشکلات میں مزید الجھ جاتے ہیں. ڈپریشن اور اینگزائٹی کا شکار ہوجاتے ہیں. خود کو تکلیف دینے لگ جاتے ہیں. اس سے پرہیز لازم ہے. جسمانی اور ذہنی سکون کے لیے وقت نکالیں۔ ورزش میں مشغول رہیں۔ خوب نیند کریں اور گھر والوں کو بھی ٹائم دیں اور کھلیں کودیں. گپیں ماریں. چیخیں چلائیں اور ہنسیں ہنسائیں. غرض جس شکل میں بھی انجوائے کرنے کی گنجائش ہو کرگزر جائیں.

 

8.منصوبہ بندی اور تنظیم:

مشکلات میں بالخصوص اپنے وقت اور وسائل کی بہتر منصوبہ بندی کریں. مسائل اور وسائل کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ ترجیحات کا تعین کریں اور اہم کاموں پر توجہ دیں۔ غیر ضروری امور میں الجھنے اور پھنسنے سے قطعی گریز کریں.

 

9. مثبت عادات اپنائیں:

انسان کو ہر اعتبار سے مضبوط بننے کے لئے کچھ مستقل عادات اپنانی ہوتی ہیں. ان سے بہت کچھ اچھا محسوس کیا جاسکتا ہے. روزانہ کی مثبت عادات، جیسے کہ مطالعہ، ورزش، اور شکرگزاری، گھر کے چھوٹے موٹے کام، آپ کو مضبوط اور مثبت بناتی ہیں۔ اور بہت ساری عادات حسب ضرورت اپنائی جا سکتیں ہیں.

 

10.ماضی سے سیکھیں:

یاد ماضی کو عذاب بنانے کے بجائے اسی ماضی کی ناکامیوں اور کامیابیوں سے سبق حاصل کریں اور مستقبل میں بہتر فیصلے کرنے کی کوشش کریں۔ بعض اوقات ماضی کی غلطیاں اور کامیابیاں عظیم استاد بنتی ہیں. ہمیں بڑے نقصانات سے بچاتی ہیں اور کامیابیوں کی طرف گامزن کرتی ہیں.

تلکہ عشرۃ کاملۃ، فی الحال یہی دس نکات کافی ہیں.

 

مشکلات مالی ہوں یا کوئی بھی، زندگی کا حصہ ہیں، لیکن ان سے نبرد آزما ہونے کا طریقہ ہمارے اختیار میں ہے۔ دینی اور دنیاوی نقطہ نظر کو اپنا کر ہم نہ صرف اپنی مالی مشکلات سے نکل سکتے ہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ صبر، شکرو ذکر، دعا، اور استغفار سے دل کو سکون ملتا ہے، جبکہ خود اعتمادی، مثبت سوچ، اور نئے مواقع کی تلاش سے ہم دنیاوی اعتبار سے بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ہر مشکل سے نکالے۔ آمین۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
89442

پیام شاہ  امم ص  کا بھرم رہے کچھ لوگ – از قلم: عصمت اسامہ۔

Posted on

پیام شاہ  امم ص  کا بھرم رہے کچھ لوگ – از قلم: عصمت اسامہ۔

 

” استاذ جی کو بتا دینا کہ میں دھرنے کے لئے جارہا ہوں اس لئے جلدی نکل رہا ہوں۔میں لیڈ ٹیم میں شامل ہوں اور میرا وہاں جانا بہت ضروری ہے غزہ کے لئے۔ غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے بعد تو جینا بھی اچھا نہیں لگتا۔استاذ کو میرا یہ پیغام پڑھا دینا۔۔۔۔” رومان ساجد شہید کا یہ آخری پیغام تھا جو اس نے فلس طین دھرنا ڈی چوک میں نکلنے سے قبل اپنے دوست کو بھیجا تھا۔ وہ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کا طالب علم،آزاد کشمیر کا باشندہ تھا اور ” سیو غ زہ کمپین ” میں بطور سوشل میڈیا ذمہ دار،کام کر رہا تھا۔پندرہ دنوں سے پارلیمنٹ کے سامنے ایکس سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب،ان کی اہلیہ حمیرا طیبہ (فاؤنڈر سیو غ زہ کمپین) کچھ طلبہ اور شہریوں کے ساتھ دھرنا دئیے ہوۓ ہیں۔ اپنے آرام دہ گھروں کو چھوڑ کر سخت گرمی میں یہ لوگ سڑکوں پر دن رات کیوں گزار رہے ہیں؟ کیا یہ ڈی چوک پر کسی ذاتی مفاد کے لئے جمع ہوۓ ہیں؟ پولیس کی دھمکیوں،لاٹھی چارج، رات دو بجے گاڑی چڑھانے کے قاتلانہ واقعہ اور دو معصوم شہریوں کی شہادت کے باوجود یہ لوگ دھرنا کیوں جاری رکھے ہوۓ ہیں،آخر کیوں؟ درحقیقت ان کا اپنا کوئی ذاتی مقصد نہیں ہے بلکہ ” فلس طین میں جاری نسل کشی” کو روکنے اور عالمی طاقتوں کی کھلی دہ شت گردی کے خلاف،حکومت_ پاکستان سے عملی اقدامات کا تقاضا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں کہ غ زہ میں پندرہ ہزار معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیل کر، بستیوں اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے، غیر مسلم اقوام بھی اب سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں

۔انسانیت کی تذلیل کے خلاف انسانیت اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ یورپی یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات،کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے فلس طین میں جاری قتل_ عام کو روکنے کے لئے دھرنے اور جلسے کر رہے ہیں،مسلمان ممالک کی یہ خاموشی،زندہ ضمیروں پر بے حد گراں گذر رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایمان اور عقیدے کی جنگ ہے جو قبلہء اول بیت المقدس،خانہء خدا کی خاطر لڑی جارہی ہے،یہ صرف فلس طین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بہت جلد دیگر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی،اگر امت_ مسلمہ نے جلد متحد ہوکے کوئی لائحہ عمل تیار نہ کیا تو یوں ہی گاجر مولی کی طرح یکے بعد دیگرے کٹتے مرتے چلے جائیں گے۔

سیو غ زہ کمپین کے سب پرامن شرکاء مبارک باد کے مستحق ہیں جو حق کا علم اٹھاۓ میدان میں اترے ہوۓ ہیں،غ زہ کے معصوم بچوں کی تکالیف کو اپنے بچوں کی تکالیف کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ جنھیں اپنے رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوکے جواب دہی کے خوف نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں لا کے کھڑا کردیا ہے،جنھوں نے یہاں کیمپوں کو نمازوں،تلاوت_ قرآن اور دروس سے آباد کردیا ہے، جو لاٹھیاں برسانے والے پولیس اہلکاروں کو بھی پانی کی بوتلیں تقسیم کرتے نظر آتے ہیں،

محترمہ حمیرا طیبہ (فاؤنڈر سیو غ زہ کمپین) ہر بار نوجوانوں کو پولیس گردی سے بچانے کے لئے خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھ جاتی ہیں انھوں نے صحابیہ حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا کی یاد تازہ کردی ہے،جو ایک غزوہء میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چاروں اطراف سے دفاع کر رہی تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ “آج تو ام عمارہ کا دن تھا!”. کیا کبھی کسی نے ویمن ایمپاورمنٹ کی ایسی مثال کہیں اور دیکھی ہوگی؟

~ ہر ایک قدم پر ثابت قدم رہے کچھ لوگ
جبینِ وقت پر کچھ ایسے رقم رہے کچھ لوگ
زوال_ جرات _ کردار کے زمانے میں
پیام_ شاہ_ امم ص کا بھرم رہے کچھ لوگ!

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
89439

ذیابیطس میں دنیا کا نمبر1ملک پاکستان – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

ذیابیطس میں دنیا کا نمبر1ملک پاکستان – میری بات:روہیل اکبر

دنیا میں تیزی سے ترقی کرتا ہوا پاکستان یک دم تنزلی کی طرف گیا یا آہستہ آہستہ اس پر سوچنے سے پہلے بس اتنا یاد رکھیں کہ یہ وہ علمی ملک تھا جس کے تعلیمی اداروں میں بیرون ممالک سے بچے آکر پڑھا کرتے تھے پاکستان ایک ایسا خوبصورت ملک تھا جہاں دنیا پھر کے سیاح گھومنے آیا کرتے تھے اسکے ادارے ان میں کام کرنے والے لوگ اتنے پیارے،مخلص اور باصلاحیت تھے کہ بچپن میں جس کو دیکھتے بڑے ہوکر وہی بننے کی خواہش ہوتی تھی لوگ صحت مند ہوا کرتے تھے اور وہ بیماریاں جو آج پورے پاکستان کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں انکا نام تک نہیں آتا تھا پھر وقت نے پلٹا کھایا اور ملک اندھیروں کے راستے پر گامزن کردیا گیا اپنے ہی بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کردیے گئے

 

اس شعبہ میں ایسے ایسے کاریگر قسم کے لوگ آئے جنہوں نے امیروں اور غریبوں کی تعلیم کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا بلکہ غریبوں سے تعلیم کا حق ہی چھین لیا گیا آ ج ہمارے بچے جس طرح کرغستان /بشکیک سمیت دنیا بھر میں خوار ہورہے ہیں وہ پوری دنیا میں مزاق بن چکا ہے رہی بات صحت کی اس میں بھی ڈاکٹروں نے جو ہمارا حشر کردیا ہے وہ بھی ناقابل یقین ہے سرکاری ہسپتالوں میں انسانوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک ہورہا ہے ڈاکٹر بچوں کو جان سے مارتے بھی ہیں اور پھر انکے والدیں کو احتجاج بھی نہیں کرنے دیتے الٹا انہیں بھی مارتے ہیں اور پھر تھانوں میں پرچے بھی کرواتے ہیں ہماری پولیس اپنی کرتوتوں کی وجہ سے کبھی فوجیوں سے مار کھاتی ہے تو کبھی کھسرے انہیں تھانوں میں گھس کر مارتے ہیں رہی بات عوام کی انہیں ہمارے حکمرانوں نے اس قابل چھوڑا ہی نہیں کہ وہ کچھ کرسکیں الیکشن سے پہلے کوئی 2سو یونٹ بجلی مفت دے رہا تھا تو کوئی 3سو یونٹ مفت بجلی کا لالی پاپ ہاتھ میں پکڑے عوام کو ترسا رہا تھا جبکہ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے تو اپنے کپڑے بھی بیچنے کا وعدہ کررکھا تھا لیکن جب یہ لوگ فارم47کی مدد سے جیت گئے تو پھر انکے سارے وعدے اور دعوے بھی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے

 

عوام کو حکمرانوں کے سارے وعدے بھول گئے گیونکہ وہ بے روزگاری،غربت،مہنگائی اور بیماریوں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں بیماریاں بھی ایسی جو لاعلاج ہیں ان میں ایک شوگریا ذیابیطس بھی ہے جو ایک دائمی بیماری ہے جس میں انسان کا جسم یا تو مناسب انسولین پیدا کرنے یا استعمال کرنے سے قاصر ہوتا ہے وہ ہارمون جو جسم کے خلیوں کو خون کے دھارے سے گلوکوز، یا شوگر کو جذب کرنے کے قابل بناتا ہے انسولین کی کمی کے نتیجے میں خلیات بھوکے مرتے ہیں اور خون میں شوگر کی سطح بلند ہوتی ہے یہ حالت ہائپرگلیسیمیا کہلاتی ہے جس کا علاج نہ ہونے پر جسمانی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے اگر مناسب طریقے سے علاج نہ کیا جائے تو ذیابیطس ایک سنگین اور جان لیوا مرض بھی بن سکتی ہے ذیابیطس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صحت کی پیچیدگیوں میں گلوکوما اور موتیابند، گردے کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر (ہائی بلڈ پریشر)، ذیابیطس ketoacidosis (DKA)، جلد کی پیچیدگیاں، اعصاب اور خون کی نالیوں کو نقصان اور پاؤں کی پیچیدگیاں شامل ہیں

 

انتہائی ذیابیطس ہارٹ اٹیک، فالج، یا کسی عضو کو کاٹنے کی ضرورت کا باعث بھی بن سکتی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2019 میں 15 لاکھ اموات کی براہ راست وجہ ذیابیطس تھی بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (IDF) کے اعدادوشمار کے مطابق 2021 میں 6.7 ملین اموات صرف ذیابیطس کی وجہ سے ہوئی تھیں اوردنیا میں 20 سے79 سال کی عمر تک 10فیصدلوگ ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے جو 2030 تک بڑھ کر 643 ملین اور 2045 تک 783 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق 240 ملین لوگ ایسے ہیں جنہیں ذیابیطس ہے اور ان میں ان لوگوں کی بھی اکثریت ہے جنہیں اس مرض کا علم ہی نہیں ہے

 

اگر ہم شوگر کے مرض کے حوالہ سے دنیا کے ٹاپ 10 ممالک کا ذکر کریں تو ان میں پاکستان 30.8فیصد کے حساب سے سب سے اوپر ہے جہاں شوگر کے مریض سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں جبکہ فرانسیسی پولینیشیا 25.2 فیصد کے حساب سے دوسرے نمبر،کویت 24.9فیصدسے تیسرے نمبر پر،نیو کیلیڈونیا 23.4 فیصد سے چوتھے نمبر پر،شمالی ماریانا جزائر 23.4 فیصد سے پانچویں نمبر پر،ناورو 23.4 فیصد سے چھٹے نمبر پر،مارشل جزائر 23 فیصد سے ساتویں مبر پر،ماریشس 22.6 فیصد سے آٹھویں نمبر پر،کریباتی 22.1 فیصد سے نویں نمبر پر،مصر 20.9 فیصد سے دسویں نمبر پر ہے جبکہ دنیا میں ذیابیطس کی سب سے کم شرح والا ملک بینن ہے جہاں کی 1.1 فیصد آبادی ذیابیطس کے ساتھ رہ رہی ہے پاکستان میں اس موذی مرض کو لگام ڈالنے کے لیے اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ)کے سیکریٹری جنرل ثناہ اللہ گھمن بہت کام کررہے ہیں وہ ہمارے آنے وال کل سے بہت خوفزدہ ہیں اسی لیے تو انکی کوشش ہے کہ بچوں کو اس بیماری سے بچایا جائے

 

ہمارے ہاں تو ویسے بھی دو نمبری بہت زیادہ ہے اور جو جوس مارکیٹ میں دستیاب ہیں وہ انتہائی خطرناک ہیں یہ جوس نہ صرف صحت عامہ کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اس پر کافی منفی اثرات بھی مرتب کرتے ہیں میٹھے مشروبات سے پیدا ہونے والے شدید صحت کے خطرات بشمول موٹاپا، ٹائپ ٹو ذیابیطس،دل اور گردے کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں 33 ملین سے زائد افراد کے ساتھ ذیابیطس کا مرض آسمان کو چھو رہا ہے اور پاکستان میں ہر تیسرا بالغ ذیابیطس کا شکار ہے جبکہ ثناء اللہ گھمن نے ترک سفیر کے نام خط ایک خط بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے پالیسی پراسس میں مداخلت پر سخت غم و غصے کا اظہار بھی کیا ہے کہ کہ آپ نے حالیہ دنوں میں وزیر خزانہ اور دوسرے پالیسی سازوں سے مشروبات کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی ہے کہ آنے والے بجٹ میں میٹھے مشروبات پر ٹیکسوں کو کم کیا جائے

 

آپ نے پالیسی پراسس میں مداخلت کر کے پاکستانی عوام کی صحت پر مشروبات کمپنیوں کے کاروباری مفاد کو ترجیع دی ہے کیونکہ جوسز سمیت میٹھے مشروبات کا باقاعدہ استعمال بچوں اور بڑوں میں کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے یہ عمل نہ صرف پاکستانی عوام کی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہے بلکہ پاکستانی معشیت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے پاکستان پہلے ہی زیابیطس کے پھیلاؤ میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے اور اگر فوری پالیسی اقدام نہ کیا گیا تو 2045تک زیابیطس کا شکار لوگوں کی تعداد 6کروڑ 20لاکھ تک ہو جائے گی روزانہ 1100لوگ صرف پاکستان میں ذیابیطس یا اس سے ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے دنیا سے جا رہے ہیں اس لیے ہماری آپ سے درخواست ہے کہ آپ پاکستانیوں کی صحت سے کھلواڑ کرنے والی کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں ہم پاکستان کی سول سوسائٹی اور ہزاروں ماہرین صحت کے نمائندے کے طور پر آپ سے درخواست اور توقع رکھتے ہیں کہ آپ مشروبات کمپنیوں کے کاروباری مفاد کی بجائے پاکستانی عوام کی صحت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89414

28مئی یوم تکبیر۔ میر افسر امان

بسم اللہ الرحمان الرحیم
28مئی یوم تکبیر۔ میر افسر امان

اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔”اور تم لوگ، جہاں تک تمھارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کے لیے مہیّا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُورسرے اعدا کو خوف زدہ کر دو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔(سورۃ الانفال۔20)اس کا مطلب ہے کہ تمھارے پاس سامان جنگ اور مستقل فوجی ہر وقت تیار رہنی چاہیے

 

۔میاں نواز شریف کی حکومت میں 28مئی1998 کوبلوچستان کے علاقے چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان نے سات(7)ایٹمی دھماکے کر قرآن کے اس حکم پر عمل کیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج پاکستان اپنی ہزاروں کمزرویوں کے باجود، دشمنوں سے محفوظ ہے۔ نواز شریف نے قوم کے درمیان مقابلہ کروا کر اس دن کا نام”تکبیر“ متعین کیا تھا۔ پاکستانی قوم ہر سال28مئی ایٹمی دھماکوں کی خوشی میں یوم تکبیر مناتی ہے۔

 

اگر پاکستان کے دشمنوں کی بات کی جائے توخطے میں بھارت کے علاوہ پاکستان کا کوئی دشمن نہیں۔اس لیے کہ بھارت نے پاکستان کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ بھارت اپنے بچوں کو یہودیوں کی طرح پٹی پڑھا رکھی ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان بنا کر،ہمارے گائے ماتا، یعنی ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دیے ہیں۔ ہم پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت مکمل کریں گے۔ہٹلر صفت،متعصب، وزیر اعظم بھارت نرنیدرا مودی جی نے بھارت کی پارلیمنٹ کی دیوار پر اکھنڈ بھارت کا نقشہ بھی لگا دیا ہے۔ جس میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان اور ارد گرد کے سارے ملک اس نقشہ میں موجود ہیں۔ اسی طرح دہشت گرد اسراعیل نے بھی اپنی پارلیمنٹ کے دیوار پر نقشہ لگا رکھا ہے۔ جس میں لکھا ہے”اے اسراعیل تیری سرحدیں دریائے نیل سے دریائے دجلہ تک ہیں“ اس میں اُردن، شام، عراق سعودی عرب کے مدینہ تک کا علاقہ شامل ہے۔

 

بھارت کے ہٹلر صفت، متعصب، مسلم دشمن اور دہشت گرتنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ”آر ایس ایس“ کے بنیادی رکن ہیں۔ یہ تنظیم بھارت کو اسراعیل کی طرح ایک ہندو کٹر قوم پرست ملک بنانا پاہتی ہے۔ ہندو قوم کو دوسری قوموں سے برتر سمجھتی ہے۔ یہ دہشت گرد تنظیم بھارت سے مسلمانوں کو نکال کر خالص ہند و ملک بنانے کا ایجنڈا رکھتی ہے۔ اس پر انگریز دور میں بھی دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے پابندی لگی تھی۔ بھارت نے پہلے بھی پاکستان کی کمزرویوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے، اسی پالیسی پر عمل کیا اور اندرہ گاندھی وزیر اعظم بھارت کے دور 1971ء میں پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے۔جب سے مسلم دشمن،ہٹلر صفت، متعصب مودی کی آر ایس ایس کے اتحاد سے حکومت بنی ہے۔ بھارت کے لیڈر کہتے ہیں پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھے اب مذید دس ٹکڑے کریں گے۔ متعصب مودی بھارت کے یوم آزادی پر مسلمان مغل بادشاہوں کے بنائے ہوئے یاد گارلال قلعہ دہلی پرکھڑے ہو کر تقریر میں کہاتھا کہ مجھے بلوچستان اور گلگت بلتستان سے علیحدگی پسندوں کی مد دکے لیے فون کال آرہی ہیں۔

 

پاکستان بننے کے بعد متعصب ہندو لیڈر شپ نے بعد پاکستان کے اثاثے روک لیے تھے۔جس پر گاندھی جی کو بھی مرن بھرت رکھنا پڑا تھا۔ تقسیمِ ہندوستان کے بین القوامی معاہدے کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں پاکستان اور جہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے وہاں بھارت بننا تھا۔ آزاد ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی رعایا کا خیال رکھتے ہوئے پاکستان یا بھارت میں شریک ہوں۔ کچھ ریاستوں کے حکمران مسلمان تھے، مگر ان کی رعایا ہندو تھی۔ مسلمان حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا فیصلہ کیا۔ مگر بھارتی حکمرانوں نے اس رائے کو ایک طرف رکھتے ہوئے جبر سے وہاں اپنے فوجیں بھیج کر قبضہ کر لیا۔ ریاست کشمیر کے مسلمانوں کی پارٹی ”مسلم کانفرنس کشمیر“ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیاتھا۔ مگر کشمیر کے ہند راجہ ہری سنگھ کی جعلی الحاق کی دستاویز پر مسلمانوں کی ریاست جو کہ پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتی تھی بھارت نے اپنے فوج بھیج کر1947ء میں اسے محکوم بنا لیا۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فوراً پاکستانی فوج کے کمانڈر جنرل گریسی کو کشمیر میں فوج بھیجنے کا حکم دیا۔ لیکن دنیا کی فوجی تاریخی روایات کو مسخ اور نفی کرتے ہوئے سپریم کمانڈر بانی پاکستان محمد علی جناح ؒ کا حکم نہیں مانا۔پھر پاکستانی قبائل کشمیری مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہوئے کشمیر کی جنگ میں شریک ہو گئے۔ موجودہ تین سو میل لمبی اور تیس میل چوڑی آزاد جموں کشمیر کو آزاد کر لیا۔ اب تک مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت چار جنگیں ہو چکی ہیں۔

 

متعصب بھارت کے بارے میں یہ ساری تاریخ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم پاکستانیوں کو باور کرانا ہے کہ خطے میں پاکستان کی کسی بھی ملک سے لڑائی نہیں ہے۔ چین ہمارا سدا
بہار دوست رہا ہے۔سمندر سے گہری، ہمالیہ سے اُونچی اورشہد سے میٹھی دوستی کا سلوگن ہم پاکستانی سنتے رہتے ہیں۔ ایران، افغانستان پاکستان سے کوئی دشمنی نہیں۔ خطے میں صرف بھارت ہی پاکستان کا دشمن ہے۔

 

بھارت نے18مئی1974 جب پکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کیے تو متعصب ہندولیڈروں نے آسمان سر پر اُٹھا لیا تھا۔ پاکستان کو دھمکیاں دینے لگے۔ اس پر ذوالفقار علی بھٹو چیرمین پیپلز پارٹی کا وہ تاریخی بیان کہ”ہم گھاس کھا کر گزارا کر لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے“ بھٹو سے یہ کوشش شروع ہوتی ہے اور ہر پاکستانی حکمران نے ایٹمی طاقت بننے کے لیے اپنی اپنی بسات کے مطابق کام کیا۔اس میں بڑا حصہ پاکستان کی مسلح افواج کا ہے۔ بھٹو کو امریکہ کے اُس وقت کے یہودی وزیر خارجہ ہنری کیسنگر نے دھمکی دی کہ ایٹمی بننا ختم نہ کیا اور اس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ پاکستان کے صدر اسحاق خان کو بھی دھمکی دی گئی۔

 

اللہ کا کرنا کے افغانستان پر روس نے قبضہ کر لیا۔ اللہ نے امریکہ کو اُدھر مصروف کر دیا۔ امریکہ کے قانون کے مطابق امریکی صدر، کانگریس کوسالانہ سرٹیفیکیٹ دیتا رہا کہ پاکستان کی امداد جاری رکھی جائے وہ ایٹم بم نہیں بنا رہا۔ جنرل ضیا ء نے اندر ہی اندر اس پروگرام کو ایٹمی سائنس دان، ڈاکٹر عبالقدیر خان، محسن پاکستان اور اس کے ساتھی ایٹمی سائنسدانوں کے ذریعے مکمل کرتا رہا۔ پھر ایک دن آیا جب نواز شریف کی حکومت تھی۔ پاکستان کے ایٹمی سائنس دانوں نے بلوچستان کے مقام چاغی کے پہاڑوں میں 28 مئی1998ء کو بھارت کے پانچ (5)دھماکوں کے جواب میں،سات (۷) ایٹمی دھماکے کر بھارت پر برتی حاصل کر لی۔ اسلامی دنیا کے پہلے اور دنیا کے ساتویں ایٹمی قوت کو دنیا سے منوا لیا۔ نواز شریف کے سیاسی مخالف پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں کہ نواز شریف ایٹمی دھماکے نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ امریکا نے پیسوں کی لالچ بھی دی تھی۔ یہ بھی سچ ہے کہ نوائے وقت کے ایڈیٹر مجیدنظامی نے نواز شریف کو کہا تھا کہ اگر آپ نے ایٹمی دھماکے نہیں کیے تو ہم آپ کا دھماکہ کر دیں گے۔جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمدؒ کا بھی دباؤ تھا۔ کچھ بھی ہو یہ حقیقت ہے کہ جس کے دور میں شروعات ہوئیں یعنی ذوالفقار علی بھٹو چیر مین پیپلز پارٹی اور جس کے دور میں ایٹمی دھاکے ہوئے،نواز شریف صدر نون لیگ ان دونوں کو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔چاہے ان کے سیاسی مخالف کتنا ہی پروپیگنڈہ کرتے رہیں۔
لیکن ایک حقیقت اور بھی ہے ہمارے سارے حکمران”وہن“ کی بیماری میں مبتلاہیں۔ دولت کی ہوس اور موت کا خوف میں مبتلا ہیں۔

 

اگر بھارت، مملکت اسلامی جمہوری پاکستان، جو اللہ کی طرف سے مثل مدینہ ریاست برصغیر کے مسلمانوں کو تحفہ کے طور پر ملی تھی، جو اب ایٹمی اور میزائیل طاقت ہے کو، بھارت صفہ ہستی سے مٹا کر اکھنڈ بھارت کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ تو پاکستان کو بھی اپنا وجود قائم رکھنے پر پلانگ کرنی چاہیے۔ ہم تاریخ کے ایک طلب علم ہونے کے ناطے اپنی عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ پاکستان میں بانی پاکستان قائد اعظمؒ کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ،جماعت اسلامی جس کی لیڈر شپ”وہن“ کی بیماری میں مبتلا نہیں، کو منتخب کر کے سامنے لایا جائے۔ اس پروپیگنڈے کو ایک طرف رکھ دیں کہ امریکہ پاکستان میں جماعت اسلامی کو آگے نہیں آنے دے گا۔جیسے مصر، الجزائر وغیرہ میں اسلام پسندوں کو آگے نہیں آنے دیا۔ ان کی جیت کو ان ہی کی فوجوں سے مروا کر پیچھے دکھیل دیا۔ لیکن اس دور میں یہ بھی حقیقت پاکستانیوں کے سامنے آئی ہے کہ عمران خان اور اس کے کارکنوں پر کتنے مظالم کیے گئے۔ اس کی پارٹی روز بروز آگے ہی بڑھ رہی ہے۔اپوزیش بھی اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئی ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک اشارہ سمجھاجائے۔ جب اللہ نے فیصلہ کر لیا تو جماعت اسلامی کوکوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ ان شاہء اللہ۔ اسلام کے دشمن تار انکبوت ثابت ہونگے۔ بس عوام آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیں۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ مضبوط اسلامی پاکستان متعصب بھارت کو اس کی اُوقات پر لے آئے گا۔ کشمیر ٓازاد ہو کر پاکستان کے ساتھ آملے گا۔ بھارت کے مظلوم مسلمانوں پر مظالم رک جائیں گے۔ وہ سکھ کا سائنس لیں گے۔ پاکستانی عوام کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کام صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی کی منتخب اسلامی حکومت ہی کر سکتی ہے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89406

ابراہیم رئیسی عالم اسلام کے ہیرو – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

ابراہیم رئیسی عالم اسلام کے ہیرو – میری بات:روہیل اکبر

ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی ایک بلند پایہ شخصیت اور عالم اسلام کے ہیرو تھے یوں انکا فضائی حادثے میں اچانک جاں بحق ہونا پوری امت مسلمہ کے لیے شدید تکلیف کا باعث بنا ہے صدر ابراہیم رئیسی ایک شاندار عالم اور بصیرت رکھنے والے رہنما تھے ہم نے ابراہیم رئیسی جیسا مخلص اور اعلی خصوصیات کا مالک بھائیوں جیسا دوست کھودیا مرحوم رئیسی کو ابھی ایک ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزر ہوگا کہ انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور انکے دورے سے پاکستان کی عوام میں خوشی کا جذبہ شدت سے پایا گیا کیونکہ انہوں نے جس جرات،بہادری اور عقل مندی سے اسرائیل پر حملہ کیا تھا وہ ایک ناقابل فراوش واقعہ تھا ان کی اس بہادری نے انہیں عالم اسلام کا ہیرو بنا دیا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ پاکستان کے جس جس شہر میں بھی گئے وہاں مقامی طور پر چھٹی کردی گئی تھی اور پاکستان کی عوام نے اس دن کو عید کے دن کی طرح گذارا تھا ابراہیم رئیسی کی شہادت امت مسلمہ کے لیے ایک المناک سانحہ ہے وہ مظلومین ِ غزہ کی حمایت میں ایک توانا آواز تھے

 

انہوں نے اسلام،قران اور مظلومین کا ہر پلیٹ فارم پر بھرپور دفاع کیاآپ ایک باحکمت،جرات مند اور بابصیرت رہنما تھے عالم اسلام کو اپنے اس نڈر رہنما پر فخر ہے مرحوم صدر ایران ابراہیم رئیسی کی ایک عظیم رہنما، بصیرت اور عالم کے طور پر تعریف کی جنہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا انکے جانے سے پاکستان نے بہترین دوست اور ایک مضبوط اتحادی کھو دیا ہے آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی مجاہد عالم دین رہبر انقلاب اسلامی کے توانا بازو اور امت مسلمہ کی توانا آواز تھے امریکہ اور عالمی استکباری طاقتوں کے خلاف سید ابراہیم رئیسی کا انقلابی کردار ناقابل فراموش ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرآن کریم کی عظمت و حرمت کا دفاع کر کے آپ نے امت مسلمہ کے دل جیت لئے تھے آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستانی قوم سے جس محبت کا اظہار کیا تھا وہ محبت دو طرفہ ہے پاکستانی قوم نے بھی آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کو مظلوم فلسطینی مسلمانوں کا حقیقی ہمدرد اور امت مسلمہ کا عظیم لیڈر قرار دیتے ہوئے سید ابراہیم رئیسی کے ساتھ جس محبت اور عقیدت کا اظہار کیاتھاوہ بھی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی اپنے ملک اور مسلم دنیا کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھیں

 

مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک میں دوستی اور تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیاتھاجبکہ ان کا دورہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا ثبوت تھا ام مسلمہ کی قیادت کرنے والے ممالک میں حادثات اور مصیبتوں کے وقت وحدت اور ہمدردی کا داعیہ موجود ہے دعا کرنی چاہیے کہ باہمی قربت اور اخوت کے احساس پر مبنی یہ رویہ عام حالات کا بھی معمول بنے انہوں نے کہا ہے کہ قوم کی رہنمائی اور رہبری کی صلاحیت رکھنے والے ایسے لیڈرز بڑے مشکل سے پیدا ہوتے ہیں جنہیں عوام کا اعتماد بھی حاصل ہو اور چالیس سال کے عرصے تک نظام کے مرکز میں مختلف اہم مناصب پر فائز رہنے کی وجہ سے سیاست کے عالمی بساط، خطے کی صورتحال اور اپنے ملک کے داخلی معاملات پر گرفت حاصل ہوجاتی ہے

 

صدر ابراہیم رئیسی کی طویل تجربے کی وجہ سے ایران کی مستقبل کی سیاست میں اہم کردار کی توقع رکھی جارہی تھی ابراہیم رئیسی ایران کے منتخب صدر تھے لیکن ان کی حیثیت صدر مملکت سے زیادہ ایک مستقل قومی رہنما کی تھی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے بین الاقوامی طور پر اسلام، مسلمان، شعائر اسلام،توہین رسالت، توہین قرآن کے حوالے سے دینی جذبے کے تحت بھرپور توانا آواز اٹھائی ایرانی صدر کی عالم اسلام کے لئے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ایرانی صدر کی حادثاتی موت سے امت مسلمہ ایک عظیم لیڈر سے محروم ہو گئی ہے ایرانی صدر سید ابراہیم ریسی نڈر،بہادر اور دلیر انسان تھے مسلمانوں ممالک کے ساتھ محبت و بھائی چارہ کی مثال تھے

 

اسرائ یل کی جانب سے فلس طین پر حملوں کا جواب،یو، این، او میں قرآن پاک کو چومنا بڑے کارناموں میں شامل ان جیسا عظیم لیڈر صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ایران کے صدر ابراہیم ریسی، ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں وفات سے امت مسلمہ کو شدید دھچکا لگا ہے جبکہ ایران عالم اسلام کے لیے ایک فخر ہے ایرانی صدر کی وفات سے تمام اسلامی مما لک میں سوگ کا سماں تھا اگر مسلمان ممالک اپنے اندر اتحاد و اتفاق بھائی چارگی کی فضاء کو قائم رکھیں تو ان کی عزت و تکریم میں مزید اضافے کا باعث بنے گا صدر ابراہیم رئیسی ایک نیک انسان، عالم اور پاکستان کے عظیم دوست تھے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور ادبی روابط پر مبنی بہترین تعلقات ہیں دونوں برادر ممالک کو مزید قریب لانے کیلئے عوامی روابط اور پارلیمانی اور صحافتی تبادلوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اس وقت تو ویسے بھی پاکستان اور ایران کے درمیان بہترین اور مثالی تعلقات ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا فروغ ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان کی بھی یہ پالیسی ہے اور اس سلسلہ میں قائم مقام ایرانی قونصل جنرل علی اصغر موغاری کو کوششیں بھی قابل تحسین ہیں کہ وہ پاکستان اور پاکستانیوں سے پیار کرتے ہیں اور اس وقت وہ پاکستان میں صدر ابراہیم رئیسی کی پالیسیوں کو لیکر چل رہے ہیں

 

انکی مسلمانوں سے محبت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے امید ہے کہ وپاکستان کے زندہ دلوں کے شہر لاہور کو اپنا ہی گھر پائیں گے کیونکہ پاکستان بلخصوص لاہور کے لوگ جس طرح ایرانسے محبت کرتے ہیں یہ بھی انہی پالیسیسوں کا تسلسل ہے جو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے شروع کررکھی تھیں ایرانی صدرابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان اور دیگر ساتھیوں کے حادثے میں انتقال پر پوری پاکستانی قوم دکھ اور صدمے سے دوچار ہے اورپاکستانی قوم اپنے ایرانی بہن بھائیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے دکھ اور غم کی اس گھڑی میں غمزدہ ایرانی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی دنیا اسلام کے عظیم راہنما تھے پاکستانی قوم کی ہمدردیاں ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89373

بزمِ درویش ۔ اللہ کا بندہ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on

بزمِ درویش ۔ اللہ کا بندہ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

روز اول سے حضرت انسان اِس کو شش میں لگا ہوا ہے کہ وہ شہرت کے اس مقام تک پہنچ جائے کہ جس کے سامنے کوئی سر اٹھا کر نہ دیکھ سکے، خود کو قیامت تک زندہ اور امر کرنے کے لیے انسان عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے، سکندراعظم، چنگیز خان، ہلاکو خان اور امیر تیمور لنگ اِسی بیماری کا شکار ہو کر دنیا فتح کر نے نکلے، چنگیز خان، ہلاکو خان اور امیر تیمور نے اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے اپنی دہشت پھیلانے کے لیے شہروں کے شہر صفحہ ہستی سے مٹادیے اِن کے علاوہ بے شمار اور انسان بھی اپنے اپنے وقت پر کرہ ارض پر طلوع ہوئے طاقت و اختیار کے نشے میں ہزاروں لاکھوں انسانوں کا قتل عام کیا، اور پھر مٹی کا ڈھیر بن گئے اور آج ان کی قبروں کا نشان تک نہیں ہے۔جب یہ متکبرلوگ زندہ تھے تو یہی سمجھتے تھے کہ ان کے اقتدار اور شہرت کو قیامت تک اندیشہ زوال نہیں ہے، لیکن ماہ سال کی گردش اور صدیوں کے غبار میں آج ان کا نام تک بھی کوئی نہیں جانتا،

 

انسان یہ سمجھتا ہے کہ ابدی شہرت اس کے اپنے ہاتھ میں ہے لیکن ہر دور کا متکبر انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا اور اِس کائنات کو بنانے والا خدا ہے وہ جس کو چاہے قیامت تک کے لیے امر کردیتا ہے اور جس کو چاہے نشان عبرت بنا دیتا ہے، حضرت انسان طاقت اور اقتدار کے نشے میں یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس کا اپنا جسمانی نظام تو اس کے قبضے میں ہے نہیں تو دوسروں کو وہ کیا اپنے اختیار میں لاسکتا ہے لیکن یہ بات صاحب اقتدار لوگوں کو کم ہی سمجھ آتی ہے۔اِس لیے ہر دور میں کوئی نہ کوئی آمر یہی سمجھتا ہے کہ اِس دھرتی یا ملک کا نجات دہندہ میں ہی ہوں نہ میرے سے پہلے کوئی انسان اِس دنیا میں آیا اور نہ اس کے بعدکوئی آئیگا، ایسے تمام لوگ خدا کا یہ فرمان بھول جاتے ہیں کہ ہم دنوں کو انسانوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں، عقل مند انسان تاریخ سے سبق لیتے ہیں او خود کوخدا کی بندگی میں دے دیتے ہیں جو بھی بندہ خدا کا ہو جائے اسے خدائے بزرگ و برتر ابدی شہرت سے نوازتا ہے، انسان عارضی شہرت اور اقتدار میں سب کچھ بھول جاتا ہے اگر خدا نے کسی کو چند ساعتوں پر اختیار دے بھی دیا ہو تو یہ عارضی ہے کسی دن پانی کے بلبلے کی طرح ختم ہو جائے گا،

 

خوش قسمت ہوئے ہیں وہ لوگ جو تاریخ سے سبق لیتے ہیں اور دنیاوی جھوٹے خداوں کی بجائے اِس کائنات کے مالک کے سامنے سر جھکادیتے ہیں اور پھر اِیسے لوگوں کو ہی دائمی اور ابدی شہرت نصیب ہوتی ہے۔برصغیرپاک ہند میں اللہتعالی نے بہت عظیم روحانی بزرگوں کو پیدا کیاجنہوں نے اپنی تعلیمات اور کردار سے لاکھوں لوگوں کی کردار سازی کی، انہی بزرگ ہستیوں میں ایک بزرگ سیدغوث علی شاہ قلندر بھی تھے بہت اعلی پائے کے بزرگ تھے شاعر مشرق علامہ اقبال بھی ان سے روحانی عقیدت رکھتے تھے، ان کی کتاب تزکرہ غوثیہ کو اہل تصوف میں تو باکمال مقام حاصل ہے ہی کلاسیکل اردو ادب میں بھی اس کا نمایاں اور باوقار نام ہے اِس میں تصوف اور صوفیا کے اسرار و رموز کو اس دلچسپی اور آسانی سے بیان کیا گیا ہے ہر بات دل و دماغ میں اترتی جاتی ہے، تصوف و روحانیت کی زیادہ تر کتابیں مشکل اور خشک سمجھی جاتی ہیں لیکن تزکرہ غوثیہ کا اصلوب پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے، دوران مطالعہ قاری خود کہ ایک دل نشین اور پراسرار وادی میں گھومتا ہوا پاتا ہے،

 

غوث علی شاہ قلندر نے اپنی اِس لازوال کتاب میں مغلیہ بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے عہد کا ایک واقعہ اِس خوبصورتی اوربلاغت آمیزی کے ساتھ لکھا ہے کہ قاری پڑھ کر عش عش کر اٹھتا ہے آپ لکھتے ہیں۔عا لمگیر کے عہد میں ایک بہروپیئے کو بہت شہرت حاصل تھی، ہر طرف اس کی شہرت اور فن کے چرچے تھے ایک روز وہ اورنگزیب کے دربار میں پہنچا اور اپنے فن کے اظہار کی اجازت مانگی چونکہ اورنگزیب مزاجا دین پسند اور سخت مزاج واقع ہوا تھا اس لیے وہ اِس طرح کی ناٹک بازیوں کو ناپسند کرتا تھا، اس نے کہا تمھارا بہروپ دراصل بے علم اور کمزور عقیدہ لوگوں کو متاثر اور مائل کرتا ہے ورنہ کوئی صاحب بصیرت اہل علم اور صاف ستھرے عقیدے کا حامل ہو تو وہ اِس طرح کی شعبدہ بازیوں پر نہ تو توجہ دیتا ہے اور نہ ہی اہمیت دیتا ہے اور نہ ان سے متاثر ہوتا ہے،

 

تمہیں اگر اپنے فن پر ناز ہے تو ذرامجھے قائل کر کے دکھا میں تمھارے چکر میں آنے والا نہیں اور اگر تم اپنے فن میں کامیاب ہو گئے اور مجھے دھوکا دے گئے تو پھر میں تمہیں منہ مانگا انعام دوں گا ورنہ میں نے ایسے کئی بازیگر دیکھے اور بھگتائے ہیں وہ بہروپیا مصلحتا خاموش ہو گیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت میں کہاں اور حضور کی بصیرت کہاں، حضور میں آپ کو اپنے بہروپ سے کیسے قائل کرسکتا ہوں سرکار عالی میرا یہ دھندہ تو پیٹ کے لیے ہے اور عام لوگوں کے لیے، یہ کہہ کر وہ چل دیا اور عالمگیر اپنی ذہانت پر جھوم اٹھا۔بہروپیئے نے شاہی دربار سے جاتے ہی ایک بزرگ اور صوفی کا روپ دھارا اور کہیں بیٹھ گیا پہلے اردگرد کے علاقوں میں اس کا چرچا ہوا پھر اس کا شہرہ قصبوں اور شہروں تک پہنچا ہوتے ہوتے اِس کا تذکرہ شاہی دربار تک بھی پہنچ گیا اور دربار میں بھی اس کا تذکرہ ہونے لگا، اورنگزیب چونکہ خود ایک متقی اور صوفی دوست شخص تھااس نے اِس بزرگ کی حاضری کا ارادہ ظاہر کیا اور لا لشکر کے ساتھ اس بہروپیئے کے پاس پہنچا اور سلام کیا بہروپیئے نے بے رخی سے سلام کا جواب دیا اور سر جھکا کر بیٹھا رہا

 

اِس طرز عمل نے بادشاہ پر اس کی ولایت اور دنیا اور اہل دنیا سے بے نیازی کی دھاک بٹھادی عالمگیر نے چند باتیں کیں مگر بہروپیاہاں ہوں کرتا رہا اس کی کسی بات میں دل چسپی نہ لی بادشاہ مزید متاثر ہوا آخرکار اٹھنے لگا اور اجازت چاہی جب بادشاہ اٹھ کرجانے لگا تو بہروپیا قہقہہ لگا کر سامنے آگیا اور کہا جہاں پناہ میں وہی بہروپیا ہوں جس کو آپ نے چیلنج دیا تھا کہ میں آپ کو اپنے فن سے قائل کر لوں تو منہ مانگا انعام پاں گا۔بادشاہ ہار مان گیا اور کہا تم اپنے فن کے ماہر نکلے ہو تم جیتے میں ہارا اب مانگو کیا مانگتے ہو بادشاہ کا یہ کہنا تھا کہ بہروپیا چیخ مار کر وہاں سے یہ کہتے ہوئے چل دیا یہ تو میں نے اللہ کا نام اور اہل اللہ کا حلیہ صرف جھوٹ موٹ سے لیا اور بنایا اور بادشاہ چل کر میرے پاس آگیا اگر میں بہروپ بھرنے کی بجائے حقیقی روپ اِس طرح بنالوں تو خدا جانے مجھے دنیا و آخرت میں کیا اعزاز وانعام ملے، غوث علی شاہ لکھتے ہیں کاش دنیا والوں کو معلوم ہو تا کہ جب بندہ اوپر کے دل سے بھی خدا کو یاد کرتا ہے تو خدا اسے رسوا نہیں ہونے دیتا اور اگر اصل خدا کا بندہ بن جائے تو پتہ نہیں اللہ اسے کیا مقام عطاکرے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89326

پاکستان بنانا ری پبلک؟ – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

پاکستان بنانا ری پبلک؟ – میری بات:روہیل اکبر

پاکستان بنانا ری پبلک بن چکا ہے یہ وہ الفاظ ہیں جنہیں ہمارے ہر سیاستدان نے اپنی زبان سے ادا کیے ہیں ہمارے یہ سیاستدان جب اقتدار میں ہوتے ہیں توکاش یہ اپنے وہ الفاظ یادرکھتے جو انہوں نے اقتدار سے باہر رہتے ہوئے ادا کیے تھے شائد پاکستان بنانا ری پبلک جیسے الفاظ سے باہر نکل آتا ابھی کل ہی مولانا فضل الرحمان، عمر ایوب اور اسد قیصر کی ملاقات ہوئی جسکے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں آئین نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور نہ ہی کہیں سے کوئی سرمایہ کاری آرہی ہے کیونکہ اس وقت ملک میں عدل و انصاف نہیں اور ملک بنانا ری پبلک بن چکا ہے چلو آج ہم پھر بنانا ری پبلک یعنی کیلے کی جمہوریت پر ہی بات کرتے ہیں کہ یہ ہے کیا اور اسکی ابتدا کہاں اور کیسے ہوئی کیا پاکستان واقعی کیلے کی جمہوریت والا ملک بن چکا ہے۔ بنانا ری پبلک کا لفظ سب سے پہلے 1904 میں امریکی مصنف O. Henry نے وضع کیا تھا جو ایک سیاسی اور اقتصادی طور پر غیر مستحکم ملک کی وضاحت کرتی ہے جس کی معیشت صرف قدرتی وسائل پر منحصرہو اور انتہائی طبقاتی سماجی طبقات کا معاشرہ ہو غریب محنت کش طبقہ اور حکمران طبقے کا واضح فرق ہو تسلط پسندی کا رواج ہو کاروبار اور حکومت سیاسی اور فوجی اشرافیہ پر مشتمل ہو حکمران طبقہ محنت کشوں کے استحصال کے ذریعے معیشت کے بنیادی شعبے کو کنٹرول کرتا ہو کیلے کی جمہوریہ کی اصطلاح ایک غلام طبقے کے لیے ایک طنزیہ جملہ بھی ہے جہاں کک بیکس لیے جاتے ہوں اور پھر ڈھٹائی سے انکا دفاع بھی کیا جاتا ہو کیلے کی جمہوریہ ایک ایسا ملک ہوتا ہے جس کی معیشت ریاستی سرمایہ داری کی ہو جس کے تحت ملک کو حکمران طبقے کے خصوصی منافع کے لیے نجی تجارتی ادارے کے طور پر چلایا جاتا ہو اور اس طرح کا استحصال ریاست اور پسندیدہ معاشی اجارہ داریوں کے درمیان ملی بھگت سے ہوتا

 

ایسے ملک میں قرضوں کی بھر مار ہوتی ہے حکمران طبقہ قرضہ حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتا ہے ملکی اثاثے گروی رکھ دیتا ہے لیکن ان قرضوں کو عوام پر لگانے کی بجائے خود ہضم کر جاتا ہے اور ان قرضوں کی مالی ذمہ داری سرکاری خزانے کی ہوتی ہے۔ اس طرح کی غیر متوازن معیشت ملک میں غیر مساوی اقتصادی ترقی کی وجہ بھی بنتی ہے اور عام طور پر قومی کرنسی کو قدرے کم کر کے بینک نوٹ (کاغذی کرنسی) میں تبدیل کر دیتی ہے یوں ملک بین الاقوامی ترقیاتی کریڈٹ کے لیے نااہل ہو جاتا ہے 20ویں صدی میں امریکی مصنف او ہنری نے کیبیز اینڈ کنگز کتاب میں افسانوی جمہوریہ اینچوریا کو بیان کرنے کے لیے کیلے کی جمہوریہ کی اصطلاح وضع کی جسکی معیشت کا بہت زیادہ انحصار کیلے کی برآمد پر تھا20 ویں صدی کے اوائل میں یونائیٹڈ فروٹ کمپنی (ایک ملٹی نیشنل کارپوریشن) نے کیلے کی جمہوریہ کے رجحان کی تخلیق میں اہم کردار ادا کیا اس کمپنی نے دیگر کمپنیوں کے ساتھ ملکراور امریکی حکومت کی طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ممالک میں سیاسی، اقتصادی اور سماجی حالات میں ابتری پیدا کی جس کے بعد وہاں کی منتخب جمہوری حکومت میں بغاوت ہوئی اور پھر کیلے کی جمہوریہ قائم کردی گئی

 

ان میں ابتدائی طور پر وسطی امریکی ممالک جیسے ہونڈوراس اور گوئٹے مالا شامل ہیں۔سادہ لفظوں میں اسکی مثال ایسٹ انڈیا کمپنی کی سمجھ لیں جو تجارت کی غرض سے ہندوستان آئی اور پھر کیسے انہوں نے پورے برصغیر پر قبضہ کرکے اس سونے کی چڑیا میں لوٹ مار کی اور انہی کی باقیات ابھی تک ہم پر مسلط ہیں میں بات کررہا تھا کیلے کی ریاست کی ابتدا کی تاکہ عام انسان کو بھی اندازہ ہو سکے کہ کیسے ایک پلاننگ کے تحت ملک کو تباہ و برباد کرکے باناری بپلک بنایا جاتا ہے اور اسکی ابتدا کہاں سے ہوئی اسکا تو ذکر کردیا اب اسکی کچھ اور تفصیل بھی ملاحظہ فرمالیں 19ویں صدی کے آخر تک تین امریکی ملٹی نیشنل کارپوریشنز (UFC، سٹینڈرڈ فروٹ کمپنی، اور Cuyamel Fruit Company) نے کیلے کی کاشت، کٹائی اور برآمد پر غلبہ حاصل کر کے ہونڈوراس کی سڑک، ریل اور بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو کنٹرول کرلیا اورپھر ہنڈوران کی قومی سیاست کو مزدور مخالف تشدد سے جوڑ دیا 20 ویں صدی کے اوائل میں امریکی تاجر سیم زیمرے (کیومیل فروٹ کمپنی کے بانی) نے “کیلے کی جمہوریہ” کے دقیانوسی تصور کوحقیقت کا رنگ دینے میں اہم کردار ادا کیا

 

وہ یونائیٹڈ فروٹ کمپنی سے زیادہ پکے ہوئے کیلے خرید کر کیلے کی برآمد کے کاروبار میں داخل ہوئے اور 1910 میں زیمورے نے کیومیل فروٹ کمپنی کے استعمال کے لیے ہونڈوراس کے کیریبین ساحل میں 6,075 ہیکٹر (15,000 ایکڑ) زمین خریدی 1911 میں زیمورے نے ہونڈوراس کے سابق صدر مینوئل بونیلا (1904–1907) اور امریکی باڑے لی کرسمس کے ساتھ مل کر ہونڈوراس کی سول حکومت کا تختہ الٹنے اور غیر ملکی کاروبار کے لیے دوستانہ فوجی حکومت قائم کرنے کی سازش کی اس مقصد کے لیے کرسمس کی قیادت میں Cuyamel Fruit Company کی کرائے کی فوج نے صدر Miguel R. Dávila (1907–1911) کے خلاف بغاوت کی اور بونیلا (1912–1913) کومسلط کردیااس تمام غیر قانونی کھیل کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے منتخب حکومت کی معزولی کو نظر اندازکرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ڈیویلا کو سیاسی طور پر بہت زیادہ آزاد خیال اور ایک غریب تاجر کے طور پر پیش کیا گیا جس کی انتظامیہ نے ہنڈوراس کو برطانیہ کا مقروض کر دیا تھا جو کہ جغرافیائی طور پر ناقابل قبول صورتحال ہے اس بغاوت کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام نے ہنڈوران کی معیشت کو روک دیاامریکی ڈالر ہنڈوراس کی قانونی کرنسی بن گیا کرسمس ہونڈوران آرمی کا کمانڈر بن گیاجو بعد میں ہونڈوراس میں امریکی قونصل مقرر ہوا اسی طرح گوئٹے مالا کوبھی ایک ‘کیلے کی جمہوریہ’ کی علاقائی سماجی و اقتصادی میراث کا سامنا کرنا پڑا اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان پاکستان کے بارے میں جو بنانا ری پبلک جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ان میں کتنی حقیقت ہے اگر خدا نخواستہ ہم واقعی بنانا ری پبلک کی طرف جارہے ہیں تو اس میں قصور کس کا ہے بریانی کی پلیٹ پر بکنے والی عوام کا یا پھر لوٹ مار کرنے والی اشرافیہ کا؟ ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89323

بی جے پی کی ور سٹائل پروپیگنڈا مشینری – قادر خان یوسف زئی

Posted on

بی جے پی کی ور سٹائل پروپیگنڈا مشینری – قادر خان یوسف زئی

وزیر اعظم نریندر مودی کی جاری بھارتی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ مسلمانوں کے بارے میں بار بار جھوٹے اور نفرت انگیز دعوے کرکے مودی جان بوجھ کر سیاسی فائدے کے لیے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔مودی نے اپوزیشن کانگریس پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے ہندوؤں کو ان کی دولت اور حقوق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بے بنیاد الزام لگایا ہے کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو وہ ہندوؤں کی جائیدادیں چھین کر مسلمانوں میں تقسیم کر دے گی۔ مودی کی اشتعال انگیز ی کا سلسلہ یہیں تک محدود نہیں تھا بلکہ وزیر اعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کانگریس ہندو خواتین سے منگل سوتر (شادی شدہ ہندو خواتین کے ذریعے پہنا جانے والا مقدس ہار) بھی چھین کر مسلمانوں کو دے گی۔ یہ مودی کی ہندو خواتین کو خوفزدہ کرنے کی ایک اشتعال انگیز ی ایک اور کوشش ہے۔ مودی کی بیان بازی کا مقصد واضح طور پر ووٹروں کو مذہبی خطوط پر پولرائز کرنا اور معیشت اور بے روز گاری جیسے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔

بی جے پی کی پروپیگنڈامشینری، جس کی قیادت آر ایس ایس کر رہی ہے، تاریخ کو مسخ کرنے، ذات پات کے درجہ بندی کو بڑھاوا دینے، اور مسلمانوں کو نفرت کا نشانہ بنانے کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔ اس الیکشن میں، انہوں نے مسلم آبادی کے خطرے کے خوف کو جنم دینے کے لیے ”لو جہاد” اور ”لینڈ جہاد” جیسے پرانے ٹرپس کو زندہ کیا ہے۔ آبادی کے تناسب میں فرق کو بھی مذہبی اقلیتوں کے خلف اشتعال انگیزی کے لئے استعمال کیا تاہم، یہ خدشات بے بنیاد ہیں، کیونکہ آزادی کے بعد سے مسلم آبادی میں معمولی اضافہ ہوا ہے اور پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مودی کی مسلم دشمنی نے بھارت کے 200 ملین مسلمانوں کے لیے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، جو اب ”اپنی شناخت کے قیدی” کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ انتخابی قوانین کی ان صریح خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کی خاموشی میں انتہائی پراسراریت ہے۔

 

بھارتی سیاست و انتخابات کے پیچیدہ منظر نامے میں، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے رائے عامہ کو تشکیل دینے اور اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے پروپیگنڈے کا استعمال کرنے میں مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے مل کر ایک ایسی داستان تیار کی جو قرون وسطی کی تاریخ کو مسخ کرتی ہے، ذات پات اور صنفی درجہ بندی میں جڑی ایک قدیم ہندوستانی تہذیب کی تعریف، اور مسلمانوں کو مسلسل بدنام کرتی ہے۔ یہ پروپیگنڈا مشینری نمایاں طور پر ورسٹائل رہی ہے، جس نے اپنے موضوعات کو اس وقت کے سیاسی ماحول اور انتخابی ضروریات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔بی جے پی-آر ایس ایس کے بیانیے میں ایک بار بار چلنے والا موضوع مسلم حکمرانوں کو مندروں کو تباہ کرنے والوں کے طور پر دکھایا گیا ہے، ایک ایسی داستان جس نے رام مندر تحریک کو ہوا دی۔ یہ تحریک، جس کا اختتام 1992 میں بابری مسجد کے انہدام پر ہوا، صرف ایک مذہبی مقام پر دوبارہ دعویٰ کرنے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ عوامی نفسیات میں ایک تاریخی شکایت کو مضبوط کرنے کے بارے میں تھا۔ ہندو مندروں کی مبینہ بے حرمتی کرنے والے مخالفوں کے طور پر مسلم بادشاہوں کی تصویر کشی نے فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا۔بی جے پی نے اپنے سیاسی اہداف کو آگے بڑھانے کے ہمیشہ پاکستان مخالف بیانیہ کا استعمال کیا۔ پاکستان کو بھارت کے لیے ایک وجودی خطرے کے طور پر پیش کرنا ایک مستقل موضوع رہا ہے، جو قوم پرستانہ جذبات کو ابھارنے اور بی جے پی کو بھارت کی خودمختاری کا واحد محافظ قرار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ 2019 کے انتخابات میں خاص طور پر واضح ہوا جب پلوامہ حملہ اور اس کے نتیجے میں بالاکوٹ فضائی حملے بی جے پی کو ایک مضبوط، فیصلہ کن حکومت کے طور پر پیش کیے گئے اور اب2024کے عام انتخابات میں بھی بڑے دھڑلے سے استعمال کیا جارہا ہے۔

گزشتہ دہائی کے دوران، بی جے پی نے حمایت حاصل کرنے کے لیے اقتصادی اور سماجی اصلاحات کا وعدہ بھی کیا تھا۔’اچھے دن‘ کے نعرے نے خوشحالی کے مستقبل کا وعدہ کیا، جس میں ہرشہری کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کرنے اور سالانہ دو کروڑ نوکریاں پیدا کرنے جیسی یقین دہانیاں شامل ہیں۔ یہ وعدے پورے نہیں ہوئے، انا ہزارے کی زیرقیادت انسداد بدعنوانی کی تحریک، جسے آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں کی نمایاں حمایت حاصل تھی، نے کانگریس کو ایک بدعنوان ادارے کے طور پر رنگ دیا، جس سے بی جے پی کے لئے میدان ہموار ہوا۔اپنی تمام مہموں کے دوران، بی جے پی نے مسلم مخالف بیان بازی کا ایک مستقل سلسلہ برقرار رکھا ہواہے۔ پروپیگنڈا اکثر یہ تجویز کرتا تھا کہ مسلمانوں کو بھارت کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنے کی ضرورت ہے، یہ ایک ایسا حربہ ہے جس نے معاشرتی تقسیم کو گہرا کیا ہے اور تعصب کو دوام بخشا ہے۔حالیہ انتخابات میں بی جے پی کو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی لہر پر سوار ہونے کی امید تھی۔ تاہم، گیان واپی جیسے مسائل عوام میں اتنی مضبوطی سے گونجے جو معاشی مشکلات اور گرتے ہوئے معیار زندگی کے بارے میں زیادہ فکر مند نظر آتے تھے۔ یہ تبدیلی سیاسی مہمات کی بنیاد کے طور پر مذہبی اور تاریخی شکایات کے حوالے سے ووٹروں میں بڑھتی ہوئی تھکاوٹ کی نشاندہی کرتی ہے۔

 

مودی کا کانگریس کے منشور سے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کے معاملے کا استعمال، جسے انہوں نے مسلمانوں میں دولت کی شناخت اور دوبارہ تقسیم کے لیے ایک آلہ کے طور پر بنایا، سماجی خوف اور تعصبات کو جوڑ توڑ کرنے کی بی جے پی کی حکمت عملی کو مزید واضح کرتا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ کہ پاکستان ایک کمزور بھارتی حکومت کا خواہاں ہے، قوم پرستانہ خوف کو ہوا دینے اور گھریلو مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش تھی۔بی جے پی کی پروپیگنڈہ مشینری، جس کی بنیاد آر ایس ایس ہے، نے تاریخی نظرثانی، قومی سلامتی کے خدشات، اور نا مکمل اقتصادی وعدوں کے امتزاج کے ذریعے عوامی جذبات سے کھلواڑ کرنے میں ماہر ثابت کیا ہے۔ اگرچہ یہ حکمت عملی ماضی میں کارآمد رہی ہیں، لیکن یہ بڑھتا ہوا اشارہ ہے کہ ووٹر اس طرح کے ہتھکنڈوں سے تنگ آ رہا ہے۔ چونکہ سماجی و اقتصادی خدشات کو فوقیت حاصل ہے، اس لیے بی جے پی کو اپنا سیاسی غلبہ برقرار رکھنے کے لیے اپنے نقطہ نظر کو دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89320

پرنسز زہرہ کا دورہ گلگت بلتستان اور کچھ تجاویز- خاطرات : امیرجان حقانی 

پرنسز زہرہ کا دورہ گلگت بلتستان اور کچھ تجاویز- خاطرات : امیرجان حقانی

گلگت بلتستان، پاکستان کا ایک خوبصورت مگر انتہائی بھرپور چیلنجز سے مملو خطہ ہے، اس خطے کی چیلنجز میں بالخصوص امن و امان، سماجی ہم آہنگی، تعلیم و صحت اور روزگار کے مسائل شامل ہیں. اس کی وادیاں اور پہاڑیاں قدرت کے حسین مناظر کا نمونہ ہیں۔ اس خطے کے عوام نے ہمیشہ اپنی محنت، خلوص اور جدوجہد سے دنیا میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم تعلیم اور صحت کے میدان میں بالخصوص پورے گلگت بلتستان میں انقلاب برپا کریں، تاکہ گلگت بلتستان امن کا گہوارہ بھی بن جائے اور ترقی یافتہ معاشرہ بھی. یہ انقلاب کچھ مخصوص شہروں یا اضلاع و کمیونٹیز تک محدود نہ ہو بلکہ گاشو پہوٹ سے لے کر شندور تک، داریل کھنبری سے لے کر استور کالا پانی اور بلتستان چھوربٹ تک یہ انقلاب حقیقی طور پر برپا ہو، اس سے سنی، شیعہ، نوربخشی، اسماعیلی اور  دیگر سب برابر مستفید ہوں. اور اس میں آغا خان فاؤنڈیشن کا کردار کلیدی ہو سکتا ہے۔کلیدی کردار کے لئے عزم اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے جس کو پیدا کرنا بھی ایک مستقل چیلنج ہے اور حوصلہ درکار ہے. دل و دماغ کو بہت بڑا کرنا ہوگا. اتنا بڑا کہ سب سمو جائیں.
پرنس کریم آغا خان کی بیٹی پرنسز زہرہ کی گلگت بلتستان آمد نے اس خطے کے لوگوں میں نئی امیدیں اور جذبہ پیدا کیا ہے۔ ان کے دورے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آغا خان اور آغا خان فاؤنڈیشن ہمیشہ سے ہی یہاں کے عوام کی بھلائی کے لئے سرگرم ہیں اور رہیں گے۔ آغا خان فاؤنڈیشن نے ضلع ہنزہ اور غذر میں تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں شاندار کام کیے ہیں، اور یہ بدیہی حقیقت ہے کہ امامتی اداروں، آغاخان فاونڈیشن اور اس کے ذیلی یونٹس  سے زیادہ تر اسماعیلی برادری کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ دیگر کمیونٹیز کے لوگ جزوی طور فائدہ حاصل کر پا رہے ہیں. دیامر مکمل محروم ہے.
ہم سب جانتے ہیں کہ تعلیم مستقبل کی کنجی ہے. ضلع دیامر و استور اور بلتستان کے کچھ ایریاز میں بالخصوص تعلیم کے میدان میں بہت زیادہ بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ یہاں کے بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ آغا خان فاؤنڈیشن کے تجربات اور وسائل کی مدد سے یہاں تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنائی جاسکتی ہےاس کے لیے کچھ مختصر تجاویز پیش خدمت ہیں جو بالخصوص پرنسز زہرہ اور محمد علی تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔
1.معیاری تعلیمی اداروں کا قیام:
دیامر و استور اور دیگر نیڈی ایریاز  میں جدید سہولیات سے آراستہ تعلیمی اداروں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ ایسے ادارے جو نہ صرف جدید تعلیمی معیار کو بلند کریں بلکہ بچوں کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کریں اور انہیں دور جدید کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تیار کریں۔
2.اساتذہ کی تربیت:
معیاری تعلیم کے لئے معیاری اساتذہ ضروری ہیں۔ آغا خان فاؤنڈیشن اساتذہ کی تربیت کے لئے خصوصی پروگرام شروع کرے تاکہ وہ جدید تدریسی طریقوں سے واقف ہو سکیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ پی ڈی سی این گلگت کے زیر انتظام، پہلے ہی اساتذۂ کی تربیت کا انتظام چل رہا ہے، تاہم میرا خصوصی مدعا یہ ہے کہ دیامر ڈویژن اور دیگر نیڈی علاقوں کے اساتذہ کو ترجیحی بنیادوں پر فوکس کیا جائے.
3.تعلیم کی رسائی:
ان علاقوں کے ہر بچے تک تعلیم کی رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ اس کے لئے خصوصی تعلیمی پروگرامز کا آغاز کیا جائے جن کے ذریعے دور دراز علاقوں میں بھی تعلیم فراہم کی جا سکے۔ پرنسز زہرہ اگر اس نکتہ کو فوکس کرکے آغاخان یونیورسٹی اور فاونڈیشن کو ذمہ داری دے تو ایسا خصوصی نظم یعنی کوئی پروجیکٹ ترتیب دیا جاسکتا ہے کہ تعلیم چل کر ہی ہر بچے کی دہلیز تک پہنچے. کاش! اس بات کو کوئی سمجھے. یہ پروجیکٹ حکومت، کسی این جی اور یا لوکل کمیونٹیز کیساتھ مل کر بھی وضع کیا جاسکتا ہے.یہ بہت اہم بات ہے. دیہی علاقوں کے بچے تعلیم اور تعلیم ان سے محروم ہے. گلگت بلتستان میں بیلنس ترقی کے لئے یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں.
ان دو تین تجاویز کے علاوہ بھی آغاخان یونیورسٹی اور آغاخان فاونڈیشن لازمی پروجیکٹ تیار کرسکتے ہیں. ان کے پاس تعلیمی ماہرین کی بڑی ٹیمیں موجود ہیں. وہ جانتے ہیں کہ  نیڈی رولر ایریاز میں کام کیسے کیا جاسکتا ہے. تعلیم ان تک کیسے پہنچائی جاسکتی ہے.
تعلیم کیساتھ صحت بھی بہت ضروری ہے. ایک صحت مند معاشرہ ہی ایک ترقی یافتہ معاشرہ بن سکتا ہے. بغیر صحت کے معاشرے اور قومیں زوال پذیری کا شکار ہوتی ہیں.
دیامر ڈویژن اور کچھ نیڈی رولر ایریاز میں صحت کے میدان میں بھی بہتری کی ضرورت ہے. ان علاقوں کے عوام کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ آغا خان ہسپتال اور فاؤنڈیشن یہاں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آغاخان فاونڈیشن کے اسکردو، ہنزہ، گلگت اور غذر میں بہترین ہسپتال ہیں. ایسے کچھ مزید اعلی شان ہسپتالوں کی ضرورت دیامر اور استور میں بھی ہے.شعبہ صحت کے حوالے سے بھی کچھ تجاویز ملاحظہ ہوں.
1. جدید طبی مراکز کا قیام:
ضلع دیامر و استور میں جدید طبی مراکز کا قیام ضروری ہے جہاں عوام کو معیاری طبی سہولیات میسر ہوں۔ دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہے اور شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ یہی سے گَزرتا ہے. اکثر مسافروں کے حادثات بھی ہوتے ہیں. اس حوالے سے بھی چلاس میں ایک جدید ہسپتال کی ضرورت ہے. اکلوتا چلاس سرکاری ہسپتال چار لاکھ سے زائد آبادی اور ہزاروں مسافروں اور زخمیوں کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے.
2.صحت کی تعلیم:
صحت کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنا اہم ہے۔ اس کے لئے خصوصی مہمات چلائی جائیں جن میں عوام کو صحت مند طرز زندگی کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جس طرح لٹریسی ریٹ دیامر میں کم ہے اسی طرح صحت کے حوالے سے بھی بنیادی معلومات سے لوگ نابلد ہیں. یہ بھی ایک خطرناک چیلنج ہے جو پورے گلگت بلتستان کو ڈسٹرب کررہا ہے.
3.ماں اور بچے کی صحت:
ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ آغا خان فاؤنڈیشن کے ذریعے ماں اور بچے کی صحت کے مراکز قائم کئے جائیں جہاں ماں اور بچے کو مکمل طبی سہولیات فراہم ہوں۔ افسوسناک امر یہ ہے زچہ بچہ کی تعلیمی آگاہی ان علاقوں میں نہ ہونے کے برابر ہے. بلکہ عیب سمجھا جاتا ہے. دیامر اور استور کی روایات کو مدنظر رکھ شاندار آگاہی دی جاسکتی ہے.
تعلیم اور صحت کے علاوہ دیگر اہم ایریاز بھی بالخصوص دیامر ڈویژن میں کام کی ضرورت ہے.
1.روزگار کے مواقع:
ان علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے آغا خان فاؤنڈیشن مقامی صنعتوں کو فروغ دے سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف معیشت مستحکم ہو گی بلکہ عوام کو بھی روزگار ملے گا۔مائیکرو فائنانس اور مائیکرو بزنس کی دسیوں صورتیں ترتیب دی جاسکتی ہیں.
2.خواتین کی ترقی:
ان علاقوں کی خواتین کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ان کے لئے ہنر سکھانے کے مراکز قائم کئے جائیں تاکہ وہ خود مختار ہو سکیں۔ اس میں بھی مقامی لوگوں کی روایات و ثقافت کو مدنظر رکھ کر بڑے پیمانے پر کام کرنے کہ گنجائش اور ضرورت موجود ہے.
3.ماحولیات کی حفاظت:
ان علاقوں میں ماحولیات کی حفاظت کے لئے خصوصی پروگرام شروع کئے جائیں تاکہ قدرتی وسائل کو محفوظ رکھا جا سکے۔ دیامر اور استور قدرتی وسائل کے خزانے ہیں. ان کی حفاظت کے لئے ہر سطح پر کام کیا جاسکتا ہے.
یہ ماننے میں قطعاً حرج نہیں کہ آغا خان فاؤنڈیشن نے ضلع ہنزہ اور غذر میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ قابل تحسین ہیں۔لیکن ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ پرنس کریم آغا خان  ایک عالمی شخصیت ہیں. عالمی شخصیت ہونے کے ناطے، آغا خان کے وژن اور خدمات کو صرف ایک کمیونٹی تک محدود رکھنا مناسب نہیں۔ یہ بات مقامی لوگوں اور آغاخان کے چاہنے والوں کو ضرور بری لگے گی بلکہ وہ فوراً تردید کریں گے اور دیگر کمیونٹیز کے لیے کی جانے والی خدمات گنوانا شروع کریں گے مگر بہرحال یہ بھی زمینی حقیقت ہی ہے کہ گلگت بلتستان و چترال میں آغا خان اور آغاخان فاونڈیشن کو محدود کیا گیا ہے. اب تک عملا یہی ہورہا ہے.جس سے انکار کی گنجائش موجود نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے دلائل گھڑنے کی ضرورت ہے. اب تک جو ہوا سو ہوا.
گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع، خصوصاً دیامر و استور، کو بھی ان خدمات سے مستفید ہونے کا پورا حق ہے۔ ہمیں امید ہے کہ پرنسز زہرہ کی گلگت بلتستان آمد، ان علاقوں کے لوگوں کے لئے نئے مواقع اور ترقی کے دروازے کھولے گی۔ لوگ بدلے ہیں. حالات بدلے ہیں. خیالات بدلے ہیں. اب وہ سوچ اور خیالات نہیں رہے جن کا کبھی شکوہ کیا جاسکتا تھا. اب ان علاقوں میں کام نہ کرنے کا کوئی بہانہ یا دلیل معقول نہیں کہلائی گی.
آئیے، ہم سب مل کر ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں جہاں گلگت بلتستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم، مناسب روزگار اور صحت کی بہترین سہولیات میسر ہوں۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے مشترکہ طور پر کوششیں کرنی ہوں گی۔ ایک ایسا مثالی معاشرہ قائم کریں جہاں ہر فرد کو ترقی کے برابر مواقع ملیں اور ہم سب مل کر اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتر دنیا تخلیق کریں۔
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
89302