Chitral Times

Jul 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مردان، چکدرہ ٹو چترال موٹر وے سے چترال کے عوام کو سہولیات میسر ہونگی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی 

Posted on
شیئر کریں:

مردان، چکدرہ ٹو چترال موٹر وے سے چترال کے عوام کو سہولیات میسر ہونگی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبہ کے عوام کو مواصلات کی جتنی بہتر سہولیات میسر ہونگی یہ علاقے مزید ترقی کرینگے۔ جنوبی اضلاع کے عوام کا پشاور کے ساتھ زمینی رابطہ فعال اور آسان بنانے کے لیئے این ایچ اے کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ممبر نیشنل ہائی وے اتھارٹی مرشد امین خٹک کی قیادت میں این ایچ اے کے حکام سے گورنرہاوس پشاورمیں ملاقات کے دوران کیا۔ این ایچ اے کے حکام نے گورنر خیبر پختونخوا کو ڈیرہ پشاور موٹر وے، نوشہرہ مردان چکدرہ ٹو چترال موٹر وے کے حوالہ سے بریفنگ دی گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ مردان، چکدرہ چترال روٹ سے چترال کے عوام کو سہولیات میسر ہونگی انہوں نے سی پیک روٹ کے حوالہ سے ریسٹ ایریاز اور دیگر سہولیات کو ہرممکن طور پر یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں انہوں نے کہا کہ سی پیک روٹ پر ٹراما سنٹرز انتہائی ضروری ہے اس حوالہ سے پی سی ون تیار کیا جائے کیونکہ حادثات کے باعث قیمتی جانیں بروقت طبی امداد نہ ملنے سے ضائع ہو جاتی ہیں ٹراما سنٹر اس حوالہ سے انتہائی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ نائی ویلہ رمک روٹ کی جلد تکمیل کو بھی یقینی بنایا جائے شورکوٹ ٹو چشمہ روٹ کے پی سی ون کے حوالہ سے پیش رفت کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں نیشنل ہائی وے کے حکام نے گورنر خیبر پختونخوا کو شیخ یوسف یارک۔ پیزو ٹانک روٹ کے حوالہ سے بھی بریف کیا گورنر خیبر پختونخوا نے ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان روٹ پر موبائل سگنلز نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو اس صورتحال کا فوری حل نکالنے کے لیئے ہدایات جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

 

خواتین کو بااختیار بنا کر ہی صوبہ ترقی میں آگے بڑھ سکتا ہے۔گورنرخیبرپختونخوا

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ خواتین کو بااختیار بنا کر ہی صوبہ ترقی میں آگے بڑھ سکتا ہے،مستقبل کی ترقی کے لئے علاقائی رابطے انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں،پاکستان علاقائی یکجہتی پر عمل پیرا ہے،پائیدار ترقی باہمی رابطوں کے ساتھ ہی ممکن ہے،مشرق اور مغرب کے ساتھ سرمایہ کاری ہی ترقی کا زینہ ہے۔پاکستان توانائی کے بحران سے دوچار ہے وسط ایشیائی وسائل سھ ہم استفادہ کرسکتے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روزشہید بینظیربھٹوویمن یونیورسٹی پشاورمیں انسانیت کی بہتری کے لیے علاقائی رابطے کو بڑھانا کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، گورنر نے عالمی سطح پر مربوط علاقائی روابط کے فروغ جیسے اہم موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پر PRCCSF, چائنہ ایمبیسی اور شہید بینطیر بھٹو وویمن یونیورسٹی کے علاقائی رابطہ مرکز کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ موجودہ غیر محفوظ سیاسی ماحول، سماجی اور معاشی رکاوٹوں کے خاتمہ کیلئے علاقائی ربط کو فروغ دیکر عالمی تعاون و ہم آہنگی سے بہتر کل کے حالات پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ ہمیں مستقبل کیطرف دیکھتے ہوئے علاقائی روابط و یکجہتی کو پوری طرح بروئے کار لانا ہو گا،۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور چینی کمیونسٹ پارٹی کا ہمیشہ قریبی تعلق رہا ہے۔سی پیک کا آغاز پیپلز پارٹی دور میں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ ملک دشمن عناصر کی جانب سے کوشش کی گئی کہ پاک چین تعلقات کو کمزور کیا جائے، چینی انجینئروں پر حملے کئے گئے، تاہم انشاء اللہ دشمن ممالک کے سازشوں کے باوجود سی پیک مکمل ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک دو ملکوں کے مابین تعلقات نہیں بلکہ خطے میں ترقی کا زینہ ہوگا۔گورنرنے کہاکہ ہماری کوشش ہوگی کہ چین سے زیادہ سے زیادہ سکالر شپ اپنے طلبہ کے لئے لائیں۔انہوں نے کہاکہ پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات اور باہمی تجارت ہی ترقی کا راستہ ہے۔افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لئے مشکلات کے خاتمے کے لئے کوشش کروں گا۔گورنرنے کہاکہ صوبائی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کی 34 یونیورسٹی کے لئے صرف 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے یہ بات واضح کی کہ صوبے کی ترقی کے لئے تعلیمی بجٹ کو بڑھانا ہوگا۔کانفرنس سے لیفٹیننٹ کرنل(ر) خالد تیمور اکرم ایگزیکٹو ڈائریکٹر PRCCSF, وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر صفیہ احمد، ڈائریکٹر ریجنل کنیکٹیویٹی سنٹر ڈاکٹر زرمینہ بلوچ ڈائریکٹر و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ گورنر نے یونیورسٹی کے سبزہ زار میں پودا بھی لگایا۔

chitraltimes governor kp faisal karim kundi

 

گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ارباب نیازکرکٹ سٹیڈیم پشاور کا اچانک دورہ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے منگل کے روز ارباب نیازکرکٹ سٹیڈیم پشاور کا اچانک دورہ کیا اور سٹیڈیم کی تزئین و آرایش، پلے گراونڈ اور پویلین کا جائزہ لیا اور سٹیڈیم میں جاری ترقیاتی کام کا بھی معائنہ کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماملک طہماش خان، رضاء اللہ خان اور مصباح الدین سمیت دیگربھی گورنرکے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر ارباب نیاز سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ ملکی اور غیرملکی کرکٹ کے مقابلوں کیلئے پشاور کا ارباب نیاز سٹیڈیم ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے، لیکن بدقسمتی سے صوبہ میں گذشتہ پندرہ سالوں سے کھیلوں کے مقابلہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ تاریخی سٹیڈیم اپنی ویران پڑا ہے۔صوبائی حکومت کو صوبے میں کھیلوں کے مقابلوں کیلے اقدامات اٹھانے چاہیے۔انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے پشاورمیں آخری جلسہ اسی سٹیڈیم میں کیاتھا۔ انہوں نے اس افسوس کا بھی اظہار کیا کہ 2017 میں اس سٹیڈیم پر ترقیاتی کام شروع ہوا جو آج تک مکمل نہ ہوسکا۔ صوبہ کے وزیراعلیٰ ٹریک سوٹ میں سرکاری اجلاسوں کی صدارت کرتے تو دکھائی دیتے ہیں لیکن صوبے میں کھیل کے میدان آباد نہیں ہیں۔ انہوں کہاکہ صوبہ سندھ میں سٹوڈنٹ یونین پر پابندی ختم کی گئی ہے لیکن یہاں کچھ نہیں ہوا۔ہم سب ملکر کھیلوں کے میدان کو آباد کرینگے،امید ہے کہ وفاقی وزیرداخلہ بحیثیت پی سی بی چیئرمین صوبے میں کھیلوں کے میدان کو آباد کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ پاک بھارت میچ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ انڈیا کے خلاف میچ میں قومی ٹیم نے مایوس کیا۔#

chitraltimes governor kp faisal karim kundi visit arbab niaz stadium

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
89967