Chitral Times

Jul 22, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی جنرل اور مخصوص نشستوں کی عبوری فہرست جاری

Posted on
شیئر کریں:

قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی جنرل اور مخصوص نشستوں کی عبوری فہرست جاری

کراچی( چترال ٹائمزرپورٹ) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر سے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی جنرل اور مخصوص نشستوں کی عبوری فہرست جاری کردی۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی عبوری فہرست کے مطابق چاروں صوبوں اور اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے لیے مجموعی طور پر 7713 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے، قومی اسمبلی کے لیے مرد امیدواروں کی تعداد 7242 اور خواتین امیدواروں کی تعداد 471 ہے۔ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے 18 ہزار 546 نامزدگی فارم جمع کرائے گئے۔چاروں صوبوں میں خواتین امیدواروں کی تعداد 802 اور مرد امیدواروں کی تعداد 17 ہزار 744 ہے۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کے لیے 3594 مرد اور 277 خواتین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ سندھ میں قومی اسمبلی کے لیے 1571 مرد اور 110 خواتین امیدواروں کے فارم جمع ہوئے۔ کے پی کے میں قومی اسمبلی کے لیے 1283 مرد اور 39 خواتین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔بلوچستان میں قومی اسمبلی کے لیے 612 مرد اور 19 خواتین کے فارم جمع ہوئے۔ اسلام ا?باد سے قومی اسمبلی کے لیے 182 مرد اور 26 خواتین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

 

چاروں صوبوں سے قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر 459 امیداروں نے کاغذات جمع کرائے۔ چاروں صوبائی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر 1365 امیدواروں کے فارم جمع ہوئے۔ چاروں صوبائی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستوں پر 361 مرد اور 32 خواتین امیداروں کے کاغذات جمع کرائے گئے۔قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستوں پر 140 مرد اور 10 خواتین امیداروں نے فارم جمع کرائے۔ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر 601 نامزدگی فارم جمع کرائے گئے۔ قومی اسمبلی کی پنجاب میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر 195 فارم جمع ہوئے۔ سندھ اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر 309 نامزدگی فارم جمع کرائے گئے۔ سندھ میں قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر 118 کاغذات جمع ہوئے۔کے پی کے اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر 321 فارم وصول کیے گئے۔ کے پی کے میں قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر 97 کاغذات جمع کرائے گئے۔ بلوچستان اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر 134 فارم جمع ہوئے۔ بلوچستان میں قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر 49 کاغذات جمع کرائے گئے۔

 

قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر 140 مرد اور 10 خواتین امیدواروں کے کاغذات جمع ہوئے۔ ملک بھر میں قومی اسمبلی میں مردوں کی نسبت خواتین امیدواروں کی شرح 6.10 فیصد جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں مردوں کے مقابلے میں خواتین امیدواروں کی نمائندگی 4.32 فیصد ہے۔ملک بھر میں 28626 جنرل اور مخصوص نشستوں کے امیداروں نے مجموعی طور پر 65 کروڑ 57 لاکھ 40 ہزار روپے فیس جمع کرائی۔ ان میں سے قومی اسمبلی جنرل اور مخصوص نشستوں پر 8322 امیدواروں سے 24 کروڑ 96 لاکھ 60 روپے روپے فیس وصول کی گئی۔چاروں اسمبلی میں جنرل اور مخصوص نشستوں کے 20304 امیداروں نے 40 کروڑ 60 لاکھ 80 ہزار روپے فیس جمع کرائی۔ ملک بھر میں قومی اسمبلی کے 7713 امیدواروں نے 23 کروڑ 13 لاکھ 90 ہزار جمع کرائی۔ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 18546 امیدواروں نے 37 کروڑ 9 لاکھ 20 ہزار روپے فیس جمع کرائی۔قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی 459 خواتین امیدواروں نے 1 کروڑ 37 لاکھ 70 ہزار روپے فیس جمع کرائی۔ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں پر 1365 خواتین سے 2 کروڑ 73 لاکھ روپے فیس وصول کی گئی۔ قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستوں پر 150 امیدواروں نے 45 لاکھ روپے فیس جمع کرائی۔صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی نشستوں پر393 امیدواروں نے 78 لاکھ 60 ہزار روپے فیس جمع کرائی۔ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے امیدوار کے لیے 30 ہزار اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے لیے 20 ہزار روپے فیس مقرر کی ہے۔

 

 

الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

پشاور(سی ایم لنکس)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی نشان واپس لینے کے خلاف آج(منگل)پشاور ہائی کورٹ جائیں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ کیس سے متعلق پٹیشن تیار کر لی ہے، کوشش ہو گی کہ پٹیشن کل ہی سماعت کے لیے مقرر ہو۔انہوں نے کہا کہ پٹیشن میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے، مو قف اپنایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیرقانونی فیصلہ کیا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ غیر متعلقہ شخص کی درخواست پر انتخابی نشان واپس لینا غیر قانونی ہے۔واضح رہے کہ 22 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان سے بلے کا انتخابی نشان بھی واپس لے لیا تھا۔پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا تھا کہ انہیں الیکشن کمیشن سے ابھی تک فیصلے کی مصدقہ کاپی نہیں ملی ہے، پارٹی کو خدشہ ہے کہ مصدقہ کاپی نہ ہونے کی صورت میں درخواست مسترد ہوسکتی ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83456