Chitral Times

Jul 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قومی اسمبلی؛ وزارت دفاع کے 2149 ارب 82 کروڑ سمیت دیگر مطالباتِ زرمنظور

Posted on
شیئر کریں:

قومی اسمبلی؛ وزارت دفاع کے 2149 ارب 82 کروڑ سمیت دیگر مطالباتِ زرمنظور

اسلام آباد(چترال ٹاٗئمزرپورٹ) قومی اسمبلی میں وزارت دفاع کے 2149 ارب 82 کروڑ سمیت دیگر مطالباتِ زر منظور کرلیے گئے۔نئے مالی سال 2024-25ء کے وفاقی بجٹ کی قومی اسمبلی سے شق وار منظوری کا عمل جاری ہے۔ ایوان میں مختلف وزارتوں اور ڈویشنز کے مطالبات زر منظور کرلے گئے جس میں وزارت دفاع کے 2149 ارب 82 کروڑ روپے سے زائد کے 4 مطالبات زر منظور کیے گئے۔علاوہ ازیں انٹیلی جنس بیورو کا 18 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد، اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں کے لیے ایک ارب 36 کروڑ روپے سے زائد، ہوا بازی ڈویڑن کے 26 ارب 17 کروڑ 10 لاکھ 93 ہزار کے 3 مطالبات زر منظور کرلیے گئے۔اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی کے 7 ارب 26 کروڑ 72 لاکھ 26 ہزار کے 2، وزارتِ تجارت کے 22 ارب 73 کروڑ 57 لاکھ 47 ہزار روپے کے 2، مواصلات ڈویڑن کے 65 ارب 31 کروڑ 50 لاکھ 59 ہزار کے 4 اور دفاعی پیداوار ڈویڑن کے 4 ارب 87 کروڑ 9 لاکھ 50 ہزار روپے کے 2 مطالباتِ زر منظور کرلیے گئے۔

 

 

امریکی قرارداد پاکستان کی سیاسی صورتحال کی ادھوری سمجھ کا نتیجہ ہے، دفتر خارجہ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)دفتر خارجہ نے انتخابات کے حوالے سے منظور کی گئی امریکی قرارداد پر کہا ہے کہ ایوان نمائندگان کی قرارداد پاکستان کی سیاسی صورتحال کی ادھوری سمجھ کا نتیجہ ہے۔ ایک روز قبل امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے ایوان کی قرارداد 901 کی منظوری کے حوالے سے میڈیا کے سوالات کے جواب میں ترجمان وزارت خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے 25 جون کو امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے ایوان کی قرارداد 901 کی منظوری کا نوٹس لیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس مخصوص قرارداد کا وقت اور سیاق و سباق ہمارے دوطرفہ تعلقات کے مثبت عمل کے ساتھ موافق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی صورتحال اور انتخابی عمل کی نامکمل تشریح کی گئی، پاکستان، دنیا کی دوسری سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت اور مجموعی طورپر پانچویں سب سے بڑی جمہوریت ہے، ہمارے اپنے قومی مفاد کے مطابق آئین، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی اقدار کا پابند ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم باہمی احترام اور افہام و تفہیم پر مبنی تعمیری بات چیت اور پر یقین رکھتے ہیں، ایسی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد ہیں، ہمیں امید ہے کہ امریکی کانگریس پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں معاون کردار ادا کرے گی، باہمی تعاون کی راہوں پر توجہ مرکوز کرے گی جس سے ہمارے عوام اور ممالک دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
90327