Chitral Times

Jul 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عشریت کے جنگل میں رائیلٹی کی مد میں کروڑوں روپے کے خرد برد اور کرپشن میں ملوث ڈپٹی کمشنر اور اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ میراعظم ایڈوکیٹ ودیگر عمائدین عشریت

شیئر کریں:

عشریت کے جنگل میں رائیلٹی کی مد میں کروڑوں روپے کے خرد برد اور کرپشن میں ملوث ڈپٹی کمشنر اور اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ میراعظم ایڈوکیٹ ودیگر عمائدین عشریت

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) دروش کے نواحی گاوں عشریت کے رہائشی میر اعظم ایڈوکیٹ، خوش دین، خوش زمان،ممتاز، گل امین اور محمد عمر وغیرہ نے نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، صوبائی محتسب خیبر پختونخوا، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اور چیف سیکرٹری سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ عشریت کی جنگل کمپارٹمنٹ نمبر ایک تا دس کی تیس کروڑ روپے رائیلٹی کو خرد برد کرنے والوں کیخلاف قانونی کاروائی کرکے مقامی لوگوں کو ان کا حق انہیں دیا جائے۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق ڈپٹی کمشنر انوار الحق اورحسن عابد، اسسٹنٹ کمشنر دروش، عبد الحق، نائب تحصیلدار حبیب الرحمن، اکاونٹٹ اور ڈپٹی رجسٹرار دروش نے غیر قانونی طور پر خائستہ الرحمن، سید احمد،سجاد احمد اور غیاث الدین کے ساتھ ساز باز کرکے جھوٹی رپورٹ،جعلی حساب اور جعلی دستاویزات کے ساتھ بد دیانتی اور خیانت کرکے عدالتی حکم امتناعی کے باوجود بغیر کسی مختار نامہ کے تیس کروڑ سے زیادہ رائیلٹی کی رقم کی آدائیگی کی ہے۔ جبکہ خائستہ رحمن نے رائیلٹی ہولڈر عوام کی بجائے صرف پینتیس افراد سے جنگل کے بارے میں معاہدہ کیا ہے۔ جبکہ اس مقابلے میں چراغ الدین نے 188 افراد کے ساتھ اور حاجی انعام اللہ ایڈوکیٹ نے 2500 افراد کیساتھ نہ صرف ایگریمنٹ کیا۔ بلکہ اہالیان عشریت کو ایڈاوانس میں لاکھوں روپے بھی ادا کئے۔ اس کے باوجود چراغ الدین اور حاجی انعام اللہ ایڈوکیٹ کے حسابات کو بھی خائستہ الرحمن کے کھاتے میں ڈال کر کروڑوں روپے ان کو ادا کئے گئے۔ جو کہ محکمانہ کرپشن کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ ایگریمنٹ کے علاوہ ہمارے پاس 397 افراد کا رجسٹرڈ مختار نامہ بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود ڈپٹی کمشنر چترال کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا۔ کہ موجودہ ڈپٹی کمشنر سے جب رائیلٹی کی آدائیگی مطالبہ کیا جاتا ہے۔ تو وہ مبینہ طور پر پینتالیس فیصد کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کو خائستہ رحمن کی طرح پینتالیس فیصد دینا پڑے گا۔ اس کے بیغیر رائیلٹی کے رقم کی آدائیگی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا۔ کہ یہ بات باعث تعجب اور حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ کہ حکومتی سیٹ پر بیٹھا ایک ذمہ دار آفیسر ڈھٹائی سے رشوت طلب کر رہا ہے۔ اور غریب عوام کا پیسہ ہڑپ کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ،وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور صوبائی محتسب اور ڈائریکٹر نیب سے اس ناانصافی اور ظلم اور واضح رشوت طلبی کا نوٹس لینے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے رقم عشریت کے غریب عوام کو دینے کا مطالبہ کیا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
80820