Chitral Times

Jul 23, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عام انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان، پولنگ 8 فروری 2024 کو کرانے پر اتفاق کیا گیا

Posted on
شیئر کریں:

عام انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان، پولنگ 8 فروری 2024 کو کرانے پر اتفاق کیا گیا

اسلام آباد ( چترال ٹائمزرپورٹ ) سپریم کورٹ آف پاکستان کے آج کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور عثمان اعوان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چار ممبران کے ہمراہ ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی۔
ملاقات میں ملک میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے کی گئی پیش رفت کو سنا۔ تفصیلی بحث کے بعد اجلاس میں متفقہ طور پر ملک میں عام انتخابات 8 فروری 2024 کو کرانے پر اتفاق کیا گیا

chitraltimes chief election commissioner raja zafarulhaq met president of Pakistan

 

اس سے قبل 90 روز میں انتخابات کیس کی سماعت کے حکم نامے میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عام انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان سپریم کورٹ سے ہوگا۔عدالتی حکمانے کے مطابق الیکشن کمیشن صدر مملکت سے آج ہی ملاقات کر کے کل بروز جمعہ عدالت کو آگاہ کرے جبکہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن مشاورت کر کے دستاویز عدالت میں پیش کریں۔حکم نامے کے مطابق الیکشن کمیشن صدر مملکت سے آج ہی ملاقات کرے اور دونوں مل کر حتمی تاریخ کا تعین کریں، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ کون تاریخ دے گا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت، پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ انتخابات 90 روز میں کروائے جائیں اور استدعا یہی ہے کہ الیکشن آئین کے مطابق ہی وقت پر ہونے چاہیے۔عدالت نے پیپلزپارٹی کو مقدمہ میں فریق بننے کی اجازت بھی دی۔وکیل علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ انتخابات نہیں ہوں گے تو نہ پارلیمنٹ ہوگئی نا قانون بنیں گے، انتخابات کی تارہخ دینا اور شیڈول دینا دو چیزیں ہیں، الیکشن کی تاریخ دینے کا معاملہ آئین میں درج ہے اور صدر اسمبلی تحلیل کرے تو 90دن کے اندر کی الیکشن تاریخ دے گا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ تاریخ دینے کے لیے صدر کو وزیر اعظم سے مشورہ لینا ضروری ہے۔ وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ ضروری نہیں ہے صدر کا اپنا آئینی فریضہ ہے وہ تاریخ دے۔

 

جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا صدر نے الیکشن کی تاریخ دی ہے؟ جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری رائے میں صدر نے تاریخ دیدی ہے لیکن الیکشن کمیشن نے کہا یہ صدر کا اختیار نہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدر نے جس خط میں تاریخ دی وہ کہاں ہے، جس پر وکیل علی ظفر نے صدر کا خط پڑھ کر سنایا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسمبلی 9اگست کو تحلیل ہوئی اس ہر تو کسی کا اعتراض نہیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ جی کسی کا اعتراض نہیں۔چیف جسٹس نے اہم ریمارکس دیے کہ پھر آپ خط ہمارے سامنے کیسے پڑھ رہے ہیں، صدر کے خط کا متن بھی کافی مبہم ہے، صدر نے جب خود ایسا نہیں کیا تو وہ کسی اور کو یہ مشورہ کیسے دے سکتے ہیں، علی ظفر کیا آپ کہہ رہے ہیں صدر نے اپنا آئینی فریضہ ادا نہیں کہا، 9 اگست کو اسمبلی تحلیل ہوئی اور صدر نے ستمبر میں خط لکھا۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آئین کی کمانڈ بڑی واضح ہے صدر نے تاریخ دینا تھی اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں حکومت، الیکشن کمیشن اور صدر مملکت تینوں ذمہ دار ہیں، اب سوال یہ ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے اور انتخابات تو وقت پر ہونے چاہیں۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ علی ظفر صاحب کیا آپ سیاسی جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ آپ صدر کو ایک فون کر کے کیوں نہیں کہتے کے تاریخ دیں۔علی ظفر نے کہا کہ وہ صدر پاکستان ہیں پورے ملک کے صدر ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہم سے ان کے خلاف کارروائی چاہ رہے ہیں،

 

صدر اپنے ہاتھ کھڑے کر کے کہہ رہے جاو عدالت سے رائے لے لو اور صدر پھر خود رائے لینے آتے بھی نہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ سیکشن 57 میں ترمیم کے بعد تاریخ دینا ان کا اختیار ہے، آپ نے یہ ترمیم چیلنج کیوں نہیں کی؟ علی ظفر نے کہا کہ مجھے یہ چیلنج کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کہہ رہے ہیں سیکشن 57 کو آرٹیکل 58 کے ساتھ ہی پڑھا جائے گا، پھر الیکشن کمیشن ٹھیک کہہ رہا ہے کے صدر سے مشاورت کی ضرورت نہیں وہ تاریخ دے دیں، صدر کو تاریخ دے دینی چاہیے پھر الیکشن کمیشن جو بھی کہتا رہے۔علی ظفر نے کہا کہ میرے خیال میں صدر کو الیکشن کمیشن سے مشاورت کر کے ہی تاریخ دینی چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن مشاورت میں نہیں آیا تو تاریخ دے دینی چاہیے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس حد تک میں اتفاق کرتا ہوں کہ صدر کو الیکشن کمیشن سے مشاورت کر کے ہی تاریخ دینی چاہیے۔ حکومت، الیکشن کمیشن یا صدر جس نے خلاف ورزی کی ان کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ جو دلائل دے رہے ہیں اس سے تو صدر مملکت پر آرٹیکل 6لگ جائے گا۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کرے گا اور آئینی بحث میں پڑے بغیر صدر سے مشاورت پر آمادہ ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدر جواب دے نا دیں آپ نے دستک ضرور دینا ہے۔چیف جسٹس نے آج ہی صدر مملکت سے مشاورت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل مشاورت میں ان بورڈ رہیں۔ عدالت نے گزشتہ سماعت اور آج کی سماعت کے دونوں حکمنامے فریقین کو فراہم کرنے کی ہدایات کر دی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
81184