Chitral Times

Jul 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عام انتخابات سے متعلق صدر مملکت کی دستخط شدہ دستاویز سپریم کورٹ میں پیش،انتخابات انشاء اللہ 8 فروری کو ہوں گے، سپریم کورٹ

Posted on
شیئر کریں:

عام انتخابات سے متعلق صدر مملکت کی دستخط شدہ دستاویز سپریم کورٹ میں پیش،انتخابات انشاء اللہ 8 فروری کو ہوں گے، سپریم کورٹ

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ)عام انتخابات سے متعلق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی دستخط شدہ دستاویز سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی، صدر ہاوس کے گریڈ 22 کے افسر کے دستخطوں سے جواب جمع کروایا گیا۔صدر مملکت کی جانب سے 8فروری کو انتخابات کی تاریخ دینے پر رضہ مند ظاہر کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے 8فروری کو انتخابات کا نوٹیفکیشن سپریم کورٹ میں پیش کیا جبکہ اٹارنی جنرل نے انتخابات سے متعلق نوٹیفکیشن کی کاپی سپریم کورٹ میں جمع کروا دی۔عدالت نے حکمنامے کے ساتھ انتخابات سے متعلق تمام درخواستیں نمٹا تے ہوئے اپنے حکمنامے میں لکھا کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد صدر اور الیکشن کمیشن کے مابین اختلاف ہوا، چاروں صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز نے حکمنامے پر کوئی اعتراض نہیں کیا، وکیل پی ٹی آئی نے صدر کا الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط بھی دکھا دیا۔ خط میں صدر نے کمیشن کو سیاسی جماعتوں اور صوبوں سے مشاورت جبکہ عدلیہ سے بھی رہنمائی لینے کا کہا۔ صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔عدالت نے اپنے حکمنامے میں لکھا کہ سپریم کورٹ کا تاریخ دینے کے معاملے پر کوئی کردار نہیں،

 

صدر مملکت اعلیٰ عہدہ ہے، حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے، صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو 186آرٹیکل کے تحت رائے لے سکتے تھے، ہر آئینی آفس رکھنے والا اور آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں، آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، آئین پر علمداری اختیاری نہیں، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیا، سپریم کورٹ آگاہ ہے ہم صدر اور الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتے، انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر پورا ملک تشویش کا شکار ہوا۔سپریم کورٹ نے حکمنامے میں لکھا کہ انتحابات کی تاریح نہ دینے سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہوا، جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی اتنی بڑی ہوتی ہے۔ آئین میں صدر اور الیکشن کمیشن ممبران کے حلف کا ذکر موجود ہے۔ انتخابات کے لیے سازگار ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور یہ ذمہ داری ا ن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف ا?ٹھا رکھا ہے۔ صدر مملکت یا الیکشن کمیشن دونوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدر مملکت حلف لیتے ہیں، عوام کو صدر مملکت یا الیکشن کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے۔عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کہ حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں پندرہ سال آئینی عملداری کا سوال آیا لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں، آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

 

وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا، اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا۔ سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ غیر آئینی تھا، اسمبلی تحلیل کیس میں ایک جج نے کہا کہ صدر مملکت پر پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے، عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا، وہ اختیار استعمال نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا، عوام پاکستان حقدار ہیں کہ ملک میں عام انتخابات کروائے جائیں۔صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملاقات کرانے کے لیے اٹارنی جنرل نے کردار ادا کیا اور معاملہ حل ہوگیا۔ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے پورے ملک میں ایک ساتھ عام انتخابات کے لیے تاریخ دے دی، الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن شیڈول جاری کرے گا۔ انتخابات انشااللہ 8 فروری کو ہوں گے، تمام لاء افسران نے انتخابی تاریخ پر کوئی اعتراض نہیں کیا، توقع ہے کہ تمام تیاریاں مکمل کرکے الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرے گا۔سماعت کے اختتام پر، جسٹس اطہر من اللہ نے ریماکس دیے سپریم کورٹ کو پتہ ہے ہم نے کیسے عمل درآمد کروانا ہے جبکہ چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ اگر کسی سے فیصلے نہیں ہو پا رہے تو وہ گھر چلا جائے، اگر میڈیا نے شکوک شبہات پیدا کیے تو وہ بھی آئینی خلاف ورزی کریں گے، آزاد میڈیا ہے ہم ان کو بھی دیکھ لیں گے۔عدالتی حکم نامے کے بعد سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق تمام درخواستیں نمٹا دیں۔

 

انتخابات انشاء اللہ 8 فروری کو ہوں گے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ انتخابات ان شاء اللہ 8 فروری کو ہوں گے۔چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل تین رکنی بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے پورے ملک کی تاریخ دے دی، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اتفاق کیا کہ انتخابات کا انعقاد بغیر کسی خلل کے ہو گا۔حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے بھی 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ قبل ازیں سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر اور اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صدر اور الیکشن کمیشن کی ملاقات کی منٹس عدالت کو کچھ دیر فراہم کر دیتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر کیس کو آخر میں ٹیک اپ کر لیتے ہیں، پہلے ہم روٹین کے مقدمات سن لیں، بعد میں انتخابات کیس سنیں گے۔اس موقع پر سماعت میں کچھ دیر کیلئے وقفہ کر دیا گیا۔ وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے چیف الیکشن کمشنر کا الیکشن کی تاریخ سے متعلق خط عدالت میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن وفد ملاقات کے منٹس بھی عدالت میں پیش کر دیئے۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں پیش کئے گئے ریکارڈ پر صدر کے دستخط نہیں ہیں، صدر مملکت نے دستخط کیوں نہیں کئے، پہلے ان دستاویز پر صدر مملکت کے دستخط کروائیں، پھر آپ کو سنتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں اور الیکشن کمیشن کے نمائندے بھی موجود ہیں، صدر مملکت کی طرف سے یہاں کوئی نہیں ہے اور آفیشلی دستخط بھی نہیں ہیں، صدر مملکت نے نے دستخط کیوں نہیں کئے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت نے اپنی رضا مندی کا لیٹر الگ سے دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ صدر مملکت کی رضا مندی کا خط کہاں ہے، ایوان صدر یہاں سے کتنا دور ہے، ہم ایسے نہیں چھوڑیں گے، صدر مملکت کی آفیشلی تصدیق ہونی چاہیے۔ان ریمارکس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے صدر مملکت کے دستخط ہونے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔ وقفے کے بعد جب اٹارنی جنرل دوبارہ عدالت پہنچے تو انہوں نے بنچ سے ملاقات کی، اٹارنی جنرل کے کمرہ عدالت پہنچنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ بہت دیر ہوگئی اٹارنی جنرل صاحب۔ اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کی جانب سے انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے دستخط شدہ خط عدالت میں پیش کر دیا، نوٹیفکیشن الیکشن ایکٹ کی دفعہ 217 تحت جاری ہوا ہے، عدالت میں پیش کئے گئے نوٹیفکیشن پر 3 نومبر کی تاریخ درج ہے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عام انتخابات 8 فروری کو کرانے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن بھی پڑھ کر سنایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سب خوش ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، الیکشن کمیشن اور تمام فریقین کی رضامندی ہے، تمام ممبران نے متفقہ طورپر تاریخ پر رضامندی دی لیکن کسی آئینی شق کا حوالہ نہیں دیا۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 8 فروری کو کرانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
81223