Chitral Times

Jul 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت نے گندم خریداری مہم کیلئے مقررہ ہدف مکمل کرلیاہے، حالیہ گندم خریداری کے لیے صوبائی حکومت نے 29 ارب روپے جاری کئے۔ وزیر برائے خوراک ظاہر شاہ طورو 

شیئر کریں:

صوبائی حکومت نے گندم خریداری مہم کیلئے مقررہ ہدف مکمل کرلیاہے، حالیہ گندم خریداری کے لیے صوبائی حکومت نے 29 ارب روپے جاری کئے۔ وزیر برائے خوراک ظاہر شاہ طورو

 

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) خیبرپختونخوا کے وزیر برائے خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گندم خریداری مہم کیلئے مقررہ ہدف مکمل  کردیا ہے اور اس سلسلے میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے وزیر اعلیٰ کے مشیر خزانہ مزمل اسلم اور معاون خصوصی برائے اینٹی کرپشن مصدق حسین عباسی کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سالانہ گندم کی ضرورت تقریباً پانچ ملین میٹرک ٹن ہے اور 1.4 ملین میٹرک ٹن گندم صوبے کی مقامی پیداوار ہے ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے اور پروکیورمنٹ کے عمل کو ڈیجیٹائز طریقے سے پورا کیا گیا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ محکمہ خوراک نے 40 کلو گندم 3900 روپے کے حساب سے خیبرپختونخوا کے مقامی اور دیگر صوبوں خصوصی طور پر پنجاب کے کسانوں سے خریداری کی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اس بار گندم خریداری کے عمل کے دوران شفافیت کے لیے صوبائی حکومت نے ٹرانسپورٹیشن اور باردانہ کا عمل نکال دیا. صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ گندم خریداری کے عمل میں پنجاب کے زمینداروں اور کسانوں کے مشکور ہیں جتنا ہوسکا پنجاب کے زمینداروں کو معاونت فراہم کر دی، پریس کانفرنس کیدوران ظاہر شاہ طورو نے یہ بھی واضح کیا کہ چترال، دیر لوئر اور سوات تین خریداری مراکز میں مقررہ ہدف مکمل کرنے تک خریداری جاری رہے گی جبکہ صوبے کی باقی مراکز میں ٹارگٹ پورا ہو چکا ہے کچھ گندم خریداری مراکز کے قریب سڑکوں پر گندم کے ٹرک کھڑے ہیں مزید خریدنے کا استعداد نہیں رکھتے اور محکمہ خوراک نے کاشتکاروں سے پہلے آئیں پہلے پائیں کی پالیسی کے تحت گندم خریدی، پریس کانفرنس کیدوران مبینہ خرد برد سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ گندم خریدنے کے عمل میں اگر کسی پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو ہمیں پیش کر دیں،

 

صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر آٹھ افسران کو معطل بھی کر دیا گیا ہے جن کے خلاف باقاعدہ انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے۔ایک اور سوال کے جواب پر ظاہر شاہ نے کہاکہ عوام اور میڈیا مہنگی روٹی بیچنے والے نانبائیوں کی نشاندھی کریں ہم کارروائی کریں گے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ معاون خصوصی برائے اینٹی کرپشن مصدق حسین عباسی نے کہا پنجاب پورے ملک کا فوڈ باسکٹ ہے خیبر پختونخوا گندم خریداری مہم نے پنجاب کے زمینداروں کو سہارا دیا اور قومی مفاد کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے پنجاب کے زمینداروں اور کسانوں سے گندم خریدا۔

 

عباسی نے مزید کہا کہ گندم خریداری سے خیبرپختونخوا نے پنجاب کے زمینداروں کی داد رسی ہوئی معاون خصوصی نے مزید کہا کہ گندم خریداری کے عمل میں شفافیت کے لیے ایپ متعارف کرایا گیا اورتمام گوداموں میں سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی گئی تاکہ پروکیورمنٹ کا عمل شفاف ہو. صوبائی حکومت نے گندم خریداری کے معیار کو جانچنے کے لئے ضلعی سطح پر مختلف محکموں کے اہلکاروں پر مشتمل کمیٹیاں بھی تشکیل دی تھی۔ معاون خصوصی نے کہا کہ خریداری عمل کے دوران بہت کم شکایات موصول ہوئیں۔ مجموعی طور پر 40 شکایات موصول ہوئیں۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے بتایا کہ حالیہ گندم خریداری کے لیے صوبائی حکومت نے 29 ارب روپے جاری کئے، لیکن اب چیلنج یہ درپیش ہے کہ کیا ہمارا ذخیرہ کیا ہوا گندم استعمال ہو سکے گا؟ مزمل اسلم نے کہا کہ مارکیٹ میں بھی کافی گندم ذخیرہ موجود ہے، جبکہ حکومت نے بھی اس حوالے سے ہدف مکمل کر لیا ہے. مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ وفاق سوتیلی ماں کا سلوک کر رہا ہے ضم اضلاع کے حوالے سے وفاق اپنا وعدہ پورا کردیں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89578