Chitral Times

Jul 24, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صلاحیتوں کا اعتراف – ایک دن ہی کیوں؟ – از: کلثوم رضا

Posted on
شیئر کریں:

صلاحیتوں کا اعتراف – ایک دن ہی کیوں؟ – از: کلثوم رضا

 

سالانہ 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین ان خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا یے جنہوں نے اپنے حقوق کی جنگ لڑی ۔اس دن کو منانے کے دیگر مقاصد میں خواتین کی اہمیت اجاگر کرنا اور خواتین پر تشدد کی روک تھام کرنا بھی ہے۔

مختلف ممالک میں مختلف ادوار میں اس دن کے منانے کی تاریخ اور طریقے مختلف رہے ہیں۔ لیکن 1975 میں خواتین کے عالمی دن کو سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا۔ جب اقوام متحدہ نے اسے منانا شروع کیا۔ 1996 میں پہلی بار اس دن کو تھیم دی گئی جب کہ اقوام متحدہ نے اسے ماضی کا “جشن” اور مستقبل کی” منصوبہ بندی “کے عنوان سے منایا۔ تب سے خواتین کا عالمی دن ہر سال 8 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں بحیثیت مسلمان اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے مذہب اسلام نے 1400 سال پہلے عورت کو جو مقام و مرتبہ اور عزت و تکریم دی۔۔۔ جس طرح عورت کے تحفظ و ناموس کے تحفظ کا سامان کیا اور بطور ماں، بہن، بیوی، بیٹی اور بحیثیت انسان جو فضیلت عطا فرمائی کسی اور مذہب نے اسے یہ مقام و مرتبہ نہیں دیا۔
8 مارچ کو خواتین کی خدمات کا اعتراف کرکے سال بھر کی خدمات پر مختلف اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ یہ دن مسلمان عورت سے بالخصوص اور تمام مذاہب کی عورتوں سے بالعموم کئی تقاضے کرتا ہے۔

الله تعالیٰ نے مرد وعورت دونوں کو انفرادی اور امتیازی خصوصیات سے تخلیق فرمایا ہے۔ بلا شبہ دونوں کی اپنی انفرادی شخصیت ہے۔ لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کی جگہ لینے کے لیے اپنی انفرادی خصوصیات سے دستبردار ہونے کی کوشش نہ کریں۔

” عالمی یوم خواتین “منانے والے عورتوں کو خصوصی تاکید ہے کہ اپنے خاص اوصاف کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے بنیادی مقاصد اور ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کریں۔
ایک مسلمان عورت اپنے الله کی عطا کردہ صفات اور انفرادیت کو قائم رکھ کر ہی بلند مقام حاصل کر سکتی ہے۔ جب بھی وہ اپنی اس خاص وصف سے غفلت برتے گی، اس بلند مقام سے منہ کے بل گر کر اس کی شخصیت زوال پزیر ہو جائے گی۔

 

عورت جس طرح اپنے گھر کی زیبائش اور تربیت اولاد میں بہترین کارکردگی دکھا سکتی ہے اسی طرح اصلاح معاشرہ اور ملک کی تعمیر وترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور کر بھی رہی ہے۔ اس کی مثال وطن عزیز ہی میں تحریک پاکستان سے لے کر قیام پاکستان اور استحکام پاکستان تک خواتین نے عزم و ہمت کی داستانیں رقم کر کے مردوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور ثابت کر دیا کہ وہ صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی طرح مردوں سے پیچھے نہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں عورت کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عورت قومی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر عورت کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

وہ زمانہ گیا جب عورت کو صنف نازک اور مستور شے سمجھ کر دفاعی اور معاشرتی کاموں سے دور رکھا جاتا تھا۔ آج کی عورت ان اداروں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ تعلیم و تدریس، جہاز رانی، ہوائی اڑان، فضائی میزبانی، طب، انجینیرنگ، آئی ٹی ٹیکنالوجی، کھیل، وکالت، فوج، اخبارات اور ادب و ثقافت کونسا ایسا شعبہ ہے جہاں خواتین مردوں سے پیچھے ہیں۔ بلکہ وہ ادارے جہاں خواتین کام کرتی ہیں، بڑی تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ آج کی عورت کمزور اور بزدل نہیں بلکہ ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ ہے۔
بڑے افسوس سے کہنا ہڑتا ہے کہ ان تمام شعبوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے باوجود ہمارے معاشرے میں عورت کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ اسے وہ سہولیات میسر نہیں جو مردوں کو حاصل ہیں۔۔۔ اسے وہ تحفظ حاصل نہیں جو ہونا چاہئے۔ گھر سے باہر نکلی عورت گوں ناگوں مسائل کی شکار رہتی ہے۔ مرد اسے وہ عزت نہیں دے پاتے جو اپنے گھروں کے اندر کی خواتین کو دیتے ہیں۔ جس طرح منٹو نے کہا تھا ہمارے معاشرے کے مردوں کو ان کے گھروں کی خواتین کے علاوہ باقی خواتین ایسے دکھتی ہیں جیسے کتوں کو قصاب کی دکان میں گوشت۔۔۔
معاشرے کو یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ مختلف شعبوں میں کام کرنے والی عورتیں معاشرے کی بھلائی اور بہتری کے لیے کوشاں ہیں۔ انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔۔۔
نسوانی سرگرمیوں کی انجام دہی سے عورت کی شخصیت کو جلا ملتی ہے۔ وہ گردو پیش سے تجربات حاصل کر کے اپنی شخصیت میں نکھار پیدا کرتی ہے اور اپنے کاموں کو بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہے۔

عورت کو بھی اسلامی حدود وقیود کی پاسداری کرتے ہوئے خدا کی طرف سے ودیعت کردہ خصوصی فرائض سے غفلت برتنے سے گریز کرنا چاہیے۔ وہ اپنی خاندانی اور معاشرتی زمہ داریوں کو جس قدر بہتر انداز سے سر انجام دے گی اتنا ہی اس کی نسوانی شخصیت بلند مقام حاصل کرے گی۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ زمہ داریوں کی ادائیگی ہی کی مانند حقوق کا حصول بھی ایک اہم سرگرمی ہے۔ وہ حقوق جو اسلام نے اسے دئے ہیں برابر ملنے چاہئیں۔ اس لیے ذمہ داریاں نبھانا اور اپنے حقوق حاصل کرنا دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ دونوں کی ادائیگی ہی بہترین نتائج کو جنم دیتی ہیں۔
عورت حصول علم، شادی، افزائش نسل اور گھر داری کی احسن ادائیگی کے ساتھ ساتھ وقت نکال کر ملازمت، سیاسی امور کی بہتری اور سماجی کاموں میں حصہ لے سکتی ہے۔ عورت کے جو حقوق ہیں وہی اس کی ذمہ داریاں اور فرائض ہیں۔

دین اسلام نے عورت کے حقوق کے حوالے سے بڑا واضح راستہ اختیار کیا ہے۔ وہ سماجی امور میں حصہ لے سکتی ہے لیکن سماجی زندگی میں شرکت اور مردوں کے ساتھ میل جول کے کچھ آداب بھی مقرر کیے ہیں جن کی پاسداری عورت پر لازم ہے تاکہ نیکی اور بھلائی کے کاموں کو جاری رکھنے کے لیے اس کی زندگی کا بامقصد قافلہ کسی مشکل کا شکار ہو کر منزل پر پہنچنے سے پہلے دم نہ توڑ دے۔

آج کی عورت پر حقوق کے حصول کے ساتھ ساتھ کئی بھاری ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جن سے عہدہ برآں ہو کر وہ دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہو سکتی ہے۔
آج کی عورت اپنی صلاحیتوں کے استعمال میں کسی طرح مرد سے کم نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عورتوں کی صلاحیتوں سے مستفید ہونے کے لیے انہیں مردوں جیسی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اور اس کی صلاحیتوں کا اعتراف صرف یوم خواتین کے موقع پر نہیں بلکہ ہمہ وقت اس کی قیادت ،جرات اور قوت کا اعتراف کیا جائے ۔عورت کو تحفظ کے ساتھ بااخیتار بنایا جائے۔ وہ مرد سے بہتر منتظم ہے۔ صرف اس کے متعلق سوچ کی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے اور یہ تسلیم کیا جائے کہ

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک
کہ شرف ہے اسی درج کا در مکنون۔۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
86069