Chitral Times

Jul 24, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صدر مملکت نے فنانس بل 2024-25 کی منظوری دے دی

Posted on
شیئر کریں:

صدر مملکت نے فنانس بل 2024-25 کی منظوری دے دی

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ ) صدر مملکت آصف علی زرداری نے فنانس بل 2024-25 کی منظوری دے دی ہے۔صدر مملکت نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آرٹیکل 75 کے تحت فنانس بل کی منظوری دی۔ فنانس بل یکم جولائی سے لاگو ہوگا۔قومی اسمبلی نے جمعہ 21 جون کو فنانس بل میں شق وار منظوری کے بعد 18877 ارب روپے کا بجٹ منظور کر لیا تھا جبکہ اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں تھیں۔ شق وار منظوری کے عمل کے دوران پیپلزپارٹی نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی کی ترامیم واپس لیں۔پیٹرولیم لیوی میں کمی کی اپوزیشن کی ترامیم کثرت رائے سے مسترد کی گئی تھی جس میں 170 ارکان اسمبلی نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی کے خلاف ووٹ دیا جبکہ 84 ارکان نے لیوی میں کمی کی حمایت کی۔ تاہم وزیر خزانہ نے خود ہی پیٹرولیم لیوی میں کمی کا اعلان کیا۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ اپوزیشن نے بجٹ کو آئی ایم ایف کا تیار کردہ اور عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مخالفت کی۔

نان فائلر کی اختراع سمجھ نہیں آتی، اسے ختم کریں گے، وزیر خزانہ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ نان فائلر کی اختراع سمجھ نہیں آتی، اسے ختم کریں گے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر نو ارب ڈالر ہیں، مہنگائی 38فیصد سے کم ہوکر بارہ فیصد پر آگئی ہے، عالمی کمپنیوں کے ڈویڈنڈ کی واپسی مکمل ہوچکی ہے، یہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے بہت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی بینک نے داسو کے لئے ایک ارب ڈالر کی منظوری دی ہے، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے پی ٹی سی ایل کیلئے 400 ملین ڈالر کی منظوری دیدی، یہ رقم اگلے مالی سال آجائے گی، ایف بی آر 9.3 ٹریلین روپے کی ٹیکس وصولیاں کرلیں، ٹیکس وصولیوں میں گروتھ تیس فیصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سب میکرو استحکام کے فوائد ہیں، اور میکرو استحکام کو کیسے آگے لے کر جانا ہے یہی چیلنج ہے، میکرو استحکام لڑکھڑا گیا تو پھر باقی چیزیں کرنا مشکل ہوگا، ایف بی آر کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کی جارہی ہے جتنی ڈیجیٹائزیشن ہوگی اتنی بہتری آئے گی، تالی دونوں ہاتھوں سے بنتی ہے اگر سرکار کی طرف سے کوئی کرپشن کرتا ہے تو دوسری طرف سے بھی تو کوئی کرتا ہے، اس رجحان کو روکنا ہے جس کیلئے ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں اگر لیکیج نہ ہورہی ہو تو کرنے کو بہت کچھ مل جائیگا، ایف بی آر کے لیکیجز، کرپشن، چوری کو بند کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس دہندگان کے تیس جون2024 تک کے تمام ریفنڈز اگلے دو سے تین دن میں جاری کردیے جائیں گے جن کی رقم پچاس ارب روپے سے زائد بنتی ہے، اسی طرح ٹیکس دہندگان کے ڈی ایل ٹی کے ریفنڈز بھی جلد ادا کردیے جائیں گے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ 2022میں جب مفتاح اسماعیل کے دور میں ریٹیلرز پر ٹیکس عائد کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اسی وقت لگا دینا چاہیے تھا، اگر ٹیکس لگا ہوتا تو آج اس مد میں اچھی خاصی رقم جمع ہوجاتی، اب تک 42ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں جن پر یکم جولائی سے ٹیکس لاگو ہوگا، پارلیمنٹ میں بھی کہا کہ نان فائلر کی اختراع مجھے سمجھ نہیں آتی اس اختراع کو ملک سے ختم کریں گیانہوں نے مزید کہا کہ پنشن بجٹ کا حصہ نہیں تھا مگر ای سی سی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے، سول ملازمین پر نئے پنشن سسٹم کا اطلاق کل سے ہو جائے گا جبکہ مسلح افواج کیلئے اگلے سال سے شروع ہوگا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
90441