سرخ لباس کی داستان ۔ از: ڈاکٹر شاکرہ نندنی
سرخ لباس کی داستان
از: ڈاکٹر شاکرہ نندنی
سرخ لباس میں وہ عجب کہانی سی لگے
ہر نظر میں وہ چراغِ جوانی سی لگے
اس کے انداز میں ہے جادو، فسوں جیسا
روشنی بن کے بکھرے، کہکشانی سی لگے
لب پہ خاموشی مگر آنکھوں میں ہے شور
ہر ادا میں وہ محبت کی روانی سی لگے
کمرے کے گوشے بھی مسحور ہیں اس سے
وہ جہاں کھڑی ہو، اک کہانی سی لگے
حسن کی تاب، سرخ رنگ کا یہ بیان
اس کے جلوے کی یہ دنیا بھی فانی سی لگے
ہے وہ جرات کی مثال، زندگی کی روشنی
ہر لمحہ اس کے قدموں میں کہانی سی لگے