Chitral Times

Jul 24, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید

شیئر کریں:

سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید

راولپنڈی(چترال ٹائمزرپورٹ) آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں 10، 10 سال قید کی سزا سنادی۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی۔ فاضل جج نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 342کے بیان کیلئے سوالنامہ اور اسٹیٹمینٹس کی کاپیاں فراہم کیں -سوالنامے میں ملزمان سے تقریبا 36 سوالوں کے جواب مانگے گئے۔ دونوں سیاسی رہنماؤں نے خود جوابات لکھوائے۔342 کا بیان قلمبند کرنے کے بعد جج نے سزا سنانے سے پہلے آخری سوال پوچھا عمران خان صاحب سائفر کہاں گیا؟بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم، سائفر میرے پاس نہیں بلکہ میرے دفتر میں تھا، میں نے اپنے بیان میں لکھوا دیا ہے، وزیراعظم آفس کی سیکیورٹی میری ذمہ داری نہیں تھی۔عدالت نے شاہ محمود قریشی کا بیان ریکارڈ کرانے سے قبل ہی بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی دونوں کو جرم ثابت ہونے پر قید کی سزا سنادی۔فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی مسکراتے رہے جبکہ شاہ محمود قریشی نے احتجاج کیا کہ میرا تو ابھی بیان ہی ریکارڈ نہیں ہوا۔واضح رہے کہ عمران خان کو سزا سے نو روز قبل 10 سال کی سزا سنائی گئی جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی 5 جولائی 2018ء کو دس سال کی ہی سزا سنائی گئی اور انہیں یہ سزا 2018 کے عام انتخابات سے 20 روز قبل سزا سنائی گئی۔

 

سپریم کورٹ سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، بیرسٹر گوہر

راولپنڈی(سی ایم لنکس)تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ جج نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کا حق دفاع ختم کرکے سرکاری وکیل لگا دیے، دونوں کو سرکاری وکلاء پر اعتماد نہیں ہے، سپریم کورٹ سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں خان صاحب کے کیسز چل رہے ہیں، دو عدالتیں لگائی گئیں، انصاف کا قتل ہوتے دیکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائفر ٹرائل پر جج نے علیحدہ عدالت لگا کر خان صاحب کو بلایا، جبکہ خان صاحب پہلی عدالت میں تھے، دوسری عدالت میں کیسے جا سکتے تھے۔جج صاحب نے اپنے لگائے گئے وکلاء کو خان صاحب اور شاہ محمود کے لیے مختص کر دیا، خان صاحب اور شاہ محمود قریشی کو جج کے لگائے گئے وکلاء پر اعتماد نہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے استدعا یے کہ سوموٹو لیا جائے، عمران خان کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے، اللّٰہ اس کو مٹنے نہیں دے گا، ہم چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہیں کہ انصاف دلوایا جائے، عدلیہ سے التماس ہے کہ اس کا تدارک کیا جائے، آئینی تقاضے پورے کیے جائیں، ہم عدالت کے سوا کس کے پاس جائیں، جو بھی جرم ہے مگر حق دفاع کا حق نہیں لینا چاہیے۔

 

بانی پی ٹی آئی کا سائفر کیس کی کارروائی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)تحریک انصاف کے بانی نے سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔بانی پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم کی جانب سے آج کارروائی عدالت میں چیلنج کی جائے گی۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ آج ہائیکورٹ میں کارروائی چیلنج کریں گے اور چیف جسٹس سے جلد سماعت کی استدعا کریں گے۔واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت راولپنڈی اڈیالہ جیل میں ہوتی ہے۔علاوہ ازیں توشہ خانہ نیب کیس کی کارروائی بھی ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے۔

بانیء پی ٹی آئی کا سائفر کیس میں دیا 342 کا بیان سامنے آگیا

راولپنڈی(سی ایم لنکس)بانیء پی ٹی آئی کا سائفر کیس میں دیا 342 کا بیان سامنے آگیا۔بانی پی ٹی آئی نے خصوصی عدالت کے روبرو 342 کا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ سائفر میرے آفس میں تھا، ذمہ داری پرنسپل سیکریٹری اور ملٹری سیکریٹری کی ہوتی ہے، بتانا چاہتا ہوں کہ اصل سازش کیسے ہوئی۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ساڑھے3 سال کے دوران بطور وزیراعظم صرف سائفرکی ایک دستاویزغائب ہوئی۔بانی پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ سائفرگمشدگی پرملٹری سیکریٹری سے کہا کہ اس کی انکوائری کرو جس پر ملٹری سیکریٹری نیکہا انکوائری کی، سائفر کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ 2 کروڑ 30 لاکھ ووٹوں سے منتخب وزیراعظم کو نکالا گیا، منتخب وزیراعظم کیخلاف سازش میں جنرل باجوہ اور ڈونلڈ لو شامل تھے، حسین حقانی نے جنرل باجوہ کے کہنے پرمیرے خلاف لابنگ کی۔عمران خان نے عدالت میں کہا کہ جنرل باجوہ سے ملاقات کیلئے تین رکنی کمیٹی بنائی، کمیٹی میں اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور پرویزخٹک شامل تھے، جنرل باجوہ نے کمیٹی کو کہااپنی سمت درست کرو ورنہ 12 سال کیلئے اندرجاؤ گے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ روس سے واپس آیاتوشاہ محمودقریشی نیمجھے سائفرپیغام سیآگاہ کیا، اس دوران میری باجوہ سیمتعدد ملاقاتیں ہوئیں جس میں باجوہ سے کہا اگر حکومت گرائی گئی تو پاکستانی معیشت ڈوب جائے گی اور سیاسی عدم استحکام آنیوالی حکومت نہیں سنبھال سکے گی۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جلسے میں جو کاپی لہرائی وہ سائفر کی پیرا فریز کاپی تھی، 22اگست کو ایوان صدر میں میری جنرل باجوہ سے پھر ملاقات ہوئی جس میں جنرل باجوہ نے کہاسائفر پر بات نہ کرو، جنرل باجوہ نیکہا میرجعفر، میرصادق کہنا بند کرو، باجوہ نے کہا تمہارے اوپر آفیشل سیکرٹ ایکٹ لاگو ہوگا۔

 

 

ہم ہائیکورٹ آئے ہیں تاکہ جج ذوالقرنین کو ہٹایا جائے، علیمہ خان

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہم ہائیکورٹ آئے ہیں تاکہ جج ذوالقرنین کو ہٹایا جائے۔علیمہ خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گواہان کے بیانات کروائے لیکن جرح کے وقت فیصلہ دے دیا، گزشتہ روز ہمارے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو فراڈ کیا وہ سب کے سامنے ہے، مجھے بھی جیل میں ڈال دیں، میں اسے فراڈ کہوں گی۔علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا کام انصاف دینا ہے، انہیں تنخواہ ملتی ہے۔واضح رہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بانیء پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی ہے۔فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی، اسٹیٹ کونسل، بانیء پی ٹی آئی کی بہنیں، شاہ محمود قریشی کے اہلِ خانہ، میڈیا کے نمائندے اور عام افراد بھی کورٹ روم میں موجود تھے۔

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
84764