Chitral Times

Jul 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

زندگی کی حقیقت تحریر: اقبال حیات اف برغذی

Posted on
شیئر کریں:

زندگی کی حقیقت – تحریر: اقبال حیات اف برغذی

ایک گاڑی میں سفر کے دوران سرزمین چترال میں آئے دن نوجوان نسل کی اچانک اموات پر تبصرہ ہورہا تھا۔ اور ان اموات کو بے وقت قرار دے کر ان کے محرکات اور اسباب پررائے زنی کی جارہی تھی۔ جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے زندگی کے بارے میں اسلامی تصور کے منافی گفتگو کے آئینہ دار تھے۔ کیونکہ زندگی اللہ رب العزت کی طرف سے ودیعت کردہ ایک گرانما یہ نعمت ہے۔اس نعمت سے مستفید ہونے کے لئے معین وقت کے علم سے انسان ناآشنا ہوتا ہے۔ اور موت کے لئے عمر اور اسباب کی کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ اور موت کا مقررہ وقت سے ایک لمحہ آگے اور پیچھے ہونے کی گنجائش نہیں۔

اس نعمت عظمی سے مستفید ہونے کے بعد اسے ہمیشہ کی زندگی کے لئے سرمایہ کاری کے مصرف میں لانے اور اس کی لذتوں میں مدہوش ہوکر ضائع کرنا انسان کے اپنے دسترس میں ہے اور دونوں کیفیتوں کو اجاکر کرنے اور رہنمائی کے مقاصد سے خالق کی طرف سے وقتاً فوقتاً رہنما مقرر کئے گئے ہیں۔یوں دونوں کیفیتوں سے وابستگی کے معاملے میں انسان کو عذر اور مجبوری کے مواقع نہیں ملتے۔

ان حقائق کے تناظر میں اپنے سامنے دوسروں کی زندگی کے شام ہوتے ہوئے دیکھنے کے باوجود انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کرنے کے زبانی تصور کی عملداری کا ہماری معاشرتی زندگی میں فقدان ہے۔ اور ہرکوئی مقصد حیات کو پس پشت ڈال کر شداد کی طرح دنیا میں جنت بنانے کے تصور میں مگن ہے۔ عالیشان سر بھنلک رہائشی مکانات کی تعمیر اور قیمتی گاڑی زیر استعمال ہونے کی ہوس کا ہر کوئی شکار ہے اور ان نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے جائز اور ناجائز کے تصور کو فراموش کیا جاتا ہے۔

زندگی کی حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اس قسم کی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل ہونے کو اگر انسان کے عقل وخرد کے مالک ہونے کے آئینے کے سامنے لایا جائے تو
آتے ہوئے ازان تو جاتے ہوئے نماز
اس مختصر سے وقت میں آئے چلے گئے
کی حقیقت پسندانہ تصور کی بنیاد پر منفی تصور کی شکل میں سامنے آئے گا۔

 

حضرت نوح علیہ السلام کم وبیش ایک ہزار سال کی زندگی گزارنے کے بعد جب زندگی کے اختتامی لمحات سے دو چار ہوتے ہیں اور عزرائیل علیہ اسلام اپنی ذمہ داری نبھانے کے لئے اس کے پاس آتے ہیں تو اس وقت پیغمبر خدا کے چھوٹے سے کمرے میں بدن کا آدھا حصہ کمرے کے اندر او رادھا حصہ دروازے سے باہر کی کیفیت میں موت وحیات کی کشمکش سے دو چار تھے۔عزرائیل کی طرف سے اتنی طویل عمر گزارتے ہوئے رہائش گاہ کو کشادہ نہ کرنے کے سبب دریافت کرنے پر حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ آپ کے آج یا کل کسی بھی وقت آنے کے منتظر رہنے کی وجہ سے فرصت نہ ملی۔
یہ مختصر ساجملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زندگی کی کیفیت کو اجاگر کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس کے علاوہ اس حقیقت میں بھی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ ہر جانے والا یہ تصور لے کر جائے گا۔

 

ای خوشپ بیرائی یہ زندگی موڑوسپی نونیزی بیمان
کیاغکی تانتے بڑاچھیئ ا سیتام ہر کھیو ھیا پیچھی بیمان
دونا وشتام شور سالوتے ارمان دی مہ ہزار رنگا
کوئی نو تورئی غیچھو پھڑکا ہوستان شرونتو مژی بیمان

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
90561