Chitral Times

Jul 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان ۔”معلمی کی الجھنیں“۔  محمد جاوید حیات

Posted on
شیئر کریں:

دھڑکنوں کی زبان ۔”معلمی کی الجھنیں“۔  محمد جاوید حیات

 

یہ معلمی عذاب سے کم نہیں بڑا دل گردے کا کام ہے ۔معلم ساری زندگی بلکہ پشت در پشت طالب علم کا قیدی ہوتا ہے اس کی حرکتیں طالب علم کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں ۔اگر خدا نحواستہ معلم پر خلوص ، محنتی ، سخت گیر ہو تو وہ بھلایا نہیں جاسکتا لیکن لا پرواہ ، وقت ضاٸع کرنے والا سا ہو جاۓ تو وہ طلبا جو زندگی میں کامیابی اور ناکامی کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں وہ ان کو یاد نہیں کرتے اگر کریں بھی تو کسی دعا کے ساتھ نہیں ۔ہر طالب علم کی زندگی میں ایک بے مثال استاد ضرور ملتا ہے ورنہ تو اساتذہ کا ہجوم ہوتا ہے لیکن ”معلم “ کوٸی نہیں ملتا ۔میری عمر عزیز ان الجھنوں کا شکار رہی 32 بہاریں اسی دشت کی سیاحی میں گزریں اب مکمل قیدی ہوں جی چاہتا ہے کہ انسانوں کی بستی سے نکلوں اور کہیں جنگل میں جا کے بسیرا کر لوں کہ کسی شاگرد کا سامنا نہ ہو جاۓ اور میں سہم جاٶں کڑھ جاٶں شرمندہ ہو جاٶں کسی شاگرد کا میرا سامنا کرنے سے اس کی یادیں تازہ ہوجاٸیں ۔۔۔یہ لو میں کلاس نہیں لیا کرتا تھا ۔۔میں کلاس میں سمجھاتا نہیں تھا ۔۔میں کسی سے سختی سے پیش آیا تھا ۔۔

 

کوٸی میری نفرت کا شکار ہوا تھا کسی کو میری نرمی پسند نہیں تھی میں بچوں میں امتیاز برتا تھا ۔میں نے کسی سے کچھ مانگا تھا ۔۔بڑا لالچی تھا ۔میں نے کسی کے خلوص کو پہچانا نہیں تھا ۔یہ سب کچھ ان کی یادوں کے سٹور میں جمع ہیں میں ان کا قیدی ہوں میں ان کا ہی نہیں ان کے والدیں ، حکومت اور اس معاشرے کا قیدی ہوں والدیں اپنی اولاد کی کوتاہیاں بھی اساتذہ سے منسوب کرتے ہیں معاشرے کو استاذ کی تنخواہ پہ نظر ہے اس کے لباس پوشاک پہ نظر ہے اگر خدا نخواستہ کسی استاد نے ایک معمولی گاڑی خریدی ہے اس پہ نظر ہے اس کے کام اور اس کی الجھنوں پہ نظر نہیں ۔ایک بار مجھے اپنے ایک بڑے آفسر شاگرد سے سامنا ہوا وہ میرا منظور نظر ہوا کرتا تھا مجھے یاد نہیں کہ میں نے اسے محبت کے سوا کچھ دیا ہو ۔۔بڑا مغرور لگا میں ان کی ذات میں وہ صفات ڈھونڈتا رہا جو میرے خواب ہوا کرتے ہیں کوٸی ایسی صفت نہ ملی جو مجھے تسکیں پہنچاتی ۔۔۔

 

میں سر جھکاۓ بیٹھا رہا ۔۔مجھے میرا ایک اور شاگرد ملا وہ دیر تک میرے سینے سے لگا رہا میرا ہاتھ اپنے دل پہ رکھا میں نے اس کی پیشانی چومی کہا تیرا بڑاپن تجھے مبارک ہو ۔ایک شاگردانی کی میرے دفتر میں آمد ہوٸی ان کی آنکھوں میں دو موٹے موٹے آنسو تھے انہوں نےبات کرنے کی اجازت مانگی میں نے کہابیٹا ! بات کریں انہوں نے روتی ہوٸی میرا ہاتھ اٹھا کر چوم لی کہا سر میرے ابو نہیں ہیں ۔۔۔کیا آج سے آپ میرے ابو بن سکتے ہیں اب میری الجھن کا اندازہ کریں۔۔ لوگ کہتے ہیں کوٸی استاذ روحانی باپ ہے مذہب کہتا ہے روحانی باپ ہے لیکن کیا یہ باپ اس مقام پہ اس معیار پہ پورا اتر سکتا ہے میں نے اس بچی کے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا ! اب میری بیٹیوں میں ایک اور بچی کا اضافہ ہوا لیکن میں پل پل اس کا قیدی ہوں اس کے چہرے پہ اتری ہوٸی مسکراہٹ بھی میری الجھن ہے اور افسردگی بھی ۔۔

 

میں بچوں کے ساتھ کھیل کے میدان میں ہوتا ہوں اچھا کھیلنے والا بھی میری توجہ چاہتا ہے برا کھیلنے والا بھی ایک کو شاباش کی دوسرے کو حوصلے کی ضرورت ہے ۔اگر معلم اپنے آپ کو سمجھنے کی سعی کرے تو اس کی الجھنیں بے شمار ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ محسن قوم نہیں ۔۔۔کیا اس کو کسی بچے پر ، اس کے والدیں پر احسانات نہیں ۔یہاں بات معلم کے خلوص اور معیار کی ضرور ہے وہ حقیقت میں ” معمار قوم “ بھی ہے اور ” مسمار قوم “ بھی ۔۔وہ مسیحا بھی ہے جان لیوا بھی ۔۔وہ صلاحیتوں کا قاتل بھی ہے مجرم بھی ۔۔اس کی الجھنوں کا اندازہ بھی وہی لگا سکتا ہے جو اس کے مقام سے با خبر ہو ۔۔۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
79688