Chitral Times

Jul 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان  –  مجھ سے میرا ضمیر مانگتے ہیں – محمد جاوید حیات 

شیئر کریں:

دھڑکنوں کی زبان  –  مجھ سے میرا ضمیر مانگتے ہیں – محمد جاوید حیات

 

وطن عزیز کی عمر مبارک پچھتر سال ہے ۔کافی عمر ہے زندہ قوموں کے لیے بہت عمر ہے ۔۔دنیا میں سائنس اور ٹیکنالجی کی عمر بھی یہی کوٸی دوسو سال ہے اگر سوچا جاۓ تو دنیا بلکہ اس کاٸنات کے سب سے عظیم انقلاب کی عمر کوٸی تیٸس سال ہے فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا نظام اتنے عرصے میں مکمل کیا ۔ہماری نسبت اسی سے ہے ۔انقلاب ہی ہماری پہچان ہے اس لیے کہ ۔۔۔روح امم کی حیات کشمکش انقلاب ۔۔۔سیدنا امیر معاویہ رض کو شاہ روم کا پیغام ملا کہ اگر کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو ہم حاضر ہیں ۔۔وہ جلال میں آگئے فرمایا ۔۔۔ان سے کہوں اپنی اوقات یاد رکھنا ۔۔۔ہمارا نام انقلاب ہے ۔۔۔۔آخر یہ زندہ قوموں کی نشانی کیا ہے ۔۔یہ اپنے لیے نہیں دوسروں کے لیے جیتے ہیں ۔ان کی منزل واضح ہوتی ہے یہ جہد مسلسل اور صداقت پہ یقین رکھتے ہیں ۔ان کا ضمیر زندہ ہوتا ہے

 

وہ خود اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں ۔اگر اسے ترازو اور پیمانے پہ پرکھا جاۓ تو اپنی قوم نے پچھتر سالوں میں بھی اپنے زندہ ہونے کا کوٸی ثبوت نہیں دیا۔۔کوٸی پلیٹ فارم، کوٸی میدان ،کوٸی محفل ایسی نہیں کہ ہم سر اٹھا سکیں ۔ساٸنس اور ٹیکنالوجی کا کوٸی میدان ہو ، تجارت صنعت و حرفت ہو ، سیاحت امن صداقت ہو ، کھیل کود ہو ہم نے کبھی نام نہیں کمایا ۔بس ماضی میں زندہ ہے ۔بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے کبھی کسی ملک کو قرض دیا تھا ۔کبھی ہاکی کے عالمی چیمپین بنے تھے ۔کیا ماضی ہی سب کچھ ہے ۔آج جب ملک میں الیکشن کی دوڑ دھوپ ہے تو پھر سے ہنسی آنے لگی ہے ۔وہی بچوں کا کھیل ہے ۔وہی دو نمبری نعرے ہیں ۔وہی کارکردگی الاپنا ہے ۔۔وہی اپنے آپ کو معصوم دیکھانے کے پہاڑے ہیں ۔۔ہمیں ماضی یاد ہے ۔ہمیں یاد ہے کہ ملک میں کساد بازاری ، قرض خواہی ، مہنگاٸی ، کرپشن کب کن کے سامنے کن کی موجودگی میں آٸی اور آتی رہی ۔۔ہم نے انصاف کے ایوانوں میں ناانصافی دیکھی ہمیں یاد ہے اور بخوبی یاد ہے کہ اقربا پروری اور رشوت عام سی بات تھی ۔ہمیں یاد ہے ۔۔کہ سیاسی ورکروں کابیانیہ ” اپنے آدمی یا اپنا بندہ “ کتنا اہم ہوا کرتا تھا ۔ہمیں ہنسی آتی ہے جب سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی کوشش کرتی ہیں ۔

 

ہمیں رونا آتا ہے جب ہماری اس پاک سر زمین میں خود غرضی اور لالچ کی ہوا چلتی ہے ۔۔آج کاعام سا راہ چلتا آدمی کسی قومی یا صوباٸی اسمبلی کا ممبر بنتا ہے تو کل وہ جاٸیدادوں کا مالک ہوتا ہے ۔ہمارے آنسو نکلتے ہیں کہ ملک میں کمر توڑ مہینگاٸی آتی ہے مگر آفیسر شاہی کی عیاشیوں میں کمی نہیں آتی ۔ادھر مفت بجلی مفت تیل کی فراوانی ہے ادھر لوگ بھوکوں مر رہے ہیں اور اندھیروں میں ٹامکٹوٸیاں کھا رہے ہیں ۔پھر سیاسی جلسے ہونگے تقاریر ، وعدے وعید ، دعوے ہونگے ۔۔ہم سے ہمارا ضمیر مانگا جاۓ گا ۔ضمیر تڑپ اٹھے گا اور ہم بے ضمیروں کا ایک ہجوم ہوگا ۔۔۔۔۔چاہیے کہ ہم اس دھرتی سے محبت کریں اس کواپنا سمجھیں ۔۔ہماری ترجیحات ، ہمارے خواب ، ہماری جدو جہد ، ہماری زندگیاں ، ہمارا نصب العین یہی دھرتی ہو ۔۔کیاقرض پہ زندہ رہنا زندگی ہے ۔۔کیا کسی سےڈیکٹیشن لینا زندگی ہے۔۔۔۔ کیا کسی کو خوش کرنے کے لیے اپنے آپ کو برباد کرنا زندگی ہے ۔اگر ایسا ہے تو کہاں کاضمیر ۔۔۔کہاں کا انتخاب ۔۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
83493