Chitral Times

Jul 20, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ محاذ ارائی اور اعتماد سازی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

داد بیداد ۔ محاذ ارائی اور اعتماد سازی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

قوموں کی زند گی پر کسی کنبے، گھرانے اور خاندان کے دو اصول اثر انداز ہوتے ہیں اگر محاذ ارائی کا اصول اپنا یا گیا تو تبا ہی اور بر بادی آتی ہے اگر اعتماد سازی کا اصول اپنا یا گیا تو ترقی، خو ش حا لی اور طاقت آتی ہے خاندان یا گھرانہ قومی عمارت کی پہلی اینٹ ہے انگریزی میں اس کو پہلا یونٹ کہا جا تا ہے شما لی پہاڑی علا قوں کی دردی زبانوں میں ایک مقولہ ہے ”شورشرابہ بھیڑیے کو راس نہیں آتا“ بھیڑ یا جنگلی درندہ ہے اچھی زند گی کے لئے اس کو بھی خا موش اورپر سکون رہنا پڑتا ہے پھر انسانی بستی اور بنی آدم کی آبادی کو محاذ ارائی اور لڑا ئی جھگڑا کیونکر راس آئیگا! وطن عزیز پا کستان پر اس وقت آسیب کا سایہ ہے ہر طرف سے محا ذ آرائی کی خبریں آرہی ہیں، وفاق اور صو بوں کے درمیاں محا ذ ارائی کا بازار گرم ہے وفاق میں مختلف ریا ستی ادارے با ہم دست گریباں نظر آتے ہیں، الیکشن کمیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، عدلیہ بے اعتمادی کی کیفیت سے دو چار ہے، منتخب سیا سی قیا دت ایک دوسرے کے خلا ف جا نی دشمنوں کی طرح مو رچہ زن ہے، اور انتقام کی آگ بھڑ کا ئے بیٹھی ہے کسی کو کسی پر اعتبار نہیں کوئی بھی معقول اور معتبر لیڈر دوسرے لیڈر پر اعتماد نہیں کرتا دکھ کی بات یہ ہے کہ دشمنی رقابت اور انتقام کی یہ آگ صر ف دلوں میں نہیں جل رہی اس آگ کے شعلے ذرائع ابلاغ پر نظر آرہے ہیں اس آگ سے اُٹھنے والا دھواں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے سب دیکھ رہے ہیں اگر کوئی بے

خبر ہے تو سیا سی قیادت بے خبر ہے ؎
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جا نے ہے
جانے نہ جا نے گل ہی نہ جا نے باغ تو سارا جا نے ہے

دسمبر 2023ء میں ہماری قیاد ت کہتی تھی کہ قوم کی پہلی تر جیح معا شی استحکام اور دوسری تر جیح دہشت گر دی کا خا تمہ ہے چھ ما ہ بعد نئے ما لی سال کا بجٹ زیر غور ہے، اب ہماری پہلی ترجیح سیا سی مخا لفین سے انتقام ہے دوسری تر جیح بھا ری سود پر قرض کی تلا ش ہے اب معا شی استحکام بھی تر جیحات کی فہرست میں نظر نہیں آتا، دہشت گردی کا خا تمہ بھی بھلا یا جا چکا ہے گویا امن کا قیا م خوا ب ہی رہے گا، دو بڑے خطرات ہماری گلی کو چوں میں نظر آتے ہیں پڑو سی ملکوں سے بڑی تعداد میں دشمن کی فوج کے سول ٹھیکہ دار تر قیاتی منصو بوں میں کا م کرنے والے چینی انجینروں اور ہنر مندوں کو نشا نہ بنا نے کے لئے لا ئے گئے ہیں، گوادر، کراچی، وزیر ستان، گومل زام ڈیم اور دیا مر بھا شا ڈیم دشمن کی زد میں آئے ہوئے ہیں دوسرا بڑا خطرہ بھی ایسا ہے جو کتا بوں میں نہیں شہروں سے لیکر دیہات تک ہماری سڑ کوں پر نظر آرہا ہے، غریب طبقہ غر بت کی وجہ سے خو د کشیاں کر تا ہے

 

معصوم بچوں کو دریا اور کچرا کنڈی میں ڈالنے پر مجبور ہواکرتا ہے حکمران طبقہ 20اور 40گاڑیوں کا لمبا جلو س لیکر گھوم رہا ہے اور عوامی غیض و غضب کو دعوت دے رہا ہے مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے 24ویں سال ہماری قیا دت 1956اور1969کے دور میں محو خواب ہے، ہماری قیادت کو یہ نہیں معلوم کہ گورنر جنرل غلا م محمدہو، صدر سکندر مرزا ہو یا صدر آغا محمد یحیٰ خان ہو، وہ ابلاغ کے محدود ذرائع پر کنٹرول کر سکتے تھے، خبروں کو روک سکتے تھے اپنی عیا شیاں عوام سے چھپاسکتے تھے، اپنی نا اہلی پر کچھ عرصہ تک پر دہ ڈال سکتے تھے 2024میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہے اخبار بند کرو، ٹی وی چینل پر پا بندی لگاؤ توسوشل میڈیا کا تیز تر ذریعہ مو جود ہے اس کو بند کرنا کسی بھی ڈکٹیٹر کے بس میں نہیں ہے، دنیا کے جس ملک میں حکمران طبقے نے اس حقیقت سے انکار کیا ان کا انجام برا ہو امیں نے یہاں تک لکھا تو شاہ جی نے کہا کس کے لئے لکھ رہے ہو؟ میں نے کہا یہ میری خود کلا می ہے مو نو لا گ ہے اگر سچ مُچ دیواروں کے کان ہوتے ہیں تو دیواروں کے لئے لکھ رہا ہوں مجھے پتہ ہے محا ذ ارائی کے شو قین با ہمی اعتماد کو کبھی تو جہ نہیں دینگے آج سے 20سال پہلے ہم بیرونی دشمن کے ساتھ تعلقات میں اعتماد سازی (Confidence building) کی بات پر زور دیتے تھے آج نو بت یہاں تک پہنچی ہے کہ اندر ون ملک قومی اداروں کے درمیاں اعتما د کا فقدان پیدا ہوا، سیا سی قو توں کے درمیاں اعتما د کی عمارت زمین بو س ہو گئی، حکومت کا عوام پر اعتما د نہیں، عوام کا حکومت پر اعتماد نہیں آج اندرون ملک اعتما د سازی کی ضرورت ہے مگر کسی کو بھی اس ضرورت کا احساس نہیں علا مہ اقبال نے 100سال پہلے کہا تھا ؎
اے وائے نا می متاع کا رواں جا تا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جا تا رہا

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
89057