Chitral Times

Jul 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ عوام کا بلند عزم ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

داد بیداد ۔ عوام کا بلند عزم ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

دشمن کی طرف سے مغربی سر حد پر ایک بار پھر حملوں کے جواب میں جہاں سرحدی محا فظوں نے بھر پور جواب دیا سکیورٹی اداروں نے بروقت ایکشن لیکر دشمن کو پسپا کیا وہاں چترال کے عوام، سیا سی کا رکنوں اور سول سو سائیٹی کے ذمہ داروں نے بھی اپنے بلند عزم کا بھر پور اظہار کیا اور دشمن نے پشتو میں جو خبر نا مہ جا ری کیا تھا اس کا موثر جواب دیا عوام کا بلند عزم پا ک فوج کے مصمم ارادے کے ساتھ جب بھی شامل ہوا دشمن کو شکست ہوئی 6ستمبر 1965ء کے دن مشرقی محاذ پر دشمن کو ایسا ہی جاب ملا تھا 58سال بعد 6ستمبر 2023کے دن مغر بی محاذ پر دشمن نمودار ہوا تو ایسا جواب ملا وہ بھی کیا یا د کرے گا کہ کس قوم سے پا لا پڑا ہے تحریک تحفظ حقوق چترال کی ریلی بھی شاندار تھی پیر مختار نبی کا جذبہ دیدنی تھاآل پارٹیز کی پریس کانفرنس بہت شاندار تھی،

 

وکلا نے بار روم میں جاندارپروگرام منعقد کیا اور ائیمہ وخطبا نے مساجد میں زبردست ردعمل کا اظہار کیا المر کز اسلا می چترال میں جماعت اسلا می کی دعوت پر منعقد ہونے والا گرینڈ عوامی امن جر گہ نے بھی اپنے اعلا میہ کی روشنی میں بے حد موثر اور واضح پیغام دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا مشترکہ اعلا میہ میں شہدا کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی گئی زخمیوں کی جلد صحت یا بی کے لئے دعا وں کے ساتھ قومی پر چم کو بلند رکھنے کے لئے قربانی دینے والوں کے خا ندانوں کو خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کر کے ان سب کو قوم کا محسن قرار دیا گیا

 

اعلا میہ کے ذریعے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو پہلی فرصت میں چترال کا دورہ کر کے عوام کو حو صلہ دینے اور مغر بی محا ذ کے چترال سیکٹر میں بھی آہنی باڑھ لگا کر سرحدوں کو محفوظ کر نے کی درخواست کی گئی اعلا میہ میں چترال لیویز کی پرو ٹو کول ڈیو ٹیوں کو ختم کر کے تما م جوا نوں کو سر حدی چو کیوں پر متعین کرنے کا مطا لبہ کیا گیا اعلا میہ میں یہ بھی مطا لبہ کیا گیا کہ حساس اداروں کو سیا سی معا ملات میں الجھا نے کے بجا ئے سرحد پار کے حساس معا ملات پر مکمل تو جہ کے ساتھ نظر رکھنے پر لگا یا جا ئے تا کہ دشمن ہماری کسی نا گہانی عفلت کا نا جائز فائدہ نہ اُٹھا سکے گرینڈ عوامی جر گہ میں دو باتوں کی طرف خصوصی اشارہ کیا گیا پہلی بات یہ تھی کہ تازہ ترین حملوں کے لئے دشمن 6ستمبر کو یوم دفاع کا انتخاب کر کے مشرقی سرحد پر اپنی ہزیمت اور نا کا می کا بدلہ لینا چاہتا تھا مگر یہاں بھی اس کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا

 

دوسری بات یہ تھی کہ دشمن نے اپنے پشتو خبر نا مے کے ذریعے جو زبان استعمال کی ہے یہ وہی زبان ہے جو کشمیر میں غا صب بھارتی حکومت کے نا جائز تسلط کے خلاف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں استعمال کی جا رہی ہے اس قسم کی زبان کو پڑھ کر ہر ذی شعور اور محب وطن پا کستانی با آسانی سمجھ لیتا ہے کہ دشمن کے پیچھے کون ہے اور دشمن ہماری سر حدوں پر کس کے وسائل استعمال کر کے حملہ آور ہو رہا ہے نیز دشمن کا یہ دعویٰ قابل غور ہے کہ چترال میں ہمارے دوستوں نے ہمیں حملہ کرنے کی دعوت دی ہے عوام اور متعلقہ اداروں کو مل کر دشمن کے دوستوں کا کھوج لگا نا چاہئیے سول اور ملٹری انتظامیہ کو عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنا چاہئیے اور تما م سٹیک ہولڈر زکو اعتماد میں لیکر آگے بڑھنا چاہئیے زندہ قوموں کی یہ بڑی نشا نی ہوتی ہے کہ وہ آزمائش کے وقت با ہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہوتی ہیں

 

دشمن کی طرف سے آنے والا گولہ یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے کس پارٹی کا حما یتی کھڑا ہے یا کس مسلک اور فرقے کا مقتدی اس گولے کا شکار بنتا ہے گھر کے چھوٹے موٹے اختلافات کو گھر تک محدود کر کے دشمن کے خلا ف سیسہ پلا ئی ہوئی دیوار بننا چاہئیے اور ہر قدم پر دشمن کو یہ پیغام دینا چاہئیے جو فارسی کا موثر جملہ ہے بہررنگے کہ خواہی جا مہ می پوش من انداز قدرت رامی شنا سم اے میرے ازلی دشمن!تم جس لباس میں بھی سامنے آؤ میں تمہارے قد کو پہچانتا ہوں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
78992