Chitral Times

Jul 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ سبق کا منظر نا مہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

داد بیداد ۔ سبق کا منظر نا مہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

پُر تعیش ہاسٹلوں میں رہنے والے طلباء اور طا لبات کو شا ید یہ نہیں معلوم کہ ڈیڑھ سو سال پہلے خیبر پختونخوا میں سبق کی یہ سہو لتیں نہیں تھیں 1860ء میں سبق پڑھنے کے شو قین صرف لڑ کے ہوتے تھے لڑ کیوں کے شوق کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا اگر کسی کا بیٹا سبق کا شو قین ہوتا تو دور دور تک مدرسہ یا دار لعلوم نا م کا کوئی ادارہ نہیں تھا، مکتب نا م کی کوئی جگہ نہیں تھی، سکول کا انگریزی نا م کسی نے سنا بھی نہیں تھا اس کے باو جود سبق کے شو قین لڑ کے علم کی تلا ش میں گھروں سے نکلتے تھے، سوا ل یہ ہے کہ گھروں سے نکل کر کہاں جا تے تھے؟ جوا ب یہ ہے کہ اُس زما نے میں تر کستان، سمر قند، بخا را، کا شغر یا ر کند یا ہندو ستان کے دیو بند، سہا رن پور، تھا نہ بھون، بھو پال، اگرہ،کلکتہ سے تعلیم حا صل کر کے آنے والے علما دور درا زدیہات میں خا ل خا ل مو جود تھے ان علماء کے نا موں کی بڑی شہرت ہوتی تھی سبق کے شو قین کسی عالم کا نا م لیکر اُس کے گاوں کا رخ کر تے تھے

 

گاوں کی چھوٹی سی کچی مسجد ہوا کرتی تھی عالم اُس مسجد میں یا اپنے گھر میں دور دور سے آنے والے مسا فر طلباء کو رہنے کی جگہ اور کھا نے کی غذا فراہم کر کے سبق پڑھا تا تھا گاوں کے لو گ اس کام میں اپنے استاد کے ساتھ تعاون کرتے تھے وظیفہ کی صورت میں ہر گھر سے طلباء کو پکی پکائی خوراک ملتی تھی اگر آج ہماری یو نیور سٹیوں اور کا لجوں میں تحقیقی مضامین لکھنے والے طلباء اور طا لبات اپنے اپنے علا قوں میں ڈیڑ ھ سو سال پہلے سبق کے مرا کز و منا بع پر تحقیقی مقا لات کا سلسلہ شروع کریں تو خیبر پختونخوا کے پرانے تعلیمی نظام پر قابل قدر مواد فراہم ہوگا اس سلسلے میں صو بے کے جن نا مور علمائے کرام کی سوا نح عمریاں شائع ہوئی ہیں ان سے مدد لی جا سکتی ہے ایک طالب علم چترال، گلگت، سوات یا وزیر ستان سے روانہ ہو کر قریبی بستی میں کسی عا لم کا گھر ڈھونڈ تا تھا دو سال یا تین سال وہاں لگا کر، نا ظرہ قرآن، مننیتہ ا لمصلّی کے اسباق میں کسی حد تک دسترس حا صل کر کے مزید کتا بیں پڑھنے کے لئے آگے کسی اور عا لم کے پا س جا تا تھا

 

مثلا ً چترال سے یار حسین مردان، وہاں سے چکیسر سوات، پھر وہاں سے پوخ جو مات تہکال یا تا لاب والی مسجد نمک منڈی وغیرہ جا نا پڑتا تھا ہر جگہ مسا فر طلبا کی رہا ئش اور خو راک کا انتظا م استاد صاحب کے ذمے ہوا کر تا تھا اور علما ئے کرام خندہ پیشا نی سے یہ فریضہ انجام دیتے تھے اُس زما نے میں مکتب کا نظام نہیں تھا کوئی داخل، خا رج کا ریکارڈ نہیں تھا، گلستان، بوستان، یوسف زلیخا ایک جگہ سے پڑھی، اصو ل الشاشی اور کافیہ کے لئے کسی اور جگہ کا رخ کیا وہاں جا کر استاد جی کو زبا نی بتا یا کہ یہ کتاب میں نے پڑھی ہے وہ کتاب میں نے پڑھنی ہے اس طرح بات دورہ اول اور دورہ آخر تک پہنچ جا تی تھی کوئی سند نہیں ہوتی تھی کوئی بڑا جلسہ نہیں ہو تا تھا دورہ آخر سے فارغ ہونے والے کو پگڑی پہنا ئی جا تی تھی اور دعا دے کر رخصت کیا جا تا تھا، بہت کم لو گ پگڑی باندھنے تک سبق جاری رکھتے تھے گھریلو مسا ئل اور دیگر وجو ہا ت کی بنا ء پر چند کتا بیں پڑھ کر گھر وں کو واپس لوٹتے تھے

 

اس وجہ سے نیم حکیم خطر ہ جا ن کے ساتھ نیم ملا خطرہ ایمان کا جو ڑ لگا کر مقولہ ترا شا گیا گا وں میں نیم ملا کی آمد اور دستیا بی ایک نعمت ہو ا کر تی تھی وہ لو گوں کو نما ز پنجگا نہ پڑھا نے کے ساتھ ساتھ گاوں کے بچوں کو قرآن نا ظرہ بھی پڑھا تا تھا، جو اُس زما نے میں بہت بڑی سہو لت سمجھی جا تی تھی سبق کا یہ منظر نا مہ محنت، مشقت، ایثار، قر بانی اور جذبہ خد مت کی بڑی بڑی مثا لوں سے پُر ہے، علمائے کر ام بے مثال قر با نی دیکر اپنے گھر میں دور دور سے آئے ہوئے مسا فر وں کو سبق پڑھا تے تھے کوئی چندہ اور کوئی جھنڈا نہیں تھا، کوئی نا م، کوئی سائن بورڈ، کوئی اشتہار نہیں تھا، اخلا ص کی فرا وانی تھی اسی اخلا ص کی وجہ سے اس خطے میں اسلا می تعلیمات کا چر چا ہوا، سبق کا دور دورہ ہوا سہو لیات کے مو جود ہ حا لات میں وہ زما نہ خوا ب لگتا ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89296