Chitral Times

Jul 20, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ آنے والا وقت ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

داد بیداد ۔ آنے والا وقت ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

آنے والا وقت پا کستان کے لئے کیا تحفہ لیکر آئے گا؟ 8فروری 2024ء کے انتخا بات کے بعد ملک کا منظر نا مہ کیا ہو گا؟ اس پر پا کستانی عوام سے زیا دہ فکر غیر ملکیوں کو ہے غیر ملکیوں میں وہ چار مما لک نما یاں ہیں جن کو پا کستان کی جو ہری طاقت اور پا ک فو ج کی پیشہ ورانہ صلا حیت پسند نہیں ایسے مما لک نے اپنے خفیہ اداروں کا سارا زور پا کستان پر فو کس کیا ہوا ہے بعض مما لک نے سرما یہ بھی مختص کیا ہوا ہے تاکہ انتخا بات کے دوران اور انتخا بات کے بعد سارے نتا ئج ان کے حق میں بہتر ہوں اس کے مقا بلے میں ہماری سوچ اور فکر انفرادی مفادات کے گرد گھومتی ہے ہمارے سامنے ملک کا اجتما عی مفاد بھی نہیں ملک کے دشمنوں کی حکمت عملی بھی نہیں دشمن ملکوں کے خفیہ اداروں کی سر گر میوں سے آگا ہی بھی نہیں ہم آنکھیں بند کر کے نا معلوم کھا ئی کی طرف بڑھ رہے ہیں

 

کھا ئی میں گر نے تک ہماری آنکھیں نہیں کھلینگی کا غذات نا مزد گی جمع کرنے کی آخری تاریخ گذر نے کے بعد جو منظر نا مہ دکھا یا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک پارٹی پر پا بندی کی وجہ سے 60فیصد آزاد امیدواروں نے کا غذات نا مزد گی جمع کرائے، دیگر سیا سی جما عتوں میں بھی اختلا فات کی بنا ء پر آزاد امیدواروں میں اضا فہ ہوا 8فروری تک اگر یہی صورت حال رہی تو نتائج آنے کے بعد کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملے گی حکومت بنا نے کے لئے 2018ء کی طرح آزاد امید واروں کی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہو گی مخا لف پارٹیوں سے بھی لو گوں کو ادھر اُدھر کیا جا ئے گا غیر فطری اور غیر سیا سی اتحاد بنوائے جا ئینگے اس میں کم ازکم 50ارب روپے کی سرما یہ کاری ہو گی اس سرما یہ کا ایک چوتھائی ملک کے اندر بلیک منی یا کا لے دھن سے آئیگا اور تین چو تھائی دشمن ملکوں کی ایجنسیاں فراہم کرینگی گویا پا کستان ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی مچھلی منڈی بن جائیگی یہ کسی کی بد عا نہیں، کسی کی بد شگو نی نہیں بلکہ سامنے آنے والے حا لات کا منطقی نتیجہ ہے

 

اب تک جو کچھ ہوا ہے یا ہو رہا ہے اس کی روشنی میں منصفا نہ اور غیر جا نبد ارانہ انتخا بات ہو تے ہوئے نظر نہیں آرہے 8فروری تک انتظار کیا گیا تو وقت ہاتھ سے نکل جا ئے گا اس لئے ابھی سے حا لات کو درست کرنے پر تو جہ دینے کی ضرورت ہے انگریزی کی ایک تر کیب ”لیول پلے انگ فیلڈ“ باربار استعمال ہو رہی ہے سیا سی جما عتیں بھی استعمال کر رہی ہیں حکومت بھی استعمال کر رہی ہے لیکن عدالتوں میں جو مقدمات چل رہے ہیں ان کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ تما م پارٹیوں کو یکساں مواقع دیئے جا رہے ہیں اور سب کے لئے کھلا میدان مو جود ہے کیونکہ لیول پلے انگ فیلڈ کا مطلب کھلا میدان ہے کسی پا بندی کے بغیر سب کو یکساں مواقع دیئے گئے تو اس کو کھلا میدان کہا جا ئے گا یہ بات یا د رکھنی چاہئیے کہ فافن، ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل، ہیو من رائٹس کمیشن اور دیگر بین ا لاقوامی تنظیمیں انتخا بات کی نگرانی کرینگی اگر سیا سی قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو پوری دنیا اس پر انگلی اٹھا ئیگی

 

ملک بھر میں احتجا ج ہو گا سوشل میڈیا پر واویلا ہو گا، ازاد ذرائع ابلا غ پر بھی شور شرابہ ہو گا یہ فیلڈ مارشل ایوب خان کا زما نہ نہیں کہ محترمہ فاطمہ جناح جیتی ہوء سیٹیں ہار جا ئے ملک کا صدر ہاری ہوئی بازی کو پلٹ دے اور اپنے آپ کو کامیاب قرار دے، 1964ء سے 2024ء تک 62سال کا عرصہ گذر گیا اُس زما نے میں صرف ریڈیو پا کستان تھا دو شہروں میں اکیلے پی ٹی وی کی نشریات شروع ہوئی تھیں ابادی کے 80فیصد حصے کو ٹیلیفون کی سہولت بھی میسر نہیں تھی 1964کے صدارتی انتخا بات کا ”ایکشن رے پلے“ اب نہیں چلے گا 2018ء میں جو غلط فیصلے کئے گئے ان فیصلوں کی وجہ سے ملکی اداروں کی حد سے زیا دہ بد نا می ہوئی اب ان غلطیوں کو دہرا نا منا سب نہیں ہو گا مر حوم طارق عزیز نیلا م گھر میں آخری سوال پر کہتے تھے ”غلطی کی گنجا ئش نہیں“ 2024ء کے ملکی انتخا بات میں غلطی کی گنجا ئش نہیں آنے والا وقت بہت ظا لم ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
83462