The Voice of Chitral since 2004
Monday, 7 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبر پختونخوا کا جی ڈی پی تخمینہ 40 بلین ڈالر ہے جبکہ خیبرپختونخوا قرض کا حجم 2.5 بلین ڈالر ہے۔ مزمل اسلم

Chitral Times

خیبر پختونخوا کا جی ڈی پی تخمینہ 40 بلین ڈالر ہے جبکہ خیبرپختونخوا قرض کا حجم 2.5 بلین ڈالر ہے۔ مزمل اسلم

خیبر پختونخوا کا جی ڈی پی تخمینہ 40 بلین ڈالر ہے جبکہ خیبرپختونخوا قرض کا حجم 2.5 بلین ڈالر ہے۔ مزمل اسلم

خیبر پختونخوا کا جی ڈی پی تخمینہ 40 بلین ڈالر ہے جبکہ خیبرپختونخوا قرض کا حجم 2.5 بلین ڈالر ہے۔ مزمل اسلم

پشاور( چترال ٹائمزرپورٹ)مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خیبرپختونخواحکومت قرض بارے میڈیا میں شائع شدہ خبر پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ میڈیا پر خیبرپختونخوا قرض بارے شائع شدہ خبر من گھڑت ہے،خیبرپختونخوا کا قرض، جی ڈی پی اور ریسیٹس کے مقابلے میں بہت کم ہے،خیبر پختونخوا کا جی ڈی پی تخمینہ 40 بلین ڈالر ہے جبکہ خیبرپختونخوا قرض کا حجم 2.5 بلین ڈالر ہے۔ مزمل اسلم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کے پی جی ڈی پی وفاقی حکومت کے مقابلے میں سب سے زیادہ لچکدار ہے،خیبرپختونخوا جی ڈی پی میں گزشتہ سال پاکستان کے 2.5 فیصد کے مقابلے میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا،خیبرپختونخوا کا قرض سروسنگ وفاقی حکومت 90 فیصد کے مقابلے میں کل وصولیوں کے 5% سے بھی کم ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے پاس اپنے قرض کے ایک چوتھائی کے برابر کیش موجود ہے جو صوبے کیلئے تاریخی ہے،خیبرپختونخوا پر ڈومیسٹک قرضہ صفر ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ کے پی نے قرض ریٹائرمنٹ فنڈ قائم کیا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی صوبائی اور وفاقی حکومت کی طرف سے اپنی نوعیت کا پہلا فنڈ ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا قرض نظام شفاف رہا ہے اور اپنا قرض مانیٹر باقاعدگی سے پرنٹ کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ قرض میں اضافہ اپریل 2022 سے غیر معمولی قرض لینے کی وجہ سے نہیں بلکہ 75 فیصد کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ کے پی کے تمام قرضے عالمی بینک، ADB اور IDB وغیرہ کے کثیر الجہتی اداروں سے ہیں،خیبرپختونخوا قرضوں کی اکثریت رعایتی ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ کے پی کا قرضہ بجٹ کی مالی اعانت کے لیے نہیں جبکہ زیادہ تر ترقیاتی منصوبوں کیلئے ہے اس کے علاوہ صو بائی حکومت نے پچھلے دو مہینوں میں تین غیر ملکی قرض لینے سے انکار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قرض دہندگان کا دعویٰ کہ وہ رقم دینے کے لیے تیار نہیں ہیں جھوٹ اور صریحاً جھوٹ ہے۔مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ صحافتی اصولوں کے مطابق رپورٹر کو خبر شائع کرنے سے پہلے اداروں کا موقف لینا چاہیے۔

24 نومبر احتجاج کیس: پی ٹی آئی کے 140 سے زائد رہنماؤں کی ضمانت منظور

\
پشاور(سی ایم لنکس) پشاور ہائی کورٹ نے 24 نومبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے بعد درج مقدمات میں پارٹی کے 140 سے زائد رہنماؤں، ممبران اسمبلی اور کارکنان کی راہداری اور حفاظتی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔28 نومبر سے اب تک پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور ممبران اسمبلی کی 140 سے زائد درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، 70 سے زائد راہداری ضمانت اور 69 حفاظتی ضمانت درخواستوں پر ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، عدالت عالیہ نے تمام درخواست گزاروں کو راہداری اور حفاظتی ضمانتیں دے دیں۔حفاظتی اور راہداری ضمانت حاصل کرنے والوں میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی شامل ہیں، ان کے علاوہ پی ٹی آئی کے تمام سینئر رہنماؤں نے پشاور ہائی کورٹ سے راہداری ضمانت اور مقدمات کی تفصیل کے لیے رجوع کیا۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے ہائی کورٹ سے راہداری اور حفاظتی ضمانت حاصل کی، بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی ہائی کورٹ نے 16 جنوری تک حفاظتی ضمانت دی۔ممبر قومی اسمبلی اسد قیصر، شبلی فراز، شیخ وقاص اکرم، شیرافضل مروت، جنید اکبر بھی حفاظتی ضمانت کے لئے ہائیکورٹ میں پیش ہوئے جبکہ ممبر قومی اسمبلی شہریار آفریدی، عاطف خان، شہرام ترکئی، عادل بازئی، انور تاج، فیصل امین اور دیگر نے بھی حفاظتی ضمانت حاصل کی۔ان کے علاوہ صوبائی وزرا آفتاب عالم، فیصل ترکئی، سہیل آفریدی اور دیگر نے بھی حفاظتی ضمانت حاصل کی۔شاندانہ گلزار، زرتاج گل، ثریا بی بی، سینیٹر فلک ناز، کنول شوزب، عالیہ حمزہ، صنم جاوید، خدیجہ شاہ، مشال یوسفزئی، حمیدہ شاہ کو بھی پشاور ہائیکورٹ نے راہداری اور حفاظتی ضمانتیں دی ہیں۔