Chitral Times

Jul 15, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تلخ و شیریں ۔ قاری فیض اللہ چترالی، خدمت کا استعارہ ۔ نثار احمد

شیئر کریں:

تلخ و شیریں ۔ قاری فیض اللہ چترالی، خدمت کا استعارہ ۔ نثار احمد

جب انسان شہرت اور نمود و نمائش کے بکھیڑوں سے آزاد ہو کر خلوص و للہیت کے ساتھ اپنے حصّے کا دِیا روشن کرنے میں جُت جاتا ہے تو زندگی میں وہ لمحہ ضرور آتا ہے جب اس کے ننھے منے دیے کی روشنی چار دانگ ِ عالم میں پھیل جاتی  ہے۔ پھر یہاں دیا جلانے والے انسان کو اس بات کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ وہ لوگوں کو بتاتا پھیرے لو جی دیکھو روشنی کے واسطے دیا میں جلا رہا ہوں۔ یہی حال دنیا میں کام کے بندوں کا ہے کام کے یہ بندے کچھ اس خلوص و لگن کے ساتھ کام کرتے ہیں کہ ان کا کام خود بول  رہا ہوتا ہے۔  کام کرنے کے بعد اِنہیں تین عدد صحافی اور دو عدد پروفشنل فوٹو گرافر  بلا کر بتانا نہیں پڑتا کہ یہ والا کام میں نے کیا ہے اس کی فوٹو کھینچ کر میرے نام کے ساتھ اخبار میں چھپوا دو۔ ایسے ہی کام کے ایک بندے کا نام کل ٹاؤن ہال چترال میں منعقدہ اقرا ایوارڈ  کی تقریب میں مقررین کی زبانی بار بار سماعتوں سے ٹکراتا رہا۔ جو بھی مقرر اسٹیج پر آتا، احترام سے اس بندے کا نام لیتا اس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا اور واپس اپنی کرسی پر براجمان ہوتا۔ یہ شخص دیار ِ غیر یا پاکستان کے کسی بڑے شہر میں بسنے والے کوئی جدی پشتی رئیس نہیں بلکہ چترال کے دور افتادہ علاقے موڑکھو میں پیدا ہونے والے قاری فیض اللہ چترالی ہیں۔

chitraltimes qari faizullah upper chitral yarkhun valley visit 12

خدمت خلق کو اپنا شعار اور مصبیت زدوں کے ساتھ مالی تعاون کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے کی وجہ سے قاری صاحب چترال کے طول و عرض میں خدمت کے حوالے سے ایک حوالہ بن چکے ہیں۔ شندور تا بروغل کسی بھی چترالی سے استفسار کیا جائے کہ آفات کے دنوں میں تعاون و تناصر کے لیے سب سے پہلے کون پہنچتا ہے تو جواب ملے گا قاری فیض اللہ چترالی۔ ایسا نہیں ہے کہ ضرورت کے مواقع پر دیگر سرکاری و غیرسرکاری تنظیمیں امداد کے لیے نہیں پہنچتیں،  بالکل پہنچتی ہیں یہاں ان کی خدمات کا انکار نہیں کیا جا رہا لیکن کسی بھی تنظیمی سیٹ اپ کے بغیر انفرادی حیثیت میں لوگوں تک پہنچنا، انہیں حوصلہ دینا اور ان کے ساتھ حسب بساط مالی تعاون کرنا قاری صاحب ہی کا خاصا ہے۔ اگر جزبے جوان ہوں اور کچھ کرنے کا عزم ہمہ وقت سینے میں مچلتا ہو تو پھر انسان بڑھاپے میں بھی جوانوں کی چال چلتا ہے۔ ایسا بار ہا ہوا ہے کہ قاری صاحب چترال پہنچنے کے بعد گھر (موڑکھو) جانے سے پہلے اس علاقے میں گئے ہوں جہاں کسی رفاہی کام کے سلسلے میں ان کے جانے کی ضرورت تھی۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا ہے کہ قاری صاحب کراچی سے چترال تشریف لائے ہوں اور رفاہی کاموں کے سلسلے میں چترال کے دراز  دور دراز علاقوں کے لیے رخت سفر نہ باندھے ہوں۔

chitraltimes qari faizullah relief upper chitral
قاری صاحب اپنی ذات میں مکمل انجمن ہی نہیں، پوری جماعت بھی ہیں۔ جس کام کے لیے پورے جماعتی نظم اور اچھے خاصے وقت کی ضرورت ہوتی ہے اُسے قای صاحب تن تنہا اپنے معتمد خاص  (خطیب شاہی مسجد چترال، مولانا خلیق الزمان) کو لے کر چند دنوں میں نمٹاتے ہیں۔ قاری صاحب کے دل میں انسانیت کا درد ہے۔  یہ درد ہی ہے جو قاری صاحب کو کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے بے چین رکھتا ہے۔ قاری صاحب کی ابتدائی زندگی صعوبتوں میں گزری ہے سو صعوبت جھیلنے والوں کی صعوبتوں اور مشکلات کا احساس قاری صاحب سے زیادہ کس کو ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ مشکلات میں گھرے لوگوں کے ساتھ تعاون میں قاری صاحب کبھی بخل نہیں دکھاتے۔ سب کے ساتھ تعاون اور مکمل تعاون کسی بڑی این جی او کے بس میں بھی نہیں ہوتا چہ جائیکہ قاری صاحب سے اس کی توقع کی جائے۔ بس یہ کہ قاری صاحب کے ہاں تعاون و تناصر کا یہ عمل حسبِ بساط ہوتا ہے اور اصول ِ ترجیح کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

ممتاز کالم نگار، ادیب اور مصنف ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی (تمغہ ء امتیاز) نے اقرا ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہی خوبصورت جملہ کہا۔ فرمایا
“قاری صاحب نے بچوں کی حوصلہ افزائی اور کسی نہ کسی حد تک ان کے تعلیمی اخراجات میں حصّہ دار بننے کے لیے “اقرا ایوارڈ” کے نام سے جو مبارک سلسلہ شروع کیا ہے پورے پاکستان میں نہ صرف اس کی مثال نہیں ملتی بلکہ اس کی تقلید کی ہمت بھی تاحال کسی کو ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے”۔

قاری صاحب کے تئیں حکومتی سردمہری کا گلہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی کہا  ” قاری صاحب کا مسئلہ ڈومیسائل کا ہے۔ اگر ان کے پاس چترال کے بجائے ملتان یا پنڈی وغیرہ کا ڈومیسائل ہوتا تو قاری صاحب ضرور پرائڈ اف پرفارمنس ایوارڈ کے لیے منتخب ہوتے”۔

chitraltimes qari faizullah visit flood hit area of upper chitral3
موٹیویشن  تعلیمی عمل میں شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ موٹیویشن ہی ہوتی ہے جو بچے کو مسلسل اپنی منزل کی جانب بڑھنے پر اکساتی ہے۔ اسی طرح مالی لحاظ سے کمزور طالب کے معاشی مسائل بھی بڑی حد تک اس کے تعلیمی عمل میں سدِراہ بنتے ہیں۔ اس بابت گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او چترال نے اقرا ایوارڈ پروگرام میں اپنی آپ بیتی سُنائی۔ انہوں نے کہا

“میں جب پرائمری سکول میں تھا تو ایک دن سکول میں منعقدہ ایک پروگرام میں بچوں کے سامنے بلا کر مجھے ایک کپ دیا گیا۔ یہ اس لیے دیا گیا تھا کہ میری پوزیشن آئی تھی اس کے بعد ہر امتحان میں، مَیں مسلسل پوزیشن لیتا رہا یہاں تک کہ میٹرک کے بعد میرے باقی دوست اسلامیہ کالج چلے گئے لیکن معاشی مسائل کی وجہ سے میں نہیں جا سکا کیونکہ ہمارے آس پاس کوئی فیض اللہ چترالی نہیں تھا۔ بعد ازاں ایف اے کے بعد اسلامیہ کالج جانے کی سبیل نکل آئی گوکہ معاشی ایشوز اس وقت بھی میرے ساتھ چمٹے رہے “۔

chitraltimes relief activities by qari faizullah chitrali in flood hit area 2
قاری صاحب خاموشی سے کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی نہیں کہ قاری صاحب کیمرے کے سامنے آنے سے کتراتے ہیں بلکہ کریڈٹ کے چکر میں بھی کبھی نہیں پڑتے۔ اس حوالے سے ان کا خلوص اس حد بڑھا ہوا ہے کہ کبھی کبھار چترال ٹاؤن میں ہوتے ہوئے بھی تقریب میں نہیں آتے۔ اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کل کی تقریب میں ڈپٹی کمشنر چترال محمد علی نے کہا۔

” تقریب میں شامل ہونے کے بعد میں سوچوں میں غرق ہو گیا جو شخص لاکھوں کا رفاہی کام کرتے ہوئے بھی خود سامنے نہیں آتا وہ یقیناً ان لوگوں میں سے ہو گا جن کی بدولت دنیا کا نظام جاری و ساری ہے”۔  انہوں نے مزید کہا کہ قاری صاحب جیسے لوگوں کو نشان پاکستان ایوارڈ کے لیے نامزد کرنا چاہیے۔ میں فورا قاری صاحب کا نام نامزدگی کے لیے متعلقہ ادارے کو ارسال کروں گا۔

chitraltimes qari faizullah visit flood hit area of upper chitral1

بہرحال قاری صاحب اپنے کردار، فکر اور عمل کے زریعے  پہچانے جاتے ہیں بقولِ ڈی ای او چترال لوئر محمود غزنوی، دنیا میں کچھ لوگ بولنے کے لیے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں اور کچھ لوگوں کا عمل و کردار بذات خود بولتا ہے قاری صاحب بھی لوگوں کے اس زمرے میں شامل ہیں جن کا عمل، فکر اور کردار بول رہا ہے۔ انہیں زبان و الفاظ کے زریعے بولنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ محمود غزنوی صاحب ہی کی اسی بات پر میں اس کالم کا اختتام کروں گا کہ خدمت کے شعبے میں قاری صاحب کو اپنا مشعلِ راہ مانتے ہوئے دیگر لوگوں کو بھی خدمات کے شعبے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

chitraltimes relief activities by qari faizullah chitrali in flood hit area 1 chitraltimes qari faizullah visit flood affected area of khuzh and brep chitraltimes qari faizullah relief activites in flood hit areas upper chitral5 chitraltimes qari faizullah relief upper chitral chitraltimes qari faizullah distributes steel sheets for flood affected people of chitral 6 chitraltimes qari faizullah relief upper chitral1 chitraltimes qari faizullah relief upper chitral2

chitraltimes qari faizullah visit flood hit area of upper chitral


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
81892