Chitral Times

میری بات ۔ ہمارا نظام تعلیم اور ڈنڈے والے ۔ روہیل اکبر

Posted on

میری بات ۔ ہمارا نظام تعلیم اور ڈنڈے والے ۔ روہیل اکبر

شکر ہے حکومت کو ہمارے تعلیمی نصاب میں جدت لانے کا خیال آیاورنہ دنیا اس وقت آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بھی آگے کی باتیں کرنا شروع ہو گئی ہے ابھی حکومت نے فلحال اسلام آباد کے نجی و سرکاری اسکولوں میں آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی)کے نصاب کی منظوری دی ہے اس منظوری کے بعد مجھے وہ دور یاد آگیا جب دنیا جدید کمپیوٹر جنریشن میں داخل ہو چکی تھی تو ہم نے اس وقت پینٹیم ون سے کمپیوٹر کا آغاز دیکھا اور اب دنیا انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اتنی آگے جاچکی ہے کہ ہم اسکی دھول سے بھی پیچھے ہیں ہمارا ہمسایہ ملک بھارت بھی ہم سے اس شعبے میں بہت آگے ہے انکی تعلیم کا انداز ہم سے بہت مختلف ہے وہاں کا بچہ بچہ روانی سے انگلش بولتا ہے اور ہمارے ہاں ایم اے انگلش کرنے والے بھی انگلش بولتے ہوئے سوچ میں پڑ جاتے ہیں اس سارے نظام میں خرابی ہمارے نظام تعلیم کی ہے جہاں سیکریٹری ایجوکیشن کا تعلیم سے دور دور کا لینا دینا نہیں ہوتا اور وزیر بیچارے کا تو تعلیم کے شعبہ سے کوئی سروکار ہی نہیں ہوتا ماضی میں ایسے بھی وزیر تعلیم رہے جو خود انپڑھ تھے

 

اسی لیے تو ہم آج ترقی کے تیز ترین دور میں پڑھے لکھے جاہل کہلائے جارہے ہیں اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں تعلیم کی نگرانی وفاقی وزارت تعلیم اور صوبائی حکومتیں کرتی ہیں جب کہ وفاقی حکومت زیادہ تر نصاب کی ترقی ایکریڈیٹیشن اور تحقیق و ترقی کے لیے مالی معاونت کرتی ہے پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی معیاری تعلیم فراہم کرے لیکن ہو اسکے الٹ رہا ہے یہاں اچھی اور اعلی تعلیم عام لوگوں کے بچوں سے کوسوں دور ہے غریب کا بچہ سنہرے مستقبل کے خواب دیکھ کر پرائمری تک بڑی مشکل سے پڑھتا ہے اسکے بعد انکے والدین کی ہمت جواب دے جاتی ہے کیونکہ تعلیم کے اخراجات پورے کرنا انکے بس سے باہر ہوجاتا ہے کہ وہ حکومت کو پالیں یا اپنے بچوں کو اور اس حکومت نے تو اچھے خاصے سفید پوش کو بھی بھکاری بناد یا ہے جو اپنے بچوں کو پڑھانے کا صرف سوچ ہی سکتا ہے ان مشکل ترین حالات میں ہمارے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز بھی بڑھتے ہی جارہے ہیں جسکی وجہ سے اچھے اور پڑھے لکھے نوجوان اور پیشہ ور افراد جب بھی موقع ملے ملک چھوڑنے کا انتخاب کر رہے ہیں جس سے برین ڈرین کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے

 

پاکستان میں تعلیمی نظام کو عام طور پر چھ درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے پری اسکول (3 سے 5 سال کی عمر کے لیے)، پرائمری (سال ایک سے پانچ)، مڈل (چھ سے آٹھ سال)، سیکنڈری (سال نو اور دس سال)، سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ یا ایس ایس سی، انٹرمیڈیٹ (گیارہ اور بارہ سال جس سے ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ یا ایچ ایس ایس سی)، اور یونیورسٹی کے پروگرام جو انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ ڈگریوں کی طرف لے جاتے ہیں 2002 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم کیا گیا تھاجو تمام یونیورسٹیوں اور ڈگری دینے والے اداروں کا ذمہ دار ہے یہ کمیشن عطاء الرحمان نے قائم کیا گیا تھا پاکستان میں اب بھی دیگر ممالک کے مقابلے میں شرح خواندگی کم ہے 2022 تک پاکستان کی شرح خواندگی اسلام آباد میں 96% تک ہے خواندگی کی شرح جنس اور علاقے کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے قبائلی علاقوں میں خواتین کی شرح خواندگی 9.5% ہے جبکہ آزاد کشمیر میں شرح خواندگی 91% ہے پاکستان میں سکول نہ جانے والے بچوں کی آبادی 22.8 ملین بچے ہیں جو نائیجیریا کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو بے روزگاری کے ایک اہم چیلنج کا سامنابھی ہے خاص طور پر پڑھے لکھے نوجوانوں میں جن میں سے 31 فیصد سے زیادہ بے روزگار ہیں جبکہ خواتین کی مجموعی بے روزگار آبادی کا 51% حصہ ہے جو روزگار کے مواقع میں صنفی تفاوت کو نمایاں کرتا ہے

 

 

پاکستان ہر سال تقریباً 445,000 یونیورسٹی گریجویٹس اور 25,000 سے 30,000 کمپیوٹر سائنس گریجویٹس تیار کرتا ہے ہمارے پیارے ملک پاکستان میں صرف 67.5% پاکستانی بچے پرائمری اسکول کی تعلیم مکمل کرتے ہیں ہمارا معیاری قومی نظام تعلیم بنیادی طور پر انگریزی تعلیمی نظام سے متاثر ہے پری اسکول ایجوکیشن 3-5 سال کی عمر کے لیے بنائی گئی ہے اور عام طور پر تین مراحل پر مشتمل ہوتی ہے پلے گروپ، نرسری اور کنڈرگارٹن (جسے ‘KG’ یا ‘Prep’ بھی کہا جاتا ہے)پاکستان میں بے روزگاری کی اہم وجہ امتیازی سلوک بھی ہے سفارشی کلچر نے میرٹ کی ایسی تیسی پھر کررکھی دی ہے سرکاری نوکری کے لیے 30-35 سالہ نوجوان overageتصور کیا جاتا ہے مگر 60-65 سالہ کوئی ریٹائرڈ بابا بزرگ کسی محکمے کی سربراہی یا سینئر پوزیشن کے لیے اہل تصور کیا جاتا ہے کبھی نوجوانوں پر بھروسہ تو کریں سرکار یہ ملک کو اب بھی بہت آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بزرگ تو پہلے ہی پنشن اور مراعات لے رہے ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں بجٹ میں تعلیم پر کوئی خاص پیسہ رکھا جاتا ہے اور نہ ہے نئے تعلیمی اداروں پر کوئی توجہ دی جاتی ہے اور تو اور ہمارے سرکاری سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ ساری عمر اسی گریڈ میں پڑھاتے رہتے ہیں جس میں وہ بھرتی ہوتے ہیں

 

ہماری حکومتوں کو اساتذہ سے کوئی دلچسی ہے اور نہ ہی ہمارے نونہالوں سے آج سے کچھ عرصہ پہلے ہمارے اساتذہ لاہوراور کراچی کی سڑکوں پر اپنے حقوق کے لیے نکلے تو ہمارے شیر جوانوں نے اپنی تعلیم کا حق ادا کرتے ہوئے انہیں انہی ڈنڈوں سے مارا جن ڈنڈوں سے ان نالائقوں نے مار کھائی تھی اور یہ سب کچھ کروانے والے ہمارے حکمران ہیں جن کی وجہ سے پورا ملک لوڈ شیڈنگ،مہنگائی،غربت اور جہالت میں ڈوبا ہوا ہے یہ تو ہمارے وہ محب وطن حکمران ہیں جنکے بچے اور جائیدادیں پاکستان سے باہر ہیں جب یہ لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں تو پروٹوکول انجوائے کرنے سب کو بلا لیتے ہیں جیسے ہی اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو پھر بیماری کا بہانہ بنا کر باہر بھاگ جاتے ہیں آج ملک میں غریب آدمی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے اسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں جو مڈ ل کلاس گرمیوں میں اے سی لگاکر سکون سے گرمیاں گذار لیتے تھے آج کل وہ بھی اپنے گھریلو سامان بیچ کر بجلی کے بل جمع کروا رہے ہیں اگر کسی کو یاد ہو کہ اسی حکومت نے غریبوں کے لیے بجلی مفت کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن انہوں نے سب سے پہلے غریبوں کے کپڑے بکوانا شروع کردیے ہیں ویسے آپس کی بات ہے غریبوں کے کپڑے تو اس حکومت کے آنے سے پہلے نگرانوں نے ہی اتروالیے تھے اب تو یہ ڈنڈے والے ہیں خیر بات میں کررہا تھا کہ ہمارا نظام تعلیم ٹھیک ہے نہ ہمارے اس نظام کو چلانے والے سب نے مل جل کر ہمیں پڑھے لکھے بھکاری اور جاہل بنا دیا ہے اور آج دنیا بھی ہم پر اپنے دروازے بند کررہی ہے سنا ہے دبئی نے تو ہمارے وزیر اعظم کو بھی جواب دیدیا ہے کہ ہم پاکستانیوں کو ویزے نہیں دینگے کیونکہ وہ بھی یہاں آکر بھیک مانگتے ہیں جو عزت تھی وہ بھی خاک میں مل گئی۔

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
91152

کتاب سے علم تک ۔ عصمت عیسیٰ – تحریر: ظہیر الدین

Posted on

کتاب سے علم تک ۔ عصمت عیسیٰ – تحریر: ظہیر الدین

1980ء کا سال، کھچا کھچ بھرا ہوا ٹاؤن ہال چترال، یوم اقبال کی تقریب، اسٹیج سے ایک نام لئے جانے پر مجلس پر سناٹے کی چادر بچھ جاتی ہے،پھر ایک وجیہ صورت مگر بارعب شخصیت روسٹرم پہ آجاتا ہے، تقریر کا موضوع ہے ‘اقبال اور نوجوان’۔حاضرین میں اپر چترال کے ایک پسماندہ گاؤں سے ایک پسماندہ طالب علم ان کی تقریر میں انتہائی دلچسپی لیتا ہے اور ایک ایک لفظ کو دل پر نقش کر تاجاتا ہے اور ان کے انداز بیان کا گرویدہ ہوکر رہ جاتا ہے جوکہ ایک لمحہ میں غصہ سے بپھرکر حاضریں کو مخاطب کرتا تو اگلے ہی لمحے پینترا بدلتے ہوئے چہرے پر انتہائی پررونق مسکراکر حاضرین کو اپنی طرف متوجہ رکھتے۔ وہ طالب علم اس تقریر کے نوٹس بناکر اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے اور اگلے سالانہ امتحانات میں اتفاق سے جب اردو کے پیپر میں شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال پر مضمون لکھنے کو کہا گیا تو انہیں لکھ دیتا ہے اور اردو کے استاذ پروفیسر عبدالجمیل مرحوم (جو کہ بعد میں لیکچرر بن کر کالج جائن کرتا ہے) سے نمبر اور داد وصول کرتا ہے۔

 

اُس زمانے میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے دم سے ٹاؤن ہال آباد رہتا تھا جس میں ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی اور محمد یوسف شہزاد جیسے متحرک شخصیات ذمہ دار ہوا کرتے تھے۔ مختلف موضوعات پرتواتر سے مجالس مذاکرہ سجاتے جس میں شہر کے دانشور اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور ان مجالس کی جان وہی دلربا شخص ہوا کرتے جسے عصمت عیسیٰ کے نام سے لوگ جانتے تھے۔ ان مجالس میں ان کی باقاعدگی سے شرکت نے کئی لوگوں کی طر ح مجھے بھی ان کا گرویدہ بنادیا کیونکہ وہ کسی بھی موضوع پر باآسانی بول لیتے تھے جوسطحی نہیں بلکہ اپنے اندر سمندرکی گہرائی لئے ہوتے اور سننے والا پورا پورا مطمئن ہوتا۔ ایک استاذ کے ہاں پیدا ہونے اوران کے ہاتھوں تربیت پانے کے بعد کالج اور یونیورسٹی میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑہانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور کسی شاعر کی اس نصیحت پر عمل پیرا رہے کہ
یاں بزم مے ہے کوتاہ دستی میں ہے محرومی جوبڑھ کر اٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

 

chitraltimes azmat issa dpp late
ان کی صلاحیتوں پر مزید ملمع کاری کا کام اسلامی جمعیت طلبہ نے کردی جس سے یہ دل وجان سے وابستہ رہے اورجوانی میں توبہ کرکے خصلت پیغمبری پانے والے صالح جوانوں کا یہ قافلہ پڑھنے اورفکر کرنے کی طرف راغب کرتی ہے اور عصمت عیسیٰ بھائی اس قافلے کے سالاروں میں شامل تھے جس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب اپنے سیشن میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ اور جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان تنظیمی دورے پر چترال تشریف لائے اور رات کوانہیں کاموں سے فراغت ملتے ہی عصمت عیسیٰ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور میں انہیں دنین کالونی میں ان کی رہائش گاہ میں ان کے ساتھ ملاقات میں موجود رہا۔

 

‘تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ’کے مصداق عصمت عیسیٰ بھائی کا رشتہ کتابوں کے ساتھ عمر کی آخری تین مہینوں پرمحیط علالت تک جاری رہا۔ 1977ء میں ایل یل۔بی سے فراغت اور عملی زندگی میں آنے کے بعد سے 1996ء تک ہر سال پشاور یونیورسٹی کے ایم۔ اے کے امتحانات میں شامل ہوتے رہتے اور درجن کے قریب مضامیں میں ماسٹر ز ڈگری حاصل کرتے رہے۔ ان کے لئے یہ امتحانات ایک بہانہ تھا اور یہ کتابوں سے پیار کا سلسلہ برقرار رکھنے کے لئے ایک بہانہ تھا۔ 1990ء کی دہائی میں چترال آنے کے بعد ان سے ملاقات تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہوتی۔ اُ ن دنوں گوگل سرچ انجن سے ہم ناواقف تھے مگر عصمت عیسیٰ بھائی ہی اس کمی کو پورا کرتا۔ میں کوئی موضوع چھیڑتا اور علم کے جھرنوں کو جاری ہوتا دیکھتا۔

 

انگریزی اور عربی دونوں زبانوں پر برابر عبور رکھنے کا اعزاز بہت ہی کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور عصمت عیسیٰ بھائی ان میں سے ایک تھے جوکہ قرآن فہمی میں متاثر کن حد تک مہارت رکھتے تھے اور فارسی کتاب بھی ان کے زیر مطالعہ رہتے اور شائدفارسی زبان وادب میں بھی ماسٹرز ڈگری ہولڈر تھے۔ کتابوں سے شغف اور علم دوستی نے ان میں اعلیٰ انسانی اوصاف بھی پیدا کئے تھے اور کئی منفی خیالات (tendencies) کو ان کے قریب پھٹکنے بھی نہیں دیا تھا۔ چار دہائی سالوں پر محیط اس تعلق کے دوران میں نے کبھی انہیں خاندانی تفاخر جتاتے ہوئے نہیں سنا حالانکہ ان کے پاس کچھ مواد موجود تھا۔جب پریڈ گراونڈ میں خطیب خلیق الزمان ان کا نمازجنازہ پڑہارہے تھے تو میں پہلی صف میں عین ان کے پیچھے کھڑ ا تھا اور میں شائد خیال ہی خیال میں یہ سوچ رہا تھا کہ عصمت عیسیٰ بھائی ابھی کتابوں کے اندر بیٹھا کسی کتاب کی ورق گردانی کررہا ہے اور ابھی سراٹھا کر اپنے انداز میں ایک قہقہہ بلند کرے گا اور کوئی فلسفیانہ ٹاپک میرے ساتھ شئیرکرنے لگ جائے گا مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
91146

دھڑکنوں کی زبان – خاک میں کیا صورتیں – محمد جاوید حیات 

دھڑکنوں کی زبان – خاک میں کیا صورتیں – محمد جاوید حیات

درمیانے قد کے فربہ بدن۔۔۔ چمکتے مسکراتے چہرے پر نشیلی آکھیاں۔۔۔۔ لب لعلین پہ مسکراہت۔۔۔۔۔۔۔ چکمتے دانتوں سے دودھ ٹپکے ۔۔۔۔لب ہلیں تو لفظ موتی بن کے گریں ۔گرجدارآواز۔۔۔۔ الفاظ پہ قابو۔۔۔ جملے مدلل۔۔۔ انداز فلسفیانہ ۔۔ کوٸی موضوع چھیڑے تو تشریح کے پل باندھے۔۔۔ ۔جس عہدے پہ رہے اس کو شہرت دے بسے ۔۔یہ بقول ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی “چھوٹے شہر کا بڑا دانشور” تھے۔۔۔ نام عصمت عیسی خان اپنے بابا غازی محمد عیسی کے نام کی لاج رکھنے کے لیے ابو نے نام رکھا تھا ۔وجیہ صورت اور کرشماتی شخصیت تھے۔۔ ۔وکالت کی اعلی تعلیم حاصل کی ۔ سرکاری وکیل بن گئے ۔پبلک پراسیکیوٹر کے عہدے تک گئے۔۔۔ انیس گریڈ کے أفیسر بنے۔۔۔ پنشن لی۔۔ پرائیویٹ پریکٹس کی اور بہتر سال کی بھر پور زندگی گزارنے کے بعد 20 جولاٸی 2024 کی رات گیارہ بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔۔یہ اگر مرحوم کا پروفاٸل ہوتا تو لکھنے کے لیے اور کیا بچتا لیکن یہ پروفاٸل ہر گز نہیں ۔پروفاٸل ریچ ہے اور بندہ بے مثال ان کی شخصیت کے ہر ہر پہلو پر لکھنے کو دل چاہتا ہے ۔

chitraltimes chitral police lower workshop azmat issa

وہ گاٶں اجنو میں مصطفی کمال کے ہاں پیدا ہوۓ گاٶں کے معتبر قبیلہ باٸیک سے تعلق تھا ۔۔ انہوں نے گاٶں کے پرائمری سکول سے اپنی سکولنگ کا آغاز کیا ابو مصطفی کمال خود استاذ تھے ۔گورنمنٹ پرائمری سکول اجنو سے پانچویں پاس کیا گورنمنٹ مڈل سکول کھوت پھر گورنمنٹ ہاٸی سکول بونی سے تعلیم حاصل کی ۔دسویں پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج چترال سے تعلیم حاصل کی پشاور لا کالج سے ایل ایل بی کیا ۔کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں طالب علم رہنما کے طور پر سامنے آۓ وہ شعلہ بیان مقرر تھے ۔شخصیت کرشماتی تھی جوانی جوبن پہ تھی لیڈرشپ بولنے لگی ۔مولانا مودودی سے متاثر تھے بہت زیادہ پڑھاکو تھے دماغ میں علم کوٹ کوٹ کر بھر گیا ۔پی ایس أٸی بنا تو اپنی قابلیت سے اس عہدے کو نمایان کیا۔۔۔ پی پی بنا تو یہ عہد ایک مثال بن گیا ۔انہوں نے بہت جلد اپنے آپ کو منوالیا اور معاشرے کے لیے مثال بن گئے ۔ان کو کرمینل کیسز کا بابا کہا جاتا تھا ۔وہ جب عدالت میں جرح ،ارگو اور کیس کی وضاحت کرنے لگتے تو عدالت مبہوت ہو کر رہ جاتی ۔۔

 

ان کو بات کرنے پہ ملکہ حاصل تھا۔لکھنے پہ آتے تو قلم کے نوک سے جھرنے پھوٹتے ۔ہر موضوع پہ بات کرتے اور موضوع کا حق ادا کرتے ۔۔سٹیج اس کے ساتھ سجتا۔تقریر کرنے لگتے تو غالب یاد آتا ۔۔۔بات پر واں زبان کٹتی ہے ۔۔۔وہ کہے اور سنا کرے کوٸی ۔۔ وہ اپنی ذات میں انجمن تھے جس محفل میں ہوتے اس کے میر محفل بن جاتے۔ان کے بابا کی تلوار کی کاٹ ان کے قلم کی نوک میں آ گیا تھا ۔سخت محنتی اور منتظم تھے ۔وقت ضاٸع نہ کرتے ۔اپنے پیشے سے محبت تھی اس کو خوب نبھاتے۔بڑی تیاری سے عدالت میں جاتے ۔سیاست کے گرو تھے ۔سیاسی لوگ ان کے مشوروں کو بڑی اہمیت دیتے۔ملنسار تھے ہر ملنے والے کو مرعوب کرتے ۔رشتے نبھاتے ۔ ڈھارس بندھاتے ۔بچوں سے بے مثال محبت تھی ۔گھر بڑا پیارا ماحول میں رہتے ۔۔بڑے خوش خوراک اور خوش لباس واقع ہوۓ تھے ۔ڈیوٹی سے گھر جاتے پھر گھر سے باہر نہیں نکلتے کتابوں میں محو رہتے ۔

 

بڑے خوش لباس تھے ۔نفاست پسند اور سجیلے تھے ۔بڑے اداروں میں لکچروں پہ بلاۓ جاتے ۔فنکشنس میں تقاریر کے لیے مدعو کیے جاتے ۔وکلاء اپنے کیسز کے لیے مشورے لیتے ۔علمی راہنماٸی دیتےاور مشوروں سے نوازتے ۔ذہانت اچھی تھی ۔حوالاجات معتبر ہوتے ۔ بزلہ سنج تھے ان کی محفل میں بوریت محسوس نہ ہوتی ۔ انہوں نے اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلاٸی اکلوتا بیٹا سول جج بن گیا تو کہا مجتبی خان اس عہدے کی لاج رکھنا ۔بیٹیاں محکمہ تعلیم میں اعلی عہدوں پر فاٸز ہوٸیں ۔انہوں نے باہر ملکوں کا سفر کیا الاظہر یونیورسٹی اور مصر کے سفر کی یادیں میٹھی کرکے سناتے ۔بڑے ادبی رہے ۔۔مختلف مقالات مختلف رسالوں میں شایع ہوۓ ۔۔انٹلکچول فارم انواز کے پلیٹ فارم میں أپ سےلکچر دلواۓ جاتے ۔۔ جو شاٸع شدہ مجلے میں شامل ہیں ۔۔ان کی چار مختلف موضوعات پر کتابیں زیر طبع تھیں کہ اجل نے قلم ہاتھ سے چھین لیا ۔۔چترال اپنے ایک علمی فرزند سے محروم ہوا ۔۔۔ان کی نماز جنازہ پریڈ گراونڈ چترال اور ان کے اباٸی گاٶں اجنو میں بے مثال رہیں ۔۔اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت عطا کرے

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
91149

کچھ مسلح لوگ سرکاری اہلکار بن کر اور اپنے اپ کو کسی سرکاری ادارے سے منسلک کرکے گھوم رہے ہیں اور سرکاری و غیر سرکاری معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں جس پر صوبے کی حکومت، پولیس اور عوام کے شدید تحفظات ہیں۔ علی امین گنڈا پور 

Posted on

کچھ مسلح لوگ سرکاری اہلکار بن کر اور اپنے اپ کو کسی سرکاری ادارے سے منسلک کرکے گھوم رہے ہیں اور سرکاری و غیر سرکاری معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں جس پر صوبے کی حکومت، پولیس اور عوام کے شدید تحفظات ہیں۔ علی امین گنڈا پور

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ گزشتہ روز بنوں واقعے کے بعد انتظامیہ کے ساتھ مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کرنے پر میں بنوں کے مشران، اپنی پارٹی کے ذمہ دران اور دیگر تمام لوگوں کا مشکور ہوں، آج علاقے کے مشران نے معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور یہ کمیٹی کل مجھ سے مل کر معاملے پر بات کرے گی۔ بنوں واقعے کے حوالے سے یہاں سے جاری اپنے ویڈیو بیان میں وزیر اعلی نے کہا ہے کہ ہم عوامی لوگ ہیں، عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئے ہیں، ہمیشہ عوام کا ساتھ دیا ہے، آئیندہ بھی عوام کا ساتھ دیتے رہیں گے ہم اس معاملے پر عوام کے تحفظات کو دور کریں گے اور ان کی توقعات پر پورا اتریں گے اور بحیثیت حکومت یہ ہماری زمہ داری اور عوام کا حق ہے۔

 

وزیر اعلی نے کہا ہے کہ ہماری حکومت بننے کے بعد پہلی ایپکس کمیٹی اجلاس میں، میں نے واضح طور پر کہا تھا کہ کچھ مسلح لوگ سرکاری اہلکار بن کر اور اپنے اپ کو کسی سرکاری ادارے سے منسلک کرکے گھوم رہے ہیں اور سرکاری و غیر سرکاری معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں جس پر صوبے کی حکومت، پولیس اور عوام کے شدید تحفظات ہیں اور میں نے نیشنل ایکشن پلان کے اجلاس میں بھی اس بات کی نشاندہی کی تھی۔ آج میں یہ اعلان کرتا ہوں اور پولیس کو حکم دیتا ہوں کہ ایسے مسلح عناصر جہاں کہیں پر بھی پائے جائیں انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے، پولیس ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے اور جہاں بھی ان کے ٹھکانے ہیں وہ خالی کروائے۔

 

سردار علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عوام کے تعاون کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی اس لئے صوبے کے عوام سے میری اپیل ہے کہ وہ بھی ایسے عناصر کی نشاندہی کریں۔ وزیر اعلی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج، پولیس اور عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور میں دہشت گردی کے خلاف میں قربانیاں دینے والوں اور ان کے خاندان والوں کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں، فوج، پولیس اور عوام کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ہم سب نے مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے اور اس صوبے میں امن قائم کرنا ہے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91139

معاہدوں کی وجہ سے حکومت بعض پاور پلانٹس سے بجلی 750 روپے فی یونٹ خرید رہی ہے، گوہر اعجاز

Posted on

معاہدوں کی وجہ سے حکومت بعض پاور پلانٹس سے بجلی 750 روپے فی یونٹ خرید رہی ہے، گوہر اعجاز

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ) سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ معاہدوں کی وجہ سے حکومت بعض پاور پلانٹس سے بجلی 750 روپے فی یونٹ خرید رہی ہے۔اپنے ایک بیان میں گوہر اعجاز نے کہا کہ حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خرید رہی ہے جبکہ حکومت ونڈ اور سولر کی 50 روپے فی یونٹ سے اوپر قیمت ادا کر رہی ہے۔گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ان مہنگے ترین آئی پی پیز کو کی گئی ادائیگی 1.95 کھرب روپے ہے، حکومت ایک پلانٹ کو 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر 140 ارب روپے ادائیگی کر رہی ہے، حکومت دوسرے پلانٹ کو 17 فیصد لوڈ فیکٹر پر 120 ارب روپے ادا کر رہی ہے جبکہ حکومت تیسرے پلانٹ کو 22 فیصد لوڈ فیکٹر پر 100 ارب روپے کی ادائیگی کر رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف تین پلانٹس کیلئے 370 ارب روپے بنتے ہیں جو سارا سال 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہے ہیں، یہ سب معاہدوں میں کیپیسٹی پیمنٹ کی اصطلاح کی وجہ سے ہے، نتیجے میں بجلی پیدا کیے بغیر آئی پی پیز کو بڑی صلاحیت کی ادائیگی ہوتی ہے۔گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ صرف سستی ترین بجلی فراہم کرنے والوں سے بجلی خریدی جائے، یہ پلانٹس 52 فیصد حکومت کی ملکیت ہیں، 28 فیصد نجی سیکٹر کی ملکیت ہیں، اس لحاظ سے 80 فی صد پلانٹس پاکستانیوں کی ملکیت ہیں۔ سابق نگراں وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ کرپٹ ٹھیکوں، بد انتظامی اور نااہلی کی وجہ سے ہمیں بجلی 60 روپے فی یونٹ بیچی جا رہی ہے، سب کو اپنے ملک کو بچانے کے لیے 40 خاندانوں کے ساتھ ان معاہدوں کے خلاف اٹھنا چاہیے۔گوہر اعجاز نے کہا کہ اب میں قوم پر چھوڑتا ہوں کہ وہ آئی پی پیز پر کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91128

سرکاری اخراجات پر کھانوں، بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد

سرکاری اخراجات پر کھانوں، بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد

اسلام آباد(سی ایم لنکس)اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے غیر ضروری بیرون ملک دوروں اور سرکاری اخراجات پر کھانوں پر پابندی عائد کر دی۔ذرائع نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ پابندی کا اطلاق پارلیمانی وفود اور اسمبلی افسران پر ہوگا، کم سے کم دورانیے اور مختصر وفود کو اجازت ہوگی۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے سرکاری اخراجات پر ریفریشمنٹ پر بھی پابندی عائد کی اور ڈنر اور لنچ کے ٹائم کوئی اجلاس نہ رکھنے کی ہدایت جاری کر دی۔قبل ازیں، قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں نے اسپیکر ایاز صادق سے پہلے سے فراہم گاڑیاں پرانی اور ناکارہ ہونے کی شکایت کی تھی جس پر انہوں نے تمام گاڑیوں کی مرمت کی ہدایت جاری کی اور مرمت کے بعد یہ گاڑیاں چیئرمینوں کے حوالے کر دی گئیں۔چیئرمینز مسلسل نئی گاڑیاں فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے مگر ایاز صادق نے انکار کر دیا۔ انہوں نے چیئرمینوں کو جواب دیا کہ خود ان کے پاس موجود گاڑی 2015 ماڈل کی ہے جبکہ چیئرمینوں کو دی گئی گاڑیاں 2017 اور 2019 ماڈل کی ہیں۔اسپیکر کا مؤقف تھا کہ اتنے فنڈز نہیں ہیں کہ نئی گاڑیاں خریدی جائیں، وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے بھی نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی ہے اور وزارت خزانہ نے بھی نئی گاڑیوں کیلیے فنڈز دینے سے انکار کر دیا تھا۔

 

 

انشورنس اسکیم میں اس سال 30ہزار جرنلسٹ مستفید ہوں گے

گوجرانوالہ( چترال ٹائمزرپورٹ)وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جرنلسٹ انشورنس اسکیم میں اس سال 30ہزار جرنلسٹ مستفید ہوں گے۔گوجرانوالہ میں پی ایف یو جے اجلاس سے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے اجلاس میں جو پولیس کارروائی ہوئی نہیں ہونی چاہییتھی واقعیکی انکوائری ہونی چاہیے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا پی ایف یوجے نے حکومتوں کی اصلاح اور معاشرے کی بہتری کیلئیکردار ادا کیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم انشور کریں گی جرنلسٹ کو کسی مشکل کا شکار نہیں ہونے دیں گے جرنلسٹ انشورنس اسکیم میں اس سال 30ہزار جرنلسٹ مستفید ہوں گے وزیر خزانہ نے باقاعدہ بجٹ میں اس کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل رائٹس کے حوالے سے ایک اتھارٹی بنی تھی ہمارا وعدہ تھا اس میں مشاورت ہو گی تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں گے آپ سب کی مشاورت کے بعد ہی اس معاملے پر پیش رفت ہو گی جہاں کسی صحافی کی حق تلفی ہوتی ہے میں خود اس کا نوٹس لیتا ہوں۔

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91131

کے ایم یو نے انسٹیٹیوٹ آف ہلیتھ سائنسز اسلام آباد میں الائیڈ ہیلتھ سائنسزکے مختلف پروگرامات میں داخلوں کے لئے سنٹرالائزڈ ٹیسٹ کا انعقاد

کے ایم یو نے انسٹیٹیوٹ آف ہلیتھ سائنسز اسلام آباد میں الائیڈ ہیلتھ سائنسزکے مختلف پروگرامات میں داخلوں کے لئے سنٹرالائزڈ ٹیسٹ کا انعقاد کیا۔
آئی ایچ ایس اسلام اباد کا عملہ مختلف طبی تعلیمی شعبوں میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے میں سخت محنت کر رہے ہیں: انعام اللہ خان وزیر

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو)پشاور نے میں اپنے ذیلی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسزاسلام آباد میں ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی، بی ایس نرسنگ، اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز میں داخلوں کے لئے سنٹرالائزڈ ایڈمشن ٹیسٹ کا اہتمام کیا۔ اس ٹیسٹ میں پورے پاکستان سے694 طلباء، طالبات شریک ہوئے۔ کے ایم یو کی انتظامیہ نے ٹیسٹ کے دوران شفافیت کو ترجیح دی اور طلباء کو تمام ترسہولیات فراہم کیں تاکہ امتحانی ماحول کو شفاف بنایا جا سکے۔ داخلہ ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان دو سے تین دنوں میں کیا جائے گا، اور طلباء،طالبات اپنا نتیجہ انہیں cat.kmu.edu.pk کی آفیشل ویب سائٹ پر دیکھ سکیں گے۔

 

امتحانی عمل کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے رجسٹرارکے ایم یو انعام اللہ خان وزیر، پروفیسرحیدر دارین ڈین الائیڈ ہیلتھ سائنسز، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمشن محمد ارشد خان، سہیل احمد ڈائریکٹر آئی ٹی شیخ عاطف محمود ڈائریکٹر آئی ایچ ایس اسلام آباد اور ساتھ ہی انتظامی عملہ اور فیکلٹی ممبران نے ٹیسٹ کے انتظامات کی نگرانی کی۔ رجسٹرار کے ایم یو انعام اللہ خان وزیر نے آئی ایچ اسلام آباد کیمپس میں طبی تعلیم میں اہمیت کی وضاحت کی۔انھوں نے کہا کہ طلباء، طالبات کے لیے پورے پاکستان سے اسلام آباد کو اپنی تعلیمی روایت بنانے کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کے ایم یو آئی ایچ ایس اسلام آباد کی عزمیت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایچ ایس اسلام اباد کا عملہ مختلف طبی تعلیمی شعبوں میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے میں سخت محنت کر رہا ہے جس سے پورے پاکستان کے طلباء، طالبات کو سنہری مواقع فراہم ہوتے ہیں۔یہ امر قابل ذکر رہے کہ ان طلباء کے لئے دو اضافی ٹیسٹ ارینج کئے جائیں گے جو کسی بھی وجہ سے مذکورہ ٹیسٹ میں شامل نہیں ہوئے تھے طلباء کے لئے ان ٹیسٹوں میں شمولیت لازمی اور حتمی تصور ہوگی۔ یاد رہے کہ کے ایم یو اسلام آباد کیمپس اپنی پرانی بلڈنگ سے ایک جدید بلڈنگ واقع اولڈ آبا سین یونیورسٹی بلڈنگ میں شفٹ ہوگیا ہے جہاں طلبہ کو جدید سہولیات میسر ہونگی۔

 

نو تعینات ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اکیڈمی ڈاکٹر عبدالوحید خان نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔

پشاور(سی ایم لنکس)محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد ڈاکٹر عبدالوحید خان بیٹنی نے بطور ڈائریکٹر جنرل پراونشل ہیلتھ سروسز اکیڈمی کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا ہے۔ گریڈ 19 کے مینجمنٹ کیڈر کے افسر ڈاکٹر عبدالوحید اس سے قبل ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پشاور تعینات تھے جبکہ اپنی 27 سالہ سروس کے دوران کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ بطور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر شانگلہ محکمہ صحت کیلئے خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ چیف میڈیکل آفیسر کے طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ٹانک اور ڈی ایچ او ٹانک آفس میں بھی سروس دے چکے ہیں۔ وہ گورنر سیکرٹریٹ میں بطور ڈائریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایوالویشن بھی رہ چکے جبکہ ایم ایس سنٹرل جیل ہسپتال پشاور بھی رہ چکے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91137

اگلے ہفتے کے دوران آندھی/جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی

اگلے ہفتے کے دوران آندھی/جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی

 

اسلام آباد ( چترال ٹائمزرپورٹ ) ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق 22 جولائی سے بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی۔ جس کے باعث

خیبر پختونخوا: 22(شام) سے24 جولائی کے دوران: دیر، چترال، سوات، کوہستان، مالاکنڈ، باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، کوہاٹ، باجوڑ، مہمند، خیبر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، صوابی، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، ہنگو، کرم، اورکزئی، وزیرستان، بنوں، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں آندھی/جھکڑ چلنے اور گرج چمک کےساتھ بارش کا امکان۔ اس دوران بعض مقا مات پر موسلادھار بارش بھی متوقع ہے۔
کشمیر: 21 (شام) سے27 جولائی کے دوران: کشمیر (وادی نیلم، مظفر آباد،راولاکوٹ، پونچھ، ہٹیاں،باغ،حویلی،سدھنوتی، کوٹلی،بھمبر،میر پور) میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ وقفےوقفے سے بارش کا امکان۔اس دوران بعض مقا مات پر موسلادھار بارش کی بھی توقع ہے۔

 

اسی طرح پنجاب/اسلام آباد: 22 سے25 جولائی کے دوران: اسلام آباد/راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، تلہ گنگ، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیر آباد، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد ، اوکاڑہ،پاکپتن، قصور، خوشاب، سرگودھا، بھکر اور میانوالی میں آندھی/جھکڑ چلنے اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان۔ اس دوران بعض مقا مات پر موسلادھار بارش کی بھی متوقع۔ 23 اور24جولائی کے روز : بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، لودھراں، مظفر گڑھ،کوٹ ادو، راجن پور، رحیم یار خان اور لیہ میں آندھی/جھکڑ چلنے اورگرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

 

بلوچستان: 23 اور24جولائی کے روز : صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ۔ تاہم بلوچستان کے شمالی/مشرقی علاقوں (خضدار، قلات،لسبیلہ،آواران،زیارت، ژوب، بارکھان،موسیٰ خیل، شیرانی،کوہلو، ہرنائی، نصیر آباد اور جعفر آباد) میں آندھی/جھکڑ چلنے اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

سندھ: 23 اور24 جولائی کےروز : صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور انتہائی مرطوب رہنے کی توقع ۔ جبکہ مٹھی، سانگھڑ، عمرکوٹ، تھرپارکر، میرپور خاص، سکھر، لاڑکانہ اور دادو میں آندھی/جھکڑ چلنے اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان۔
گلگت بلتستان: 22 سے27 جولائی کےدوران : گلگت بلتستان (دیامیر، استور، اسکردو، گلگت، گھانچے اورشگر) میں مطلع جزوی سے ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی بھی توقع ہے۔

 

ممکنہ اثرات اور احتیاطی تدابیر:
23 اور24 جولائی کے دوران :موسلا دھار بارش سےمری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان، مالاکنڈ، دیر سوات، شانگلہ، بونیر، کرم، اورکزئی، خیبر، مہمند، نوشہرہ، صوابی اور کشمیر کے مقامی نالوں/ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
23 اور24 جولائی کے دوران : موسلا دھار بارش کے باعث پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نشیبی علا قے زیر آب آنے کا اندیشہ۔
شدید بارشوں کے باعث خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں ، مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

 

شدید بارشوں /آندھی/جھکڑ چلنے اورگرج چمک کے باعث روزمرہ کے معمولات متاثر ہونے ، کمزور انفرا سٹرکچر ( کچے گھر/دیواریں ،بجلی کے کھمبے،بل بورڈز،گاڑیوں سولر پینل وغیرہ)کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ کسان حضرات موسمیاتی پیش گوئی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے معمولات ترتیب دیں۔
مسافروں اور سیاح حضرات سفر کے دوران زیادہ محتاط رہیں اور موسمی حالات کے مطابق اپنے سفر کا انتظام کریں اور بارشوں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے موسم کے باری میں آگاہی حاصل کریں۔

تمام متعلقہ اداروں کو گرمی کی لہر کے دوران ” الرٹ “رہنے اور کسی ناخشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

 

دریں اثنا پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بارشوں کے باعث صوبہ کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ ہے، پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام ضلعی انتظامیہ کو موسمی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا گیا،

پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو گرد آلود ہوائیں/ آندھی/جھکڑ چلنے اورگرج چمک کے باعث کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پیشگی نمٹنے کے لیے ہدایات جاری کر دیں۔ کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے پیشگی نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ کو چھوٹی بڑی مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔تیز ہواؤں کی صورت میں میں عوام بجلی کی تاروں، بوسیدہ عمارتوں و تعمیرات، سایئن بورڈز اور بل بورڈز سے دور رہے۔ کسان حضرات موسمیاتی پیش گوئی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے معمولات ترتیب دیں. ۔حساس بالائی علاقوں میں سیاحوں اور مقامی آبادی کو موسمی حالات سے باخبر رہنے کے لیے احتیاتی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حساس اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کو مقامی آبادی تک پیغامات مقامی زبانوں میں پہنچائے جائیں۔۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں تمام متعلقہ ادارے روڈ لنکس کی بحالی میں چوکس رہیں اور سڑک کی بندش کی صورت میں ٹریفک کے لئے متبادل راستے فراہم کئے جائیں۔

۔سیاحوں کو موسمی صورت حال سے آگاہ کیا جائے۔ پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی مکمل آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پردیں.

 

chitraltimes chitral rain distruction road blocked houses damaged 16

 

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91120

دوائے دل – درسِ مسلسلات – مولانا محمد شفیع چترالی 

دوائے دل – درسِ مسلسلات – مولانا محمد شفیع چترالی

بدھ دس محرم یوم عاشور کے موقع پر جامعہ دارا لعلوم کراچی میں شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے درس مسلسلات میں شرکت اور آپ سے احادیث مسلسلہ کی اجازت کے حصول کا شرف حاصل ہوا۔ہماری نسل کے دینی طالب علموں کے لیے یہ بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے کہ ہمیں ایک ایسی نابغہئ روزگار علمی شخصیت دستیاب ہے جن کوپوری اسلامی دنیا میں ایک مقتدا و مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔لطف کی بات یہ ہے کہ عاجزی، مسکنت اور تواضع کے اس پیکر کو عالم اسلام کی چند بااثر ترین شخصیات کی اس فہرست میں شمار کیا گیا ہے جس میں بڑے بڑے بادشاہوں اور کج کلاہوں کے نام ان کے بعد آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مقام اور مرتبہ انہیں راتوں رات حاصل نہیں ہوا۔ایک طویل عرصے تک علم اور معرفت کے دشت کی سیاحی،دنیا کے کونے کونے میں جاکر اہل علم سے استفادہ،مطالعہ و مشاہدہ اور اپنے زمانے کے اہل اللہ،اساطین علم اور رجال دین کی صحبتیں اٹھانے اورتحقیق و تصنیف کے میدان میں کئی معرکے سر کرنے کے بعد ہی وہ معاصر دنیا کی نظر میں ”شیخ الاسلام“ ٹھہرے ہیں ؎

 

نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سو بار جب عقیق کٹا، تب نگیں ہوا

 

میں دوپہر بارہ بجے سے کچھ پہلے جامعہ دارالعلوم کراچی کی پرشکوہ مسجد میں داخل ہوا تو ابھی شیخ الاسلام کے درس مسلسلات کے آغاز کا وقت شروع ہونے میں بیس منٹ باقی تھے مگر دارا لعلوم کی وسیع مسجد کا ہال ابھی سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور سخت گرمی اور حبس کے باوجود برآمدوں میں بھی لوگ بیٹھے انتظار کر رہے تھے۔ان میں دار العلوم کے اپنے دورہئ حدیث اور موقوف علیہ کے سینکڑوں طلبہ کے علاوہ شہر کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ہزاروں دیگر تشنگان علم اورعلماء اور فضلاء بھی شامل تھے جو دس محرم کے روز راستوں کی بندش اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں درس میں شرکت کے لیے حاضر تھے۔

 

سوا بارہ بجے حضرت شیخ الاسلام صاحب محراب کے راستے سے تشریف لاکر مجمع کے سامنے نمودار ہوئے تو پورے مجمع نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔حضرت نے اپنی مسند سنبھالنے کے بغیر کسی تاخیر کے درس کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ یوم عاشور کو احادیث مسلسلہ کا یہ درس درحقیقت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے اظہار کا ایک انداز ہے جو حضرات محدثین کے ہاں صدیوں سے رائج ہے۔ احادیث مسلسلہ ان احادیث کو کہا جاتا ہے کہ جو کسی خاص کیفیت یا صفت یا وقت کی تحدیدکے ساتھ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ ؐ کے زمانے کے قریب کے کسی راوی تک مروی ہیں۔مثلا ً جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے اپنے سر مبارک پر ہاتھ رکھا تھا تو آپ ؐ سے اس حدیث کو روایت کرنے والے صحابی نے بھی آپؐ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہوئے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور آگے تمام راویوں نے اس کو اسی طرح سر پر ہاتھ رکھ کر روایت کیا۔اسی طرح ایک حدیث وہ ہے جو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ارشاد فرمائی جب آپ ؐ نے اپنے ریش مبارک پر دست مبارک رکھا ہوا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے والے خوش نصیب صحابی نے آپ ؐ کی اس ادا کو آنکھوں میں اتارا اورجب آپ ؐ کا ارشاد آگے نقل کیا تو اسی مخصوص ادا کے ساتھ نقل کیا اور یہ سلسلہ اسی طرح ہم تک پہنچا۔

 

ان میں سے ایک حدیث وہ بھی ہے جو محدثین کے ہاں ”مسلسل بیوم عاشورا ء“ کے نام سے مشہور ہے۔یعنی یہ روایت دور اول کے محدث نے دس محرم کے دن اپنے شاگردوں کے سامنے روایت کی اور اس کے بعد یہ روایت بن گئی کہ ہر محدث اسی طرح یوم عاشور کو یہ حدیث آگے روایت کرتا ہے۔پھر اسی مناسبت سے دیگر احادیث مسلسلہ بھی یوم عاشور کو روایت کرنے کا سلسلہ چل نکلا۔

 

شیخ الاسلام مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نے بتایا کہ انہوں نے احادیث مسلسلہ کی اجازت1963ء میں حرم شریف میں شیخ حسن مشاط مالکی سے حاصل کی تھی جو اپنے زمانے بڑے بزرگ محدث تھے۔ بعد میں مکہ مکرمہ کے قریب عتیبیہ میں مقیم انڈونیشائی نژاد محدث شیخ یاسین الفادانی سے بھی اجازت حاصل کی۔ شیخ صاحب بڑے اللہ والے تھے اور ان کو احادیث مسلسلہ کو جمع اور روایت کرنے کا خاص ذوق عطا ہوا تھا۔ مولانا تقی عثمانی صاحب نے یہ دل چسپ واقعہ بھی بتایا کہ حضرت سے احادیث مسلسلہ کی روایت کی عمومی اور خصوصی اجازت حاصل کرنے کے کافی عرصے بعد ایک دفعہ میں جدہ میں ایک فقہی کانفرنس میں شرکت کے لیے گیا ہوا تھا۔ کانفرنس کی کارروائی کے ایام کے بیچ میں ایک دن فارغ ملا تو میں نے سوچا کہ یہ دن حرم شریف میں گزارا جائے۔میں نے مکہ مکرمہ میں اپنے کسی جاننے والے کو اس کی اطلاع نہیں کی تاکہ یکسوئی کے ساتھ عبادت کی جاسکے۔مگر جب حرم سے ظہر کی نماز پڑھ کر کھانے کے لیے باہر آنے لگا تو شیخ یاسین الفادانی کی مجلس کا ایک ساتھی سیڑھیوں پر منتظر ملا جس کو میں جانتا تھا اور اس نے کہا کہ شیخ صاحب نے آپ کو بلایا ہے اور آپ کو لینے کے لیے گاڑی بھیجی ہے۔ میں حیران ہوا کہ شیخ یاسین الفادانی کو میری یہاں موجودگی کی کیسے اطلاع ہوگئی۔میں شیخ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے کہا کہ”میاں تم چھپ چھپ کر آتے جاتے ہو،ہمیں خبر ہی نہیں کرتے؟“میں نے اس پر معذرت کرتے ہوئے سوال کیا کہ حضرت کو کس نے اطلاع دی؟ انہوں نے فرمایا کہ اس بات کو چھوڑیے کہ ہمیں کیسے اطلاع ہوئی،ہم نے آپ کو اس لیے زحمت دی کہ احادیث مسلسلہ میں ایک حدیث وہ بھی ہے جو”مسلسل بیوم عاشوراء“ کہلاتی ہے۔ آج عاشوراء بھی ہے اور آپ یہاں موجود ہیں تو لایئے اس کی بھی روایت ہم سے لے لیجیے۔ مولانا تقی صاحب نے بتایا کہ وہ آج تک اس معما کو حل نہیں کرسکے کہ شیخ یاسین الفادانی کو ان کی مکہ آمد کی اطلاع کیسے ملی تھی تاہم شیخ نے اس اہتمام کے ساتھ انہیں احادیث مسلسلہ کی اجازت مرحمت فرمائی تھی اور وصیت فرمائی تھی کہ آپ نے اس مبارک تسلسل کو آگے چلانا ہے، انہی کے حکم کی تعمیل میں ہر سال درس مسلسلات کی یہ مجلس منعقد کی جاتی ہے۔

 

احادیث مسلسلہ کے بیان کے ضمن میں خاص طور پر یوم عاشور کی مناسبت سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ ارشاد بھی نقل کیا جاتا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو درود شریف کے پانچ صیغے سکھائے تھے۔ہر صیغہ سکھاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک انگلیوں سے گنتی کی ایک گرہ لگائی تھی اور آخر میں مٹھی کا نشان بن گیا تھا۔ یوم عاشور کو اس حدیث کی روایت اور آپ ؐ کے عمل مبارک کی متابعت میں انگلیوں کی گرہیں لگا لگاکر حدیث پڑھنے سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ ؐ کی آل پر درودو سلام کا بھی خود بخود اہتمام ہوجاتا ہے۔

 

اللہ تعالیٰ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کو سلامت رکھیں اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھیں کہ ان کے دم سے آج کے اس پر فتن دور میں بھی روایت و درایت کی شمعیں روشن اور علم و معرفت کی مجلسیں آباد ہیں۔ این دعا از من و جملہ مومنین آمین باد!

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
91125

لاسپور ویلی کی معروف سیاسی وسماجی شخصیت سہروردی یفتالی دوست واحباب کے ساتھ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی

Posted on

لاسپور ویلی کی معروف سیاسی وسماجی شخصیت سہروردی یفتالی دوست واحباب کے ساتھ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی

اپر چترال (چترال ٹائمزرپورت ) لاسپور ویلی کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت اور بابائے لاسپور کے فررزند ارجمند سہروردی یفتالی نے درجنوں خاندانوں کے ہمراہ پیپلز پارٹی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرلی ۔ ہرچین لاسپورمیں منعقدہ شمولیتی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی نائب صدرسلیم خان، صدرمحفل ضلعی صدراپرچترال سیدشیرحسین تھے۔ سہروردی خان پیشے کے لحاظ سے درس تدریس سے منسلک رہے ہیں ، ریٹاریرڈ منٹ کے بعد وہ باقاعدہ طور پر عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا، سال 2022 میں بلدیاتی الیکشن میں وہ آزاد اُمیدوار کے طور پر تحصیل چیرمین شب کے لئے انتخابات میں حصہ لیا اور اپنے پہلے ہی سیاسی اکھاڑے میں شاندار مقابلہ کیا ۔وہ آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے بلدیاتی الیکشن میں 6300 ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔سہروردی یفتالیٰ نے اپنے رہائش گاہ میں واقع شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیااورجانوں کا نذرانے دے کر ملک کی بقاء اور سا لمیت اور جمہوریت کوبچایا۔سہروردی نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے جس کا منشور اور پروگرام صرف اور صرف غریب عوام کے لئے ہے۔انہوں کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے جوہمیشہ عوامی مسائل کوترجیحی بنیاوں پرحل کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی پاکستان میں جمہوریت کی بقا کے لئے کی گئی اس خاندان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ملک میں ہم سب سیاسی جماعتوں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، خاص کر چترال میں تمام سیاسی جماعتیں ملکر چترال کی ترقی کے لئے کوشان ہیں۔ہم سب ملکر چترال کی ترقی کے لئے جمہوری طرز میں اپنی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

 

اس موقع پرصوبائی نائب صدر سلیم خان نے نئے شامل ہونے والے تمام ساتھیوں کومبارک پیش کرتے ہوئے ہارپہناکرانہیں خوش آمدیدکیا۔سلیم خان نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ غریبوں کے حقوق کی جنگ لڑی آئی ہے جس کیلئے بحیثیت ایک سیاسی ورکر آپ کوہماراساتھ دیناہوگا،نوجوانوں کوباعزت روزگارکے مواقع فراہم کرناپیپلزپارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے شہیدذوالفقارعلی بھٹو اورشہیدمحترمہ بے نظیربھٹو نے ملک اوراسکے عوام کی خاطرنہ صرف اذیتیں برداشت کیں بلکہ جان کے نذرانے پیش کرکے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیاانکایہ مشن پارٹی ہرورکرکے لئے مشتعل راہ ہے۔سلیم خان نے کہاکہ پی پی پی ہمیشہ چترال کو اولین درجہ دیتا آیا ہے اور چترال میں جتنے بھی بڑے منصوبے اور ترقیاتی کام ہوئے ہیں یہ سب پی پی پی کے دورِ حکومت کے ہیں۔ پی پی پی غریبوں کی پارٹی اور آواز ہے اور ہمیشہ جمہوریت کے لیے کام کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہ واحد سیاسی پارٹی ہے جس میں عام ورکر کو عزت دی جاتی ہے۔

 

اس شمولیتی تقریب میں پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی نائب صدر سابق صوبائی وزیر سلیم خان، ضلعی صدر اپر چترال سیدشیر حسین ،پاکستان پیپلز پارٹی یوتھ ونگ ملاکنڈ ڈویژن کے زاہد عزیز،مستنصرالدین سابق امیدوارتحصیل چیئرمین تورکہوموڑکہو،سابق امیدوار پی پی پی اپرچترال سراج علی خان ایڈوکیٹ ،سابق ضلعی صدراپرچترال حاکم افضل قباد ،انفارمیشن سیکرٹری پی پی پی اپر چترال قاضی علی مراد ،ضلعی نائب صدر لوئر چترال بشیر احمد ، سابق ناظم محمد قیوم شاہ ، معروف شخصیت حاجی مراد خان ،سلطنت جان ،اور پارٹی کے دریرنہ و پرانے کارکنان، پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان قیادت ، اور وادی لاسپور کے قائدین بھی موجودتھے۔اس موقع پرمعروف سماجی وسیاسی شخصیت امیراللہ یفتالیٰ نے مہمانوں کاشکریہ اداکیااورپی پی پی میں شامل ہونے والے قافلے کومبارک باددی۔

 

 

اس شمولیتی پروگرام میں وادی لاسپور کے نامور نامی گرامی سیاسی و سماجی شخصیات سمیت نوجوان سورلاسپور سے لے کر گشٹ ،رامان ،بالیم ،بروک ،ہرچین پھورت کے عوام نے سہروردی خان کیساتھ پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ، معروف سیاسی شخصیت اجدر خان بالیم،شاہ خان قریشی سورلاسپور،ریٹایرڈ صوبیدار محمد نادر سورلاسپور،حیدر خان بالیم،میرزہ ولی بالیم،گل محمد بالیم، شیر حوس بالیم،فرمان مد د بروک،وزیر عالم بروک ،غلام حیدر خان رامان،حاصل مراد خان رامان،ریٹاریرڈ حوالدار وزیر خان رامان،ابراہیم خان رامان،آفسر خان بابا ہرچین،مقبول علی شاہ،نور علی خان ،رحمت خان،سردار خان،مجیب عالم ،جہانگر خان، پولو کے نامور کھلاڑی میر سلیم خان المعروف پہلوان، رامان سےسابق کونسلر و سیاسی شخصیت عبدلکریم ، ان کے فرزند ارجمند عبداللہ جان، پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے معروف شخصیات حوالدار زرگر خان ،سرفراز خان نے باقاعدہ طور پر شمولیت اختیار کی۔ نظامت کی فرائض (ر)صوبیدارنیت والی انجام دے رہے تھے۔

chitraltimes ppp laspur harchin soharwarde joined ppp 2

chitraltimes ppp laspur harchin soharwarde joined ppp 3

chitraltimes ppp laspur harchin soharwarde joined ppp 1 chitraltimes ppp laspur harchin soharwarde joined ppp 6 chitraltimes ppp laspur harchin soharwarde joined ppp 4 chitraltimes soharwarde yaftali joined ppp 2

chitraltimes ppp laspur harchin soharwarde joined ppp 5

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
91109

مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ، ن لیگ کی اراکین نے نظرثانی اپیل دائر کردی

Posted on

مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ، ن لیگ کی اراکین نے نظرثانی اپیل دائر کردی

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر ن لیگ کی 3 خواتین ارکان نے نظرثانی اپیل دائر کردی۔سپریم کورٹ میں ن لیگ کی جانب سے نظرثانی اپیل ہما اختر چغتائی، ماہ جبین عباسی اور سیدہ آمنہ بتول نے دائر کی۔ نظرثانی اپیل میں سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر دائر کی گئی نظر ثانی اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کا مخصوص نشستوں کیلئے فہرست جمع نہ کرانا تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ پورا کیس سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق تھا۔ اپنی مرضی سے سنی اتحاد کونسل میں جانے والے 41 ارکان کو پارٹی تبدیل کرنے کیلئے 15 دن دینا آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ قانون میں طے کردہ اصول سے ہٹ کر نیا طریقہ نہیں اپنایا جا سکتا ہے۔ اکثریتی فیصلہ آئین کے تحت نہیں ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ 12 جولائی کے مختصر اکثریتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

 

چیف الیکشن کمشنر، ارکان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

اسلام آباد(سی ایم لنکس)چیف الیکشن کمشنر اورالیکشن کمیشن کے ارکان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کردی گئی۔ذرائع کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کے خلاف شکایت حلیم عادل شیخ، جسٹس (ر) نورالحق قریشی اور شبیر احمد نے مشترکا طور پر دائرکی۔ شکایت بذریعہ ڈاک بھجوائی گئی۔شکایت میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے۔ انکوائری میں الزامات ثابت ہونے پر چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی برطرفی کی سفارش کی جائے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91105

وزیراعلیٰ بنوں انتظامیہ اور ذمہ داران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، صوبائی حکومت کے بروقت اقدامات کی بدولت صورتحال قابو میں ہے۔ بریسٹر ڈاکٹر سیف

وزیراعلیٰ بنوں انتظامیہ اور ذمہ داران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، صوبائی حکومت کے بروقت اقدامات کی بدولت صورتحال قابو میں ہے۔ بریسٹر ڈاکٹر سیف

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بنوں صورتحال کی خود نگرانی کررہے ہیں، وزیراعلیٰ بنوں انتظامیہ اور ذمہ داران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، صوبائی حکومت کے بروقت اقدامات کی بدولت صورتحال قابو میں ہے، افسوسناک واقعہ کے فوری بعد وزیر اعلیٰ کے حکم پر ضلعی انتظامیہ، سیاسی اور سماجی عمائدین پر مشتمل جرگہ تشکیل دیا گیا تھا، جرگے کی تشکیل کے بعد صورتحال قابو میں لائی گئی اور امن بحال ہوا، جرگے نے امن کی بحالی میں قابل تحسین کردار ادا کیا،جرگے کی کوششوں سے صورتحال مکمل طور پر پرامن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ سیاسی و سماجی عمائدین اور انتظامیہ پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی جا رہی ہے۔، کمیٹی دیرپا امن اور آئندہ ایسے واقعات کے تدارک کے لئے ٹھوس اقدامات پر مبنی لائحہ عمل تیار کرے گی، امن و امان کے معاملے میں عوام کی مشاورت سے تمام اقدامات کئے جائینگے،

 

وزیراعلیٰ نے واقعہ کی شفاف تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا بھی اعلان کیا ہے، کمیشن شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کریگا، رپورٹ کو پبلک کیا جائیگا اور ذمہ داران کے کردار کا تعین کرکے قانونی کاروائی کی جائیگی، بدقسمتی سے ناخوشگور واقعہ بنوں کینٹ میں گذشتہ دنوں خودکش دھماکے والی حساس جگہ پر رونما ہوا، حساس مقامات پر عموماً سیکورٹی ہائی الرٹ رہتی ہے، خودکش حملے میں فوجی جوان اور شہری شہید ہوئے تھے، اس مقام کی حساس نوعیت بھی کل کے ناخوشگوار واقعہ کی ایک وجہ بنی، موجودہ دہشت گردی کی لہر کے پیش نظر عوام سے انتہائی احتیاط سے کام لینے کی درخواست ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عوام دشمن عناصر حالات خراب کرنے کی تاک میں بیٹھے ہیں،ملک دشمن عناصر کو امن خراب کرنے کا موقع نہیں دینا چاہئے، کمیشن کی رپورٹ میں ذمہ داروں کی نشاندہی ہوجائیگی۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ سے قبل افواہوں اور بلا تصدیق الزامات سے اجتناب کرنا چاہیئے، اس سلسلے میں عوام سے پرامن رہنے اور کسی قسم کے منفی پروپیگنڈے سے محتاط رہنے کی درخواست ہے۔مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ بلا تصدیق بیانات ااور الزامات سے گریز اور منفی افواہوں کے خطرے سے آگاہ رہنا چاہئے،جذبات میں ملک اور عوام دشمن عناصر کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
91103

ہمارے یونیورسٹیوں کو ایسے کورسز اور ڈگری پروگرام کے آغاز کے ساتھ عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق درست تربیت کا عمل شروع کرنا ہو گا۔ گورنرخیبرپختونخوافیصل کریم کنڈی

Posted on

ہمارے یونیورسٹیوں کو ایسے کورسز اور ڈگری پروگرام کے آغاز کے ساتھ عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق درست تربیت کا عمل شروع کرنا ہو گا۔ گورنرخیبرپختونخوافیصل کریم کنڈی

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ صوبہ کے ہونہار، قابل ہنرمند نوجوانوں، خواتین کو بیرون ممالک ملازمت کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں، ہمارا صوبہ نامساعد حالات سے گزرا ہے، یہاں کے نوجوانوں، خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے اسکلڈ پروگرام پر زیادہ توجہ دینی ہوگی،یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نیوٹیک، GIZ کے ساتھ ملکر مشترکہ اقدامات سے قابل، ہنرمند طلبہ کو ملازمتیں فراہم کر سکتے ہیں،بیرون ممالک ہنرمند افرادی قوت کی ڈیمانڈ زیادہ ہے جس کیلئے یونیورسٹیوں کو ایسے کورسز اور ڈگری پروگرام کے آغاز کے ساتھ عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق درست تربیت کا عمل شروع کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے ہفتہ کے روز گورنرہاوس پشاور میں پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز, جرمن ترقیاتی ادارے GIZ اور NAVTTC کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل نیوٹک عرفان یوسفزئی، جرمن ترقیاتی ادارے GIZ سے طاہر خان، قمر صدیق، قیصر خان اور صوبہ کی 34 پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز،پاک آسٹریا فخاشولے انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈسائنسز اینڈٹیکنالوجی ہری پور کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹرمحمدمجاہداور آئی ایم سائنسز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عثمان غنی بھی شریک تھے۔

 

اجلاس میں جرمن ترقیاتی ادارے GIZ کیجانب سے یورپین ممالک میں ہنرمند افرادی قوت کی ڈیمانڈ، جرمنی میں اسکلڈ امیگریشن، ویزا کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ یورپین ممالک میں آئی ٹی، شعبہ طب میں ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس سمیت دیگر شعبوں میں 70 لاکھ ہنرمند افراد کی ضرورت ہے۔اجلاس کو GIZ کیجانب سے جرمن تعلیمی اداروں میں جرمن اسکالرشپس پروگرامز سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو GIZ کیجانب سے بتایا گیا کہ جرمنی میں امیگریشن ویزا کے حصول کیلئے جرمن زبان سیکھنا لازمی ہے جس کیلئے جرمن زبان کے کورسز کرائے جا رہے ہیں۔اجلاس کو بتایاگیاکہ یونیورسٹیوں میں کیرئیر کونسلنگ کے ذریعے نوجوانوں کو بیرون ممالک بالخصوص یورپین ممالک میں قانونی درست طریقہ سے روزگار کے مواقع سے متعلق آگاہی فراہم کرنیکی ضرورت ہے۔

 

اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئیگورنرفیصل کریم کنڈی نے کہاکہ صوبے کی پبلک سیکٹریونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز, نیوٹیک اور GIZ کے مابین مشاورتی اجلاس کا مقصد نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع تلاش کرنا ہے، وزیر اعظم کیجانب سے فنی تعلیم پروگرام کیلئے 4 سے 20 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، ہنرمند پروگرام میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے نوجوانوں، خواتین پر زیادہ فوکس دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جرمن زبان سیکھنے کیلئے خیبرپختونخوا سمیت تمام صوبوں میں سنٹرز قائم ہونے چاہئیں، صوبہ کی یونیورسٹیوں کو امیگریشن ویزا کے حصول اور ڈگریوں کی آسان تصدیقی عمل کیلئے جرمن تسلیم شدہ اداروں میں شامل کیا جائے،گورنرنے وائس چانسلر پر زوردیا کہ یونیورسٹیوں کو چاہئے کہ GIZ اور نیوٹیک کے ساتھ ملکر عالمی تقاضوں کے مطابق نوجوانوں نسل تیار کرے، ہمارے نوجوان کمال صلاحیت رکھتے ہیں لیکن درست تربیت و رہنمائی نہ ہونے کے باعث بیروزگار گھوم رہے ہیں۔

 

 

 

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا وزارت اطلاعات حکومت پاکستان کے سینئر افیسر پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن کے والد کے نماز جنازہ میں شرکت اور تعزیت

ہپشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن کالونی پشاورمیں وزارت اطلاعات حکومت پاکستان کے سینئر افسر پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن کے والد کے نماز جنازہ میں شرکت کی۔گورنر نے نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مبشر خان سے انکے والد کی وفات پر اظہار تعزیت کیا، انہوں نے مرحوم کے درجات بلندی اور مبشر حسن و دیگر لواحقین کیلئے صبر و جمیل کی دعا کی، نماز جنازہ میں سرکاری، سماجی شخصیات سمیت پشاور کی صحافتی برادری اور عوام علاقہ شریک تھی۔#

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91099

قطب الدین ایبک غلامی سے حکمرانی تک – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

قطب الدین ایبک غلامی سے حکمرانی تک – میری بات:روہیل اکبر

 

میو ہسپتال لاہور سے انارکلی کی طرف جائیں تو راستے میں ایبک روڈ آتا ہے جہاں دنیا کا عظیم حکمران آسودہ خاک ہے جو ہم جیسے غلاموں کے لیے ایک مثال بھی ہے اور اس مثال کا عملی نمونہ بھی کہ انسان کوشش اور محنت سے غلامی کی زنجیریں توڑ کر دنیا کو حیرت میں ڈال سکتا ہے سلطان قطب الدین ایبک 1150ء میں ترکستان (ترک، ترکی پھر ترکیہ) کے غریب گھر میں پیدا ہوئے جنکا تعلق قطب کے گھرانے کا ایک غلاموں پر مشتمل “ایبک” نامی قبیلے سے تھا وہ دور جہالت تھااور قطب الدین کا ابھی لڑکپن ہی تھا والدین پر غریبی کا سایہ تھا جنہوں نے اپنے لخت جگر کو اپنے سے جدا کر کے نشاپور میں لگنے والی غلاموں کی منڈی میں بولی لگا کر اسے بیچ ڈالاجسے فخرالدین عبد العزیز کوفی، قاضی، تاجر اور ابوحنیفہ کی اولاد میں سے ایک نے خرید لیا گھر پہنچ کر قاضی نے بچے سے اس کا نام پوچھاتو کمسن غلام نے نام بتانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر نام بتا دیا تو یہ میرے نام کی توہین ہو گی

 

اب آپ کا غلام ہوں جس نام سے پکاریں گے وہی میرا نام ہو گا قاضی کو بچے سے ایسے جواب کی امید نہیں تھی حیرت ہوئی اور اس کا جواب اچھا لگا کہ ابھی بچہ ہے غلام ہے اورعزت نفس کا کتنا خیال رکھتا ہے رحمدل قاضی نے مشقت لینے کی بجاے اس کی اچھی تربیت، تعلیم اور پرورش کرنے کا فیصلہ کیا اور چھوٹے غلام پر خاص توجہ دی بچہ شروع سے ہی بہادر تھا جنگجوانہ مشاغل کھیلنے سے شوق رکھتا بہت کم عرصے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ گھڑ سواری، تلوار، نیزہ بازی اور تیراندازی میں مہارت حاصل کر لی قاضی غلام کی صلاحیتیں دیکھ کر حیران رہ جاتا۔ سلطان شہاب الدین غوری غزنی کا شہنشاہ ایک روز شاہی گھڑ دوڑوں کا مقابلہ دیکھ رہا تھا قاضی غلام کو لے کر سلطان کے پاس پہنچ گیااور کہا سرکار ساری سلطنت میں اس غلام کا گھڑ سواری میں کوئی مقابل نہ ثانی ملے گا سلطان خوبصورت، صحت مند، سانولہ، پرکشش رنگت والے نوجوان غلام کو دیکھ کر مسکرایا جنگلی گھوڑا وحشی تصور کیا جاتا ہے جسے تربیت دینا مشکل ترین کام ہے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غلام سے پوچھا گھوڑے کو کتنا تیز دوڑا سکتے ہو؟

 

غلام نے نہایت ادب کے ساتھ جواب دیا حضورگھوڑے کو تیز دوڑانے میں کوئی مہارت نہیں اصل مہارت اسے اپنا تابع بنانا ہے سلطان نے ستائشگی سے غلام کو دیکھا ایک بہترین گھوڑے کی لگام غلام کے ہاتھ میں تھما دی وہ اچھل کر گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ گیا کچھ دور دوڑا کر واپس لے آیا انتہائی انوکھی بات یہ ہوئی کہ گھوڑا واپسی پر اپنے سْموں کے جن نشانات پر چل کر گیا تھا انہیں قدموں پرواپس لایا یہ سب دیکھنے والوں کے لیے نہایت ناقابل یقین تھا اس سے پہلے ایسی مہارت کبھی کسی میں نہیں دیکھی گئی تھی سلطان غلام کی مہارت سے نہایت متاثر ہوا جو جانور کو اپنا تابع و مطیع بنا سکتا ہے اس کے لیے انسانوں کو فرمانبردار بنانا مشکل نہیں ہو گا سلطان نے اسی وقت غلام کو منہ بولے دام دے کر مصایب خاص میں شامل کر لیا ایک روز سلطان دربار میں بیٹھا خوش ہو کر غلاموں کو تحائف تقسیم کر رہا تھا غلام خاص نے وہ تمام تحائف ضعیف غلاموں میں بانٹ دئیے سلطان یہ دیکھ کر اسے مزید پسند کرتے اعلیٰ ترین عہدے ” امیر خور” پر ترقی دے دی پھر شاہی اصطبل کا سربراہ مقرر کر دیا جہاں سینکڑوں مال بردار اور جنگی تربیت یافتہ گھوڑوں کو ہمہ وقت سلطنت کی حفاظت کرنے کی تربیت دی جاتی تھی

 

غلام نے رفتہ رفتہ قدرت کی عطا کردہ صلاحیتوں کا سکہ سلطان پر بٹھا کر اس کا مزید قرب حاصل کر لیا 1192ء کو سلطان محمد غوری نے دہلی اور اجمیر فتح کیا 42 سالہ غلام کو پہلے یہاں کا گورنر اور پھر شاہی افواج کا سپہ سالار مقرر کر دیا اگلے سال نوجوان غلام سپہ سالار نے سلطان کے حکم پر پڑوسی دشمن قنوج پر چڑھائی کر دی پہلے سے بڑھ کر سپہ گری کا بھرپور مظاہرہ کیا سلطان نے غلام کو اپنا فرزند بنا کر “فرمان فرزندی” کے اختیارات دے دیے اور دو میں سے ایک نایاب ترین قیمتی سفید ہاتھی اسے انعام میں دیا یہ وہ دور تھا جب اسلام اپنے عروج پر اور سارا یورپ جاہلیت کے اندھیروں میں ڈوبا پڑا تھا اسلامی تاریخ کا ایک بہادر غلام سپہ سالار قطب الدین ایبک پھر وہ عظیم حکمران بنا جس نے دہلی فتح کر کے یہاں سب سے پہلی اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی یہاں سے غلام قطب الدین کا ستارہ مزید چمکا اور اس کی افواج گجرات، راجپوتانہ، گنگا جمنا، دوآبہ، بہار اور بنگال میں اسلام کا سبز پرچم لہراتی داخل ہو گئیں 15 مارچ 1206 کو سلطان محمد غوری کو جہلم کے قریب گکھڑ قبیلے کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا ہڑا.

 

غلام پاس نہیں تھا اور سلطان شہاب الدین غوری مارا گیا جسکے بعد 23 جون 1206ء کو لاہور میں قطب الدین ایبک کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا گیا قطب الدین ایبک کی زندگی کا سارا زمانہ فتوحات میں گزرا کبھی شکست نہیں کھائی تخت پر بیٹھ کر سب سے پہلے عظیم ترین سلطنت پر توجہ دی بیشتر وقت نوزائیدہ اسلامی سلطنت کا امن و امان قائم رکھنے میں گزرا عالموں کا قدر دان، فیاضی اور داد و درویشی سے تاریخ میں “لکھ بخش” کے نام سے مشہور ہوا۔یکم نومبر 1219 لاہور میں چوگان (پولو) کھیلتے گھوڑے سے گر کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور پھر انہیں انار کلی بازار لاہور کے ایک کوچے ایبک میں دفنا دیا گیا جو اب ایبک روڈ کہلاتا ہے۔قطب الدین ایبک کے مزار کے باہر اب قبضہ گروپوں کا راج ہے اور مزار کا احاطہ بھی اتنا شاندار نہیں جتنا ہونا چاہیے قطب الدین ایبک آج بھی اپنے مزار سے ہم جیسے غلاموں کو دیکھ رہا ہوگا جو آزاد ہوتے ہوئے بھی غلامی کا طوق اپنے گلے میں پہنے ہوئے ایدھر سے اودھر گھوم پھر رہے ہیں اور ہم اپنی غلامی پر اس قدر خوش ہیں کہ آزاد ہونے کا نام لینا بھی توہین سمجھتے ہیں ایک وہ غلام تھا جس نے اپنی غلامی کو بہادری،جرات اور ہمت سے حکمرانی میں تبدیل کردیا اور ایک ہم ہیں کہ جو غلام در غلام بنے ہوئے ہیں کاش آج کے اس دور میں بھی کوئی غلام قطب الدین ایبک کی طرح اپنے غلامی کو مات دیکر ہمیں آزادی کی نعمت سے مالا مال کردے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
91097

داد بیداد ۔ فلسفی اور قانون دان ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ فلسفی اور قانون دان ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

عصمت عیسیٰ ایڈوکیٹ کی وفات سے ہمار صو بہ ایک عالم، فلسفی اور قانون دان سے محروم ہو گیا مر حوم کو عربی، انگریزی اور فارسی پر عبور حاصل تھا، وہ مشہور حریت پسند رہنما انیسویں صدی کے چھا پہ مار جنگجو اور شمشیر زن محمد عیسیٰ کے پڑ پوتے تھے ضلع چترال بالا کے تاریخی گاوں اجنو کے بائیکے قبیلے میں استاذ الاساتذہ مصطفیٰ کما ل کے گھر 1950ء میں پیدا ہوئے اسلا میہ کا لج پشاور سے گریجو یشن کے بعد خیبر لا ء کا لج پشاور یو نیور سٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری لی، سرکاری مقدمات کی پیروی کرنے والے پرا سیکیو شن برانج میں ملا زمت اختیار کی اور پبلک پرا سیکیو ٹر کی حیثیت سے ریٹائر منٹ لے لی، انشا اللہ خان انشاء کے سوانح نگا ر نے لکھا ہے کہ ان کی نثر نگا ری کو شاعری نے سر اٹھا نے نہیں دیا اور ان کی شاعری کو نواب سعادت حسین خان کے در بار نے نگل لیا، یوں ان کا علم و فضل اشکار نہ ہو سکا،

chitraltimes azmat issa dpp late

عصمت عیسیٰ کے ساتھ بھی ایسا ہی سانحہ ہوا، سرکاری دفتر کے مقدمات کی بھول بھلیاں، فوجداری عدالتوں میں پے درپے پیشیاں اور مکھی پر مکھی مارنے کی دفتری روایت نے انہیں سر اٹھا نے نہیں دیا جب بھی ملتے کسی اہم کتاب کے مطا لعے کا حال بتا تے اور کہتے ریٹائر منٹ کے بعد چار مو ضو عات پر لکھو ں گا اور جم کر لکھوں گا، ابن تیمیہ اور مو لانا مو دودی کے افکار کا موا زنہ ان کا پسند یدہ مو ضوع تھا اسلا می فقہ میں شہادت اور جر ح و تعدیل کے ضوا بط ان کا دوسرا مو ضو ع تھا، انگریزوں کی غلا می کے سما جی اور سیا سی اثرات پر وہ کام کر رہے تھے اسی طرح فتاوائے عالمگیری کی روشنی میں دور حا ضر کے معا شرتی مسائل کی گتھیاں سلجھا نے میں ان کی عرق ریزی بے مثال تھی،

 

ریٹائر منٹ کے بعد مختلف بیماریوں نے ان کے گھر کا راستہ ڈھونڈ لیا، بیماریوں کو دور کرنے کے لئے انہوں نے قانون کی باقاعدہ پریکٹس شروع کی تو مقدمات کی اتنی بھر مار ہوئی کہ سر کاری ملا زمت سے زیا دہ مصروف رہے، قلم کا غذ، کمپیو ٹر اور لائبریری سے رشتہ جوڑ نے والے تھے کہ داعی اجل کا پیغام آیا نظیر اکبر ابادی نے کہا تھا ”سب ٹھاٹھ پڑا رہ جا ئے گا جب لادچلے گا بنجا رہ“ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے میں نے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچا نا بڑے لو گوں کے ساتھ ایسا ہی المیہ ہو تا ہے ان کے ساتھ میری پہلی ملا قات 1969ء میں ہوئی تھی جب میں اینگلوور نیکلر ہائی سکول چترال میں دسویں جما عت کا طا لب علم تھا ہمارے سکول کے تین کمروں میں انٹر میڈیٹ کا لج قائم ہوا تو عصمت عیسیٰ فرسٹ میں داخل ہوئے سیداحمد خان ان کے بڑے بھا ئی تھے تاہم سکول اور کا لج میں دونوں ہم جما عت تھے،

 

عصمت عیسیٰ ہم نصا بی سر گرمیوں اور تقریری مقا بلوں میں نما یاں مقام رکھتے تھے، اسلا میہ کا لج گئے تو اسلا می جمعیتہ طلبہ کے سر گرم کار کن بنے، ہم نے انہیں پر جو ش نعرے لگا تے ہوئے سنا، جو کام بھی کر تے پورے جو ش و خروش کے ساتھ دل لگا کر انجا م دیتے تھے اور یہ وصف ان کے پڑ دادا محمد عیسیٰ سے وراثت میں ملا تھا محمد عیسیٰ کا نا م شجا عت اور بہا دری میں ضر ب المثل کا در جہ رکھتا ہے چترال اور غذر میں بہادر اور نڈر بچے کو شیر نہیں کہتے ”محمد عیسیٰ“ کہتے ہیں، کا بل کے امیر شیر علی خان کو قند ھار کی مہم پیش آئی تو محمد عیسیٰ کو اپنے لشکر کے قلب میں رکھا میمنہ کے میدان میں انہوں نے بہا دری کے جو ہر دکھا ئے ان کا بڑا کمال یہ تھا کہ وہ تلوار چلا تے تو ان کی آنکھ نہ جھپکتی یہ خصوصیت بڑے بڑے سور ما وں میں ہوا کرتی تھی 1895ء میں چترال انگریزوں کی کا لونی میں شامل ہوا تو ان کے ساتھی جنگجو گرفتار ہو ئے،

 

 

محمد عیسیٰ نے جلا وطنی اختیار کی دیا مر میں بقیہ زند گی آزاد سانس لیتے ہوئے گذاری اور وہیں مدفون ہوئے عصمت عیسیٰ مر حوم غیر ت اور خو داری کے پیکر تھے، مو لانا شبلی نعما نی اور علا مہ اقبال کے ہاں خودی کے جو تصورات ہیں، ان تصورات کو عزیز رکھتے تھے وہ کہا کر تے تھے کہ علا مہ اقبال کا شا ہین میرے پڑ دادا کے کر دار کی عکا سی کر تا ہے علا مہ اقبال کا شعر اکثر دہرا تے ”غیر ت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں، پہنا تی ہے درویش کو تاج سر دارا“ رمضا ن المبارک کے آخری عشرے میں مر ض المو ت کا حملہ ہوا ساڑھے تین ما ہ صاحب فراش رہنے کے بعد 19جو لائی 2024ء کو 74سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا، بیماری کے دوران جب بھی مجتبیٰ کمال اور صلا ح الدین سے بات ہو ئی ان کی قوت ارا دی کا تذکرہ ہوا ان کی موت نے ایک علمی شخصیت کو ہم سے چھین لیا، اللہ پا ک ان کی روح پُر فتوح کو جنت کی آسائشیں اور راحتیں نصیب کرے (آ مین)

 

chitraltimes chitral police lower workshop azmat issa

 

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
91094

انتقال پرملال، سابق ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عظمت عیسیٰ انتقال کرگئے

Posted on

انتقال پرملال، سابق ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عظمت عیسیٰ انتقال کرگئے

چترال کی معروف شخصیت اور سابق ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عظمت عیسیٰ پشاور میں انتقال کرگئے ہیں، وہ کچھ عرصے سے علیل تھے، انھیں پشاور سے چترال پہنچا کر آبائی قبرستان اُجنوتورکہو میں سپردخا ک کردیا جائیگا، انکی نماز جنازہ آج 20جولائی بروز ہفتہ  بعد از نماز ظہر (1:00بجے)شاہی مسجد چترال میں اداکی جائیگی۔ تمام دوست و احباب سے دعاوں کی اپیل

 

 

سوگواراں
سابق ایم پی اے و ضلعی صدر پاکستان مسلم لیگ سید احمد خان
محمود عیسی ٰ ، احمد عیسی خان ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر ، عمر عیسیٰ خان
احمد موسی خان ، مجتبی کمال سول جج سوات ، مصطفیٰ ہیڈ ماسٹر
محمد خالد ڈی پی او ہنگو ، بشارت احمد جوائنٹ سیکریٹری کمیونیکشن اسلام آباد
ڈاکٹر عدنان ودیگر

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں
91090

35 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ٹیکسز شامل نہیں، اویس لغاری

Posted on

35 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ٹیکسز شامل نہیں، اویس لغاری

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ35 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت ہے جس میں ٹیکسز شامل نہیں ہیں، جنوری میں بجلی کی قیمت میں 3 سے 5 فیصد کمی آنا شروع ہو جائے گی۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کی پیداواری قیمت 8 سے 10 روپے فی یونٹ ہے، بجلی کے ترسیلی نظام کے چارجز فی یونٹ ڈیڑھ سے 2 روپے ہیں جبکہ ڈسکوز کے اخراجات فی یونٹ 5 روپے پڑتے ہیں۔اویس لغاری نے کہا کہ سب سے بڑا خرچہ 18 روپے فی یونٹ کیپسٹی چارجز کا ہے، کیپسٹی چارجز وہ خرچہ ہوتے ہیں جو حکومت قرضہ لے کر پلانٹس لگاتی ہے یا نجی سیکٹر بجلی گھر بناتے ہیں، بجلی کے ریٹ بڑھنے سے بجلی کے استعمال میں کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ساہیوال کول پلانٹ کے 2015ء میں کیپسٹی چارجز 3 روپے فی یونٹ تھے، ڈالر کی قیمت بڑھنے اور شرح سود 22 فیصد تک آنے کی وجہ سے کیپسٹی چارجز بڑھ گئے۔اویس لغاری نے کہا کہ ڈالر کی قیمت اور شرح سود بڑھنے سے ساہیوال کول پلانٹ کے کیپسٹی چارجز 11.45 روپے فی یونٹ ہوگئے،

 

اس وقت توانائی سیکٹر کے قرضوں کا بوجھ بجلی صارفین سے لیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ان پلانٹس کو چلائیں گے تو وہ آپ کو تیل کا خرچہ لگا کر آپ سے پیسے لیں گے، اگر پلانٹس کو نہیں چلائیں گے تو بھی وہ ان پلانٹس کی مد میں اپنا سرمایہ لگانے اور منافع کے پیسے آپ سے لیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پلانٹس پر درآمد شدہ کوئلہ کے استعمال کے بجائے مقامی کوئلے کو استعمال کیا جائے تو فی یونٹ دو ڈھائی روپے کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ بند پلانٹس پر ساڑھے سات ارب روپے کی تنخواہیں دی جارہی ہیں، ڈسٹریبویشن کمپنیوں کا 550 سے 600 ارب روپے سالانہ خسارہ ہے۔اویس لغاری نے کہا کہ اگلے دو سے تین سال میں ٹرائبل ایریا اور بلوچستان کے علاوہ دیگر تمام ڈسکوز کو نجی سیکٹر کو دیں گے، ہر سال مہنگائی اور شرح سود کی وجہ سے بجلی کے ریٹ میں ردوبدل ہوتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پچھلے ہفتے بجلی کی قیمت میں 7 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا، 2019ء کے بعد حکومت نے بجلی کی قیمت مصنوعی طور پر بڑھنے نہیں دی، ماضی کی حکومت نے اپنے سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے بجلی کی قیمت نہیں بڑھائی۔اویس لغاری نے یہ بھی کہا کہ بجلی کی قیمت میں حالیہ اضافہ تین سے چار سال بعد ہوا ہے، بجلی کی فی یونٹ قیمت ہر سال آہستہ آہستہ بڑھنی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ مہنگے پلانٹس سستے پلانٹس سے پہلے چلتے ہیں، آج بھی ہرماہ اربوں روپے کی مہنگی بجلی سسٹم میں شامل کرتے ہیں اور سستے پلانٹس استعمال نہیں کرسکتے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سستے پلانٹس استعمال نہ کرنے کی وجہ نارتھ ساؤتھ ٹرانسمیشن لائن میں مخصوص حد سے آگے جانے کی کیپسٹی نہیں ہے۔

 

مذکرات کامیاب، ٹی ایل پی نے فیض آباد دھرنا ختم کردیا

راولپنڈی(سی ایم لنکس)فیض آباد پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا دھرنا ختم کرنے کیلیے حکومتی ٹیم اور دھرنا انتطامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ اور وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے ٹی ایل پی رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ حکومت فلسطینیوں کی مدد کیلئے کوششوں میں اضافہ کرے گی، ٹی ایل پی کے دوست بھی حکومتی کوششوں میں معاونت کریں گے۔مشیر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ایسی مصنوعات کو روکے گی جو اسرائیلی مظالم کی مدد گار ہیں، اسرائیلی مظالم میں شامل دنیا کی ہر طاقت کی مذمت کرتے ہیں، ٹی ایل پی کے شکر گزار ہیں انہوں نے اس اہم مسئلے سے آگاہ کیا۔تحریک لبیک اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات کرنے والوں میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ، آئی جی اسلام آباد اور اسلام آباد کی انتظامیہ شامل تھی۔اس مذاکرات کے حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق تحریک لبیک کی مذاکراتی ٹیم نے حکومتی وفد کے ساتھ مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا، مذاکرات کا یہ پہلا دور گزشتہ روز جمعرات کو ہوا تھا۔

 

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91087

الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کا فیصلہ

Posted on

الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کا فیصلہ

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)الیکشن کمیشن نے خصوصی نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق الیکشن کمیشن کا کل اور آج سپریم کورٹ کے حکم پر عملد رآمد کے سلسلے میں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ عملدرآمد کے حوالے کسی قسم کی مشکل ہو تو مزید رہنمائی کے لیے فوری طورپر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی پارٹی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کو مسلسل بے جا تنقید کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے تنقید کو مسترد کردیا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ کمیشن سیاستعفیٰ دینے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے۔کمیشن کسی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق کام کرتا رہے گا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کسی فیصلے کی غلط تشریح نہیں کی۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن کو درست قرارنہیں دیا۔ جس کے خلاف پی ٹی آئی مختلف فورمز پر گئی لیکن فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔

 

پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن درست نہیں تھے جس کے نتیجے میں الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 215 کے تحت بیٹ کا نشان واپس لیا گیا لہذا الیکشن کمیشن پر الزام تراشی انتہائی نامناسب ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق جن 39 ارکان اسمبلی کو پی ٹی آئی کے ارکان قرار دیا گیا ہے انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی سے اپنی وابستگی ظاہر کی تھی جبکہ کسی بھی پارٹی کا امیدوار ہونے کے لیے پارٹی ٹکٹ اور ڈکلئیریشن ریٹرننگ افسر کے پاس جمع کروانا ضروری ہے جوکہ ان امیدواروں نے جمع نہیں کروایا تھا۔ اس لیے ریٹرننگ افسروں کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ ان کو پی ٹی آئی کا امیدوار تسلیم کرتے۔بیان کے مطابق جن 41 امیدواروں کو آزاد ڈکلئیر کیا گیا ہے انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی کا ذکر کیا اور نہ ہی پارٹی سے وابستگی ظاہر کی اور نہ ہی کسی پارٹی کا ٹکٹ جمع کروایا لہذا ریٹرننگ افسروں نے ان کو آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی۔۔ الیکشن جیتنے کے بعد قانون کے تحت ان ارکان اسمبلی نے رضاکارانہ طور پر سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں آئی۔ سنی اتحاد کونسل کی یہ اپیل مسترد کردی گئی۔ پی ٹی آئی اس کیس میں نہ تو الیکشن کمیشن میں پارٹی تھی اور نہ ہی پشاور ہائی کورٹ کے سامنے پارٹی تھی اور نہ ہی سپریم کورٹ میں پارٹی تھی۔

 

 

تحریک انصاف نے 38 آزاد اراکینِ قومی اسمبلی کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کرا دی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف نے 38 آزاد اراکینِ قومی اسمبلی کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کرا دی۔تحریک انصاف کے نمائندہ نے الیکشن کمیشن میں اراکینِ اسملی کی فہرست جمع کرائی جس کے ساتھ اضافی دستاویز بھی منسلک کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق 3 آزاد ارکان کے بیان حلفی تاحال جمع نہیں کرائے گئے ہیں۔ صاحبزادہ محبوب سلطان، مبین عارف اور ریاض فتیانہ بیرونِ ملک ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان 3 ارکان کے پارٹی وابستگی فارم آج جمع کرا دیں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91085

چترال شہر سمیت گردونواح میں موسلادھار بارش، متعدد مقامات پر ندی نالوں میں طغیانی ، نشیبی علاقے زیر آب آگئے

Posted on

چترال شہر سمیت گردونواح میں موسلادھار بارش، متعدد مقامات پر ندی نالوں میں طغیانی ، نشیبی علاقے زیر آب آگئے

 

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال شہر اور گردونواح میں آج جمعہ کے صبح اچانک موسلادھار بارش ہوئی جس کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورت حال ہے، چترال شہر کے موڑین گول نالہ میں شدید طغیانی کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے ، کئی مکانا ت ، کھڑی فصلوں او رباغات کو نقصان پہنچا،عینی شاہدین کے مطابق چار سال بعد اسی نالہ میں سیلاب آیا۔ اسی طرح دروش اور عشریت کے مختلف مقامات پر سیلاب آنے کے باعث چترال پشاور روڈ بھی متاثر ہوئی ، کئی گھنٹوں بعد ملبہ ہٹاکر روڈ کھول دیا گیا، دروش کے مقام پر کلدام گول اور عشریت براڈام نالہ میں سیلاب آنے سے سڑک کے ساتھ نشیبی مکانا ت کوبھی نقصان پہنچا۔

 

chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 2 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 1 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 2 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 3 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 3 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 4 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 5 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 7 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 8 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 9 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 10 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 11 chitraltimes lower chitral flood selab road block molen gol nala flood chitral town 1

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں
91069

تحصیل کونسل مستوج اور موڑکھؤ تورکھو کا مشترکہ اجلاس، اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار، ایم ،این ۔آر۔  کے مدمیں ریلیز فنڈز کہاں کہاں خرچ ہوئے حساب دیا جائے، مشترکہ اعلامیہ جاری

Posted on

تحصیل کونسل مستوج اور موڑکھؤ تورکھو کا مشترکہ اجلاس، اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار، ایم ،این ۔آر۔  کے مدمیں ریلیز فنڈز کہاں کہاں خرچ ہوئے حساب دیا جائے، مشترکہ اعلامیہ جاری

اپر چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹرزبونی میں مستوج اور موڑکھو تورکھو کے تحصیل چیرمینوں اور ضلع بھر کے 39ویلج کونسلو ں کے چیرمینوں اورمخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے خواتین اور کسان کونسلروں نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے صوبائی حکومت کو آخری الٹی میٹم دی ہے جن میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات،صوابدیدی ترقیاتی فنڈز اور تنخواہوں کی فراہمی شامل ہیں۔ جمعہ کے روز بونی میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے احاطے میں تحصیل کونسل مستوج اور موڑکھو تورکھو کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تحصیل چیرمین مستوج سردار حکیم اور تحصیل چیرمین موڑکھو تورکھو میر جمشید الدین اور کونسل کے اراکین محمد ارشاد، خواجہ خلیل، قاضی احتشام، شیخ عبداللہ، انور ولی خان، اشفاق افضل، عمران علی شاہ اور دوسروں نے اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیاکہ ان کے انتخاب کو دو سال گزر گئے مگر ابھی تک ان کی کوئی حیثیت تسلیم نہیں کی گئی اور نہ ہی سرکاری محکمہ جات میں ان کی بات مانی جارہی ہے اور حکومت کا یہ رویہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ کھلم کھلا مذاق ہے جسے کسی صورت مزید قبول نہیں کیاجائے گا۔

 

انہوں نے کہاکہ یہ انتخابات 2022ء میں خود پی ٹی آئی حکومت نے کرائی تھی اور اب بھی پی ٹی آئی کی حکومت صوبے میں برسراقتدار ہونے کے باوجود تحصیل چیرمین سمیت دوسرے بلدیاتی نمائندوں کو مذاق کا نشانہ بنانا اور انہیں ان کے اختیارات نہ دینا سمجھ سے بالاتربات ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے کے تمام بلدیاتی نمائندے اپنے حقوق کے لئے اکھٹے ہوئے گئے ہیں اور اپر چترال کے نمائندے ان کے ایک کال کے منتظر ہیں جس کے بعد وہ احتجاج کے میدان میں کود پڑنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کریں گے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر واضح کیا کہ ان کے پرامن احتجاج کو اب بھی اگر نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برامد ہوں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اپر چترال کے دونوں تحصیلوں اور 80فیصد سے ذیادہ یونین کونسلوں میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر چیرمین منتخب ہوچکے ہیں۔

 

تحصیل چیرمین مستوج سردار حکیم نے کہاکہ اپر چترال میں ادراہ جاتی بے قاعدہ گیاں عروج پر ہیں۔ رمضان ریلیف یا پیکیج کے نام پر چیرمین ضلعی زکواۃ کے ذریعے تقسیم شدہ چیک میں باقاعدگیوں کے بارے پوچھنے پر نہ معلومات فراہم کی گئی اور نہ معلومات کو عوام کے لیے مشتہر کیا جاتا ہے اس طرح ایم اینڈ ار،ایمرجنسی وغیرہ فنڈز میں شفافیت کے بارے بھی شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں،پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے کی طرف سے متاثرین میں تقسیم شدہ ریلیف چیک کے بارے معلومات فراہم نہ کیا جانا کارکردگی اور شفافیت میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔سردار حکیم نے مزید بتایا کہ معلومات حاصل کرنے کے لیے کوشش کی گئی،درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی انہوں نے مطالبہ کیا کہ ادارے اگر شفاف ہیں تو معلومات فراہم کرنے سے گریزان کیوں ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع بننے کے بعد اگرچہ اکثر ادارے قائم ہوچکے ہیں ان کے سربراہاں موجود ہیں لیکن محکمہ ایریگشن کا دفتر ہی قائم نہیں ہوسکا ہے اس طرح وئلڈ لائف، لائیو اسٹاک،زکواۃ آفس اور محکمہ زراغت بیغیر سربراہ کے موجود ہیں۔اس بنا ان محکموں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے مطالبہ کیا کہ ان محکموں کو فعال بنایا جائے۔تحصیل چیرمین نے مزید مطالبہ کیا کہ جس جس ادارے کو عوامی فلاح کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں یا ریلیف دیے گئے ہیں ان پر شفاف تحقیقات کرکے معلومات پبلک کیے جائے اور عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ سرکاری وسائل ان کے فلاح و بہبود پر خرچ ہو رہے ہیں یا کہ نہیں۔

 

 

 

chitraltimes tehsil council mastuj and torkhow mulkhow joint session meeting 3

chitraltimes tehsil council mastuj and torkhow mulkhow joint session meeting 5 chitraltimes tehsil council mastuj and torkhow mulkhow joint session meeting 4 chitraltimes tehsil council mastuj and torkhow mulkhow joint session meeting 7

chitraltimes tehsil council mastuj and torkhow mulkhow joint session meeting 9

 

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
91053

 مشرقی اُفق – یہودیت کی تاریخ، حماس اور طوفا ن اقصیٰ – میرافسر امان   

بسم اللہ الرحمان الرحیم

 مشرقی اُفق – یہودیت کی تاریخ، حماس اور طوفا ن اقصیٰ – میرافسر امان

یہودی دو ہزار سال سے دنیا میں پروپیگنڈہ کر تے رہے ہیں کہ فلسطین ان کا آبائی وطن ہے۔ یہ بات بھی ہم سب کو معلوم ہونی چاہیے کہ فلسطین یہودیوں کا آبائی وطن نہیں ہے۔تاریخی طور پر ثابت ہے کہ، تیرہ سو برس قبل مسیح میں بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تھے۔ اس وقت فلسطین کے اصل باشندے دوسرے لوگ یعنی عرب تھے، جن کا ذکر خود بائیبل میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے فلسطین کے اصل باشندوں عربوں کو قتل کیا اوراس سر زمین پر قبضہ کیا تھا۔
اسرائیلیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ خدا نے یہ ملک ان کو میراث میں دیا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے فرنگیوں نے سرخ ہندیوں (red indians)کو فنا کر کے امریکہ پر قبضہ کیا تھا۔ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت سیلمانؑ نے ہیکل سلیمانی تعمیر کرایا تھا۔نمبر 1۔آٹھویں صدی قبل مسیح اسیریا نے شمالی فلسطین پرقبضہ کر کے اسرائیلیوں کاقلع قمع کیا تھا اور فلسطین کے اصل باشندوں عربی النسل قوموں کو آباد کیا تھا۔ نمبر 2۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے جنوبی فلسطین پر قبضہ کر کے تمام یہودیوں کو جلاوطن کر دیا تھا۔طویل مدت کی جلاوطنی کے بعد ایرانیوں کے دور میں یہودیوں کو پھر جنوبی فلسطین میں آباد ہونے کا موقع ملا۔ نمبر3۔   70؁ء میں یہودیوں نے رومی سلطنت کے خلاف بغاوت کی، جس کی پاداش میں رومیوں نے ہیکل سلیمانی کو مسمار کر کے کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔  135؁ء میں رومیوں (عیسایوں)نے پورے فلسطین سے یہودیوں کونکال دیا۔ پھر فلسطین میں اصل باشندے عربی النسل لوگ آباد ہو گئے۔ جیسے وہ آٹھ سو برس پہلے آباد ہوئے تھے۔اسلام کے آنے سے پہلے فلسطین میں یہی عربی قبائل آباد تھے۔ فلسطین میں یہودیوں کی آبادی قریب قریب بالکل نا پید تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک تو یہودی ابتدا میں نسل کُشی کر کے فلسطین میں زبردستی آباد ہوئے تھے، دوم شمالی فلسطین میں چار سو برس اور جنوبی فلسطین میں آٹھ سو برس رہے۔ جبکہ فلسطین کے اصل باشندے، عرب شمالی فلسطین میں ڈھائی ہزار سال اور جنوبی فلسطین میں دو ہزار سال سے آباد چلے آ رہے ہیں۔ اس کے باوجود یہودی کہتے ہیں کہ فلسطین ان کے باپ داد کی میراث ہے جبکہ یہ تاریخی فراڈ ہے۔ علامہ اقبالؒ نے ایک تاریخی بات کہی تھی:۔
ہی خاک فلسطین پر یہودی کا  اگر حق
ہسپانیہ پر حق کیوں نہیں اہل عرب کا
 صہیونی تحریک،(یعنی یہودی قومی تحریک)کہتے ہیں ان کو حق ہے کہ فلسطین کے قدیم باشندوں کو اسی طرح نکال باہر کریں اور خود ان کی جگہ پر بس جائیں جس طرح تیرہ سو برس قبل مسیح میں انہوں نے کیا تھا۔ یعنی قدیم عرب باشندوں کو فلسطین سے زبردستی نکال دیا تھا۔
صاحبو!یہ حقیقت ہے کہ فلسطین کے اصل باشندے عرب ہیں نہ کہ یہودی۔ اللہ نے اسرائیلیوں پر بڑی مہربانیاں کی تھیں۔ قرآن ان مہربانیوں سے بھرا پڑا ہے۔اللہ نے بنی اسرائیل سے پہاڑ اُوپر اٹھا کر سخت عہد لہا تھا کہ وہ اللہ کے بندے بن کر رہیں گے ظلم زیادتی نہیں کریں نا حق لوگوں کو قتل نہیں کریں گے۔ فرعون سے ان کو نجات دلائی۔ ان کے لیے من و سلویٰ آسمان سے اُترا۔ بادلوں سے ان پر سایہ کیا۔ ان کو دنیا کی قوموں پر فضلیت دی، مگر بنی اسرائیل نے اللہ سے پختہ عہد توڑ ڈالا۔ اللہ نے ان کو سزا دینے کے بعد پھر معاف کر دیا اور کہا کہ بنی اسرائیل تم دنیا میں دو مرتبہ فساد بر پا کرو گے۔ بنی اسرائیل نے اس دنیا میں دو مرتبہ فساد بر پا کیا۔ اللہ نے بھی دو مرتبہ ان کو اسیریا اور بخت نصر سے سزا دلوائی اور کئی سالوں سے وہ دنیا میں تتربتر تھے۔
 اب نظر آ رہا ہے کہ حماس کے ہاتھوں تیسری بار اللہ، یہودیوں کو ان کی بدعہدیوں اور فساد فی الرض کی وجہ سے سزا دے گا۔ حماس نے اللہ کے حکم کے مطابق جہاد فی سبیل اللہ شروع کیا ہوا ہے۔ طوفان اقصیٰ اس کی ابتداء ہے۔ اسرائیل کی مادی طاقت اور صلیبیوں کی مدد اور بظاہر غزہ کو برباد کرنے  کے باوجود حماس کی کامیابیوں سے صاف نظر آرہا ہے کہ اسرائیل کو اللہ ان مظلوموں کے ہاتھوں شکست فاش دے کر اپنی سنت پوری کرے گا۔”اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق غزہ میں ملین ٹن ملبے سے ڈھکاہوا ہے، غزہ ملبہ ہٹانے کے لیے 600 ملین ڈالر درکا ہوں گے، اور اسے ہٹانے کے عمل میں 15 سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ روزانہ 100 ٹرکوں کی ضرورت ہو گی۔ غزہ میں 1730,297سے زیادہ عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے(اس پٹی کی نصف سے زیادہ عمارتیں)غزہ کی پٹی میں زیادہ تر ملبہ ری سائیکل نہیں ہو گا۔ غزہ کی پٹی میں تباہ شدہ عمارتوں کی تعمیر    نو میں 2040ء تک کا وقت لگے گا اور اس پر 40 بلین ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔غزہ میں 44 سال کی ترقی ختم ہو گئی ہے، غزہ کی پٹی میں صحت، تعلیم اور سماجی نگہداشت کی خدمات کا معیار 1980ء کی سطح پر واپس آگیا ہے“۔ اس کے علاوہ 5 /اکتوبر 2023ء سے دہشت گرد اسرائیل، اس چھوٹی سی پٹی کی معصوم آبادی پر نان اسٹاپ بمباری کر رہا ہے۔ جس میں بے گناہ بچے  بوڑھے،خواتین شہید ہو رہے ہیں یہ تباہی ظاہر نہیں کر رہی کہ اسرائیل نے کو تیسرا فساد برپاہ کر کے اپنے آپ کو اللہ کی  طرف سے تیسری سزا کا مستحق نہیں بنا لیا۔
بنی اسرائیل اللہ کی نافرمان ترین قوم ہے۔ قرآن شریف بنی اسرائیل کی بداعمالیوں کی وجہ چاج شیٹ سے بھی بھرا پڑا ہے۔ یہودی دنیا میں تمام خرابیوں کے موجد ہیں۔ خدا خوفی، اللہ سے کھلی بغاوت پر کیمونزم نظام کاقیام، سودی نظام، فحاشی،بے حیائی،وعدہ خلافی، احسان فراموشی اور فلسطین میں موجودہ مظالم جن میں 38 ہزار شہید اور ایک لاکھ سے زیادہ زخمی جس میں بچوں اور خواتین کی تعداد زہادہ ہے۔ ہزاروں ابھی بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ دو ہزار برس سے یہودی دنیا بھر میں ہفتے میں چار مرتبہ یہ دعائیں مانگتے رہے ہیں کہ بیت المقدس پھر ان کے قبضے میں آ جائے اور ہم ہیکل سلیمانی کو پھر سے تعمیر کریں۔ فلسطین میں زور،زبردستی اور عالمی سازش کاروں کی مدد سے پھر فلسطین میں آباد ہو جائیں۔
یہودی گھروں میں مذہبی تقریبات کے موقع پر اس تاریخ کا پورا ڈرامہ کھیلا جاتا رہا ہے کہ ہم کس طرح فرعون کے دور میں مصر سے نکلے اورفلسطین میں آباد ہوئے،کس طرح اسیریا، بخت نصر اور رومیوں نے ہمیں فلسطین سے نکال کر تتر بتتر کیا۔ یہ بات یہودیوں کے بچے بچے کے ذہن میں بٹھائی جاتی رہی ہے کہ تم نے بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کو پھر سے تعمیر کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت یہودیوں کی مدد کرتے ہوئے دنیا کی بڑی طاقتوں نے یہودیوں کو عالمی سازش کے ذریعے فلسطین میں ذبردستی  قبضہ دلایا۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ رومیوں کے زمانے میں فلسطین یہودیوں سے خالی کرا لیا گیا تھا بیت المقدس میں ان کا داخلہ ممنوع تھا۔مسلمانوں نے ان کو فلسطین میں رہنے اور بسنے کی اجازت دی تھی۔ پچھلی چودہ صدیوں میں یہودیوں کوصرف مسلمان حکومتوں میں امن نصیب ہوا ہے۔ دنیا میں جہاں بھی عیسائی حکومتیں تھیں وہاں یہودی اپنی بد اعمالیوں کی وجہ ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے۔ ان عیسائی ملکوں نے یہودیوں کو، اُن کی سازشوں کی وجہ سے اپنے ملکوں سے نکالا۔
یہودی مورخین لکھتے ہیں کہ ان کو اُندلس میں مسلمانوں کی رعایا کی حیثیت سے رہنے کا دور تاریخ کا سب سے زیادہ شاندار زمانہ تھا۔ یکم جولائی 1967ء نیوز فرام اسرائیل بمبئی سرکاری بلیٹن کی اشاعت کے مطابق سولہوی صدی میں ترکی سلطان سیلم عثمانی نے دیورا گریا کو کوڑے کرکٹ میں سے ڈھونڈ کر یہودیوں کو زیارت کی اجازت دی۔ اصل میں یہ دیوار براق ہے جہاں رسولؐ اللہ نے براق باندھا تھا۔ لیکن یہودی احسان فراموش قوم ہے وہ مسلمانوں کی شرافت اور فیاضی اور حسن سلوک کا بدلہ موجودہ ظلم کی شکل میں دے رہی  ہے۔ یہ اتنی ڈھیٹ اور سازشی قوم ہے کہ اس نے 1880؁ء سے دنیا بھر سے ہجرت شروع کی اور فلسطین جا کر زمیں خریدنی شروع کیں۔
1897؁ء یہودی لیڈر،تھیوڈورہرتذل نے صہیونی تحریک کا آغاز کیا گیا(zionist movement)۔ اس میں اس بات کا مقصود قرار دیا گیا کی فلسطین پر دوربارہ قبضہ حاصل کیا جائے اور ہیکل سلیمانی تعمیر کیا جائے۔یہودی سرمایہ داروں نے اس غرض کے لیے بڑے پیمانے پر مال فراہم کیا کہ یہودی فلسطین منتقل ہوں اور زمینیں خریدیں اور منظم طریقے سے اپنی بستیاں بسائیں۔  1901؁ء میں اسی تھیوڈورہرتذل نے سلطان ترکی عبدالحمید خان کو پیغام بھجوایا کہ یہودی ترکی کے تمام قرضے ادا کرنے کو تیار ہیں اگر فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی اجازت دے دیں۔مگر سلطان نے اس پیغام کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور کہا میں تمہاری دولت پر تھوکتا ہوں کہ فلسطین تمہارے حوالے نہیں کروں گا۔جس شخص کے نام پیغام بھیجا گیا تھا اس کا نام حا خام قرہ صو آفندی تھا۔ اس نے سلطان کو ہرتذل کی طرف سے دھمکی دی تھی اور اس کے بعد سلطان کی حکومت کو الٹنے کی سازش شروع ہوئی اس سازش کے پیچھے فری میسن،دونمہ اور وہ  ترک نوجوان مسلمان تھے۔ جو مغربی تعلیم کے زیر اثر آکر ترکی میں قوم پرستی کے علمبردار بن گئے تھے۔ دونمہ وہ یہودی تھے جنہوں نے ریاکارانہ اسلام قبول کر رکھا تھا۔ ترک ان کو دونمہ کہتے ہیں۔جب ترکی میں حالات بہت زیادہ خراب کر دیے گئے تو 1908ء میں جو تین آدمی سلطان کی معزولی کا پروانہ لیکر گئے تھے ان میں ایک یہی حاخام قر ہ صوآفندی تھا۔ مسلمانوں کی بے غیرتی کا اس سے اندازہ کیجیے کہ سلطان کی معزولی کا پروانہ بھیجتے بھی ہیں تو ایک ایسے یہودی کے ہاتھ جو سات برس پہلے اسی سلطان کے پاس فلسطین کی حوالگی کامطالبہ لے کر گیا تھا اور سخت جواب سن کر آیا تھا۔ اس وقت مسلمانوں   کے خیرخواہ ترکی سلطان پر کیا گزری ہو گی، جب یہی یہودی ان کی معزولی کا پروانہ لیے ہوئے ان کے سامنے کھڑا تھا۔
قارئین! جس قوم کے یہ عزائم ہوں اورجسے اللہ نے دھتکار بھی دیا ہو۔ جو تاریخی طور پر مکار مشہور ہو۔ جو دنیا میں ہر تباہی کی ذمہ دار بھی ہو۔ جس سے کسی نیکی امید بھی نہ ہو۔ جس نے دولت کے بل بوتے پر دنیا کی تمام طاقتوں پر بلواسطہ قبضہ بھی کر رکھا ہو۔ جس سے کسی بھی خیر کی تواقع بھی نہ ہو۔اُس سے فلسطین کے موجودہ ظلم ختم کرنے کی اپیل کرنا بے سود ہے۔اس کا واحد حل مسلمانوں کے اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ اپنی اصل یعنی اسلامی نظامِ حکومت کی طرف لوٹنا ہے جس کی وجہ سے ہمارے اسلاف نے اُس وقت کے چار براعظموں پر  اسلامی حکومت قائم کی تھی جس پر ہم آج تک فخر کرتے ہیں اب بھی دنیا میں باوقار زندگی گزرانا اسی نظام ِاسلامی میں پوشیدہ ہے۔ موجودہ اقوام متحدہ عیسائیوں ملکوں کے مفادات کی لونڈی بنی ہوئی ہے۔مسلمان اپنی”لیگ آف مسلم نیشنز“ بنائیں۔ جو مسلم ملکوں کے مفادات کی پشتیبانی کرے۔ ہم اپنے وسائل مجتمع کریں ان کو عالمی سیاست میں استعمال کریں جیسے تیل اور دولت کے وسائل ہیں۔ پاکستان جو واحد مسلم ایٹمی قوت ہے اس کو سب مل کر مضبوط کریں۔اپنی دولت سے جدید اسلحہ کے کارخانے لگائیں۔اپنی دولت کو یہود، نصارا کے بنکوں میں سودی نظام کا سہارا بننے کے بجائے اس دولت سے تجارت کریں۔ مسلم ملکوں میں امریکی پٹھو حکمرانوں کے بجائے عوام کی حقیقی لیڈر شپ پیدا کریں جو مسلم مفادات کی نگرانی کے اہل ہوں۔ یہ عملی اقدامات کر کے اللہ کے بروسے پر نئے جہادی دور کا آغاز کریں۔ اللہ نے ہمیشہ اُن کی مدد کی ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین۔
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
91066

بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے، ڈپٹی کمشنرزاپراور لوئیر چترال تبدیل، عبد الاکرم ڈپٹی کمشنرکوہاٹ تعینات

بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے، ڈپٹی کمشنرزاپراور لوئیر چترال تبدیل، عبد الاکرم ڈپٹی کمشنرکوہاٹ تعینات

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) صوبائی حکومت نے بڑے پیمانے پر بیوروکریسی کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے احکامات جاری کی ہے، چترال کے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی تبدیل کردیا گیاہے، ایڈیشنل سیکریٹری ایلمینٹری ایجوکیشن عبدالاکرام ڈپٹی کمشنرضلع کوہاٹ تعینات ہوئے ہیں۔  حسیب الرحمن خان خلیل ڈپٹی کمشنر اپر چترال جبکہ محسن اقبال ڈی سی لوئیر چترال تعینات ہوئے ہیں،اسی طرح ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈی آئی خان  طارق محمود ڈپٹی کمشنر لوئیر کوہستان تعیات ہوئے ہیں، باقی کی تفصیل ذیل ہے۔

 

 

chitraltimes transfer posting orders kp 2 chitraltimes transfer posting orders kp 3 chitraltimes transfer posting orders kp 4 chitraltimes transfer posting orders kp 1

chitraltimes transfer posting orders kp 6 chitraltimes transfer posting orders kp 5

 

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged ,
91040

ساتویں خانہ و مردم شماری 2023، کے نتائج کا اعلان،پاکستان کی کل آبادی 241.49 ملین

Posted on

ساتویں خانہ و مردم شماری 2023، کے نتائج کا اعلان،پاکستان کی کل آبادی 241.49 ملین

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) نے 7ویں خانہ و مردم شماری 2023، “پہلی ڈیجیٹل مردم شماری”کے تفصیلی نتائج کے اعلان کر دیا ہے،پاکستان کی کل آبادی 241.49 ملین ہے۔ پی بی ایس کے ترجمان محمد سرور گوندل نے اپنے بیان میں کہا کہ تفصیلی نتائج میں جنس، عمر، قومیت، زبان، ازدواجی حیثیت، تعلیم، معذوری، شہری اور دیہی آبادی کا تناسب، ہاؤسنگ، پانی اور حفظان صحت کے متعلق قومی، صوبائی، ضلعی اور تحصیل کی سطح کی معلومات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح 2.55 فیصدہے جو خطے کی بلند ترین سطح ہے۔اگر یہ شرح نمو برقرار رہی تو 2050 تک پاکستان کی آبادی دوگنی ہو جائے گی۔بڑھتی ہوئی آبادی ملکی وسائل پر دباؤ کا موجب ہے۔آبادی میں اضافہ شہریوں کی فی کس آمدنی اور معیار زندگی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ وسائل کی بہتر تقسیم اور معاشی خوشحالی کے لئے آبادی پر کنٹرول کے لئے ایک مؤ ثر حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت۔ وفاقی وزیر کی جانب سے ساتویں خانہ ومردم شماری کے شفاف انعقاد اور کا میاب تکمیل پر پاکستان ادارء شماریات کو مبارکباد دی ہے۔

 

مختلف سماجی و اقتصادی اعشاریوں پر تفصیلی نتائج کو تحقیق، پالیسی اور منصوبہ بندی میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جائیگا۔ پاکستان کی کل آبادی 241.49 ملین ہے۔جس میں 51.48 فیصد مرد اور 48.51 فیصد خواتین ہیں جن کا صنفی تناسب 106.12 ہے۔پاکستان میں گھرانے کے افراد کی اوسط تعداد 6.30 ہے۔غالب مذہب اسلام ہے، جو 96 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔36.47ملین آبادی پانچ سال سے کم عمر ہے، 97.53 ملین آبادی 15 سال سے کم عمر ہے۔ 62.58 ملین آبادی 15 سے 29 سال کے درمیان ہے۔190.27 ملین آبادی 40 سال سے کم عمر ہے۔پاکستان میں دس سال اور اس سے زیادہ عمر کی 61 فیصد آبادی خواندہ ہے۔ 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریبا ایک تہائی بچے اس وقت سکول سے باہر ہیں۔مردم شماری 2023 کے نتائج کے مطابق، معذوری کی رپورٹ کردہ تعداد 3.1فیصد ہے۔کھانا پکانے کے بنیادی ذرائع میں لکڑی اور گیس کا استعمال بالترتیب 53فیصد اور، 42فیصد ہے۔روشنی کے لئے ملکی آبادی کا انحصار بالترتیب 84فیصد بجلی پر اور 8 فیصد شمسی توانائی پر ہے۔ترجمان پاکستان ادارء شماریات نے بتایا کہ مردم شماری میں تقریبا 38 ملین عمارتوں کو جیو ٹیگ کیا گیا۔ مردم شماری کے مطابق کل 38,318,107 عمارتیں ہیں،جن میں 114,159 بلند عمارتیں ہیں جن میں سے، 73,501 رہائشی اور 7,593 معاشی عمارتیں جبکہ 33,065 دونوں مقاصد کے لیے استعمال کی جارہی ہیں۔پاکستان ادارء شماریات کی ویب سائٹ تمام نتائج کے لئے قابل رسائی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے پاکستان ادارء شماریات کے افسران کو اپنی محنت اور لگن سے پاکستان کی ساتویں خانہ و مردم شماری کو مکمل کرنے پر شیلڈز سے نوازا۔

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91037

گوہر اعجاز نے آئی پی پیز کو کی گئی ادائیگیوں کاریکارڈ مانگ لیا

Posted on

گوہر اعجاز نے آئی پی پیز کو کی گئی ادائیگیوں کاریکارڈ مانگ لیا

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) سابق نگران وفاقی وزیر تجارت گوہراعجاز نے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری سے آئی پی پیز کو کی گئی ادائیگیوں کا ریکارڈ مانگ لیا۔سابق نگران وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا کہ تمام 106 آئی پی پیز کا ڈیٹا پبلک کیا جائے، قوم کو بتایا جائے کس بجلی گھر نے اپنی صلاحیت کے مطابق کتنی بجلی پیدا کی، آئی پی پیز کو ادا کی کیپسٹی پیمنٹس کا ریکارڈ بھی پبلک کیاجائے، آئی پی پیز کی پیداواری لاگت کا ڈیٹا عوام کے سامنے رکھا جائے۔سابق نگران وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ آئی پی پیز میں سے 52 فیصد پلانٹس سرکاری ملکیت میں ہیں، سرکاری آئی پی پیز 50 فیصد سے کم بجلی پیدا کر رہی ہیں، اس بدانتظامی کے سو فیصد قیمت صارفین سے بلوں میں ادا کرتے ہیں، باقی 48 فیصد آئی پی پیز 40 خاندانوں کی ملکیت ہیں۔سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ باقی آئی پی پیز 50 فیصد کی صلاحیت سے چل رہے ہیں، آئی پی پیز 21 سو ارب سے زائد کی کیپسٹی پیمنٹس وصول کر رہیں، صارفین سے فی یونٹ 24 روپے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں چارج کئے جارہی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر توانائی براہ کرم 106 آئی پی پیز کا ڈیٹا شئیر کردیں، ان آئی پی پیز نے کتنی بجلی پیدا کی کتنے روپے فی یونٹ اور کتنی فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ آئی ہے، بطور صارف ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ ہم سے کتنے پیسے لئے جاتے ہیں۔گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات سے آگاہ ہیں آئی پی پیز پاکستان کو بچانا ہے جو م ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، بجلی کی اصل قیمت 30 روپے فی یونٹ سے کم ہونی چاہئے، ہم سب اس بات سے بے خبر ہیں کہ بدانتظامی اور بدعنوانی کے نام پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کچلنے کی وجہ سے ہمیں کس طرح لوٹا جا رہا ہے۔

 

تحریک لبیک کا فیض آباد پر دھرنا، شہریوں کی مشکلات اورعوام کی رائے

راولپنڈی(سی ایم لنکس)13 جولائی کو لیاقت باغ سے فیض آباد کے مقام پر تحریک لبیک کی جانب سے دھرنے کا آغاز کیا گیا۔تحریک لبیک کی جانب سیتین شرائط کو بنیادبنا کردھرنا دیا جارہا ہے،شرائط میں فلسطین کوامدادمہیا کرنے کیساتھ ساتھ اسرائیلی مصنوعات پرپابندی سرفہرست ہے۔دھرنے سے قبل ہی این ڈی ایم اے کی جانب سے اب تک آٹھ امدادی کھیپ فلسطین کو بھجوائی جا چکی ہے جبکہ متعدد اسرائیلی مصنوعات پر پابندی بھی عائد کی جا چکی ہے،ٹی ایل پی کی شرائط پر قبل از وقت ہی عمل درآمد ہو چکا ہے۔روڈ بلاک ہونے اورگھنٹوں تک ٹریفک جام ہونے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہ ہیاس حوالے سے عوام نے اپنے غم و غصیکا اظہارکرتے ہوئیکہا کہ دھرنے کا مقصد محض عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں،یہ کس مقصد کے لیے بیٹھے ہیں کیونکہ دھرنے کی شرائط تو پہلے سے ہی پوری کی جا چکی ہیں۔دھرنے کی وجہ سے مریض وقت پر ہسپتال نہیں پہنچ پا رہے اور متعدد لوگوں کو دفتر جانے کے لییبھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،کل ایمبولنس وقت پر ہسپتال نہیں پہنچ پائی کیونکہ تمام راستے بند تھے۔اس دھرنیکی وجہ سے اسلام آباد سے راولپنڈی جانے والے تمام راستے بند ہیں اور عوام کو بہت مشکلات کا درپیش آ رہی ہیں۔فلسطینیوں کو امدادی کھیپ توپہلیہی بھجوائی جا رہی ہیتواس دھرنیکا مقصد سمجھ نہیں آتا،حکومت فلسطین کے ساتھ دے رہی ہے اور دیتی رہے گی۔

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91034

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورکی زیر صدارت محکمہ آبپاشی کا اجلاس

Posted on

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورکی زیر صدارت محکمہ آبپاشی کا اجلاس

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورکی زیر صدارت محکمہ آبپاشی کا ایک اجلاس جمعرات کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہوا جس میں چشمہ رائٹ بینک کینال (سی آربی سی)کو واپڈا سے صوبائی حکومت کو حوالے کرنے سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو سی آر بی سی(مین کینال) کو صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کے سلسلے میں قابل عمل تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔علی امین گنڈا پور نے سی آر بی سی کو سیلابوں سے محفوظ بنانے کیلئے پروٹیکشن ورک کا ٹینڈر جلد ازجلد جاری کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ سی آر بی سی کا پروٹیکشن ورک انتہائی ضروری ہے، بلا تاخیر اس پر کام شروع کیاجائے،صوبائی حکومت پروٹیکشن ورک کیلئے 62 ملین روپے کی منظوری دے چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے سی آر بی سی مین کینال کی بحالی اور بھل صفائی کیلئے بھی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے درکار تمام فنڈز ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ اجلاس کو تکمیل کے قریب سمال ڈیمز کے حوالے سے بھی بریفینگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ضلع کرک کے لتمبر ڈیم پر سو فیصد جبکہ جڑوبہ ڈیم نوشہرہ پر 96 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے،یہ دونوں ڈیم افتتاح کیلئے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ پیزو ڈیم لکی مروت پر 91 فیصد، کوہاٹ کے خٹک بانڈہ ڈیم پر 90 فیصد، ضمیر گل ڈیم پر 91 فیصدکام مکمل ہے جبکہ مخ بانڈہ ڈیم کرک پر 88 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے تکمیل کے قریب ڈیموں کے منصوبوں کیلئے تمام درکار فنڈز فوری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ جو منصوبے تکمیل کے قریب ہیں انہیں فوری طور پر مکمل کیا جائے، حکومت اس مقصد کیلئے درکار تمام وسائل ہنگامی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ صوبائی وزیر برائے آبپاشی عاقب اللہ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری آبپاشی طاہر اورکزئی کے علاوئہ محکمہ آبپاشی اور واپڈا کے متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان بذریعہ ویڈیولنک اجلاس میں شریک ہوئے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کا صوبے میں محرم الحرام کے دوران امن وامان قائم رکھنے اور جلوسوں اور مجالس کا پر امن انعقاد یقینی بنانے پر متعلقہ اداروں، پولیس، سول انتظامیہ، فوج، عوام، تاجربرادری اور امن کمیٹیوں سمیت سب کو خراج تحسین پیش کیا

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے صوبے میں محرم الحرام کے دوران امن وامان قائم رکھنے اور جلوسوں اور مجالس کا پر امن انعقاد یقینی بنانے پر متعلقہ اداروں، پولیس، سول انتظامیہ، فوج، عوام، تاجربرادری اور امن کمیٹیوں سمیت سب کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس سلسلے میں جمعرات کے روز یہاں سے جاری خصوصی بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عشرہ محرم الحرام کے دوران صوبے کے 14 اضلاع میں 846 جلوس اور 8857 مجالس منعقد کئے گئے جو پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوئے ہیں اور تمام متعلقہ اداروں کی انتھک محنت کی وجہ سے صوبے کی کسی بھی جگہ سے کوئی نا خوشگوار واقعہ سامنے نہیں آیا۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران فول پروف سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات پر سول انتظامیہ، پولیس، سکیورٹی فورسز، ریسکیو، پیسکو اور تحصیل میونسپل انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ ادارے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔
انہوں نے محرم الحرام کے دوراں بھر پور تعاون کرنے پر صوبے کے عوام کو خصوصی طور پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ امن کے فروغ و استحکام میں عوام کا تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ محرم الحرام کے دوران فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں امن کمیٹیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جس پر امن کمیٹیوں میں شامل تمام مکاتب فکر کے علمائکا مشکور ہوں۔ اسی طرح بجلی کی بلاتعطل فراہمی، صفائی ستھرائی، ٹریفک مینجمنٹ، سبیلیوں کا بندوبست کرنے سمیت دیگر تمام معاملات میں متعلقہ اداروں نے بہترین انتظامات کئے جن پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91031

پشاور؛ غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ

Posted on

پشاور؛ غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیادت ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز پر بھاری جرمانے لگائے جائیں گے اور انہیں نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔ اس کے باوجود اگر انہوں نے ان کو رجسٹر نہیں کروایا تو ان سوسائٹیز کو سیل کر دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں سیکرٹری بلدیات داؤد خان بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیزکیلئے جامع پالیسی مرتب کی جائے، این او سی و دیگر قانونی تقاضے پورے کئے جائیں، نہیں تو انکو سیل کردیا جائے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اگلے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی تمام غیر قانونی سوسائٹیز کا مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے۔ لسٹیں بنائی جائیں کہ کون سی غیر قانونی سوسائٹی کتنے عرصے سے کام کر رہی ہے۔ غیر قانونی سوسائٹی سے نہ صرف حکومت کے خزانے کو بلکہ عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسی سوسائٹیز میں گیس اور بجلی کے این او سی نہ ہونے کی وجہ سے بھی عوام کو مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
91009

صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے چترال آرکائیول ریکارڈ کو ضلعی لائبریری چترال میں قائم کرنے کا باقاعدہ افتتاح کردیا

Posted on

صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے چترال آرکائیول ریکارڈ کو ضلعی لائبریری چترال میں قائم کرنے کا باقاعدہ افتتاح کردیا

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز اور لائبریریز میناخان آفریدی نے صوبے کی سرکاری لائبریریوں میں اینٹیگریٹیڈ لائبریری مینجمنٹ سسٹم اور چترال آرکائیول ریکارڈ کو ضلعی لائبریری چترال میں قائم کرنے کا باقاعدہ افتتاح ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز اینڈ لائبریریز پشاور میں کیا چترال کی تاریخ پر مبنی آرکائیول ریکارڈ کو چترال منتقل کرکے پہلی ضلعی آرکائیول لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا اب چترال کے کتب بین کو چترال کے ریکارڈ کے بارے میں ڈائریکٹوریٹ پشاور نہیں آنا پڑیگا بلکہ چترال کی تاریخ سے متعلق تمام ڈیٹا چترال لائبریری میں دستیاب ہوگا

 

افتتاحی تقریب کے موقع پر ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، چیف لائبریرین، ریسرچ آفیسر اور ڈائریکٹوریٹ کے دیگر افسران بھی موجود تھے افتتاح کے بعد صوبائی وزیر کو آئی ایل ایم سسٹم پر تفصیلی بریفنگ دی گئی صوبائی وزیر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کی 16اضلاع کی 18 سرکاری لائبریریوں میں آئی ایل ایم سسٹم متعارف ہوچکا ہے جوکہ ملک کی پہلامنفرد لائبریری نظام ہے جس کے ذریعے لائبریری کے ممبر اور عام کتب بین آئن لائن کتابوں کے بارے معلومات حاصل کرسکتے ہیں اس وقت 4لاکھ 35 ہزار کتابوں کا آئی ایم ایل سسٹم کے ذریعے اندراج ہوگیا ہے جنہیں باقاعدہ نام، اور مصنف کے نام سے سرچ کیا جاسکتا ہے آئی ایل ایم سسٹم کی دیگر خصوصیات کے ساتھ ساتھ ایک خوبی یہ بھی ہے کہ کتابوں کو کیٹیگرائز کیا گیا ہے جنہیں بہت آسانی کے ساتھ سرچ کیا جاسکتا ہے صوبائی وزیر کو مزید بتایا گیا کہ ڈائریکٹوریٹ کے عملے نے بڑی محنت کے ساتھ آئی ایل ایم سسٹم کو تیار کیا ہے اور ایک روپیہ سرکاری خرچہ نہیں آیا اور نہ ہی اس نظام کو چلانے کیلیے کوئی بھرتی کیا ہے بلکہ آئی ٹی سٹاف کو باقاعدگی کے ساتھ فعال بنایا ہے اور نظام کو اچھی طرح چلاتے ہیں.

 

اس موقع پر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ لائبریریوں میں بہتر اصلاحات لانے کیلیے تمام تر وسائل بروئے کار لارہے ہیں انہوں نے کہا کہ لائبریریوں کو ڈیجیٹائزڈ کرنے کیلیے اقدامات اٹھائینگے انہوں نے آئی ایل ایم سسٹم کو سراہتے ہوئے لائبریری عملے کو ہدایت کی کہ آئی ایل ایم سسٹم میں مزید بہتری لانے کے ساتھ ساتھ اسیاپ ڈیٹ بھی رکھیں صوبائی وزیر نے آئی ایل ایم سسٹم کو چلانے والے عملے میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کیں اس موقع پر لائبریری ڈائریکٹر نے صوبائی وزیر کو ڈائریکٹوریٹ آمد پر پھولوں کا گلدستہ پیش کیا صوبائی وزیر نے لائبریری کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔

 

chitraltimes minister higher education meena khan inagurated library2

 

 

 

غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ
پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیادت ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز پر بھاری جرمانے لگائے جائیں گے اور انہیں نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔ اس کے باوجود اگر انہوں نے ان کو رجسٹر نہیں کروایا تو ان سوسائٹیز کو سیل کر دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں سیکرٹری بلدیات داؤد خان بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیزکیلئے جامع پالیسی مرتب کی جائے، این او سی و دیگر قانونی تقاضے پورے کئے جائیں، نہیں تو انکو سیل کردیا جائے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اگلے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی تمام غیر قانونی سوسائٹیز کا مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے۔ لسٹیں بنائی جائیں کہ کون سی غیر قانونی سوسائٹی کتنے عرصے سے کام کر رہی ہے۔ غیر قانونی سوسائٹی سے نہ صرف حکومت کے خزانے کو بلکہ عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسی سوسائٹیز میں گیس اور بجلی کے این او سی نہ ہونے کی وجہ سے بھی عوام کو مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
91005

 این ڈی ایم اے  کےنیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ممکنہ آندھی، طوفان اور بارشوں کے پیش نظر گلاف الرٹ جاری کر دیا

Posted on

 این ڈی ایم اے  کےنیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ممکنہ آندھی، طوفان اور بارشوں کے پیش نظر گلاف الرٹ جاری کر دیا

اسلام آباد (چترال ٹائمزرپورٹ ) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کےنیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ممکنہ آندھی، طوفان اور بارشوں کے پیش نظر گلاف الرٹ جاری کر دیا۔ خیبر پختون خواہ اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشئرز کے پگھلنے کا عمل تیزہونے اور ممکنہ بارش کے سلسلے کے باعث 17تا23جولائ2024 کے دوران مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاو میں اضافہ اور جھیلوں کے سیلاب کے علاوہ لینڈ سلائیڈنگ بھی متوقع ہے۔

این ڈی ایم اے نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے پی کے اور گلگت ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ محکموں کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں تاکہ کسی بھی رکاوٹ، سڑک کی بندش اور نقصان کی صورت میں ضروری انوینٹری/آلات کے انتظامات اور پہلے سے تعیناتی کے ساتھ ساتھ غیر محفوظ مقامات پر ایمرجنسی اہلکاروں کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ محکموں کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی کمیونٹی، سیاحوں اور خطرے سے دوچار علاقوں میں مسافروں کو الرٹ رہنے اور غیر ضروری سفر/ نقل و حرکت سے گریزکرنے کے لیے پہلے سے خبردار کریں۔متعلقہ محکمے خطرے دو چار علاقوں میں لوگوں کے بر وقت انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے فرضی مشقیں بھی تشکیل دیں تا کہ بوقت ضرورت عوام کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔

این ڈی ایم اے نے Pak NDMA Disaster Alert ایپلیکیشن متعارف کرادی ہے جو گوگل پلے سٹور اورiOS ایپ سٹور پر موجود ہے تاکہ عوام کوبر وقت الرٹس، ایڈوائزریز اور خطرے سے متعلق مخصوص گائیڈ لائنز، عوامی آگاہی کے پیغامات اوردیگر ضروری معلومات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

دریں اثنا این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق 17 سے 21 جولائی تک کشمیر، اسلام آباد، کے پی،پنجاب کے وسطی اور شمال مشرقی علاقوں میں وقفے کے ساتھ گرج چمک کیساتھ بارشوں امکان ہے ۔ بارشوں کے باعث سوات، مینگورہ، بٹگرام، مردان، صوابی، ہری پور، ایبٹ آباد، کشمیر، اسلام آباد، راولپنڈی، چکوال، جہلم، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں 50 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے جو مقامی ندیوں اور نالوں میں درمیانے درجے کی فلیش فلڈنگ سبب بن سکتی ہے۔

اسکے علاؤہ فلیش فلڈنگ ذریعہ آمدو رفت میں خلل، عمارتوں/ بنیادی ڈھانچے اور فصلوں و مویشوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور مقامی انتظامیہ کو چوکس رہنے اور خطرے سے دو چار آبادی کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

عوام گھروں میں نکاسی آب یقینی بنائیں اور اربن فلڈنگ سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کریں۔ کسی بھی بلاک شدہ نالوں یا ممکنہ خطرات کا موجب بننے والے عمل کی اطلاع مقامی حکام کو فوری طور پر دیں۔ مسافر و سیاح لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دو چار علاقوں میں سفر کرتے ہوئے احتیاط برتیں۔ عوام بروقت ڈیزاسٹر الرٹس، گائیڈ لائنز اور احتیاطی تدابیر کے لیے کی  Pak NDMA Disaster Alert   موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
91003

چترال شہر کے نواحی گاؤں اوچشٹ میں رہائش پذیر ایک نوجوان کی مبینہ خودکشی 

Posted on

چترال شہر کے نواحی گاؤں اوچشٹ میں رہائش پذیر ایک نوجوان کی مبینہ خودکشی

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال شہر کے نواحی گاؤں اوچشٹ میں رہائش پذیر ایک نوجوان نے مبینہ طور پر پستول سے فائر کرکے اپنی زندگی کا چراغ گل کردیا جس کی فوری وجہ معلوم نہ ہوسکی۔ چترال پولیس کے ذرائع کے مطابق جمعرات کی شب 21سالہ نوجوان اسلا م الدین ولد گل راز نے اپنے گھر کے کمرے میں اپنے آپ پر پستول سے فائر کردیا جس سے موقع پر ان کی موت واقع ہوئی۔ خودکشی کرنے والے نوجوان کا تعلق دروش کے علاقہ جنجریت کوہ سے تھا جوکہ اس وقت اوچشٹ گاؤں میں آباد تھے۔

چترال پولیس نے لاش کی پوسٹ مارٹم کے بعد ضابطہ فوجداری کے دفعہ 174کے تحت موت کی وجہ معلوم کرنے کے لئے انکوائری شروع کردی ہے۔ اس سے ایک دن قبل چترال ٹاؤن کے ژوغور کے مقام پر ایک موٹر سائیکل سوار نے رضاندہ سے تعلق رکھنے والے شخص خورشید لال کو ٹکر مار دیا جس سے وہ موقع پر جان بحق ہوگئے جبکہ متوفی کے ورثاء نے موٹر سائیکل سوار کو معاف کردیا۔

 

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
90997

ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر لوٗیر چترال کے لئے ڈی ڈی اے سی چیئرمین مقرر

Posted on

ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر لوٗیر چترال کے لئے ڈی ڈی اے سی چیئرمین مقرر

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) مہتر چترال اور لویر چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن فاتح الملک علی ناصرکو صوبائی حکومت نے لویر چترال کی ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی (ڈیڈاک) کا چیرمین مقرر کردیا ہے۔ اس بات کانوٹیفکیشن آج پشاور میں چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے جاری کردیا گیا ہے جس میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے ٹو لویر چترال سے فاتح الملک علی ناصر کو چیرمین ڈیڈاک لویر چترال مقررکیا گیا ہے۔

chitraltimes ddac chairman notification kp

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں
90994

ہم سب کا پاکستان – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

ہم سب کا پاکستان – میری بات:روہیل اکبر

اعجاز قریشی،ڈاکٹر اطہر محبوب،ڈاکٹر انعام الحق جاوید، محی الدین وانی، طاہر رضاء ہمدانی،بابر امان بابر جیسے لوگ صدیوں بعد پیداہوتے ہیں

تعلیم کے بغیر ترقی کا کوئی تصور نہیں اور جو اس پر یقین نہیں رکھتے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور جو لوگ تعلیم پر توجہ نہیں دیتے وہ ظالم لوگ ہیں بلاشبہ ان میں ہمارے حکمران بھی شامل ہیں جنہوں نے ہمارے بچوں کو تعلیم سے دور رکھ کر ملک میں جہالت کو پروان چڑھایا اسی لیے تو ہم زندہ انسانوں کو جلا کر تڑپتے ہوئے بدن کے ساتھ سیلفی بناتے ہیں آج ہم سوٹرز لینڈ،کینڈا،سویڈن اور جاپان کی مثالیں دیتے ہیں لیکن ان جیسے کام نہیں کرتے ہمارے نبی کریم ؐ نے فرمایا تھا کہ علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے جبکہ گود سے گور تک علم حاصل کرنے کا بھی ہمیں کہا گیا لیکن ہم نے تعلیم کی بجائے جہالت کا راستہ اپنا رکھا ہے بلکہ ہمارے پڑھے اکثر لوگ بھی حسد اور جلن کی وجہ سے جہالت کے سمندر میں غوطہ زن نظر آتے ہیں جو اپنے ایک پاؤ گوشت کے لالچ میں غریب انسان کی دودھ دیتی بھینس ذبح کروا دیتے ہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ شعور کا ہونا بھی ضروری ہے جو ہم میں نہیں ہے اور اگر پاکستان میں کوئی شخص تعلیم کے ساتھ ساتھ شعور جیسی نعمت بھی بانٹ رہا ہو تو ہم مل جل کراسکے دشمن بن جاتے ہیں اور اس کے خلاف محاذ کھول لیتے ہیں

 

کچھ اسی طرح کا واقعہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے ساتھ بھی پیش آیا جب وہ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور تھے انکی کو ششوں اورکاوشوں سے تاریخ میں پہلی بار ہماری کوئی یونیورسٹی دنیا کی ٹاپ رینکنگ میں شامل ہونے جارہی تھی انکی بدولت ایک عام غریب کسان کا بچہ بھی تعلیم سے دوستی کر بیٹھا تھا اور تو اور دور دراز کے ان علاقوں کی لڑکیاں بھی یونیورسٹی کی بس پر سوار ہو کریونیورسٹی آنا شروع ہوگئی تھیں جہاں چنگ چی بھی نہیں چلتے یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات کی تعداد ناقابل یقین حد تک بڑھ گئی یہ سب کچھ ڈاکٹر اطہر محبوب کی بدولت ہی ممکن ہوا لیکن ہم نے اس تعلیم دوست محب وطن کے ساتھ جو کیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں انکے خلاف سازش رچائی گئی بعد میں اس سازش کا پردہ چاک بھی ہوا لیکن ہم نے کچھ نہیں کیا گذشتہ روز ڈاکٹر اطہر محبوب لاہور تشریف لائے تو ہمارے محبوب دوست ڈاکٹر جام سجاد نے مجھے بھی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کھانے کی دعوت دیدی اس ملاقات میں عطاء الحق قاسمی،مجیب الرحمن شامی،ڈاکٹر اسلم ڈوگر اور شفقت حسین سمیت چند دوست اور بھی موجود تھے

 

جہاں ڈاکٹر صاحب نے کھل کر باتیں کی ڈاکٹر اطہر محبوب ایک زندہ دل،خوش مزاج اور خود مختار شخصیت ہیں جن کے انگ انگ سے خلوص کی خوشبو آتی ہے انکے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا اورپڑھا گیامیں نے بھی انکی خدمات پر بہت کچھ لکھ کر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہوا ہے اب انہوں نے ایک بار پھر پنجاب یونیورسٹی اور انجینئرنگ یونیورسٹی میں بطور وی سی کے لیے اپلائی کیا ہوا ہے میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ یہ سیٹیں ڈاکٹر صاحب کے لیے بہت چھوٹی ہیں انہیں وزیر اعظم تعلیم کے حوالہ سے اپنا مشیر مقرر کریں میں دعوے سے کہتا ہوں کہ صرف دو سال میں ملک میں تعلیم کے حوالہ سے انقلابی تبدیلیاں آئیں گی ڈاکٹر اطہر محبوب کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جنہیں 14 اگست 2012 کو صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے سائنس (انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی) میں ان کی خدمات کی بنیاد پر تمغہ امتیاز (TI) کے سول ایوارڈ سے بھی نوازا تھا ڈاکٹر اطہرمحبوب 13 جنوری 1971 کو کراچی میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم لندن کے اسٹوک نیونگٹن اسکول سے حاصل کی جب کہ ان کے والد برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے میں ایئر اتاشی کے طور پر تعینات تھے۔

 

ڈاکٹر اطہرمحبوب نے اپنی مڈل اسکول کی تعلیم پاکستان ایئر فورس کے مختلف اداروں جیسے پی اے ایف ماڈل اسکول ڈرگ روڈ، پی اے ایف ماڈل اسکول، بڈھ بیر اور پی اے ایف ڈگری کالج پشاور میں حاصل کی سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ حیدرآباد بورڈ سے لیا اور پھر کیڈٹ کالج پیٹارو میں تین سال (1983-1986) تک تعلیم حاصل کی ڈاکٹر اطہرمحبوب نے 1990 کی دہائی میں فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی، ٹلہاسی، USA سے انڈر گریجویٹ اور ماسٹر کی ڈگریاں حاصل کیں 1996 میں وہ اپنے ملک کی خدمت کے لیے واپس آئے اور سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر کام شروع کیا 2006 میں انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) پاکستان میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر شمولیت اختیار کی ڈاکٹر اطہرمحبوب 2005 میں ابن خلدون سسٹمز کے صدر اور سی ای او بنے اور 10 سال تک خدمات انجام دیں ابن خلدون سسٹمز کے صدر اور سی ای او کے طور پر انہوں نے 50 سے زیادہ صنعتی منصوبوں کا کامیابی سے انتظام کیا اپریل 2012 میں وہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے پروفیسر اور بعد ازاں ڈی ایچ اے صفا یونیورسٹی کراچی میں ڈین مقرر ہوئے جہاں انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی بنیاد رکھی اور نصاب بھی ڈیزائن کیا اور پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) کے ساتھ ایکریڈیٹیشن کے عمل کا انتظام کیا 2015 میں وہ خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان کے وائس چانسلر بنے ان کی قیادت میں 140 سے زائد کلاس رومز اور لیبارٹریز پر مشتمل تقریباً 1 ملین مربع فٹ پر 200 فیکلٹی دفاترز بنائے اور تعلیمی پروگراموں کی تعداد بڑھا کر 65 تک کردی

 

اسکے بعد اسلامیہ یونیورسٹی میں انکے کارناموں کی ایک لمبی فہرصت ہے اور انہی کی قیادت میں اسلامیہ یونیورسٹی دنیا کی 100 بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہونے لگی تھی ڈاکٹر اطہرمحبوب کے بین الاقوامی جرائد اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں 50 سے زائد تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے ہی طلبہ و طالبات کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے سٹوڈنٹس سوسائٹیز اور سٹوڈنٹس کلبز کا تصور دیا انہوں نے نئے سنٹرز بنائے، نئے ڈائریکٹوریٹس بنائے اور اساتذہ کی تعداد چھ سو سے بڑھا کر 1800 کردی جسکے بعد ملازمین کی تعداد پانچ ہزار تک جاپہنچی آپ جان کر حیران ہونگے وہ یونیورسٹی جو 2019 میں صرف ریکرنگ گرانٹ پہ چل رہی تھی وہ اپنے وسائل کی بدولت اپنے پاؤں پہ کھڑی ہوگئی اور سب سے بڑا کارنامہ یہ انجام دیا کہ جنوبی پنجاب کی روٹھی ہوئی ثقافت کو دوبارہ اجاگر کیا جامعہ کے بے نام آڈیٹوریم کو خطہ جنوبی پنجاب کے عظیم الشان صوفی شاعر جناب خواجہ غلام فرید کے نام سے موسوم کیا انہوں نے ملک بھر سے میڈیا کے دوستوں کو مدعوع کیا اور جامعہ اسلامیہ کا دنیا بھر میں تشخص اجاگرکیا یقیناً پروفیسر صاحب کی مثبت سرگرمیوں کی بدولت اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور عالمی اور قومی فرجہ بندی میں سینکڑوں درجے اوپر آگئی یہ ترقی وہاں کے پر موجود دشمنوں اور حاسدوں کو پسند نہ آئی شومئی قسمت! حاسدین اور شر پسند عناصر نے ایک جھوٹا سکینڈل گھڑا جھوٹ پر مبنی ایک بیانیہ بنایا گیا اور سوشل میڈیا کی آڑ لے کر پوری دنیا میں اس عظیم تعلیمی درسگاہ کو بدنام کیا گیا اورافسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکومتی ادارے اس مہم کا حصہ بنے رہے اور اس مہم کے ہینڈلر آج بھی اپنے عہدوں پر براجمان ہیں

 

پاکستان میں اس وقت بہت کم ایسے لوگ ہیں جو ملک کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ان میں وفاقی محتسب اعجاز قریشی،ڈاکٹر انعام الحق جاوید،وفاقی سیکریٹری تعلیم محی الدین وانی،سیکریٹری صوبائی محتسب طاہر رضاء ہمدانی،سیکریٹری معدنیات بابر امان بابر سمیت چند اور لوگ جو انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں اور صدیوں بعد پیداہوتے ہیں اور ان کے راستے میں بھی ڈاکٹر اطہر محبوب کی طرح کانٹے بچھائے ہوئے ہیں جن کی چبھن یہ لوگ محسوس کرتے ہیں لیکن اسکے باوجود زخمی پاؤں کے ساتھ انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے شائد انہی لوگوں کی وجہ سے پاکستان میں بہتری کی امید نظر آتی ہے ہمیں ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے یہ صرف ان لوگوں کا ہی پاکستان نہیں ہمارا بھی ملک ہے اگر یہ نہ ہوتے تو ہم لوگ آج ایتھوپیا کی جگہ پہلے نمبر پر ہوتے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
90990

چترال پریس کلب کا ہنگامی اجلاس، نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی حسن زیب کی قتل پر افسوس کا اظہار، حکومت سے ملزمان کی جلدگرفتاری اور کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ

چترال پریس کلب کا ہنگامی اجلاس، نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی حسن زیب کی قتل پر افسوس کا اظہار، حکومت سے ملزمان کی جلدگرفتاری اور کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال پریس کلب کا ہنگامی اجلاس چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین کے زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پبی نوشہر ہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور روزنامہ آج کے رپورٹر حسن زیب کو نامعلوم افراد کے ہاتھوں فائرنگ کرکے قتل کرنے پر سخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں کی جان ومال اور آبرو کی حفاظت کو یقینی بنائی جائے۔ اور حسن زیب کے قاتلوں کو جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ صدر ظہیرا لدین نے کہاکہ اس سال صوبے کے مختلف علاقوں میں صحافیوں کی ٹارگٹ کیلنگ کا سلسلہ نہایت افسوسناک ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور صحافیوں کی تحفظ کے لئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا چاہئے تاکہ وہ آزادانہ ماحول میں اپنے فرائض منصبی ادا کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ شہید حسن زیب کا خون رائیگان ہرگز نہیں جائے گا جس نے مرتے تک آزاد ی صحافت کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور کسی سے دباؤ قبول کئے بغیر آواز حق بلندکرتے رہے اور خیبر پختونخوا کے صحافی ان کے خون کی ایک ایک قطرے کا حساب لے کر رہیں گے۔ اجلاس میں شہید صحافی حسن زیب کے اہل خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کے روح کی ایصال ثواب اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعائیں مانگی گئی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
91000

جماعتِ اسلامی ،تعارف،تاریخ اور وژن ۔ از قلم : عصمت اسامہ

Posted on

جماعتِ اسلامی ،تعارف،تاریخ اور وژن ۔ از قلم : عصمت اسامہ ۔ ( سیکرٹری حریمِ ادب وسطی پنجاب)

 

انیس سو تئیس میں خلافتِ اسلامیہ کے ختم ہونے کے بعد امت_ مسلمہ کے رو بہ زوال ہونے کے ساتھ کفار کے مسلح اور نظریاتی حملوں میں تیزی آگئی تھی۔ اب مسلمانوں کےلئے دنیا میں نہ صرف اپنی اجتماعی قوت کو برقرار رکھنا بہت مشکل ہوگیا بلکہ انھیں اپنے تاریخی ورثے ،تہذیب و تمدن ،علم و ادب بلکہء نظریہء حیات پر طاغوتی طاقتوں کی یلغار کا سامنا بھی کرنا پڑا۔مسلمان منتشر اور بغیر کسی مضبوط ریاستی سرپرستی کے زندگی گذارنے پر مجبور کردئیے گئے تھے،اپنی شناخت اور بقا کو لاحق اس خطرے نے کئی تحریکوں کو جنم دیا ،برصغیر پاک و ہند کی تاریخ ان تحریکوں کے تذکرے سے روشن ہے ۔ڈاکٹر علامہ محمد اقبال جیسے مفکر اور حکیم الامت نے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا،ان حالات میں جماعتِ اسلامی پاکستان کا قیام 26 اگست 1941ء میں وجود میں آیا۔ بانئ جماعت سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے صرف پچھتر نفوس اور چوہتر روپے چودہ آنے کے سرماۓ کے ساتھ جماعتِ اسلامی کی داغ بیل ڈالی ،اس سے قبل وہ ” رسالہ ترجمان القرآن” اور “ادارہ دارالاسلام” کے ذریعے دین کو تحریک کی صورت دینے کے لئے راۓ سازی کا کام کر رہے تھے۔ اس موقع پر اپنے تاریخی خطاب میں بانیء جماعتِ اسلامی نے اس تحریک اور دوسری تحریکوں کے مابین فرق واضح کیا : اول یہ کہ ہم اسلام کے کسی جزو یا کسی دنیوی مقصد کو نہیں بلکہ پورے کے پورے اسلام کو لے کر اٹھ رہے ہیں۔دوم : ہم جماعت میں کسی کو شامل کرنے سے پہلے اس سے کلمہء طیبہ اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے کا اقرار ( حلف )لیتے ہیں۔ سوم ہماری دعوت ساری انسانیت کے لئے ہے ( کسی خاص قوم یا ملک تک محدود نہیں ہے).ہم نے قرآن وسنت سے سب انسانوں کے مسائل کا حل پیش کرنا ہے۔

( ماخوذ : روداد جماعتِ اسلامی ،حصہ اول).

 

سید ابوالاعلیٰ مودودی ،جماعت اسلامی کے پہلے امیر منتخب ہوۓ،اس وقت ان کی عمر اڑتیس سال تھی۔اس کے بعد ہیڈ کوارٹر لاہور سے پٹھان کوٹ منتقل ہوگیا۔ جماعتِ اسلامی کے قرآن وسنت کے پیغام پر مشتمل ادب ( لٹریچر) کی تیاری کا کام ،اولین ترجیح کے طور پر شروع کردیا گیا بلکہ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی زبانوں میں ان کتب کے تراجم کا بھی آغاز ہوگیا۔1947ء میں قیام_ پاکستان کے بعد جماعتِ اسلامی کا نظام بھی دو حصوں پر مشتمل ہوگیا۔جماعت_ اسلامی کے کارکنان ،مہاجرین کی بحالی اور دیکھ بھال کے لئے مصروف عمل تھے ،اسی دور میں بانیء پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے کہنے پر سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ریڈیو پاکستان پر پہلی تقریر نشر کی گئ ( بحوالہ ڈاکٹر اشتیاق احمد ،ممتاز قانون دان ) ۔یہ تقاریر جو قائد اعظم کے ایماء پر عامتہ المسلمین کی فکری راہنمائی کے لئے نشر کی گئیں ،کتاب ” اسلامی نظامِ زندگی اور اس کے بنیادی تصورات” کے آخری باب ” اسلامی نظامِ حیات” میں موجود ہیں۔

 

اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ بانی ء جماعتِ اسلامی اور بانیء پاکستان نظریاتی اور عملی طور پر متحد و یکسو تھے،پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے نصب العین کی خاطر ،ان میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ مولانا کی شہرہ آفاق تفسیر “تفہیم القرآن ” کے مطالعہ سے “فکر_ مودودی” کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے. 1948ء میں قائد اعظم کی وفات کے بعد سیکولر طبقے نے سر اٹھالیا تو جماعتِ اسلامی پاکستان ان کے مشن کو لے کر اٹھی اور نہ صرف” نظام_ اسلامی ” کا مطالبہ پیش کیا بلکہ ” کشمیری مسلمانوں کے حق_ خود ارادیت ” کی بھی حمایت کی۔ اسی دور میں ” قرارداد_ مقاصد” منظور ہوئی جو ملک کا دستور “اسلامی” بنانے کی طرف اہم پیش رفت تھی۔1950ء میں مولانا مودودی نے اسلامی دستور کا خاکہ پیش کیا تو حکومت نے ان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی لگادی اور جماعت کے ہم خیال اخبارات بھی بند کردئیے۔ 1951ء میں جماعتِ اسلامی نے اپنے ویژن ” حکومت_ الٰہیہ کے قیام ” کی خاطر پہلی بار انتخابات میں حصہ لیا اگر چہ ان میں ایک نمائندہ ہی منتخب ہوسکا۔1952ء میں “مسئلہء ختم_ نبوت کے دفاع اور قادیانی سازشوں کے خلاف کتاب لکھنے پر” مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کو گرفتار کرلیا گیا اور سزائے موت سنائی گئ۔ مولانا نے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کردیا۔بعدازاں عالمی سطح کے احتجاج اور دباؤ کے سبب سزاۓ موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا ۔کارکنان نے بھرپور احتجاجی مہم چلائی، بالآخر مولانا کو 1955ء میں ہائی کورٹ کے حکم پر رہا کردیا گیا۔ملک کے دستور کی تیاری کا مرحلہ پیش نظر تھا ،اس میں مولانا مودودی نے حکومت _ وقت کے ساتھ کام بھی کیا اور راہنمائی بھی فرمائی۔1958ء میں پہلا مارشل لاء لگا تو تمام سیاسی جماعتوں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔

 

بقول شاعر :
~ کبھی اس مکاں سے گذر گیا،کبھی اس مکاں سے گذر گیا
تیرے آستاں کی تلاش میں ،میں ہر آستاں سے گذر گیا
کبھی تیرا در، کبھی دربدر ،کبھی عرش پر ،کبھی فرش پر
غم_ عاشقی تیرا شکریہ ،میں کہاں کہاں سے گذر گیا !

 

 

ابتدا ہی سے جماعتِ اسلامی کا نصب العین ” عملاً اقامتِ دین” حکومت_ الٰہیہ اور اسلامی نظام زندگی کا قیام اور حقیقتاً رضاۓ الہی اور فلاح_ اخروی” کا حصول قرار پایا تھا۔اس عظیم الشان مشن کو ایسے افراد درکار تھے جو نہ صرف پاکیزہ سوچ ،صالح اعمال سے مزین ہوں بلکہ زمانے کی تیز رفتار میں قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی صلاحیتوں سے بھی مالامال ہوں ،اس لئے افراد_ کار کی تیاری ،تربیت اور ٹریننگ اول روز سے نظم_ جماعت کے پیشِ نظر رہی ہے۔اس مقصد کی خاطر باقاعدہ تربیتی نصاب تیار کیا جاتا ہے ، حلقہء دروس اور اجتماعات کے ذریعے قرآن وسنت کا فہم اور حالات حاضرہ کا شعور پیدا کیا جاتا ہے ۔یہ خاصیت ،کسی اور سیاسی پارٹی میں دکھائی نہیں دیتی۔ جماعت کا تربیتی نظام ،کارکنان کے اندر ایمان اور جذبہ کا وہ ایندھن بھر دیتا ہے کہ اس کے بعد انھیں جس شعبہء زندگی اور جس محاذ پر کھڑا کردیا جاۓ وہ اس میں کامیابی کی خاطر تن ،من ، دھن کی بازی لگا دیتے ہیں۔

 

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ہمیشہ اپنے حصے کا کام جسم و جان کی پوری قوت اور اخلاقی اصولوں کی پاسداری سے کرنے پر زور دیا اور انتخابات میں کامیابی کی خاطر کسی بھی خفیہ سرگرمی یا زیر زمین کارروائی سے منع فرمایا۔1960ء میں مولانا مودودی نے قرآن کریم میں مذکور مقامات کے دورے کئے اور ان جگہوں کا مشاہدہ کیا ۔1962ء میں سیاسی جماعتوں سے پابندی ہٹا لی گئ تو اسلامی جمعیت طلبہ بھی فعال ہوگئ اور مختلف یونیورسٹیوں کے اندر انتخابات میں حصہ لیا۔ اسی دوران مولانا خلیل احمد حامدی ناظم دارالعروبہ مقرر ہوۓ ،وہ بیرونی وفود کے دوروں کے موقع پر مولانا مودودی کے مترجم کے فرائض بھی انجام دیتے تھے اور آپ کی کئ کتب کا انھوں نے عربی میں ترجمہ کرکے جماعتِ اسلامی کے لٹریچر کو دور دراز کے ممالک تک پہنچایا۔1965ء کی پاک بھارت جنگ میں جماعتِ اسلامی نے حکومت کے شانہ بشانہ کام کیا ،طبی کیمپ قائم کئے گئے۔مسئلہ کشمیر پر پانچ زبانوں میں لٹریچر شائع کیا گیا۔1968ء میں سوشلزم کا مقابلہ کرنے کے لئے ” ادارہ دائرۃ الفکر” قائم کیا گیا ،

 

لٹریچر کے ذریعے سوشلزم اور کمیونزم کو شکست سے دو چار کردیا گیا۔1971ء کی جنگ کا معرکہ ، مشرقی پاکستان کے دفاع کی خاطر ،جماعت_ اسلامی کی ذیلی تنظیم “البدر” نے پاک فوج کے ہمراہ ،بھارتی افواج اور مکتی باہنی کے خلاف لڑا،شہادتیں بھی ہوئیں اور گرفتاریاں بھی مگر سقوط _ ڈھاکہ ہوگیا ،پاکستان دو لخت کردیا گیا ۔مولانا مودودی نے نوے ہزار قیدیوں کی بھارتی عقوبت خانوں سے رہائی کے لئے 250 سربراہان_ مملکت کو خطوط لکھے اور عالمی راۓ ہموار کی۔ مولانا مودودی اور مولانا خلیل احمد حامدی نے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے دورے بھی کئے۔” بنگلہ نامنظور” مہم چلائی گئی ۔1972ء میں میاں طفیل محمد صاحب کو جماعتِ اسلامی کے امیر کے طور پر منتخب کیا گیا ۔ جماعتِ اسلامی میں امارت کا معیار صرف تقوی’ اور کارکردگی ہے ۔ جماعت کے دستور کے مطابق اراکینِ جماعت ،خفیہ راۓ دہی کے ذریعے سے اپنے امیر کو منتخب کرتے ہیں۔27 فروری 1979ء کو سعودی عرب میں شاہ فیصل فاؤنڈیشن کی جانب سے مفسر_ قرآن سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کو ان کی علمی و ادبی خدمات پر ایوارڈ دیا گیا۔

 

اس ایوارڈ سے پہلے دنیا بھر کی اسلامی تنظیموں ،مؤثر شخصیات اور بین الاقوامی اداروں کو ایک سوالنامہ بھیجا گیا تھا کہ جس میں ایسا نام تجویز کرنے کی درخواست کی گئ تھی جسے پہلا شاہ فیصل ایوارڈ دیا جاسکے۔ ان سوالناموں میں تقریباً نوے فیصد نے جواب میں مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ کا نام لکھا تھا ( بحوالہ سید حمید مودودی) ۔ بانیء جماعتِ اسلامی بوجوہ ناسازیء طبیعت خود نہ جاسکے ،انھوں نے اپنے بیٹے حیدر فاروق کے ساتھ ڈائریکٹر امور خارجہ مولانا خلیل احمد حامدی کو اپنے نمائندے کی حیثیت سے بھیجا جنہوں نے وہاں عربی زبان میں تقریر کی اور مولانا مودودی کا خط پڑھ کر سنایا ۔خط میں مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے سعودی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ لکھا تھا کہ انھوں نے جو کام بھی کیا ہے ،اسے دینی فریضہ سمجھ کے کیا ہے اور ایوارڈ کی رقم اقامتِ دین کی جدوجہد میں استعمال کی جاۓ گی۔ بعد ازاں مولانا خلیل احمد حامدی کی تجویز پر اس رقم سے حالیہ “مرکز_ جماعت منصورہ” کو آباد کیا گیا .یہاں دفاتر کی تعمیرات ،اداروں کی تشکیل اور انسانی وسائل کی فراہمی مولانا خلیل احمد حامدی کا ذمہ قرار پائی جنہوں نے اپنی پوری جان لگا کے اس سرسبز و شاداب منصورہ کو بسایا۔( راقمہ کے سامنے ، محترمہ زبیدہ بیگم ،اہلیہ مولانا خلیل احمد حامدی کی گواہی ).

 

جب روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو جماعتِ اسلامی نے کفار کے خلاف نقارہء جہاد بلند کیا۔ عالمی طاقتوں کو اسی لئے جماعت ہمیشہ کھٹکتی ہے ۔بانیء جماعتِ اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی کا وژن ” احیاۓ اسلام ” کا عالمگیر وژن تھا جس کی خاطر انھوں نے ان تھک محنت کی اور اس صدی کے مجدد_ دین قرار پاۓ ۔آپ کی شخصیت علم و عمل ،گفتارو کردار کا متاثر کن مجموعہ تھی ،آپ 1979ء میں بوجوہ گردوں کے مرض انتقال فرماگئے۔آپ کی نمازِ جنازہ حرم_ کعبہ کے علاوہ دنیا کے تین براعظموں میں ادا کی گئ۔ آپ اپنے مشن کی صورت میں آج بھی زندہ ہیں ۔ مولانا طفیل محمد، قاضی حسین احمد ، سید منور حسن ، مولانا سراج الحق اور اب حافظ نعیم الرحمن کی صورت میں امراۓ جماعتِ اسلامی نے کلمہء طیبہ والے پرچم کو اٹھا رکھا ہے ۔مردانہ تنظیم کے ساتھ اب حلقہء خواتین بھی بزم آراء ہے ۔ویمن ونگ کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق کی قیادت میں تعلیم یافتہ ،دین دار مائیں ،بہنیں اور بیٹیاں قوم کی خاطر محو_ جدوجہد ہیں ۔اسلاف کی قربانیوں کے پیشِ نظر ، شہیدوں کی امانت نظریہء پاکستان اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ہر شعبہء ہاۓ حیات میں کوشاں ہیں ،نظام کو بدلنا ہے ،ٹرانسجینڈر ایکٹ جیسے انسانیت دشمن قوانین کو چیلنج کرنا ہے،

 

اسلامی تہذیب و تمدن کا دفاع کرنا ہے ،اقتدار کو کرپٹ لوگوں کے ہاتھ سے لے کر صالحین کے ہاتھ میں دینا ہے۔ مساجد اور محلوں میں جماعت کے مدرسین اور مدرسات کو سنیں، اقتدار کے ایوانوں میں ڈاکٹر کوثر فردوس ،عائشہ سید،ڈاکٹر وسیم اختر ،سینیٹر مشتاق احمد خان ،سید عبد الرشید جیسے قابل عوامی نمائندوں کی مثالیں دیکھیں، قدرتی آفات ،سیلاب ،زلزلوں میں الخدمت فاؤنڈیشن کو اپنے اردگرد پائیں ،الیکٹرانک میڈیا پر جناب امیر العظیم اور سوشل میڈیا پر ویمن ونگ سے آمنہ عثمان کے پوڈ کاسٹ سنیں، جماعتِ اسلامی کے فیس بک پیجز اور ٹویٹر ایکس ہینڈلز کو سکرول کریں تاکہ آپ جان سکیں کہ جماعتِ اسلامی دراصل آپ کی دنیا وآخرت کی فلاح کا مکمل پیکج رکھتی ہے۔ یہ حب الوطنی کے جس درجہ پر ہے ،کوئی اور پارٹی نہیں ہے ۔ جماعتِ اسلامی اتحاد_ امت کی داعی ہے اور ہر قسم کی فرقہ واریت سے مبرہ ہے۔امت مسلمہ کے زخم کبھی کشمیر و فلسطین ریلیوں کی صورت میں ،کبھی پارلیمنٹ میں قراردادوں کے ذریعے سے ،کبھی بیرون_ ملک کانفرنسوں میں اجاگر کرتی رہتی ہے۔

 

جسے سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرپشن فری پارٹی ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور پلڈاٹ نے جماعتِ اسلامی کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو کارکردگی میں نمبر ون قرار دیا۔ خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی کے سینیئر وزیر خزانہ نے قرضہ فری بجٹ بناکے اور اپنے وسائل سے صوبے میں ریکارڈ ترقی یافتہ کام کرواکے ورلڈ بنک کے ماہرین کو بھی حیران کیا ہے۔سود کے خلاف جماعتِ اسلامی نے کئی سال عدالت میں مقدمہ لڑا ہے ۔پانامہ لیکس کے مقدمات میں جماعت اسلامی وطن کے محافظوں کی صورت کھڑی رہی ہے ،چوروں کا محاسبہ کیا ہے ۔جماعت قوم کے مفاد میں خدمتِ خلق کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ عوام کے مسائل ، مہنگائی ، بجلی کے زائد بل، بیروزگاری ،غربت ،سرمایہ دارانہ نظام _ معیشت، سودی قرضوں اور آئی ایم ایف کے ناجائز مطالبات کے خلاف میدان میں ہوتی ہے۔اسلام کے نظامِ عدل و انصاف کی علمبردار ،ترازو کے نشان والی صرف جماعتِ اسلامی ہے ۔حال ہی میں شروع کیا گیا ” بنو قابل ” پروگرام ، نوجوانوں کو آئی ٹی ،فری لانسنگ اور دیگر جدید مہارتوں کے ذریعے سے روشن مستقبل کا مژدہ سنارہا ہے ۔ جماعتِ اسلامی میں پی ایچ ڈیز کی ایسی ہائی کلاس موجود ہے جو آنے والے ہر چیلنج کا سامنا کرنے کی حکمت عملی تیار کرسکتی ہے۔۔جماعت کا ویژن ،پاکستان کے روشن مستقبل کا ویژن ہے۔جماعت_ اسلامی کا حصہ بنئیے ۔اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں آپ سب کی منتظر ہے۔

~اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں میں ،ہر سو خوشحالی لائیں گے
جس ارض_ وطن پہ ظلم نہ ہو ،وہ پاکستان بنائیں گے !
( ان شاءاللہ).

 

 

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
90983

محمد طلحہ محمود فاونڈیشن نے جو بھی وعدے چترال کی عوام کے ساتھ کیے تھے وہ سب شرمندہ تعبیر ہو کر رہیں گے۔ ترجمان طلحہ محمود فاونڈیشن

Posted on

محمد طلحہ محمود فاونڈیشن نے جو بھی وعدے چترال کی عوام کے ساتھ کیے تھے وہ سب شرمندہ تعبیر ہو کر رہیں گے۔ ترجمان طلحہ محمود فاونڈیشن

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ )محمد طلحہ محمود فاونڈیشن ٹیم کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے،کہ طلحہ محمود فاؤنڈیشن جس طرح سے پورے چترال میں انسانیت کی خدمت اور چترال کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کر رہی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ طلحہ محمود فاؤنڈیشن چترال کے طول و عرض میں پہنچ کر انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے۔ بحیثیت انسان اور مسلمان ہونے کے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اچھے کام کی تعریف کریں اور اپنی بساط کے مطابق اس میں حصہ ڈالنے کی کوشش کریں۔

انسانی خدمت کی اس سفر میں کچھ لوگ اپنی سیاسی مفادات، ذاتی مفادات اور قومی مفادات کے لیے نیک کاموں میں بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں شامل فیس بک میں ایک پیج میں آئے روز سینٹر طلحہ محمود اور ان کی سیاست کے بارے میں مختلف قسم کے پوسٹ ہوتے رہتے ہیں۔ یہ پیج جو بھی چلا رہا ہے یہ اپنے آپ کو سینٹر طلحہ کے قریبی رشتہ داروں میں دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس حوالے سے سینیٹر محمد طلحہ محمود کے فرزند مصطفی بن طلحہ نےوضاحتی بیان دیا تھا کہ اس پیج کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

آج ہم اپنی طرف سے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس پیج کا نہ ہمارے فاؤنڈیشن اور نہ ہمارے فاؤنڈیشن کے چیئرمین سینٹر محمد طلحہ محمود کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ ہے بلکہ یہ ایک فیک پیج ہے جو کہ صرف اور صرف معاشرے میں منفی اثرات مرتب کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ بحیثیت ادارہ ہم اس پیج کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور جو بھی پوسٹ اس پیج سے کی گئی ہیں ان سب سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ محمد طلحا محمود فاؤنڈیشن کی سرگرمیاں اسی طرح پورے چترال میں چلتی رہیں گی۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود نے جو بھی وعدے چترال کی عوام کے ساتھ کیے تھے وہ سب شرمندہ تعبیر ہو کر رہیں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں
90979

سابق ممبر صوبائی اسمبلی سید سردار حسین کا بریپ حادثے پر افسوس اورلواحقین سے تعزیت کااظہار

Posted on

سابق ممبر صوبائی اسمبلی سید سردار حسین کا بریپ حادثے پر افسوس اورلواحقین سے تعزیت کااظہار

چترال( نمائندہ چترال ٹائمز)سابق ممبرصوبائی اسمبلی اپرچترال سیدسردارحسین شاہ نے پلموٹھینگ بریپ کے مقام پرٹیوٹالینڈکروزرگاڑی کے المناک حادثے میں جان بحق اورزخمی ہونے والے افرادکے لواحقین کے ساتھ ہمددری اورانسانی جانوں کے ضیاع پرانتہائی دکھ اورافسوس کااظہارکیا۔اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعاکی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومیں کے درجات بلندفرما ئے اورجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے اورزخمیوں کوجلد صحت یابی نصیب کرے اور سوگوارخاندانوں کوصبرجمیل عطاء فرمائے(آمین)۔
سیدسردارحسین شاہ نے اس دلخراش واقعے میں جان بحق ہونے والے اورزخمیوں کے اہل وعیال کوسرکاری طورمعاوضہ دینے اورسڑکوں کی کشادگی پرفوری کام شروع کرنے کامطالبہ کیاہے ۔ انہوں نے تعزیتی بیان میں متاثریں کے ورثاء کوہرممکن تعاون کی یقینی دہانی کی اورکہاکہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابرکے شریک ہیں ۔ غم کی اس گھڑی میں ہم آپ کے ساتھ ہیں اورآپ کوتنہانہیں چھوڑاجائیگا۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں
90977

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورکا محکمہ داخلہ میں قائم سنٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا دورہ

Posted on

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورکا محکمہ داخلہ میں قائم سنٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا دورہ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورنے منگل کے روز محکمہ داخلہ میں قائم سنٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا دورہ کیا اور دسویں محرم کیلئے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات خان گنڈا پور، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید، کمشنر پشاور ریاض محسوداور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ کو متعلقہ حکام کی جانب سے سیکیورٹی کے انتظامات کے بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ محرم الحرام کے جلوس اور مجالس صوبے کے کل چودہ اضلاع میں منعقد ہو رہے ہیں، ان میں سے 8 اضلاع حساس ترین جبکہ 6 حساس قرار دئیے گئے ہیں۔ان 14 اضلاع میں محرم الحرام کی سیکیورٹی کیلئے 40 ہزار سیکیورٹی عملہ تعینات ہے جس میں پولیس کے علاوہ پاک فوج، ایف سی اور دیگر سول محکموں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

 

مزید بتایا گیا کہ صوبے میں محرم الحرام کی کل 7054 مجالس منعقد ہو رہی ہیں،جبکہ محرم الحرام کے جلوسوں کی کل تعداد 858 ہے۔محرم الحرام کے جلوسوں کے تمام راستوں کی سی سی ٹی وی اور ڈرون کیمروں سے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ مزید برآں مرکزی کنٹرول روم میں صوبے میں محرم الحرام کے تمام جلوسوں کی لائیو مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کا مو ¿ثر نظام قائم ہے۔ مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم میں پولیس اور فوج کے علاوہ دیگر تمام متعلقہ صوبائی محکموں اور اداروں کے نمائندے 24 گھنٹے ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئیک رسپانس کا مو ¿ثر میکینز م قائم ہے۔ مزید برآں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ نے خان رازق شہید پولیس سٹیشن قصہ خوانی میں قائم مانیٹرنگ روم اور کوہاٹی گیٹ میں قائم سپریم کمانڈ پوسٹ کا بھی دورہ کیا اور محرم الحرام کیلئے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔

 

وزیراعلیٰ کو متعلقہ حکام کی جانب سے محرم الحرام کی سیکیورٹی سمیت مجالس اور جلوس والے مقامات پر صفائی ستھرائی اور زخمیوں کو بر وقت فرسٹ ایڈ کی فراہمی اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے محرم الحرام باالخصوص یوم عاشورہ کیلئے خصوصی سیکیورٹی اور دیگر انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دسویں محرم الحرام کے جلوسوں کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ علی امین خان گنڈا پور نے محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور سول محکموں کے اہلکاروں کیلئے اعزازیہ دینے کا اعلان کیا ہے اور متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ضروری کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دسویں محرم کیلئے سیکیورٹی سمیت تمام انتظامات تسلی بخش ہیں، امید ہے کہ محرم الحرام پر امن انداز میں گزر جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے تمام مکاتب فکر کے علمائکرام اور شہریوں سے محرم الحرام کے دوران فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو قائم رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

 

chitraltimes cm kp visit command and controll office peshawar on Aashura 2

chitraltimes cm kp visit command and controll office peshawar on Aashura 3

 

عاشورہ محرم کے موقع پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا پیغام

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورنے کہا ہے کہ واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان ایک عظیم معرکہ تھا جس میں نواسہ رسول امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ نے دین اسلام کی سربلندی کےلئے لازوال اوربے مثال قربانی پیش کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ کربلا کا واقعہ ہمیں ایثار، قربانی، حق کی حمایت ، باطل کی مخالفت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر مسلمان نہ صرف اپنی عظمت رفتہ کو بحال کر سکتے ہیں بلکہ دنیا میں انسانیت کے استحصال اور ظلم کا خاتمہ کر کے پائیدار امن بھی قائم کر سکتے ہیں۔ عاشورہ محرم کی مناسبت سے یہاں سے جاری اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ سانحہ کربلا تاریخ کے نااہل حکمرانوں کے ظلم و بربریت پر مبنی ایک واقعہ ہے جس میں پوری انسانیت کےلئے عظیم درس پوشیدہ ہے۔ امام عالی مقام یزیدی ظلم و جبر کے خلاف حق کے علمبردار تھے، آپ نے ظالم و جابر حکمرانوں اورانکی انسانیت دشمن پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا درس دیااور اپنے پورے خاندان کی قربانی دی اور حق و صداقت کی بالادستی کیلئے صبر و استقامت کی عظیم مثالیں قائم کیں۔انہوں نے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ظلم و لاقانونیت کے خلاف متحد ہو جائیں، آپس میں الجھنے کی بجائے ان الجھنوں کا سبب بننے والے عوامل کا قلع قمع کریں،غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان کے لیے ایک زندہ قوم کے طور پر ظلم اورنا انصافی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔ علی امین خان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس مبارک مہینہ کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے مسلکی ہم آہنگی کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے تمام مکاتب فکر کے علماءاور عوام سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
90972

وہ سبق ہم بھول گئے – از:کلثوم رضا

Posted on

وہ سبق ہم بھول گئے – از:کلثوم رضا

بچپن سے سنتے ا رہے تھے کہ محرم کا مہینہ انے والا ہے ۔اس لیے سارے خوشیوں کے کام پہلے نمٹانا چاہیے۔شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کی تاریخ محرم سے پہلے یا بعد میں طے کیے جاتے۔یکم محرم سے تو عاشورہ تک نئے کپڑے نہ ہی سلتے، نہ پہنے جاتے۔یوم عاشورہ پر کوئی بھیڑ،بکری یا دو تین مرغے،مرغیاں ذبح کرکے صدقہ کیا جاتا اور بتایا یہ جاتا کہ اس روز خون نکالنا لازمی ہے۔اور ساتھ کہانی یہ سنائی جاتی کہ اس روز نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کیا گیا ہے۔اس غم میں یہ دن منایا جاتا ہے۔

(اس سے ذیادہ بچوں کو بتانا شاید ضروری نہیں سمجھتے تھے)تو ہم سمجھتے تھے کہ یزید کوئی کافر تھا جس کے مقابلے میں حضرت امام حسین رض ائے ۔مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے یزید کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔شاید میری طرح اکثریت کو یہ سننے کو ملا ہو گا۔تھوڑے سے بڑے ہوئے تو ایک ہم جماعت سے سنا کہ ان دنوں غم نہیں منانا چاہیے۔ اس کا غم صرف شیعہ مناتے ہیں۔تو ابھی عقل کی نا پختگی تھی کسی سے مزید نہیں پوچھا کہ غم منانا ہے یا نہیں۔لکن دل میں ایک بات اٹک رہی تھی کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت (وہ بھی ایسی شہادت کہ خاندان کا خاندان مٹ گیا)کا غم کیسے نہ منائیں ؟
وہ کیسے ہاتھ تھے جو نواسہ رسول پر اٹھے؟
وہ کون لوگ تھے جو اس واقعے پر خاموش تماشائی بنے رہے؟
لکن اظہار نہیں کیا اس ڈر سے کہ کہیں کوئی شیعہ نہ سمجھ بیٹھے۔۔۔
پھر جب خوب بڑے ہوئے تو اس متعلق مضامین پڑھے،کتابیں پڑھی،تو بالکل ایک نیا باب کھل گیا ۔۔۔کہ نہ یزید کافر تھا۔۔۔نہ اس کا ساتھ دینے والے بیگانے تھے،اور نہ ہی امام حُسین امامت کے لیے سب کچھ قربان کر بیٹھے تھے۔۔۔۔
یہ معرکہ ہی الگ تھا ۔یہ حق اور نا حق کے،ظلم و جبر کے درمیان معرکہ تھا۔یزید تھا تو ایک مسلمان حکمران لیکن ایک ایسے نظریے کو جو خدائی منشور کے برعکس دنیاوی قوت اور جاہ و حشمت کو پروان چڑھا رہا تھا۔جبکہ امام حسین اس سے پیدا ہونے والی خرابیوں کا ادراک کرکے قران اور سنت کے علمبردار بننے کو ترجیح دی۔

 

یزید کے نظام جبر اور ملوکیت کے تحت تین طبقات وجود میں آئے۔ایک طبقہ اپنے ذاتی چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر یزیدی نظام کا تابعدار اور مددگار بن گیا۔دوسرے طبقے نے خود کو کمزور پیش کر کے رخصت ،خاموشی اور مصلحت کا راستہ اپنا لیا ۔اور تیسرے طبقے نے پیغمبرانہ سنت اور خلفائے راشدین کے طریق اور طرز حیات کو اپناتے ہوئے اللہ کی زمین پر اللہ کی بادشاہی اور اسی کا نظام رائج کرنا چاہا تھا جو شہید کیا گیا۔۔
(اور ان پہلے دو طبقوں کی نسلیں آج تک زندہ ہیں ۔۔۔جو قوت و جاہ حشمت کو اللہ کا دین سمجھتے ہیں۔۔۔اور اس بات پر یکسر توجہ نہیں دیتے کہ اللہ اپنی رضا سے طاقت اور جاہ و حشمت دیتے تو اپنے پیرو کاروں کو دیتے۔۔۔)
افسوس ہم مسلمانوں کو یہ مہینہ،یہ دن اور یہ غم یاد رہا نہ رہا تو وہ سبق جو اس واقعے سے ملا تھا۔
اس واقعے کا سب سے بڑا سبق صبر اور جرات تھا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی آزمائش پر صبر و استقامت کا رویہ اپنانا تھا۔
باطل چاہے جتنا مضبوط ہو اس کے اگے کلمہ حق بلند کرنا تھا۔
جب جان پر بنی ہو تب بھی نماز اور قرآن پڑھنا لازم تھا۔
سب کچھ لٹ جانے کے بعد بھی عورتوں کا اپنے پردے کا خیال رکھنا تھا۔

حق پر ہونے والوں کی تعداد مٹھی بھر سہی لیکن آللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنے کے لیے باطل قوتوں سے ٹکرا جانا تھا۔۔۔
یہ سبق یاد رہا تو صرف فلسطین والوں کو۔۔۔جنھیں ہم نے ہو بہو کرب و بلا میں پایا ۔۔۔وقت کے یزید اور حسین کو آمنے سامنے پایا اور کوفیوں کا کردار نبھاتے مسلم حکمرانوں کو پایا۔

تماشائی ہیں کوئی غم نہیں ہے
غزہ بھی کربلا سے کم نہیں ہے
نہ پانی ہے،نہ روٹی ہے ،نہ سایہ
مگر اہل کرم میں دم نہیں ہے
(رہبر)

وہ ساٹھ ہجری کے حسین تھے جس نے اپنا سب کچھ اسلام کی خاطر لٹایا اور یہ چودہ سو چھیالیس ہجری کے حسین ہیں جو اپنا سب کچھ اسلام کی خاطر لٹا رہے ہیں۔۔۔

جلے ہوئے ہیں تمام خیمے
نجانے ملبے میں کیا بچا یے
دھواں ہے،آنسو ہیں ،التجا یے
غزہ میں ہر سمت کربلا ہے
( ڈاکٹر عزیزہ انجم)

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
90969

ایم این اے عبد الطیف کی چیئرمین این ایچ اے سے ملاقات، ریشن کے مقام پر چترال شندور روڈ کو بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھانے کی یقین دہانی 

ایم این اے عبد الطیف کی چیئرمین این ایچ اے سے ملاقات، ریشن کے مقام پر چترال شندور روڈ کو بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھانے کی یقین دہانی

چترال (نمائندہ آج) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن عبداللطیف نے چیرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے ان کے دفتر میں ملاقات کرکے انہیں چترال میں این اے ایچ کی روڈ پراجیکٹس اور خصوصاً چترال شندور روڈ اور ریشن کے مقام پر سڑک کی دریا بردگی کے خطرات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے شدید عوامی ردعمل اور تشویش سے ان کو آگاہ کیا اور ان پر واضح کیاکہ اگر رواں سیزن میں اس پر ایمرجنسی بنیادوں پر کام کرکے اسے بچانے کی کوشش نہ کی گئی تو نہ صرف اپر اور لویر چترال کے درمیان سڑک کے ذریعے رابطہ منقطع ہوگا بلکہ گلگت بلتستان سے بھی رابطہ منقطع ہونے سے سیاحت کو ناقابل تلافی نقصان لا حق ہوگا۔ منگل کے روز اسلام آباد سے ٹیلی فون کے ذریعے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ چیرمین این ایچ اے نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ اپر چترال کے ریشن میں سڑک کو دریا برد ہونے سے بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں گے اورچترال شندور روڈ پراجیکٹ کی نشاندہی کردہ نقائص کو دور کرکے اس پراجیکٹ پر کام کو مقررہ معیار کے عین مطابق بروقت پایہ تکمیل کو پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ا جائے گا۔

 

انہوں نے بتایاکہ پی ٹی آئی کے سابق صوبائی حکومت کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی وزیر زادہ صاحب نے2022ء میں آفت زدہ ریشن گاؤں تین اطراف سے سیلاب کے خطرات سے بچانے کے لئے 16کروڑ روپے کی خطیر رقم منظور کرائی تھی جس میں سے ساڑھے 3کروڑ روپے سے 1100فٹ طویل حفاظتی پشتہ شادیر کے مقام پر سڑک کو دریا سے بچانے کے لئے تعمیر کی گئی تھی جوکہ 32فٹ وسیع البنیاد اور 15فٹ اونچی تھی لیکن لون گاؤں کے سرک جانے کے نتیجے میں دریا کا رخ مکمل طور پر اس طرف مڑجانے کی وجہ سے دریا کی طغیانی کے دوران پانی کا سطح حد سے ذیادہ بلند ہوکر اس حفاظتی پشتے کے اوپر سے زمینات کی کٹائی شروع کردی۔ انہوں نے کہاکہ باقی ساڑھے 12کروڑ سے ریشن گول اور دوسرے مقامات پر حفاظتی پشتوں پر کام جاری ہیں۔ چترال یونیورسٹی کی بندش کی افواہ کے بارے میں چترال سے ایم این اے عبداللطیف کا کہنا تھاکہ صوبائی حکومت کسی بھی یونیورسٹی کے پراجیکٹ فیز میں اس کا مکمل ذمہ دار ہوتا ہے اور اس دوران صوبائی حکومت نے اس یونیورسٹی کو مالی بحران سے دوچار ہونے نہیں دیا مگر جب یونیورسٹی باقاعدہ ایکٹ کے تحت قائم ہونے اور یہاں وائس چانسلر کی تقرری کے بعد یہاں مالی مسئلہ سر اٹھانے لگا جب وفاقی حکومت نے اس سے منہ موڑنے کا سلسلہ شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 2022ء میں 200 میلین روپے ریلیز کی جس سی یونیورسٹی اب تک چل رہی ہے لیکن پی ڈی ایم حکومت نے اپنی زمہ داری پوری نہیں کی اور گرانٹ نہیں دی۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے 56کرروڑ روپے کی خطیر رقم سے یونیورسٹی کے لیے زمین خریدی جب کہ تعمیر کے لئے 2 ارب سے زائد فنڈ پی ٹی ائی کے گزشتہ وفاقی گورنمنٹ نے منظور کی لیکن بدقسمتی سے اس سال کی بجٹ میں وفاقی حکومت نے صرف دو سو ملین مختص جوکہ شرمناک ہے۔عبداللطیف نے کہاکہ چترال یونیورسٹی کو موجودہ وقت میں مالی بحران سے نکالنے کے لئے چیف منسٹر سے گرانٹ ان ایڈ کے لئے کیس بھیج دیا گیا ہے۔لیکن وفاقی حکومت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے خیبر پختون خواہ کے تمام یونیورسٹی کو اپریشنل اخراجات کے. لۓ فنڈز دینے کے لیے تیار نہیں ہے جس کی وجہ سے خیبر پختون خواہ کی یونیورسٹیز مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں اس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی دشمنی میں خیبر پختون خواہ کے لوگوں کے حقوق پہ ڈاکہ ڈال رہی ہے جس طرح مرکزی حکومت نے پی ایس ڈی پی سے پہلے سے منظور شدہ عوامی مفاد کے 90 سکیم بجٹ سے نکال دی ہے جس میں چترال گرم چشمہ روڈ بھی شامل ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سندھ کے لیے تو اسمبلیوں سے استعفی دینے کی دھمکی بھی دے کر بلیک میلنگ کر کے فنڈ منظور کرواتا رہا ہے لیکن چترال اور خیبر پختون خواہ کے لیے کبھی بھی ایک لفظ بولنے کے لیے تیار نہیں اگر بلاول بھٹو چترال کے ساتھ مخلص ہوتا تو جس طرح سندھ کے منصوبے منظور کروانے کے لیے بھوک ہڑتال کرنے کے لیے تیار تھا اس طرح گرم چشمہ روڈ بھی منظور کروانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
90967

پختونخوا حکومت کا ایک لاکھ خاندانوں کو مفت سولر سسٹم دینے کا فیصلہ

Posted on

پختونخوا حکومت کا ایک لاکھ خاندانوں کو مفت سولر سسٹم دینے کا فیصلہ

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ) خیبر پختونخوا حکومت نے ایک لاکھ خاندانوں کو مفت سولر سسٹم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے میں لوڈشیڈنگ سے پریشان غریب خاندانوں کو سولر سسٹم دینے کی ہدایت کردی ہے۔صوبائی حکومت کے تحت پختونخوا کے غریب خاندانوں کو 2 کے وی کا سولر سسٹم دیا جائے گا۔

solar panel

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
90965

ملک بھر میں 9 محرم کے جلوس، سخت سکیورٹی انتظامات، موبائل سروس جزوی بند

Posted on

ملک بھر میں 9 محرم کے جلوس، سخت سکیورٹی انتظامات، موبائل سروس جزوی بند

اسلام آباد(سی ایم لنکس)ملک بھر میں 9 محرم کے جلوس مختلف شہروں سے برآمد ہوئے، اس موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے، موبائل سروس جزوی بند ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آ باد لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں ملک بھر میں 9 ویں محرم الحرام کے موقع پر چھوٹے بڑے شہروں میں جلوس نکالے گئے۔عزاداروں کی جانب سے نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کی گئی،اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مختلف شہروں میں جلوس کے راستوں پر موبائل فون سروس بھی جزوی طور پر معطل ہے،جلوس کے راستوں پر عزاداروں کے لئے سبیلوں اور لنگر حسینی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔لاہور میں 9 ویں محرم الحرام کا مرکزی جلوس پانڈو اسٹریٹ اسلام پورہ سے برآمد ہو ا جلوس کے راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، علاقے میں واک تھرو گیٹس لگا دیئے گئے جبکہ خار دار تاریں، کنٹینر اور بیریئر لگا کر جلوس کی آمد گاہ اور راستے کو سیل کر دیا گیا ہے۔اسلام آباد میں 9 ویں محرم کا جلوس امام بارگاہ اثنا عشری جی سکس سے برآمد ہوا،جلوس روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے امام بارگاہ اثنا عشری میں ہی اختتام پذیر ہو گا،

 

جلوس کے راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، جلوس میں شامل ہونے کیلئے واک تھرو گیٹس لگائے گئے، مختلف مقامات پر جلوس کی گزرگاہ کے اطراف کے راستوں کو سیل کردیا گیا ہے۔کراچی میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس دن ڈیڑھ بجے نشتر پارک سے برآمد ہو گا۔ دوپہر 12 بجے کے بعد نشتر پارک میں مرکزی مجلس ہو گی اور مجلس کے بعد جلوس نشتر پارک سے برآمد ہو گا۔ ٹریفک پولیس کراچی کے مطابق ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ہے، شہریوں کیلئے کوریڈور تھری، سولجر بازار، کشمیر روڈ، پیپلز چورنگی اور شارع قائدین کے متبادل راستے کھولے گئے ہیں، جلوس کی گزرگاہ اور اطراف کے راستوں میں موبائل فونز سگنل بھی بند، جلوس کی سکیورٹی پر 7 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔پشاور میں مجموعی طور پر 18 ماتمی جلوس پہلا جلوس صدر امام بارگاہ حسینیہ ہال سے صبح 10 بجے جبکہ دوسرا جلوس امام بارگاہ قمربنی ہاشم علی کالونی سٹی سے 3 بجے برآمد ہو گا، جلوس کیلئے شہر بھر میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں، مجموعی طور پر 14 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کئے گئے، صدر اور اندرون شہر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ موبائل فون سروس بھی جزوی طور پر معطل ہے۔کوئٹہ میں 9 ویں محرم الحرام کی مرکزی جلوس کی سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے، جلوس کے دوران امام بارگاہ جانیوالے راستوں کو سیل کر دیا گیا،ملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس چھوٹے اور بڑوں شہروں سے برآمد ہو رہے ہیں جبکہ مجالس منعقد اور نوحہ خانی کی جارہی ہے۔ جلوس کے راستوں پر سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ کر اختتام پذیر ہو جائیں گے۔

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
90962