Chitral Times

Jul 23, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بے نامی اداروں کے مکمل خاتمے کے لیے ایف بی آر کا بڑا فیصلہ

Posted on
شیئر کریں:

بے نامی اداروں کے مکمل خاتمے کے لیے ایف بی آر کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد( چترال ٹایمزرپورٹ)بے نامی اداروں کے مکمل خاتمے کے لیے ایف بی آر نے بڑا فیصلہ کر لیا ہے، اب ایسوسی ایشن آف پرسنز کے ڈائریکٹرز کی تمام تفصیلات دینا ہوں گی۔تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر نے سیکشن 83 بی، 83 سی، 83 ڈی اور 83 ای میں ترامیم کر دی ہیں، جس کے تحت ایسوسی ایشن آف پرسنز کے بورڈ میں بے نامی داروں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا، اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے ڈائریکٹرز کی تمام تفصیلات دینا ہوں گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایسوسی ایشن آف پرسنز تمام بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 10 سال کا ریکارڈ رکھنے کے پابند ہوں گے، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نام، ولدیت اور ان کے شناختی کارڈ کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔اے او پیز بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تاریخ پیدائش، اور شہریت سے متعلق معلومات بھی دینے کے پابند ہوں گے، ڈائریکٹرز کی رہائش، دفاتر کے پتے بھی ظاہر کرنے ہوں گے، اور ان کی کمپنی میں شیئرز کی ملکیت کی شرح سے آگاہ کیا جائے گا۔اے او پیز تمام سمندر پار بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تفصیلات بھی دینا ہوں گی، اے او پیز کو ظاہر کرنا ہوگا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے فیصلوں میں کتنا کنٹرول رکھتے ہیں، ایسوسی ایشن آف پرسنز میں بورڈ آف ڈائریکٹرز رشتے دار ہیں تو ان کی تفصیلات بھی دینا ہوں گی۔

 

ٹیکس سے متعلق کیس: چیف جسٹس کی دلائل نہ دینے پر وکیل کی سرزنش

اسلام آباد( چترال ٹایمزرپورٹ)چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیس سے متعلق دلائل نہ دینے پر سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کی سرزنش کر دی۔سپریم کورٹ میں ٹیکس سے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ہوئی۔چیف جسٹس پاکستان نے دلائل نہ دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وکیل فیاض شیرازی سے مکالمے میں کہا کیس کے میرٹ پر دلائل دیں، بتائیں آپ کی درخواست قابل سماعت ہے؟وکیل فیاض شیرازی نے کہا کہ ہمارا کیس زائد المعیاد ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت آپ کا کیس سننا چاہتی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کیس زائد المعیاد ہے، آپ کلرک نہیں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا بڑا احترام ہے کیونکہ آپ سینئر وکیل ہیں اور آپ کا بڑا مرتبہ ہے۔چیف جسٹس کا اپنے ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ ایسے کیسز دائر کرنے سے دیگر مقدمات کے فکس ہونے پر اثر پڑتا ہے، ہم آپ کی عزت کریں گے، آپ اس عزت کو خود نقصان نہ پہنچائیں۔چیف جسٹس پاکستان نے وکیل کی جانب سے دلائل نہ دینے پر نظرثانی درخواست مسترد کر دی۔

 

سندھ اسمبلی کی 80 سے زائد گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال کا انکشاف

کراچی(سی ایم لنکس)سندھ اسمبلی کی 80 سے زائد گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال کا انکشاف ہوا ہے، سندھ اسمبلی کے ملازم آفتاب مہر نے اس سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر کو ایک خط لکھا ہے اور حکام کو لیگل نوٹس بھجوا دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے ملازم آفتاب مہر کی جانب سے حکام کو ایک لیگل نوٹس بھیجا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی کی 80 سے زائد گاڑیاں غیر قانونی طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔لیگل نوٹس کے مطابق سندھ اسمبلی کے پاس 120 گاڑیاں ہیں، 42 گاڑیاں مختلف ملازمین استعمال کر رہے ہیں، اکثر ملازمین کو سندھ اسمبلی کی گاڑیاں الاٹ نہیں ہو سکتیں، اسپیشل سیکریٹری سندھ اسمبلی نے سابق ایم پیز اور دیگر کو گاڑیاں واپس کرنے کا کہا تھا۔لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی کی 22 گاڑیاں اسپیکر آغا سراج درانی کے زیر استعمال ہیں، جب کہ ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی کے پاس 3 گاڑیاں ہیں، اسٹیڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے پاس بھی 9 گاڑیاں ہیں جو واپس نہیں کی گئیں، اس کے علاوہ سابق اسپیکر اور سابق ایم پی ایز کے پاس 11 گاڑیاں ہیں جو 10 سال سے پیٹرول کے ساتھ استعمال کی جا رہی ہیں۔یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی کی 5 گاڑیاں چھین لی گئی ہیں جو تاحال واپس نہیں مل سکیں، اور 24 گاڑیاں تاحال گم ہیں، جس کی ایف آئی آر تک نہیں ہوئی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
79655