Chitral Times

Jul 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بزمِ درویش ۔ ڈرائی فروٹ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on
شیئر کریں:

بزمِ درویش ۔ ڈرائی فروٹ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پورا ہفتہ بھر پور مصروف گزارنے کے بعد چھٹی کے دن میں بھرپور آرام کرنے کے موڈ میں تھا دھوپ کا مزہ اللہ کے نام کی تسبیح بھرپور دیسی ناشتہ اور مراقباتی حالت میں آرام یہ موڈ لے کر میں بیدار ہوا تھا کہ پتہ چلا کوئی مہمان کافی دیر سے میرا منتظر ہے مجھے دھوپ کی حرارت آمیز شعاعیں اور آرام خطرے میں نظر آیا اور داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا دروازہ کھولا تو حیران کن چہرہ میرے سامنے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ کھڑا تھا جس کے لیے میں بلکل بھی ذہنی طور پر تیار نہیں تھا سامنے مرزا پردیسی شاعر صاحب کھڑے تھے جو اپنی سماعت شاعری میرے کانوں میں ٹھونستے آئے تھے ان کو دیکھ کر میں سماعتی ٹارچر کے لیے تیار ہو گیا تھا کہ اگلے چند گھنٹے مجھے الفاظ ندوت خیال سے پاک بے سری شاعری پوری توجہ سے سننی ہو گی اور ساتھ ساتھ تعریف بھی کر نی ہو گی میں نے دروازہ کھولا اور لا کر آرام دہ صوفے پر مرزا پردیسی کو بیٹھا کر اندر سے گرما گرم آگ اگلتا کیس ہیٹر لینے چلا گیا ساتھ میں پردیسی کے لیے بھرپور ناشتے کا بھی کہہ دیا گیس آگ شعلے اگلتا چولہا لا کر پردیسی کے سامنے رکھا جس کو دیکھ کر پردیسی کا موڈ خوشگوار ہو گیا

 

بولا پروفیسر صاحب آج تو خوب مزا آئے گا یخ ٹھنڈے پانی سے نہانے کی وجہ سے مجھے تپش کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی تھی یہ آگ لا کر آپ نے مجھ غریب پر بہت بڑا احسان کیا ہے قارئین کے لیے مرزا صاحب کا تعارف یہ ہے کہ چند سال پہلے پردیسی صاحب کسی حوالے سے میرے پاس آئے ایک تو رزق کی تنگی کا شکار تھے دوسرا بیگم کے ساتھ ناچاقی چل رہی تھی آخری سب سے اہم بات موصوف صوفیانہ شاعری کے دعوے دار تھے کسی دوست کے ہاں میری کتاب نظر سے گزری جس پر وطن عزیز کے نامور لوگوں کے تبصرے بھی تھی جن کو دیکھ کر اِس غلط فہمی یا خوش فہمی کا شکار ہو گئے کہ یہ سارے ادیب کالم نگار شاعر حضرات میرے قریبی دوست ہیں اِن سے اُن کے آنے والی شاعری کی کتاب پر تبصرہ لکھوا دیں دوسرا کسی اچھے پبلشر سے کہہ کر کتاب بھی چھپوا دوں حقیقت میں وہ بہت کو شش کر چکے تھے کسی نے اِن کی شاعری پر خیال آرائی نہیں کی اور نہ ہی کسی پبلشر نے ان کی کتاب چھاپنے کی حامی بھری بقول مرزا صاحب کے وہ موجودہ دورکے بیدم وارثی ہیں عوام تک اُن کی انقلابی صوفیانہ رنگ میں رچی شاعری ہر حال میں پہنچنی چاہیے جس دوست نے اُنہیں میرے پاس بھیجا تھا اُس نے شدت سے درخواست کی تھی کہ مرزا صاحب اُن کے عزیز ہیں اِن کا دل نہیں توڑنا توجہ سے اِن کی بات سننی ہے اور اگر ہو سکے تو اِن کتاب چھاپنے میں مدد بھی کرنی ہے سفید پوش غریب آدمی ہے اِس کی سفید پوشی کا بھرم بھی رکھنا ہے لہذا میں نے پہلی ملاقات میں مرزاصاحب کو بھرپور پروٹوکول دیا اور وعدہ کیا کہ میں اپنے ملنے والے حلقے کو ان کے لیے ضرور متحرک کروں گا تاکہ مرزا صاحب کے عظیم افکار لوگوں تک بھی پہنچ سکے

 

اِس طرح میں مرزا صاحب کے حلقے میں شامل ہو گیا اب یہ وقتا فوقتا مجھے عزت بخشنے آجاتے میں نے دوچار پبلشرز حضرات تک اِن کا مسودہ پہنچایا تو انہوں نے شدت سے انکار کر دیا کہ مرزا صاحب تین سو کتابیں خود خریدیں تو ہم اِن کی شاعری کی کتاب کو چھاپنے کے لیے تیار ہیں یا پھر مرزا صاحب خوداپنی کتاب چھاپ دیں ہماری شاپ کا نام ڈسٹری بیوٹر میں ڈال دیں ہم اِن کی کتاب بکنے کی صورت میں اِن کے پیسے ایمانداری سے دے دیں گے اب یہ تلخ حقیقت تھی جو میں نے مرزا صاحب کو نہیں بتائی کیونکہ مرزا صاحب اکثر کہتے ہیں کہ میں مغل بادشاہوں کی اولاد ہوں حالات زمانہ کی وجہ سے آج کل غربت کی چکی میں پس رہا ہوں اب وہ جب بھی میرے پاس آتے میں ان کی باتیں سنتا بے تکی شاعری پر واہ واہ کرتا اکثر کسی دوسرے کی شاعری وہ اپنے نام سے سنا دیتے‘شریف انسا ن تھے میں انسان دوستی میں ان کے ساتھ کمپنی کرتا ان کی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو تا ان کی مدد بھی کرتا تاکہ ان کی عزت نفس کا بھرم بھی قائم رہے آ ج بھی میں نے بھرپور ناشتہ کرایا اب انہوں نے اپنی شاعری کی بوسیدہ ڈائری کھول لی میں اب خود کو تیار کر رہا تھا کہ میں نے داد بھی دینی ہے اور واہ واہ بھی بھر پور طریقے سے کرنی ہے ابھی ایک گھنٹہ یہ ٹارچر شاعری چلی ہو گی کہ ملازم نے دروازہ کھولا اور لا کر ڈرائی فروٹ کا بھرا ہوا ٹوکرا سامنے رکھ دیا ساتھ میں بتایا کہ فلاں صاحب کے ڈرائیور صاحب یہ ڈرائی فروٹ آپ کے لیے دے گئے ہیں اتنی زیادہ مقدار میں ڈرائی فروٹ دیکھ کہ مرزا صاحب کی آنکھیں ابل پڑی میں نے فوری مرزا صاحب سے درخواست کی حضور ڈرائی فروٹ پر حملہ کر دیں جتنا کھا سکیں آرام سے شوق سے نو ش فرمائیں یہاں پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے ساتھ ہی میں نے مختلف ڈرائی فروٹ نکال کر کھول کر میز پر ڈھیر کر نے شروع کر دیے اور پیار سے مرزاصاحب کو پیش کر نا شروع کر دئیے

 

موجودہ دور کی ہو شربا مہنگائی جب دال روٹی پوری نہیں ہو رہی لوگ یہ بھول چکے ہیں کہ سردیوں میں ڈرائی فروٹ سے بھی لطف انداز ہو جاسکتا ہے انواع اقسام کے ڈرائی فروٹ مرزا صاحب کے سامنے تھے وہ کنفیوژ ہو کر دیکھ رہے تھے کہ کس پر پہلے حملہ کیا جائے میں جان بوجھ کر اٹھ گیا تاکہ آسانی سے اپنی مرضی کا فروٹ کھا سکیں تھوڑی دیر بعد جب واپس آیا تو دروازے سے دیکھا مرزا صاحب مختلف ڈرائی فروٹ اپنی مختلف جیبوں میں بھر رہے ہیں یہ منظر دیکھ کر میری آنکھیں بھیگ گئیں میں آواز دے کر اندر آیا اور بولا مرزا صاحب آپ کھا کیوں نہیں رہے تو مرزا صاحب بولے اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ اپنے بچوں کے لیے لے جاؤں کیونکہ وہ بہت تقاضہ کر تے ہیں میرے وسائل اجازت نہیں دیتے دوسرا مہنگائی ساتویں آسمان پر ہے ہم لوگ صرف ڈرائی فروٹ دیکھ سکتے ہیں خرید نہیں سکتے مرزا صاحب شاعری گفتگو سب بھول کر ڈرائی فروٹ دیکھ رہے تھے میں اٹھا اندر گیا بڑا سا شاپر لا کر مرزا صاحب کے حوالے کیا اور کہا مرزا صاحب مجھے ڈرائی فروٹ سوٹ نہیں کرتے ویسے بھی بہت سارے لوگ دے جاتے ہیں ہمارے گھر میں زیادہ پسند نہیں کیا جاتا اکثر خراب ہو جاتا ہے یہ لیں شاپر اپنی مرضی سے خوب بھر لیں آپ کے بچے کھا ئیں گے تومجھے بہت خوشی ہو گی پھر میں اٹھ گیا تاکہ وہ آزادی سے شاپر بھر سکے تھوڑی دیرتک واپس آیا تو مرزا صاحب اپنی مرضی سے ڈرائی فروٹ سے شاپر بھر چکے تھے جب مرزا صاحب شکر گزار نظروں سے رخصت ہو ئے تو میں سوچنے لگا وطن عزیز کے دولت مند لوگ معاشرے کے بااثر لوگوں کو ڈرائی فروٹ کے ٹوکرے بھیجتے ہیں کاش چھوٹے چھوٹے لفافے بنا کر اپنے ملازمین اور غریبوں میں بھی تقسیم کریں جو اب خرید نہیں سکتے صرف ڈرائی فروٹ کو دیکھ سکتے ہیں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
83140