Chitral Times

Jul 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک مثالی سکول کا دورہ ۔ تلخ و شیریں ۔ نثار احمد۔

شیئر کریں:

ایک مثالی سکول کا دورہ ۔ تلخ و شیریں ۔ نثار احمد۔

یہ نومبر کی ایک قدرے خنک صبح تھی۔ بستی کے درخت خزاں رسیدہ زرد پیلے پتے گرا کر کڑاکے کی سردی کی آمد کی خبر دے رہے تھے ۔ پتوں سے خالی ہونے والے ان شاخہائے درخت پر وہ وفا دار پرندے چہچہانے میں منہمک تھے جو موسم کی تبدیلی پر چترال سے کوچ کرکے اپنی بے وفائی پر مہر تصدیق ثبت نہیں کرتے۔ رات کے آخری پہر سے شروع ہونے والی بارش اب تقریباً تھم چکی تھی۔ اس بارش کی وجہ سے گو کہ رہائشی علاقوں میں صرف ٹھنڈ میں اضافہ ہوا تھا لیکن چترال کے سربفلک پہاڑوں کی چوٹیاں اس کے طفیل برف کی ٹھیک ٹھاک سفید دبیز چادر اوڑھ چکی تھیں ۔ آنکھ کھلتے ہی سرشاری کے ایک خوش گوار احساس نے مجھے جکڑ لیا کیونکہ آج مجھے ایک ایسا سکول دیکھنے کا موقع مل رہا تھا جس کی مجھے گزشتہ کئی سالوں سے تلاش تھی۔ صبح کی معمولات سے فارغ ہوکر ناشتہ کیا ۔ ( ناشتہ کیا ، بس یوں سمجھیے چترالی چپاتی کے ساتھ ڈیڑھ کپ نمک والی چائے سے پیٹ کو بہلایا۔ اب پینتیس والا انڈہ روز روز تو نہیں کھایا جا سکتا۔ عادت یہی ہے کہ جب اشراق کے وقت ملائی والی میٹھی چائے پئوں تو پھر ناشتے میں عموماً نمک والی چائے پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔ نمک والی یہ چترالی چائے پیٹ کے بہت سارے مسائل کے لیے اکسیر بھی ہے)

 

ناشتے کے بعد “اللہم انی اسئلک خیر المولج و خیر المخرج ” پڑھتا ہوا دروازے سے باہر نکلا ۔ پتہ نہیں کیوں آج قدم معمول سے ہٹ کر تیز تیز اٹھ رہے تھے۔ یہ سب شاید اس اشتیاق کی وجہ سے ہو رہا تھا جو گزشتہ کئی سالوں سے میرے سینے میں مدفون و محفوظ تھا ۔ چلتے چلتے مطلوبہ سکول پہنچ گیا۔ سکول کے مرکزی دروازے پر موجود مستعد باوردی چوکیدار نے علیگ سلیگ اور چند رسمی جملوں کے تبادلے کے بعد داخل ہونے کی اجازت عنایت فرمائی ۔ کندھے پر رائفل لٹکائے گیٹ پر موجود اس باوردی چوکیدار کی پھرتی سے اندازہ ہوا کہ سکول میں نظم و ضبط کو اہم مقام حاصل ہے

 

داخلے کی اجازت پاکر مرکزی گیٹ سے اندر داخل ہوا۔ ماشاءاللہ سکول کا اندرونی منظر انتہائی دلکش و دلربا تھا ۔ خوبصورت چمن ، چمن کے اردگرد حسن ترتیب سے مزیّن کیاریاں، کیاریوں میں خزاں رسیدہ پھول۔ گو کہ اب پھول تقریباً مرجھا چکے تھے لیکن پھولوں کے باقیات و اثرات سے چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ مارچ اپریل کے بعد سکول کا منظر غضب ڈھاتا ہے۔ دماغ پر زور دیے بغیر ہی اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ پرنسپل صاحب نے سکول میں فنڈ صرف “لگایا” نہیں ہے بلکہ اس “لگانے” میں سلیقے، نفاست اور بھرپور نگرانی کا بھی اہتمام کیا ہے۔ پرنسپل کے حسنِ انتظام کو داد دینے کے بعد یہاں سے اگے بڑھ گیا۔ یہ پرنسپل آفس ہے ۔ اس میں پرنسپل صاحب روٹین کے دفتری امور نبھانے میں مصروف ہے۔ دعا سلام کے بغیر انہیں اپنے حال پر چھوڑ کر اسٹاف روم میں داخل ہو گیا ۔ ماشاءاللہ اسٹاف روم اساتذہ سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ اٹینڈنس رجسٹر دیکھے بغیر ہی یقین ہو گیا کہ سکول میں اساتذہ کی حاضری سو فی صد ہوتی ہے۔ ظاہر ہے یہ وہ اساتذہ تھے جن کے پریڈز ابھی لگے نہیں تھے ان کے علاوہ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد الریڈی درسگاہوں میں علم کی موتیاں بکھیرنے اور نونہالان ِ قوم کی تعلیم و تربیت میں مشغول تھی ۔ یہاں اسٹاف روم میں ایران و توران کے مسائل زیرِ گفتگو تھے اور نہ ہی ملک کی “سیاہ ست” زیرِ بحث تھی ۔ یہاں اساتذہ کرام ہاتھوں میں کیلکولیٹر لے کر دسمبر کے انکریمنٹ کے بعد تنخواہ کی متوقع کمیت معلوم کرتے بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔

چلتے چلتے درسگاہوں کی طرف بڑھا۔ درسگاہیں۔۔ جی جی۔۔۔ یہ حقیقی معنوں میں درس گاہیں تھیں۔ درسگاہوں میں اگر عمل ِ تدریس جوبن پر تھی تو برآمدے میں بچوں کی کاپیاں چیک ہو رہی تھیں ۔ کچھ اساتذہ بچوں کے سرپرستوں کے ساتھ ان کے بچوں کے مسائل ڈسکس کر رہے تھے۔ یہاں بھی اس سکول کا مثالی نقش زہن میں کھینچ کر آگے بڑھ گیا ۔

یہ سامنے ساتویں جماعت کی درسگاہ تھی ۔ درسگاہ میں عمل ِ تدریس میں مصروف استاد سے نظریں بچاتا ہوا برآمدے میں اس طرح کھڑا ہو گیا کہ استاد تو مجھے نہ دیکھ سکے لیکن میں اندر کا سارا منظر بذریعہ بصارت زہن کے ایک گوشے میں محفوظ کر سکوں۔ اندر استاد “بلیو مارکر” ہاتھ میں پکڑے کھڑے کھڑے پڑھا رہا تھا کرسی پر براجمان ہو کر ٹانگ پر ٹانگ ڈالے نہیں۔سبق پڑھانے کے بعد کچھ طلبا یکے بعد دیگرے استاد کے پاس آتے اور دو تین منٹ بعد واپس جاتے ۔ مذکورہ استاد سرخ قلم کے زریعے ان کی کتاب پر لکیر کھینچتے ، بعض سے خود عبارت سنتے اور بعض کو درس گاہ کے قابل اسٹوڈنٹس کے پاس بھیجتے۔ بعد میں کھوجنے پر معلوم ہوا کہ اردو کے اس استاد کی عادت یہ ہے کہ موصوف اُن طالب علموں کو پیرا گراف دو پیرے گراف سبق دے کر اگلے دن سنتے ہیں جن میں عبارت خوانی کی استعداد کمزور ہوتی ہے ۔ یہاں سے بھی خوش گوار احساس کی پوٹلی بغل میں دبا کر اگلی جماعت کی طرف نکل گیا ۔ یہ آٹھویں کی درسگاہ تھی یہاں انگریزی کا سبق ہو رہا تھا ۔ یہاں بھی استاد نونہالان قوم کو ادھر ادھر کی باتوں کے زریعے ٹرخاکر پریڈ کا پیٹ بھرنے کی بجائے متعلقہ سبق پڑھا رہے تھا۔ پڑھانے کا انداز اتنا دلچسپ تھا کہ درس گاہ کا غبی سے غبی طالب علم بھی انگریزی جیسی مشکل کتاب کا سبق سمجھ سکے ۔

 

واپسی کی نیت کرتے ہوئے جب گراؤنڈ کی طرف نکلا تو طالب علموں کی دو ٹولیاں کھیل کے میدان میں نظر آئیں ۔ قریب جانے پر عقد کھلا کہ ایک ٹولی کو ان کی ریاضی کا استاد جیومیٹری پڑھاتے ہوئے عملاً زمین کی پیمائش سکھا رہے ہیں جب کہ دوسری ٹولی میں چھٹی جماعت کے طلبا موجود ہیں انہیں ان کے جغرافیہ کا استاد مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی سمت معلوم کرنے کا کلیہ سمجھا جا رہا تھا ۔ اتنے میں قریب سے دو مڈل اور ہائی پورشن کے اساتذہ (ایک سی ٹی ، ایک ایس ایس ٹی) گپ شپ کرتے گزرتے نظر آئے ۔ تجسّس کی تشنگی بجھانے کے لئے ماجرا پوچھا ۔ جو جواب آیا وہ میرے لیے حیران کن بھی تھا اور قابلِ رشک بھی ۔ کیونکہ جو کچھ وہ کر کے آ رہے تھے ہمارے سکولوں میں عموماً ایسا ہوتا نہیں ۔ ایسا کرنے کو ہمارے ہائی سکول کے اساتذہ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ دراصل وہ فارغ پریڈ میں فارغ بیٹھنے کی بجائے ہائی سکول سے متصل پرائمری سکول کے بچوں کو پڑھا کر لوٹ رہے تھے۔ ابھی باہر نکلا ہی تھا کہ اسی سکول کے طالب علموں سے بھرا ہوا ایک بس گیٹ کے سامنے رُکا ۔ یہ اسی سکول کی ایک کلاس کے طالب علم ایک روزہ مطالعاتی دورے سے واپس لوٹ رہے تھے ۔ انہیں دیکھ کر پرنسپل کی سادگی پر ہنسی اس لیے آئی کہ موصوف مطالعاتی دورے کے لیے مختص فنڈ مطالعاتی دورے پر ہی لگا رہا ہے ۔۔ ورنہ اگر موصوف چاہتے تو سکول کے سینئر کلرک کے مشورے سے بچوں کے “مفاد” میں وہ فنڈ کسی اور مد میں بھی لگا سکتے تھے۔

 

ابھی اس سکول کے سحر انگیز منظر کا خمار پوری طرح اترا بھی نہیں تھا کہ کمبل کے کے اوپر موٹی رضائی کے دائیں بائیں ہونے کی وجہ سے آنکھ کھل گئی۔ آہ ! نہ رضائی سرکتی ۔۔نہ میری آنکھ کھلتی، اور نہ خمار اترتا ۔۔۔ واہ ۔۔ خواب رے خواب ۔۔ خواب تیری کون سی تعبیر سیدھی ۔۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
83187