Chitral Times

Jul 15, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امدادی چیک کی غیر منصفانہ تقسیم – عبدالحی چترالی

Posted on
شیئر کریں:

امدادی چیک کی غیر منصفانہ تقسیم – عبدالحی چترالی

اپر چترال میں حالیہ کچھ دنوں سے ایک مالی بدعنوانی کا بہت چرچا ہے جس میں مبینہ طور پر برفباری سے نقصانات کے ازالے کے لئے دے جانے والے ریلیف چیک غیر مستحق افراد کو دیے گئے ہیں۔

اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر اس اقدام کے دفاع اور مخالفت میں ایک بحث جاری ہے اور کئی لوگ اس معاملے میں ایم پی اے اپر چترال محترمہ ثریا صاحبہ کو اقربا پروری، مستحقین کے ساتھ نا انصافی کے مرتکب قرار دے رہے ہیں تو کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چیک پی ایم ایل این والوں نے تقسیم کی ہیں تو وہی سزا وار ہیں۔ بعض حضرات اس تمام تر معاملے کی ذمہ داری انتظامیہ خصوصاً ڈسٹرک مانیٹرنگ ٹیم پر ڈالتے ہیں کہ انتظامیہ نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے کہ متاثرین کا انتخاب صوبائی نمائندے کی منشاء کے مطابق کرنے کے بعد تقسیم مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں کے زریعے کروائی ہے۔ اس میں دو رائے بالکل نہیں کہ اس تقسیم میں کسی حد تک مستحقین کو نظر انداز کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور اقدار کو بھی پامال کیا گیا ہے۔

اس تمام صورتحال کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے اس معاملے کی تحقیقات کیلئے شہزادہ سکندر الملک کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ حقیقت میں یہ معاملہ محترم شہزادہ سکندر الملک صاحب کے لئے بطورِ صدر پی ٹی آئی اپر چترال ایک چیلنج ہے کہ شہزادہ صاحب اصل کرداروں کو سامنے لانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ موصوف سے امید واثق ہے کہ وہ اپنی خاندانی وجاہت، سماجی وقار، اصولوں کی پاسداری اور ذاتی وضعداری کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک شفاف تحقیقات کرکے اصل مجرموں کو بے نقاب کریں گے۔ شفاف تحقیقات صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ اس تحقیقاتی کمیٹی میں چترال کے جملہ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کو شامل کر دیا جائے اور حقائق کو عوام کے سامنے رکھ کر ملوث افراد کو کڑی سزا دی جائے۔ تحقیقات میں تمام پارٹیوں کے نمائندوں کو شامل کرنے کی تجویز مسلم لیگ نون کے ذمہ داروں نے بھی دی ہے۔
دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو ہماری سیاسی و سماجی زندگی کو بلاثبوت الزام تراشی کی کھلی چھوٹ نے جس قدر زہر آلود بنادیا ہے اس کے نتیجے میں ہر شخص اپنی عزت آبرو کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہے۔ اس حقیقت کا ایک غیر معمولی مظاہرہ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف زبان درازی الزام تراشی اور طنز و تنقید کی شکل میں ہو رہا ہے۔

تنقید ہر انسان کا ایک جائز حق ہے۔ مگر تنقید کو لازما دلیل پر مبنی هونا چاہئے جس تنقید کے ساتھ دلیل شامل نہ ہو، وه سخت گناه ہے۔ لہذا بغیر کسی تحقیق کے کسی بھی شخص کو مورد الزام ٹھہرانا شرعاً و اخلاقاً جائز نہیں ہے۔

اگر کوئی شخص کسی پر بغیر تحقیق و ثبوت الزام یا بہتان لگاتا ہے تو شرعاً یہ گناہِ کبیرہ ہے۔ اس معاملہ میں شریعت کا حکم دوٹوک اور واضح ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم جہالت کی وجہ سے کچھ ایسا کر بیٹھو جو بعد میں تمہارے لیے ندامت کا سبب بن جائے۔ ہمیں چاہیے کہ اس بات کے پیچھے نہ پڑیں جس کا ہمیں علم نہیں، بے شک! کان، آنکھ اور دل سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

بقول کسے، آزادی اظہار کا حق دینے والا آئین کا آرٹیکل19 بلاثبوت الزام تراشی کا لائسنس نہیں ہے۔
جملہ احباب سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں شفاف تحقیقات کے زریعے اصل کرداروں کی تعیین سے پہلے کسی کی پکڑی اچھالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ خصوصاً رمضان کے مبارک ایام میں الزام تراشی اور لغویات میں ضیاع وقت بالکل درست نہیں ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
86686