Chitral Times

Jul 23, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کیلیے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کردی

Posted on
شیئر کریں:

الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کیلیے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کے معاملے پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کردی۔ مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، اسے مخصوص نشستیں نہیں مل سکتیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بروقت ترجیحی فہرستیں جمع نہیں کروائی گئیں۔الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے دیگر جماعتوں کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں ان کی سیٹوں کے تناسب سے تقسیم کی جائیں گی، اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں خالی نہیں رکھی جا سکتیں۔سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ متفقہ طور پرسنایا گیا تاہم مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دینے کے فیصلے سے ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلاف کیا۔

 

پی ٹی آئی کا مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ چلینج کرنے کا اعلان

اسلام آباد(سی ایم لنکس) پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دیر پہلے جو فیصلہ آیا ہے وہ جمہوریت کی پیٹھ میں آخری خنجر ہے، آرٹیکل 106 ہر صوبائی اسمبلی سائز دیتا ہے، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کاکام سینیٹرز،صدر، وزیراعظم اور صدر کا انتخاب کرنا ہوتا ہے اور نامکمل اسمبلیاں ان انتخابات کو مکمل نہیں کرسکتیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کو سیٹیں ابھی نہیں دیں، ہم نے کہا تھا صدر اور وزیراعظم کے الیکشن سے قبل یہ فیصلہ کردیں۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ا?ئین کے آرٹیکل 51 کی شق 6 ڈی میں درج ہے کہ کامیابی کے تناسب سے سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں ملیں گی۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ آئین کہتا ہے اگر کوئی آزاد امیدوار کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرلیتا ہے تو اْس جماعت کو مخصوص نشستیں مل جائیں گی۔ آئین کے آرٹیکل 51 میں بھی مخصوص نشستوں کا ذکر ہے، کامیابی کے تناسب کے حساب سے ہمیں قومی اسمبلی میں 29 نشستیں ملنی تھیں۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے غیر آئینی فیصلے تحت ہمیں انتخابی نشان سے محروم رکھا جبکہ الیکشن کمیشن نے ا?ج مخصوص نشستیں آلاٹ نہ کرنے کا فیصلہ دے کر جمہوریت کی پیٹ پر خنجر گھونپا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد صدارتی اور سینیٹ الیکشن کو ملتوی کیا جائے کیونکہ ہمیں مخصوص نشستوں سے محروم کیا گیا ہے، ہم اس پر سپریم کورٹ جائیں گے جہاں سے یہ غیر قانونی اقدام واپس ہوجائے گا اور پھر وزیراعظم، صدارتی انتخاب و سینیٹ الیکشن دوبارہ کرونا پڑیں گے۔اْدھر ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے بھی مخصوص نشستیں نہ دینے کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں وکلا کو درخواست تیار کرنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
85925