Chitral Times

Jul 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

الیکشن میں ایک بھی سیٹ نہ جیتنے والی جماعت مخصوص نشستوں کی اہل نہیں، پشاور ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

Posted on
شیئر کریں:

الیکشن میں ایک بھی سیٹ نہ جیتنے والی جماعت مخصوص نشستوں کی اہل نہیں، پشاور ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ) ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ الیکشن میں ایک بھی سیٹ نہ جیتنے والی جماعت مخصوص نشستوں کی اہل نہیں۔
سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ سے متعلق درخواست کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ 30 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے تحریر کیا جب کہ مختصر فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے 14 مارچ کو سنایا تھا۔عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے پاس صوبے تک مخصوص نشستوں کے کیسز سننے کا اختیار ہے۔ الیکشن کمیشن کا دیگر سیاسی جماعتوں میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 51 کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل خواتین مخصوص نشست کی حق دار نہیں ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد مخصوص نشست کی لسٹ جمع نہیں کرائی جا سکتی۔ درخواست گزار کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ یہ مخصوص نشستیں دوسری سیاسی جماعتوں میں تقسیم نہیں ہو سکتیں۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حق دار نہیں، اس لیے درخواست خارج کی جاتی ہے۔پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جنرل الیکشن میں ایک بھی سیٹ نہ جیتنے والی سیاسی جماعت مخصوص نشستوں کی اہل نہیں۔ مخصوص نشستوں پر حق جنرل الیکشن میں حصہ لینے والی سیاسی جماعت کا ہوتا ہے۔ پشاور: آئین میں صوبائی اور قومی اسمبلی میں نشستوں کو خالی نہیں چھوڑا جائے گا۔تفصیلی فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی کی دلیل کہ مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو نہیں دی جاسکتیں غیر آئینی ہے۔ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کو آئینی طریقے سے تقسیم کیا ہے۔ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے لیے پہلے فہرست ہی جمع نہیں کی تھی۔ بروقت نشستوں کے لیے فہرست جمع نہ کرنے کے باعث سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی اہل نہیں۔

 

 

راولپنڈی میں وزیر تعلیم گلگت بلتستان کی سرکاری گاڑی چوری

راولپنڈی(سی ایم لنکس)راولپنڈی میں کار چوروں نے وزیر تعلیم گلگت بلتستان کی سرکاری گاڑی چوری کر لی۔سرکاری گاڑی نمبر جی ایل ٹی اے 6326 وزیر تعلیم گلگت بلتستان غلام شہزاد آغا کے زیر استعمال تھی جوکہ محکمہ تعلیم گلگت بلتستان کے نام رجسٹرڈ تھی۔مقدمہ صوبائی وزیر تعلیم گلگت بلتستان غلام شہزاد آغا کی مدعیت میں درج کر لیا گیا۔مدعی کے مطابق سحری کے وقت گاڑی گھر کے سامنے گلی میں کھڑی تھی لیکن صبح 8 بجے باہر نکلا تو گاڑی غائب تھی، ایف آئی آر کے مطابق گاڑی کی مالیت 65 لاکھ روپے ہے۔

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
86823