Chitral Times

Jul 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسے سیاحتی مقام نہ سمجھیں ، یہ موت کا راستہ ہے!  ۔ تحریر: اصلاح وِرک

Posted on
شیئر کریں:

اسے سیاحتی مقام نہ سمجھیں ، یہ موت کا راستہ ہے!  ۔ تحریر: اصلاح وِرک

ہمارے مذہب میں اک عقیدہ ہے کہ “قیامت کے بعد ہر انسان کو ایک باریک پل (پل صراط) سے گزرنا ہوتا ہے، اور زرا سی غفلت پر ہم دوزخ کے آگ میں گر سکتے ہیں”, اور میں اپنے آباؤ اجداد کا انتہائی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ اس سے ملتا جلتا ایک نمونہ سہ ہمارے جیتے جی ہی بنا گئے ہیں، حالانکہ یہاں سے گرنے والا بندہ آگ میں نہیں البتہ کھائی میں ضرور گر سکتا ہے۔ اور ڈراؤنی بات یہ ہے کہ ہو والا تو انسان کے اعمال بھی نہیں دیکھتا۔

https://www.facebook.com/reel/305603065894980

یہ تصویر جو اوپر آپ دیکھ رہے ہیں یہ کوئی پیرامیڈ نہیں ہے جو فرعون کے فوج کی استھیاں دفنانے کیلئے بنا گیا تھا، نہ یہ دیوار چین کا کوئی منظر ہے جسے چین نے اپنے حفاظت کیلئے بنایا تھا اور نہ یہ کوئی کولوزم کا منظر لگ رہا ہے جہاں قدیم روم میں کھیلوں اور میلوں کیلئے تعمیر کیا گیا تھا۔ غور سے دیکھا جائے تو یہاں تاج محل جیسا کوئی حسین و جمیل ایوان نظر آ رہا ہے جسے اک شہنشاہ نے اپنے دولت کا راغب جمانے کیلئے محبت کا نام دے کہ بنایا تھا اور جہان تک میری بینائی کا سوال ہے مجھے تو یہاں کہیں ہریالی بھی نظر نہیں آ رہی؟؟؟ تو پھر میرا سوال یہ ہے کہ کیوں لوگ اسے دیکھنے کیلیے آتے ہیں؟ کیوں یہ نیم مقبول یوٹوبرز کے کیمروں کی زینت بنی ہوئی ہے ؟ کیوں ہمارے نوجوانوں کو لگتا ہے کہ یہ ایک سوشل میڈیا کنٹنٹ ہے جو ہمیں لائکس اور کومنٹس فراہم کر سکتا ہے اور کیوں ہمارے لوگ اس جان لیوا روڈ میں جمالیات ڈھونڈتے پھرتے ہیں؟

 

میرا سوال صرف یہ ہے کہ جو چیز آج سے تین چار سال پہلے مقامی لوگوں کیلئے ایک المناک مصیبت تھا اور ہر ٹک ٹاک کے آنے کے بعد یہ سیاحتی مقام کیسے بن گیا؟

 

اس میں کہیں نہ کہیں ہماری اپنی غلطی بھی ہے اور تھوڑی بہت برائے نام سوشل میڈیا انفلوئینسرز کی بھی۔ میرا چترال کے لوگوں سے صرف اتنا گزارش ہے کہ خدارا! بیدار ہو جائیں ! اپنے آپ کو جگا دیں۔ یار آپ کب سمجھیں گے کہ یہ کوئی سیاحتی مقام نہیں بلکہ “دنیا کا دوسرا خطرناک ترین روڈ” ہے جسے آپ خود بھی گوگل پہ جا کہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ کوئی یوٹیوب کنٹنٹ نہیں ہے بلکہ پرسان میں مقیم 3000 لوگوں کا روڈ ہے اور واحد روڈ جہاں سے گزر کہ یہ لوگ اپنے روزمرہ کے ضروریات خریدنے بازار جاتے ہیں۔ ” انکے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے”.

 

اک باپ کو اس سڑک سے گزرنا پڑتا ہے جب وہ اپنی بیٹی کیلیے کتابیں خریدنے بازار جاتا ہے! اک بیٹے کو اس راستے سے گزرنا ہوتا ہے جب وہ کہ رہا ہوتا ہے کہ ” میں اپنے ماں سے ملنے جا رہا ہوں”۔ ، اک ماں کو اس سڑک کے بارے میں سوچنا ہوتا ہے جب وہ اپنے بیٹے کا انتظار کر رہا ہوتا ہے اور ایک بہن اپنے بھائی کو اس روڈ سے اپنی جہیز کا سامان خریدنے بھیجتا ہے۔

 

زرا سوچیں خدا نخواستہ اگر کوئی حادثہ ہوا تو کتنے گھر اُجڑ سکتے ہیں؟ کتنے ماں باپ اپنے اولاد سے ہاتھ دھو سکتے ہیں اور کتنے بچوں کے سر سے انکے باپ کا سایہ اتر سکتا ہے؟ اور یہ کوئی وحشی پیشنگوئی نہیں ہے اور نہ ہی میں کسی انگریزی فلم کے کہانی کو دہرانے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں بلکہ یہ اسنن ( imminent)ہے اور محض ایک پہیے کی سلپ کی دوری پر ہے۔

 

میں اپنے تمام قارئین سے درخواست کرتا ہوں کہ خدارا اسے سیاحتی مقام نہ سمجھیں ، یہ موت کا راستہ ہے! موت کا راستہ! اس سے ڈریں اور جتنا ہو سکے اجتناب کریں اور مستقبل میں اسے دنیا کے سامنے جمالیات کا روپ دینے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔ .

شکریہ
اصلاح وِرک

chitraltimes pursan road chitral lower 1 chitraltimes pursan road chitral lower 2


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
87882