Chitral Times

Jul 15, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آپریشن عزمِ استحکام کا دائرہ صرف ایک صوبہ نہیں، پورا پاکستان ہوگا، سعد رفیق۔ فوجی آپریشن کسی صورت قابل قبول نہیں، اے این پی

Posted on
شیئر کریں:

آپریشن عزمِ استحکام کا دائرہ صرف ایک صوبہ نہیں، پورا پاکستان ہوگا، سعد رفیق۔ فوجی آپریشن کسی صورت قابل قبول نہیں، اے این پی

لاہور(چترال ٹائمزرپورٹ) لیگی رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام کا دائرہ صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ پورا پاکستان ہوگا۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں، ریاستی تنصیبات،عبادت گاہوں اور بے گناہ لوگوں پر حملے کرنے اور بم پھاڑنیوالے دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ان کے خاتمے تک ان کے خلاف آپریشن بلا تعطل و تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پی ٹی آئی حکومت میں دہشت گردوں سے مذاکرات اور انہیں ڈھیل دینے کی باجوہ ڈاکٹرائن نے بیک فائر کیااور انہیں دوبارہ قدم جمانے کا موقع ملا،جب کہ افغانستان کی امارت اسلامیہ اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ذریعے پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کیان کیمرا سیشن میں آپریشن عزم استحکام کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کواعتماد میں لے۔ سیاسی قیادت سے مکالمہ اور ان کی تائید آپریشن کی کامیابی کے لیے اہم ہے۔سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت داخلی جھگڑوں سے بالاتر ہوکر ریاستی مفاد میں قدم بڑھائے جیسا کہ عمران حکومت کے دوران میں اس وقت کی اپوزیشن نے قومی معاملات پر ریاست کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی واضح کردی جائے کہ اس آپریشن کا دائرہ صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ پورا پاکستان ہوگااور نشانہ Jet Black Terrorist ہوں گے۔

 

 

فوجی آپریشن کسی صورت قابل قبول نہیں، اے این پی

پشاور(سی ایم لنکس)امی نیشنل پارٹی نے آپریشن استحکام پاکستان کی مخالفت کردی۔گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی پشاور میں اے این پی کے باچا خان مرکز پہنچ گئے۔ گورنر نے اے این پی کی اعلی قیادت سے ملاقات کی جس میں سیکیورٹی و سیاسی معاملات پر بات چیت کی گئی۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی رہنما میاں افتخار نے کہا کہ دہشت گردوں کی جڑیں پنجاب میں ہیں، آپریشن استحکام پاکستان کے فیصلے پر شدید تحفظات ہیں، اے این پی نے گورنر کو تحفظات کے حوالے سے آگاہ کردیا، آپریشن کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ آپریشن استحکام پاکستان کا فیصلہ یکطرفہ ہوا، لوگوں کو مذاکرات اور آپریشن دونوں پر یقین نہیں، جنرل فیض نے کس کے کہنے پر مزاکرات کئے؟ 40 ہزار دہشت گرد کیسے آئے؟ آپریشن کے حوالے سے قومی اور صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے، اپر دیر، لوئر دیر میں آپریشن پر بھی اعتماد میں لیا جائے، اے این پی آپریشن عزم پاکستان کے حوالے سے کل جماعتی اجلاس (اے پی سی) بلا رہی ہے۔

 

آپریشن استحکام پاکستان کی حمایت کرتا ہوں، گورنر خیبر پختونخوا

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)گورنر خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ آپریشن استحکام پاکستان کی حمایت کرتا ہوں۔گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی پشاور میں اے این پی کے باچا خان مرکز پہنچ گئے۔ گورنر نے اے این پی کی اعلی قیادت سے ملاقات کی جس میں سیکیورٹی و سیاسی معاملات پر بات چیت کی گئی۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جن لوگوں نے دہشت گردوں کی حمایت کی، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، بہتر ہوتا کہ آپریشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ لیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے صوبائی کابینہ کو اعتماد میں لئے بغیر آپریشن کی حمایت کردی، سیاسی جماعتوں کے تحفظات وزیر اعظم، صدر پاکستان کے سامنے رکھوں گا، بحیثیت گورنر آپریشن استحکام پاکستان کی حمایت کرتا ہوں۔

 

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
90270