2017 28
ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ
 

فدانگینہ  چترال

تحریر: فراز خان فراز چرون

یہ اس زمانے کی بات ہےکہ نو زائیدہ  ملک  پاکستان  کے قیام کے ایک  سال بعد بلجیم سے تعلق  رکھنے  والاسیاح دنیا کے  سفر کی غرض سے  پاکستان کےشمال مغربی  سرحدی صوبہ کے شمال میں واقع  شاہی ریاست   چھترار کا دورہ کرتے ہوئے اس وقت کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے سفرنامے میں  یوں لکھتا ہے کہ  یہاں کے باسی  بنیادی ضرورتوں    سے ہزار  سال پیچھے ہیں  اور یہاں کے باسی   اپنے معاشی، معاشرتیاور زہنی ارتقا  ء کے لئے  کسی  مسہحی یا معجزہ  کے منتظر ہیں  ۔ واپسی کے چند عشرے بعد ان کی بیٹی  ڈاکٹر بن  کر خدمت کی غرض سے دنیا  کی سفر پہ  نکلی  تو  بچپن کی  بابا کی سنائی ہوئی کہانی  اب بھی کانوںمیں  گو نج  رہی تھی  اور  یہی کہانی  اس کو  آمد چترال  کی  سبب بنی  ۔          دل  میں بچپن کی وہی کہانی  ابھی بھی  تروتازہ  تھی  لیکن انکھوں  سے وہ منظر اوجھل تھی  ۔غم اور  خوشی کے عالم میں  اپنے بابا کو  رقعہ بھیج  دی اور  یہا ں کے حالات   کی یکسر  منظر کشی کی۔ جب  بیٹی کی چھٹی ملی  تو بابا کو  یقین   نہیں آیا  گو کہ  اس کی   عمر  اسی   (80)سال کے لگ بگ تھی  اور وہ زندگی کی آخری سفر یعنی  دورہ چترال  پر روانہ ہوا  اس طرح  1980 ء کی دہائی میں چترال کا دورہ   کرتے ہوئے اس ناقابل یقین   تبدیلی  اور معجزاتی ترقی کو اپنی انکھوں  سےدیکھتے ہوئے خود کو  یقین نہیں آیا ۔

یہ مسلمہ  حقیقت ہے  کہ زہنی ارتقاء  کے لئے   انسان کی  بنیادی ضرورت  یعنی خوراک،کپڑا اور مکاں  کا ہو نا  ضروری ہے اس کے بغیر زہنی ترقی (علم)   کرنا  مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے  ان مساعد حالات میں بھی  چترال کے  کچھ  عظیم  سپوت نے  اپنے نام ملکی اہم عہدوں پہ  اویزاں  کروا دیا  گو کہ اس دور میں پورے وادی چترال سے علم  دوست  چشم چراغ پیدا ہوئے  لیکن  کچھ  مٹی زیادہ زرخیز ثابت  ہوئی  ان میں  موغ ، برنس، چرون ، بونی اور  راعین   سر فہرست ہیں ۔ان  فخر چترال میں  سے ہر   ایک کی کہانی آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتریں  نمونہ  ہے تاہم  ہر ایک کا احاطہ  کرنا  ممکن نہیں  اس لئے  ان میں سے  ایک کی  زند گی  کی  نشیب و فراز پر  قلم کو حرکت دینے کی  ناتمام کوشش کی ہے ۔ کہتے ہیں کہ زہین  لوگ   بچپن ہی سے  باکمال ہوتے ہیں  وہی شخص  جو بچپن میں  ردی کے ٹکڑوں  سے  معلومات    اٹھا کر  اپنے علم میں اضافہ  کرتے ،  پڑوسیوں کے کام آتے  اور  ماں  کو اپنی بساط  کے مطابق  خوش رکھنے کی  کوشش کر تے کیونکہ  ان کی پیدائش  کے چار سال بعد ہی  اس کی امی کو  اپنی ہم سفر سے   جدائی  کی  صعو بتیں   جھیلنا  پڑی ۔ وہی باکمال  ماں  اپنی   مجبوریاں  بالائے  طاق  رکھتے ہوئے  اپنی مکمل توجہ  اس بچے  پہ ڈال دی  تاکہ  وہ ایک پرجوش  مستقبل   جی لے ۔ یہی نہیں  بلکہ  اسی  نے اپنی رات کی ساری چراغ  جلا دی  تاکہ  وہ بچے کا پرتپاک  مستقبل  دیکھ سکے۔

وہی  ہونہار بچہ  اپنی زندگی کی  ابتدا ئی دن بڑے نام کے ساتھ   شروغ  کیا  کھبی بھی  شکایات کا موقع  نہیں دیا  اور اسکول میں بھی   سامنے   والی کرسی میں  بیٹھنے والوں میں  اس کا شمار تھا  ۔ پانچویں  جماعت تک  اپنی ابائی  گاوں   چرون سے  تعلیم حاصل کرنے کے بعدمڈل سکول  میں داخلہ کے لئے   گاوں  سے 9کلو میٹر  دور ایک دوسرے گاون   بونی جانا پڑا اور  یوں اٹھویں  جماعت تک پڑھنے کے لئے  اس  معصوم کو روزانہ  اٹھارہ کلومیٹر  کا مسافت  طے  کرنا پڑتا تھا  ۔ ان تمام  صعو بتوں   کے باوجود  اس نے خوش اسلوبی سے  اپنے   تین سال کا دورانیہ  بہتریں  کارکردگی کے ساتھ  مکمل کر دی ۔  اس  زمانے میں  میٹرک  تک تعلیم  کو بڑی قدر کی نگاہ  سے دیکھا  جاتا تھا اس  بنا پر مذید  پڑھنے کی  خاطر  گورنمنٹ ہائی سکول  کوشٹکا رخ  کرنا پڑا جوکہ  ان کے ابائی گاون  سے تقریبا  سات  کلومیٹر  کے  فاصلے پر واقع  تھا۔اپنی کارکردگی کی  تسلسل کو برقرار رکتھے  ہوئے   میٹرک  کے امتحان  میں   بھی اول  پوزشن  میں  اپنے نام  کر دی۔

کسی کو کیا معلوم  کہ حالات  کب  پلٹتے ہیں اور خوشی کے لمحات امتحان  کے دن بن جاتے ہیں ۔  سائنس وقت کی ضرورت  نا  سمجھ شہرت  نے  ہر ایک طالب علم کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے ۔تب ہی یہی ہونہار طالب علم نے ایف۔ ایس۔ سی  پری میڈیکل  کا انتخاب کرکے  اس میدان  میں  کود پڑے اور گورنمنٹ انٹر کا لج  بونی میں داخلہ لیا ۔اس زمانے میں سائنس  چترال کی باسیوں کے لئے  بالکل  نیا تھا اور پڑھانے والوں  کا   بھی قحط  الر جال تھا۔ یہ سبھی عوامل مل کرفدا کو  زندگی  کا    پہلا کڑوادن دیکھنے پر مجبور  کر دیا  اور ایک سال تک سائنس میں کیا ہوا محنت  رائیگاں گیا اورسائنس کی دنیا کو خیرآباد  کہہ دیا۔اوراس کے آنے والے سال  اس نے ایف۔ اے کا امتحان   پرا یئوٹ    امیدوار  کی حیثیت   سے دے دیا اور اس طرح ایف ۔اے   کا امتحا ن   فرسٹ ڈوژن  پاس کر لیا ۔اسکے  بعد گریجوشن  بھی پہلی پوزیش گورنمنٹ ڈگری کالج چترال سے کیا  ساتھ ساتھ  ایم۔ اے کی فرسٹ ڈویژن کی ڈگری پشاور یونیورسٹی سے اپنے نام کردی۔یونیورسٹی سے فارغ ہوکر سی۔ایس۔ایس  کے لیے تیاری شروغ کی دوران مطالعہ  چند ماہ اسلامیہ ماڈل سکول بمباغ میں درس وتدریس سے بھی وابستہ رہے۔اپنی صلاحیتوں کا برملا  مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی دفعہ سی۔ایس۔ایس  کوالیفائی کیا اور سیٹ کم  ہونے کی وجہ سے  دوبارہ ایگزم دے دیاکامیابی حاصل کرنے کے بعد" کامرس اینڈٹریڈگروپ  ایکسپورٹ   پروموشن بیروکے اسٹینٹ ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔اس نے سوچا  ہوگاکہ اس سے اگے جہاں اور بھی ہے کیونکہ  نیت کے کھرے اور محنتی لوگ تقدیر کو خود دعوت دیتے ہیں قرآن مجید  میں  حکم خداوندی ہے  آیت مبارکہ کا ترجمہ  یوں ہے " اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت  تک  نہیں بدلتا  جب تک   وہ خود اپنی حالت نہ بدلے" اور  اقبال نے  بھی کیا خوب کہا ہے  

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے     
                            خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا  ہے

آپ نے تیسری مرتبہ  سی۔ایس۔ایس  کا ایگزم دے کر صوبہ میں دوسرے نمبرپر اور پاکستان  میں گیارہ نمبر پر آئےاور اے۔ایس ۔پی کے اہم عہدے اپنے نام کر دی  ا ور بعد میں ایس۔پی کے عہدے پر فائز ہوگئےاور اس دوران ایک سال کےلئے ملک سے باہر خدمت انجام دینے کا موقع ملااور وہاں  سے واپس اکرڈی۔پی ۔او  لوئر دیر مقرر ہوئے پھر پویس سکٹریٹ چلا گیااس دوران  سکالرشپ پر  اپنے متعلقہ فلڈ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے  کے لئےیو۔ایس  یونیورسٹی  چلا گیااور واپس آتے ہی  اے۔ائی۔ جی   مقرر ہوئے اور  این۔ٹی۔ ایس ۔سسٹیم کو فعال بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس وجہ سے مذید ترقی آپ  کے حصے  میں  آئی ۔اس وقت  بحیثیت ڈی۔ ائی۔جی ۔ صوبہ خیبر  پختونخوا خدمت انجام دے رہے ہیں ۔میں جس عظیم  اور با صلاحیت شخص کے بارے میں حقیقت کی عکاسی کی ہے  ۔یہ  ہےوہ ماں کی  امیدوں کا تارااور ایک علم دوست  نوجوان نگینہ  چترال فداحسن   جس کا تعلق چرون سے ہے اور اپنی زندگی  کے صرف چھیتالیس سال میں اتنے نشیب و فراز سے دوچار ہو کر بڑا نام کمایا اور چترالی نوجوانوں کے لئے آپ کی علمی کاوش ایک بہتریں مشغل راہ ہے۔

 

 

 

 
  mail to us at: chitraltimes@gmail.com
| ﺻﻔﺤﻪ ﺍﻭﻝ | ﭼﺘﺮﺍﻝ ﺍﻳﮏ ﺗﻌﺎﺭﻑ | ﻣﻮﺳﻡ | ﺧﻄﻮﻁ | ﺷﻌﺮﻭﺷﺎﻋﺮﻯ | ﺗﺼﺎﻭﻳﺮ | ﺧﻮﺍﺗﻴﻦ | ﻫﻤﺎﺭﻯ ﺑﺎﺑﺖ |
Managed by: FAIZ webmaster@chitraltimes.com Powered by: Schafei