13-08-2015
ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

 

سیلاب متاثرین کیلئے چندہ" کاروبار" نہ بن جائے

(اعجاز احمد)

ہمارے ہاں  آفت کو پیسہ بنانے  کا ذریعہ بنانا  کوئی ناقابل یقین امر نہیں رہاہے، ہم نے ہر واقعے کو پیسے پر تولنے اور پیسہ بنانے کا ذریعہ بہت پہلے بنایا ہوا ہے۔ ہم بظاہر خداترس اور محسن انسانیت بننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہمارے اندر کا شیطان ہمیں اس حد تک گراچکا ہے کہ ہمیں اپنے آپ پر اعتماد نہیں رہا۔اجتماعی طورپر ہم کسی کو اچھا کام کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی بجائے شاکی رہتے ہیں۔ ہم کسی نمازی کی نماز کو بھی کسی لالچ سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم کسی کی دی ہوئی خیرات کو بھی کسی منصوبہ بندی سے منسلک کرنے کی روایت  پر قائم ہیں، کیوں؟ کیونکہ ہمارے پاس شاکی رہنے، اعتماد نہ کرنے  اور ہمیشہ الٹ سوچنے کے سوا رہ کیا گیاہے؟

سن 2010ء اور پھر یکے بعد دیگر ےہر سال پاکستان میں سیلاب آنے کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔  اسی سال پاکستان میں سیلابی صورتحال کو رپورٹ کرتے ہوئے ایک مغربی اخبار نے لکھا کہ پاکستان کے کشمیر سے سندھ و بلوچستان  تک کی  سیلاب سے متاثرہ آبادی  پورے یورپ کی آدھی آبادی سے زیادہ ہے، جبکہ رقبے کے لحاظ سے ایک چوتھائی یورپ  جتنا رقبہ زیر آب آگیاتھا۔ کہتے ہیں کہ مذکورہ سیلاب کی وجہ سے پاکستان کے منصوبہ سازوں کو اپنے اہداف نئے سرے سے متعین کرنا پڑے۔ پاکستان کا نقشہ جس میں مستقبل کی سڑکیں، ریلوے لائنیں اور دیگر مواصلاتی اور روابط کی منصوبہ بندیاں ہوئی ہیں کو دوبارہ ترتیب دینے کی سوچ  تک پیدا ہوگئی تھی۔ آفت کی شدت کا پیمانہ اس حد کو پہنچ چکا تھا، دنیا نے ہمیں اکیلے نہیں چھوڑا، پہلے پہل ریلیف کیلئے دنیا نے لبیک کہا پھر بحالی کیلئے اپنے خزانوں کے منہ ہمارے لئے کھول دئیے گئے، بس یہاں ہمارے اپنے ایمان کا امتحان شروع ہوگیا۔

پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم پیران پیر، مخدوم سید یوسف رضا گیلانی تھے۔ ایک بار پیغمبر اسلام کے ساتھ انکے  ننھےنواسے، حسن اور حسین بیٹھے تھے کہ کہیں سے آئی ہوئی ذکواۃ کی کھجوریں حضور کو دکھانے لائی گئیں، چھوٹے نواسوں میں سے کسی نے کھجور کا ایک دانہ اٹھایا تو  آپ صل اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزری اور سختی سے منع کرتے ہوئے نہ صرف کھجور واپس لے لی بلکہ فرمایا کہ" ذکواۃ میرے اور تمھارے لئے نہیں ہے"۔  اسی خانوادے سے تعلق کا دعوی رکھنے والے سید یوسف رضا گیلانی کے بارے میں مشہور ہوا کہ متاثرین کیلئے آنے والی امداد کیلئے کویت میں ایک نجی بینک اکاونٹ کھلوایا گیا، اس  بابت آج تک کوئی تفصیلات منطر عام پر نہیں آئیں ۔ ترک خاتون اول کا ہار اپنی بیگم محترمہ کے گلے میں ڈالنے اور حالیہ دنوں میں کیس سے بچنے کیلئے ایف آئی اے کو واپس کرنے کا واقعہ نیا نیا ہے۔

آفات چترال کیلئے بھی نقدی لانے کا سبب رہی ہیں۔ اس اچھے زمانے میں جب  سارا کام ڈپٹی کمشنر کا دفتر سنبھالتا تھا ،دفتر کے عملے کے وارے نیارے تھے۔ ڈی سی آفس چترال  کے ایک بابو کو زلزلوں سے کمانے کی اتنی لت پڑچکی تھی کہ ان سے منسوب لطیفے بننے لگے۔  ایسے ہی ایک لطیفہ کچھ یوں تھا "جب موصوف اپنے گھر کے صحن میں چارپائی پر لیٹے آنکھیں بند کئے خیالوں میں گم تھا  تو پاس سے گزرتی اسکی بیگم  چارپائی سے ٹکرائی ، موصوف  کو لگا کہ زلزلہ آگیا ، ہڑبڑاکر اٹھ بیٹھے ،الحمداللہ کا ورد کیا ، پھر ناچنے لگے"۔

آفات سے کمانے کی بدنامی اسی ایک کیساتھ مشہور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر لوگ پاک و صاف ہیں۔ چند استثناء چھوڑکر ہم سب کا دھیان اپنی کمائی پر ہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر آفس کی مثال  کیا دیں، آپ تھوڑی تاخیر سے دیر اڈہ پہنچ جائیں اور کسی چترالی ڈرائیور سے ہی کرایہ پوچھ لیں، کسی کی مجبوری سے مال بنایا کسطرح جاتاہے لگ پتا جائے گا۔ ہم پہلے ہی رپورٹ کرچکے ہیں کہ بونی چترال روڈ پر کابلی گاڑیوں کی ادھڑی نشستوں پر براجمان یہ ڈرائیورز ڈی سی آفس کے اس بابو سے کسی بھی زاوئیے سے کم نہیں ہیں۔

چترال کے حالیہ سیلاب کو بھی بہت سے لوگ للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اس سے بیشتر اپنے بھائی بہنوں کی کالج فیس بھی  اداکرنے سے گریزاں مشہور تھے آج پشاور اور اسلام آباد کی سڑکوں پر خود کو متاثرین کیلئے مسیحا کا روپ دھارے بیٹھے ہیں۔ چترال سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے اسلام آباد کے پوش علاقوں میں قائم دو کیمپوں کے منتظمین کیلئے اس سے قبل شاید انکے قریبی رشتہ دار بھی قسمیں کھائیں گے کہ انہوں نے سابقہ کسی آفت کے موقع پر زندہ  ہونے کے باوجوداتنے سرگرم نہیں تھے۔

کیا ریلیف کا سامان اکھٹا کرنے کا کام کسی قاعدہ قانون کے دائرے میں آتاہے یا مدرسوں کے چندہ بازوں کی طرح  یہاں بھی کھلا میدان ہے۔ کیا حکومتی عمال کو  ان سے دستاویزات نہیں مانگنے چاہئے، متاثرین کے نام پر جو بھی رقم اکھٹی ہوگی اس کا ریکارڈ کون رکھے گا، اس کا کتنا حصہ متاثرین تک پہنچ جائے گا، نہ پہنچنے کی صورت میں کونسا ادارہ اسے یقنی بنائے گا کہ رقم واگزار کی  جائے، کیا ایسے افراد کی کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے، کیا ان سے کوئی ضمانت لی جاتی ہے، وہ کس کے کہنے پر اپنا وقت دے رہے ہیں، اس سے قبل وہ کہاں تھے، کیا کررہے تھے،  انہوں نے اس سے پہلے کونسا خیراتی کام کیاہے۔ اس جیسے سوالات کا ہر ذہن میں جنم لینا فطری ہے کیونکہ سیلاب سے متاثر ہونا اگر نصیب میں تھا تو کم ازکم  اپنےنام پر کسی کو  مال بنانے نہ دینا ہمارے اختیار میں ہے۔

یا درہے چترال میں اس قسم کی چندہ کشی سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہونے والا۔ چترال میں زیادہ تر سڑکیں اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔ اسی چندے  سے نہ سڑکیں ٹھیک ہوسکتی ہیں اور نہ یہ اس مقصد کیلئے اکھٹا کیا جارہاہے، مختلف خیراتی اداروں جیسے الخدمت، مسلم ایڈ، فوکس ، فوج اور انتظامیہ کے پاس بے گھر متاثرین کیلئے  خوراک اتنی جمع ہوچکی ہے کہ اسے  سنبھالا نہیں جارہا۔ مسئلہ صرف نقل وحمل میں درپیش ہے۔ ایسے میں متاثرین کو بھوکا، ننگا پیش کرکے چندے باز وں کے مقاصد کیا ہوسکتے ہیں سب کو معلوم ہے۔

مخیر لوگ انسانیت کے نام پر ایسے کیمپوں پر ضرور جاتے ہیں اور اپنی بساط کے مطابق تعاون کرتے ہیں، انکے پاس ان ڈرامہ بازوں کی تصدیق وغیرہ کیلئے نہ وقت ہوتاہے اور نہ کوئی ذریعہ۔ لہذا یہ صرف اور صرف سرکاری اداروں کا فرض بنتاہے کہ ایسے لوگوں کی جانچ پرکھ کو یقینی بنائے۔ وگرنہ معاشرے کا یہ بھی ایک ناسور بن جائے گا۔ عید قربان کی کھالوں کو جمع کرنے پر شروع وقت میں  ہی نظر رکھی جاتی تو یہ اسلامی فریضہ (خصوصا کراچی میں) میں اداکرنا مسلمانوں کیلئے وبال جان نہ بن جاتا۔ اس کاوش کا مقصد یہ بھی ہے کہ آفت کو کیش کرنے کے سلسلے کو یہی روکا جائے ورنہ کل کو یہ بھی قربانی کی کھالوں پر خونی جھگڑ وں کی صورت اختیار کرے گا۔

 

 

  mail to us at: chitraltimes@gmail.com
| ﺻﻔﺤﻪ ﺍﻭﻝ | ﭼﺘﺮﺍﻝ ﺍﻳﮏ ﺗﻌﺎﺭﻑ | ﻣﻮﺳﻡ | ﺧﻄﻮﻁ | ﺷﻌﺮﻭﺷﺎﻋﺮﻯ | ﺗﺼﺎﻭﻳﺮ | ﺧﻮﺍﺗﻴﻦ | ﻫﻤﺎﺭﻯ ﺑﺎﺑﺖ |
Managed by: FAIZ webmaster@chitraltimes.com Powered by: Schafei