2015 08
ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ



 

اسلامی دنیا میں خودکش حملوں کی تاریخ
عمران الہی
 
موجودہ دور میں دہشت گردی کی اصطلاح کو استعماری طاقتیںاپنے فوجی یا سیساسی مقاصد کی تکمیل کے لیے
 استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ابھی تک کوی دہشت گردی کی واضع  تعریف سامنے نہیں آئی ہے یہاں تک
 کہ امریکی حکومت بھی ایک تعریف پر متفق نہیں ہو سکی ہے تاہم اس کا آسان سا حل یہ نکالا گیا ہے کہ دہشت گردی
 کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑدیا جائے اور دہشت گردی کی آڑ میں اپنے مخصوص مقاصد کو پایا تکمیل تک
 پہنچایا جائے.

 خودکش حملوں کے بہت سے محرکات ہوتے ہیں مثلہ مذہبی عقائد ، قوم پرستانہ نظریات، کرشماتی یا آمرانہ رہنماؤں
 کی اطاعت، یا سیاسی یا سماجی تبدیلی کی خواہش وغیرہ. اپنبے مظموم مقاصد کے لئےانسانوں کو استعمال کرنے کے لئے طریقہ کار مختلف ہو سکتے ہیں جن میں سے ایک خوفناک طریقہ خودکش حملہ آور تیار کرنا شامل ہے.

 

حال ہی میں سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ رحمہ اللہ شیخ خودکش حملوں کے خلاف ایک
 اہم فتوا میں کہا ہے کہ خود کش بم دھماکے غیر قانونی، غیر انسانی اور اسلام میں حرام ہیں. اس کے علاوہ اسلام
 کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماءکی جانب سے مختلف مواقع پر خودکش حملوں کی حرمت کے
 سلسلے میں فتاوہ جاری ہوۓ ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہو گیا ہے کہ اسلام میں خودکش حملوں کی کوئی گنجائش
 نہیں۔

عام طور پر خودکش حملوں کی تاریخ کو اسلامی تاریخ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جو کہ اسلامی تاریخ کے ساتھ سراسر
 زیادتی ہے۔تاریخ کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتا ہے کہ خودکش حملوں کی سب سے پہلی ریکارڈ
 عیسایئوں کی جانب سے ملتی ہے جو مسلم افواج کے کنٹرول سے یروشلم کے مقدس شہر کو آزاد کرنے کی صلیبی
 جنگوں کے دوران  خود کش کاروائی کا آغازعیسائی فوجیوں کی طرف سے آیا.
 صلیبی جنگوں کے دوران ، نائٹ ٹیمپلرزTemplars Knightنے مسلم افواج اور سپہ سالاروں پر 10 بار خودکش
 حملہ کروائے۔
 
تیرویں صدی کے بعد مسلمانوں کے سیاسی زوال کا دور شروع ہوا جو اٹھاروی صدی تک اپنے  عروج کو پہنچ گیا۔ ان
 صدویوں کے دورانی تاریخ میں مسلمانوں کی طرف سے بہت سے مزاہمتی تحریکیں وجود میں آئیں جن میں سے
 بعض نے پر تثدد تحریک کی صورت بھی اختیار کیے مگر ان تحریکوں میں بھی خودکش حملہ آوروں کا سلسلہ
 ہمیں کہیں نظر نہیں آتا ہے حالانکہ اس بیچ بارود بھی ایجاد ہوا تھا۔

جدید خود کش بم دھماکوں کاآغاز لبنان میں 1983 میں حزب اللہ کی طرف سے اسرایئلی مظالم کے خلافہوا جن کا سلسلہ
 وقفے وقفے سے تاحال جاری ہے.اسی طرح اکتوبر 1995 میں کروشیا میں ایک اور  خودکش دہماکا کیا گیا جس میں
 224 افراد ہلاک اور پانچ ہزار زخمی ہو گئے۔ اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ کی جانب سے ایک پہلا حملہ
 نیروبی اور  برونائی دار سلام میں امریکی سفارت خانوں، میں کیا گیا اور اس تنظیم کے حملوں کا سلسلہ مختلف
 ممالک میں ہوئے۔
جون اور جولائی 2000 میں روسی فوج کے خلاف لڑنے والے چیچن عسکریت پسند خودکش بمباروں کے دائرے میں
 شامل ہو گئے اور اس طرح روسی جارہیت کے خلاف چیچن خود کش حملہ آوروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ 
بھارت میں اب تک اسلامی تنظیم"جیش محمد" کی طرف سے دو خودکش حملے بھارتی فوجی اہداف کے خلاف ہوے.

  پاکستان میں خودکش حملوں کا سلسلہ نومبر 1995 میں شروع ہو جب مصری تنظیم "مصری جہاد" نے کراچی میں مصر
 کے سفارت خانے میں دو خودکش حملے کروائے۔ 
خودکش حملوں کے سلسلے میں شدت 11/9 کے واقعے کے بعد سے ہوا جب  (اسلامی)دہشت گردی کے خلاف  عالمی
 جنگ کا طبل بجایا گیا جس کا حدف اسلامی ممالک بنے۔ اعداد و شمار کے مطابق1999سےاب تک 17اسلامی تنظیموں
 نے 14 اسلامی ممالک میں 700 سے زاید خود کش حملے کرائے ہیں جن میں سے 90 فیصد دھماکوں کے شکار بیگناہ
 شہری بنے.
پاکستان، افغانستان اور عراق کا شمار ان بدقسمت ممالک میں ہوتاہے جو 11/9  کے  بعد سب سے زیادہ خودکش
 حملوں کی دہشتگردی کا شکار ہوے۔ اگر ٖصرف پاکستان کی بات کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 1999 سے
 2015 تک 55000 سے زاید معصوم شہری دہشت گردی کی وجہ سے لقمہ اجل بنے جن میں سے اکثر خودکش
 حملوں کا شکار ہوے ہیں۔
مغرب میں کئے گئے ایک مطالعے کے مطابق خود کشی ذاتی یا سماجی بحرانوں سے فرار  ہونے کی ایک کوشش ہے.
 اس تناظر میں اگر مسلم معاشرے بلخصوص پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کے عوام کے حالت زار کو دیکھا جائے
 تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ استعماری طاقتوں نے ان علاقوں کی حالت ہی ایسی کی ہے کہ یہ محروم طبقہ دہشت گرد
 قوتوں کا آلہ کار بننے کے لئے آسان مہرہ بن گئے ہیں۔ 

وہ تمام طاقتیں جو دہشت گردی میں ملوث ہیں  مسلمانوں خاص طور پر معصوم نوجوانوں کو گمراہ کر کے خود کشی کی
 طرف مائل کر رہے ہیں۔ وہ عناصر نہ صرف اسلام کے دشمن ہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں
 اوران کی سرگرمیاں مسلمان اسلام کو بدنام کرنے اور تباہ کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ عالمی طاقتیں، میڈیا اور متعب طبقہ ان عوامل کا اداک کیے بغیر جو دہشت گردی اور خودکش حملوں کا
 سبب بنتا ہے اور سیدھا دھشت گردی کو اسلام سے جوڑ کر اسلام کو بدنام کرنے کی کوششوں میں لگے
 ہوئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مربوط بین القوامی کوششوں کے باوجود دہشت گردی کا یہ ناسور پہیلتا جا رہا
 ہے۔ اگر دہشت گردی کو روکناہے تو یہ بات تمام عالمی طاقتوں کو یاد رکھنی چاہئے کہ جب تک ان عوامل کا
 سد باب نہیں کیا جائے گا جو دہشت گردی اور خودکش حملوں  کا موجب بنتے ہیں
 یہ جنگ نہ صرف وسائل کا زیاع ہوگا بلکہ معصوم انسان اس آگ کا ایندھن بنتے رہیں گے۔ اور جو یہ سمچھ رہے
 ہیں کہ اس جنگ کی آڑ میں دنیا سے اسلام کا صفایا کرا دیا جائے گا. تو ان کو بھییہ بات جان لینی جاہیے کہ
 اسلام اگر مٹنے کے لیے آیا ہوتا تو تاتاریوں اور صلیبیوں کے خونیں یلغار کے نیچے آکر کب کاکچل چکا ہوتا۔
 انسانیت کی رہنمائی کا یہ نظام تا قیامت نور ہدایت و سلامتی سے دنیا کومنور کرتا رہے گا۔
 
                                              "پھونکوں سے یہ چراغ بھجایا نہ جائے گا"

 

  mail to us at: chitraltimes@gmail.com
| ﺻﻔﺤﻪ ﺍﻭﻝ | ﭼﺘﺮﺍﻝ ﺍﻳﮏ ﺗﻌﺎﺭﻑ | ﻣﻮﺳﻡ | ﺧﻄﻮﻁ | ﺷﻌﺮﻭﺷﺎﻋﺮﻯ | ﺗﺼﺎﻭﻳﺮ | ﺧﻮﺍﺗﻴﻦ | ﻫﻤﺎﺭﻯ ﺑﺎﺑﺖ |
Managed by: FAIZ webmaster@chitraltimes.com Powered by: Schafei