2015 25
ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ


 

ایک شام پرویز مشرف کے نام

دل کی بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سائرہ سید


چترال سٹوڈنٹ ایسوسیشن نے ٢١ فروری کو میریٹ ہوٹل کراچی میں سابق صدر کے اعزازمیں ایک نہایت شاندار پروگرام کا انعقاد کیا -جسمیں اسٹوڈنٹس کے علاوہ دیگر چترال سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بھی بھرپور شرکت کی- سکیورٹی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے پروگرام کی صحییح انداز میں تشہیر نہیں کی گئی تھی اور اسکے علاوہ لوگوں کی تعداد کو محدود رکنے اور ضروری اخراجات کو پورہ کرنے کی خاطر انٹری ٹیکٹ بھی رکھا گیا تھا- اسکے باوجود چترالیون کی مشرف سے محبت کا یہ عالم ے تھا کہ بہت بڑے یال میں تل دھرنے کی بھی جگہ باقی نہیں تھی- ہماری خوش قسمتی تھی کہ خاندان میں ہونے والی ایک تقریب کے لئے صرف دو دن پیلے ہم لوگ کراچی پہنچے تھے اس بہانے ہمیں بھی شرکت کا موقع مل گیا- مشرف صدارت چھوڑنے کے بعد چونکہ آچ تک کسی پبلک تقریب میں شرکت نہیں ک تھی اسلئے ہم سمیت تقربآ سبھی کو مشرف کے آنے کا یقین نہیں تھا اور لوگوں کا خیال تھا کہ صرف وڈیو لنک خطاب ہوگا- جب مشرف تمام تر سکیورٹی خدشات اور تھرڈ الرٹس کو نظر انداز کرتا ہوا چترالیون تک پہنچ گیا تو انکا جذباتی انداز اور عوام کا انہیں استقبال کرنے کا منظر بہت ہی قابل دید تھا- اپنی پچیس منٹ کی خطاب میں مشرف نے اپنی چترالیوں کے ساتھ وابستگی اور پاکستان کے حالات کا بھرپور منظرنامہ پیش کیا- جرنل صاحب نے اپنی جذباتی انداز میں چترالیوں کی تعریف کچھ یوں کی کہ جسطرح پانی کے چشمے پہاڑوں سے پھوٹتے ہیں. اسی طرح میں نے ایمان،غیرت،دوستی اور وفاداری کے چشموں کو بھی چترال کے پہاڑوں سے پھوٹتے پایا ہے- اور مجھے اپنی چترالیوں کے ساتھ تعلق اور دوستی پر ہمیشہ فخر ہے- پاکستان میں انصاف کا حال بتاتے ہوئے کہا کہ عدالت عالیہ نے مجھے انتخابات کے لئے نا اہل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں صادق اور امین نہیں ھوں اور وہی عدالت کے نظر میں زرداری اور نواز شریف دونوں بہت ہی صادق اور امین ہیں- اس بات پر بہت سے لوگ اپنی ہنسی روک نہی پائے اور مشرف زندہ باد کے نعرے بھی لگے


پاکستان میں مذھبی مافیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جرنل صاحب نے کہا جسطرح ہمارے یہاں مذھب کے نام پر لوگوں کو
جو کچھ  بتایا اور کروایا  جا رہا ہے. اس سے دنیا مین نہ صرف پاکتستان بلکہ عالم اسلام کی بھی رسوائی ہو رہی ہے- اپنے اور بعد کے ادوار کے معاشی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے نہ صرف قرضوں کا بوجھ کم کیا بلکہ خزانہ بھی بھر دیا تھا ساتھ ھی ملک بھر میں ترقیاری کاموں کا جال بچھا دیا تھا- جبکہ آج خزانہ خالی پڑا ہے اور ملک پر قرضوں کا بوجھ مذید پچاس ارب ڈالر بڑھ چکا ہے- اخر میں جرنل صاحب نے عوام کے بھر پور اسرار پر ڈھول کی مخصوص ساز پہ ڈانس بھی کیا جس کو چترالیوں نے بھر پور انجوائے کیا- چترال سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے بھی اپنی فن کا بھر پور مظاہرہ کیا جس سے عوام لطف اندوز ہو تے رہے- آ خر میں یہ خوبصورت پروگرام بخیریت اپنی انجام کو پہنچا-

اس تقریب میں چترال سے تعلق رکھنے والے چند  نامی گرامی اشخاص اور ایم این اے صاحب کی کمی کوخاص طور پر محسوس کی گئی- اگرچہ ان لوگوں کی غیر حاضری کے مختلف وجوہات بتائے گئے لیکن اس سے  بابا جان بالکل بھی مطمئن نہیں ہوئے- اور کہا کہ کم از کم ایسے موقعوں پر ہمیں سیاست اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالنا چاہئے اور دوسروں کو ھماری اتفاق اور اخلاقیات کے بارے میں شک کرنے کا موقع نہین دینا چاہئے- آخری بات یہ کہ لوگ کچھ بھی کہیں چترالیوں نے دنیا کوایک بار پھریہ پیغام دے دیا ہے کہ اگرچترالیوں کو کوئی اہمیت اور عزت دے تو یہ لوگ اسکا بدلہ دینے میں کس حد تک جاسکتے ہیں- بھٹو سے مشرف تک, محسن زندان میں ہو یا قبر میں چترالی نتائج کی پرواہ کئے بغیرایک احسان کا بدلہ سو بار بھی گر چکا لے تو بھی انکا کلیجہ ٹھندا نہیں ہوتا-

 

 

  mail to us at: chitraltimes@gmail.com
| ﺻﻔﺤﻪ ﺍﻭﻝ | ﭼﺘﺮﺍﻝ ﺍﻳﮏ ﺗﻌﺎﺭﻑ | ﻣﻮﺳﻡ | ﺧﻄﻮﻁ | ﺷﻌﺮﻭﺷﺎﻋﺮﻯ | ﺗﺼﺎﻭﻳﺮ | ﺧﻮﺍﺗﻴﻦ | ﻫﻤﺎﺭﻯ ﺑﺎﺑﺖ |
Managed by: FAIZ webmaster@chitraltimes.com Powered by: Schafei