2014 30
ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ


ملاوٹ ہمارا ایک قومی المیہ

سائرہ سید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل کی بات


پنجاب میں ایک بیکری اپنی اصلی دیسی گھی سے بنی مٹھائیوں کی وجہ سے بہت شھرت رکھتا ہے- یہ مٹھائی دام میں دوسرے دکانوں کی نسبت تین گنا مہنگی ہوتی ہیں-اس کے باوجود دیسی گھی والی خوشبو کی وجہ سے دکان میں رش لگا رہتاہےاور لوگ خاص موقعوں پر بڑے فخر سے اس دکان والی میٹھائی ایک دوسرے کو پیش کرتے ہیں- ایک دن پتہ چلا کہ یہاں دیسی گھی کا استعمال صرف برش اور سپرے کے ذریعےمیٹھائیوں پرخوشبو بنانے کی حد تک ہوتی ہے- باقی سارا کام عام سے تیل پر ہوتا ہے- جبکہ دکان پہ صاف لکھا ہے اصلی دیسی گھی سے تیار شدہ میٹھائی  یہ عمل ہمارے معاشرے میں موجود بدیانتی کی ایک بہت چھوٹی سی مثال ہے- حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت شھد سے زہر تک کوئی چیز بھی آپ کو خالص نہیں ملتی- چند بڑے برانڈڈ سٹوروں کے علاوہ اصلی چیزیں آپ کو کہیں قسمت سے ہی مل جاتی ہیں- دوائیوں سے لیکر مشینری تک آپ کو ہر چیز دو نمبر کی ملتی ہے جبکہ قیمت اصل چیز کی وصول کیجاتی ہے-

ہم نے جب پاکستان میں ملاوٹ کے مسئلے پر چند سروے رپورٹوں کوسٹیڈی کیا اور چند ایک ملکی ٹی وی چنلز کے ڈیکومینٹری پروگراموں کو دیکھا تو ہمارا تو سر ہی چکرا گئی- پتہ چلا کہ  منرل واٹر کے نام سے جو پانی بازار میں بکتا ہے اسمین 95 فیصدعام پانی ہوتاہے-چائے کی پتی اور مصالوں میں لکڑی کا برادہ اور رنگ و ذائقے کیلئے مضر صحت کیمیکلز اورذبیحہ کے جا نوروں کا خون استعمال ہونے کا انکشاف ہوا- بازاروں میں ملنے والی خوردنی تیل اور گھی میں مردار جانوروں ک چربی،آلو وغیرہ ملانےکے بعد اس میں موجود بدبو کو ختم کرنے اور رنگ کو شفاف بنانے کیلئے خطرناک کیمیکل پراسیس سے گزارا جاتاہے- پھر اسکو خوبصورت اور دلکش ڈ بوں میں پیک کیا جاتاہے-عوام کی مزید تسلی کیلئے ڈبوں کے اوپر مشھوربرانڈ کے سٹیکر لگائے جاتے ہیں- شہروں میں گوشت کی مارکیٹوں میں آپ کو نہیں پتہ ہوتا کہ چھوٹے اور بڑے گوشت کے نام پر آپ کیا خرید رہے ہیں کیونکہ کئی جگہوں پر مردار جانوروں کے علاوہ کتا،گدھا اور مرے ہوئے گھوڑے کا گوشت بھی آپکا نصیب ہو سکتا یے- ٹی وی ڈیکو مینٹری میں ایک صاحب جو گدھے کو ابھی تازہ کاٹا ہوتاہے وہ اینکر کے سوالوں کا بہت اعتماد کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہتاہے کہ گدھے کی کمائی حلال اور اس کا گوشت کیسے حرام ہو سکتاہے- یہ صاحب آگے چل کے بتاتاہے کہ وہ یہ کام کئ سال سے کر رہا ہے اور روزانہ کئی گدھے ذبح کرتا ہے اور انکا گوشت فلان فلان مارکیٹ تک جاتاہے-اسی طرح دواؤں میں دو قسم کی ملاوٹ ہوتی ہے- پہلی قسم میں دوائی کم اور نقلی مٹیریل زیادہ ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم میں اصلی دوائی استعمال ہی نہیں ہوتی یعنی انجکشن میں پانی اور کیپسول میں عام پوڈریا آٹے کا استعمال ہوتا ہے-آپ اپنے ملک کی کسی اچھی برانڈ کی دوا کو پڑوسی ملک کی بنی وہی کمپنی والی دوا سے موازنہ کریں تو آپ کو قیمت اور اثر میں زمین واسمان کا فرق نظر آئے گا- خواتیں کیلئے جو کاسمیٹکس بازار میں ملتی ہیں وہ وٹامنز کی بجائے خطرناک کیمیکلز پر مشتنل ہوتی ہیں جو بعد میں سکن کو نہ صرف خراب کرتے ہین بلکہ بعض اوقات سکن کینسر کا سبب بھی بنتےہیں- ہماری قومی دیانتداری کا یہ حال ہے کہ چائینیز کمپنیان بھی ہماری ملک کیلئے کوالییٹی کیلحاظ سے ایک سے آٹھ نمبر تک پراڈکٹس بناتی ہیں جبکہ باقی دنیا کیلئے یہ نمبر زیرو ہوتی ہے یعنی انکا کیلئے کوالیٹی کا صرف ایک درجہ ہی ہوتاہے اور دوسرا کوئی نہیں ھوتا-

اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ہمارے اس مسئلے کا ذمہ دار کون ہے اوریہ کہ اس ظلم کو کیسے روکا جاسکتاہے- جواب بیشک یہی ہے کہ مًعاشرے میں ملاوٹ کی لغنت کو پروان چڑھانے میں ہم سب برابرکے ذمہ دار ہیں-اگر عوام ملاوٹ والی اشیاء خریدنا بند کریں-اگر خطیب حضرات اپنے خطبوں میں نان ایشوز موضوعات کو چھوڑ کر لوگوں میں ملاوٹ کیخلاف شعور پیدا کریں اورلوگوں کو بتائیں کہ کس طرح ناپ طول میں کمی اور ملاوٹ کی وجہ سے حضرت شعیب علیہ ا لسلام کی قوم پر کسطرح عذاب نازل ہوا اورکسطرح وہ قوم ذلزلے کی عذاب سے تباہ ہو گیا اور اگرمنتخب نمائندے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر چکنگ اور سزا کا نظام واضع کرےاور اس جرم ملوث لوگوں کو بلا تفریق سزا ملنا شروع ہوجائے تومجھے یقین ہے کہ چند ہی مہینوں کے اندر کم از کم چترال کے اندرخوشگوارتبدیلی محسوس ہوگی- کیونکہ اس وقت چترال نقلی اور جعلی اشیاء بنانے اور بیجنے والوں کیئے جنت کی حیثیت رکھتاہے- کیونکہ یہاں پراس بارے میں نہ تو عوام میں شعور نظر آتا ہے اور نہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس عمل کو جرائم میں شمار کرتے ہیں- مضر صحت اور ملاوٹ والی چیزٰوں کے استعمال سے طرح ظرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں- اگراس بارے میں معاشرے میں شعور کو بیدار کریں اور ہر فرد ذمہ داری کا مظاہرہ کرے- عوام دکاندار بھائیوں کو سمجھائیں کہ وہ آئندہ یہ غلط کام نہ کریں اور باز نہ آنے پر تھانے یا مجسٹریٹ کے پاس جاکے انکی رپورٹ کریں- یقین جانیئےاس روئیے کو اپنانے کے بعد آپ دیکھینگے کہ نہ صرف دو نمبری اشیاء ماکیٹ سے غیب ہو جائنگے بلکہ کسی بھی مافیا کو اس غلیظ دندے کیلئے آئندہ چترال کا رخ کرنے کی جرات تک نہین ہوگی- جسطرح ہم چترالی اپنے خاص مزاج کی وجہ سے دنیا میں جانے جاتے ہیں، جلد ہی ملاوٹ سے پاک علاقے کے طور پربھی چترال کی ایک نئی پہچان بنے گی اور ہمارا سر فخر سے مزید اونچا ہوگا؂

 

 

 

 

 


  mail to us at: chitraltimes@gmail.com
| ﺻﻔﺤﻪ ﺍﻭﻝ | ﭼﺘﺮﺍﻝ ﺍﻳﮏ ﺗﻌﺎﺭﻑ | ﻣﻮﺳﻡ | ﺧﻄﻮﻁ | ﺷﻌﺮﻭﺷﺎﻋﺮﻯ | ﺗﺼﺎﻭﻳﺮ | ﺧﻮﺍﺗﻴﻦ | ﻫﻤﺎﺭﻯ ﺑﺎﺑﺖ |
Managed by: FAIZ webmaster@chitraltimes.com Powered by: Schafei