2014 23
ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سائرہ سید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل کی بات

حقیقت، مفروضےاورنیا پاکستان

کپتان کے بار بار اعلان کے باؤجود کہ تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ تبدیلی آگئی ہےِِ- میری سیدھی سادھی امی جان کی طرح بہت سے لوگ ابھی تک فکر مند اور پریشان ہیں کہ نہ جانے نیا پاکستان کب بنے گا اوراگر بنا بھی تو کیسا ھوگا- یہاں پر میں اپنی ناقص علم اور رائے کے مطابق کچھ باتیں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں جس سے شائد ان لوگوں کو بھی یہ احساس شروع ہو گا کہ نیا پاکستان واقعی میں بن رہاہے یا بن چکا ہے-

سب سے پہلے ہم نے دیکھا اور سنا تھا کہ پاکستان بنانے کے مرحلے میں قائدآعظم نے کبھی بھی سول نافرمانی کا اعلان نہیں کیا تھا بلکہ ایک دفعہ گاندھی جی کے سول نافرمانی کے مشورے کو قا ئد نے یہ کہکر مسترد کیا تھا کہ ہم قانون کا احترام کرنے والے لوگ ہیں-جبکہ نئے پاکستان کے بانیئوں نے انقلاب اور اذادی مارچ کے شروع میں ہی سول نافرمانی کا اعلان کر رکھا ہے-پورانے پاکستان کے بانیوں نے پہلے مسلمانوں کیلئے علی گڑھ یو نیورسٹی جیسا ادارے کا قیام عمل میں لایا تھا تاکہ مسلمان پہلے تعلیم کی طرف راغب ہوکرشعورکو پا سکیں-جبکہ نئے پاکستان کے بانیوں نے ابھی تک 30 ہزار بچوں کو اسلام اباد کے سکولون سے تک بے دخل کر رکھا ہے-پورانے پاکستان کے لیڈر سٹیج پر نہایت تہذیب سےا پنا پیغام دیتے تھے-اب نئے پاکستان کا لیڈر دوسروں کو اوئے اورہائے فلان فلان کہکر مخاطب کرتاہے-پورانے پاکستان کا لیڈر جلسے کا آغاذ قرآن کی آیت سے شروع اور حدیث کے حوالے سے ختم کرتے تھے اپ نئے پاکستان میں سیاسی جلسے گانےبجانے سے شروع ہوکر بنگڑے پر ختم ہوتے ہیں-پورانے پاکستان کے سیاستدان عوام سے ٹیکس دینے اور بجلی کا بل ادا کرنے کی اپیل کرتے تھے تاکہ ریاست کا پہیہ چلتا رہے- جبکہ نئے پاکستان کا بانی لوگوں کو ٹیکس نہ دینے کی اپیل کرتا ہے اور اپنا بجلی کا بل عوام کے سامنے خود جلانا ہے-پورانے پاکستان کے سیاستدان کوششش کرتے تھے کہ جلسے کے بعد وہ اس میدان سے اپنے کچرے کو اٹھاتا ہواچلے جائیں جبکہ نئے پاکستان والون نے ملک کے دارالحکومت اور واحد صاف شھر کو بھی غلاظت کا ڈھیر بنا دیا ہے-پورانے پاکستان میں 400 پولیس اہلکار 40 ہزار لوگون کو کنٹرول کرنے کیلئے کافی ہوتے تھے-اب نیا پاکستان میں ہم نے دیکھا کہ 40 ہزاراہلکار بھی صرف 400 بلوائیوں کو جلاؤ گراؤ سے نہیں روک سکتے-پورانے پاکستان کے سیاستدانوں کے جلسوں مین لوگ خالی ھاتھ یا ذیادہ سے ذیادہ پارٹی جھنڈے،ٹیپ ریکارڈر یا کیمرے کی حد تک سامان لاتے تھے جبکہ نئے پاکستان کے لیڈروں کے دھرنوں میں لوگ ڈندوں،غلیلوں،گیس ماسک اور بلڈیزروں کے ساتھ آتے ہیں- پرانے پاکستان میں صرف محروم طبقے سے تعلق رکھنے والے مذھبی تعلیمی اداروں کے نوجوان ہی شدت پسند جانے جاتے تھے لیکن نئے پاکستان میں برگر کلاس اورصف اول کے تعلیمی اداروں کے نوجوان بھی خوفناک حد تک عدم برداشت اور شدت پسندی کا شکارہیں- پورانے پاکستان کے سیاستدان اپنے باہمی لڑایاں اس وقت فوری طور پر روکتے تھے جب بھی کوئی غیر ملکی سربراہ ملک کے دورے پر آتا تھا-اب نئے پاکستان کے لوگ پارلیمنٹ پر اس وقت حملہ شروع کرتے ہیں جب کوئی غیر ملکی سربراہ یہان آنے کا اعلان کرتاہے-پچھلے دنوں میں عظیم دوست چین کا صدر بڑی اقتصادی پیکیج کے ساتھ ملک کے دورے پرآنا چاہتے تھے لیکن انقلابیوں کے نہ ختم ہونے والے دھرنوں کی وجہ سے چانیز صدر ھمارے فضاؤں سےہوتا ہوا انڈیا چلاگیا-جہاں سب سیاسی لیڈران ملکر چینی صدر کونہ صرف ویلکم کیا بلکہ انڈیا میں زیادہ سے ذیادہ سر مایہ کاری کرنے کی درکواست بھی کی-پورانے پاکستان کے لیڈر قومی مسائیل کے ساتھ ہر جلسے میں کوئی نئی بات کرتا تھا اب نئے پاکستان کے لیڈر اپنی شہرت اور عوام کی بے بسی کو کیش کرتے ہوئے ہر بار ایک مطالبہ اور دو مثا لیں بیان کرتے ہیں جو انہی کی اپنی ذات یا ذاتی آنا سے کسی طرح تعلق رکھتی ہیں-پورانے پاکستان کے سیاستدان اپنی جلسے اکثر چٹھی کے دن منعقد کرتے تھے تاکہ لوگوں کا کاروباراور ملک کی معیشت متاثر نہ ہو-اور نئے پاکستان کے رہنما ڈیڑھ ماہ سے مسلسل ملک کی معیشت اور لوگون کے کاروبارکا بیڑہ غرق کر رکھا ہے-پورانے پاکستان میں سیاستدان نہ چاہتے ہوئے بھی دوسروں کی جیت اور اپنی شکست تسلیم کرتے تھے لیکن نئے پاکستان کے بانی اب جو سیاسی کلچر لا رہے ہیں اس سے آئندہ یہ روایت چل پڑے گی کہ کوئی بھی لیڈر جن کے ساتھ چند ہزار کے لوگ ہوں وہ جب بھی چاہیں گے اسلام آباد جاکر دہرنا دیگا اور حکومت کی رٹ کو چیلیج کرسکے گا اوروزیرآعظم سے استعفا طلب کرے گا اور حکومتوں کو سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں گرانے کا ایک نیا سلسلہ چل پڑے گا-پرانے پاکستان میں سیاستدانوں کے پیروڈیز قسطوں میں سالوں تک ٹی وی چنلز پر چلتے تھے اور وہ اپنی خفگی یا نا پسندگی کا اظہار صرف گلے شکوے سے کرتے تھے- جبکہ نیا پاکستان میں انقلابی لیڈروں کو کچھ کہنے یا ان پر تنقید لکھنے پر دوسرے ہی دن اس چنل کے آفس یا اس صحافی کے گھر پر پتھراؤ شروع ہوتا ہے-

ان سب باتوں کے باؤجود نیا پاکستان بنانے والوں یعنی ڈاکٹر اور کپتان صاحب میں چند کمال کی باتیں نہ صرف مشترک ہیں بلکہ یہ اس وقت ملک کے کسی اور سیاستدان میں آپکو نہیں ملے گا-پہلی بات
؁ یہ دونوں حضرات آعلی تعلیم یافتہ ہیں-دوئم؁ دونوں ذاتی طور دوسروں کی طرح کرپٹ بھی نہیں-تیسری؁ یہ دونوں اس وقت عملی طوربھی بڑے اور اچھی شہرت کے فلاحی ادارے چلا رہے ہیں-چوتھی بات؁ ان دونوں کے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بھی لاکھوں چاہنے والے لوگ رہتے ہیں اور انکی حمایت نہ کرنے والے بھی انکی باتیں اور انکی تقاریر سننا پسند کرتے ہیں- مگر کاش ان دونوں میں اگر تکبر اور ضد کا مشترک مرض نہ ہوتا اوریہ ہٹ دھرمی سے زرا ہٹ کے سیاست کرتے تو واقعی میں نیا پاکستان بڑا ہی شاندار ہوتا اور آج ہمیں یقینی طور پر سریے ، زر اور ڈیزل کی پوجاری سیاستدانوں سے ہمیشہ کیلئے نجات ملتی-

 

 

 

 

 


  mail to us at: chitraltimes@gmail.com
| ﺻﻔﺤﻪ ﺍﻭﻝ | ﭼﺘﺮﺍﻝ ﺍﻳﮏ ﺗﻌﺎﺭﻑ | ﻣﻮﺳﻡ | ﺧﻄﻮﻁ | ﺷﻌﺮﻭﺷﺎﻋﺮﻯ | ﺗﺼﺎﻭﻳﺮ | ﺧﻮﺍﺗﻴﻦ | ﻫﻤﺎﺭﻯ ﺑﺎﺑﺖ |
Managed by: FAIZ webmaster@chitraltimes.com Powered by: Schafei