2014 08
ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترالی کی شرافت

آفتاب خان ریسرچ افیسر خیبر میڈیکل کا لج پشاور

اجکل کےپاکستانی معاشرے میں جہان بہت سی چیزون کا فقدان ہے۔ وہان بجلی کے ساتھ ساتھ شرافت کا وجود بھی بہت نایاب ہے۔ لیکن صوبہ خیبر پختنخواہ کا اک علاقہ  "چترال"جو اپنے باسیون کی شرافت کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔اس علاقے کے عوام اکثروبیشتر بہت ساری مسائل کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔ ان مسائل کی وجہ سے جہان ان کے اندر احساس محرومی جنم لے رہی ہے وہان یہ مسائل ان کے اندر بے بسی اور شرافت کا مادہ پیدا کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ہیں۔                            

مجھ سے ایک صاحب نے پوچھا کہ چترال کے لوگ اتنے شریف کیون ہوتے ہیں۔ میں نے کچھ لمحہ اس کو بغور دیکھا۔ پھر     ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا کہ حکمرانون کی وجہ سے۔ یہ جواب سن کر وہ صاحب ششدر رہ گیا اور پوچھا وہ   کیسے؟

میں نے کہا۔ کچھ دن پہلے میں نے اک خبر دیکھا کہ ہمارے ملک کا ایک رہنما جہاز میں سفر کیا، جہاز کی وہ سیٹ جہان پہ وہ صاحب براجمان تھا، کچھ زاویے پہ ہلی ہوئی تھی۔ جائے وقوع پہ پہنچ کے اس صاحب نے جہاز عملے کی جو درگت بنائی۔ وہ عملہ عشرون تک یاد رکھین گے۔ بڑی منت کے بعد جہاز کے عملے نے جان چھڑائی۔ وہ صاحب ایؑرپورٹ سے نکل کے سیدھا ہسپتال کا رخ کیا ، جہان ان کو طبی معائنہ کے بعد اس یقین کے ساتھ فارٖغ کیا گیا، کہ ان کے ہر عضو بدن صحح کام کر رہے ہین، ڈرنے کی کوئی بات نیہں ہے۔ جبکہ اک چترالی کی سفر جب پشاور سے ایک ویگن میں شروع ہوتی ہے۔  تو تین گھنٹے تک سفر میں نیند کا غلبہ رہتا ہے۔ اس کے بعد ترتراہٹ اور ارتقائی حرکت شروع ہوتا ہے، جتنا چترال کے قریب ہوتے جاوؑ گے، تو اس ترتراہٹ اور جھومنے میں اتنے شدت اتی ہے، کہ بعض اوقات ایسا لگتا ہے، کہ پسلییان ٹوٹ کے دل باہر ایا ہے۔ چترال پہنچ کے غیرت، ہمت اور حوصلہ سب نکل کے صرف اور صرف شرافت بچ جاتی ہے۔  خدا نہ کرے، کہ راستے میں پٹھان ڈرئیورسے یا ہوٹل  میں تکرار ہو۔ ورنہ غصے کی حا لت میں  پشتو زبان میں تکرار کرنا اک چترالی کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسلیئے تکرار کے بجائے اک چترالی شرافت دکھانے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔ اس کشمکش میں ہمیشہ اک چترالی کی ہی حق تلفی ہوتی ہے۔ اک دن میں پشاور اڈے میں موجود تھا ۔ اڈے میں گاڑیاں چترال کے لیئے راوانہ ہو رہے تھے۔ اک چہل پہل کا سامان تھا۔ لوگ اپنے سامان ادھر اُدھر کر رہے تھے۔ اک صاحب کو دیکھا ۔ جیب سے ایک ہزار کا نوٹ نکلوا کے اک پشتون ڈریئور کو دے رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ اپ نے یہ ہزار روپے کیون دیا۔ کہنے لگا۔ میرے پاس دو بیگ ہیں۔ 4 کلو میٹر کی مسافت سے ہوٹل سے ادھر پہنچا ہون۔ اگر مزید تکرار کیا تو مجھے ادھر ہی رہنا پڑے گا، تپ ایک ہزار نہیں کئی ہزار گنوانا پڑے گا۔ اسلیئے شرافت کا دامن تھامنا اچھا ہے۔ اسی لمحے دوسری جگہ دو چترالی بھائیون نے شرافت کے پیمانے لبریز ہونے پہ اخر کار شور اور ہنگامے پہ اتر ائے تھے۔ لوگون کا ہجوم اُدھر جمع ہوا۔ پوچھنے پہ پتہ چلا۔ کہ ان بھائیوں کو جس سیٹ پہ بیٹھایا گیا تھا۔ ان کے ساتھ اک پشتون بھائی کو بیٹھایا جا رہا تھا جس کی موٹائی اور حجم کا تخمیننہ تقریبا' تیں چترالیون کے لگ بھگ پرابر بتائی جا سکتی تھی۔ چترالی بھایئون کا اعتراض تھا۔ کہ ہمیں ساینس بھی لینا ہوگا ۔ اور یہ دو ادمیون کی جگہ لے گا لہزا ہمارے ساتھ نہ بیٹھایا جائے۔ پشتون بھائی نے اردو زبان میں کہا "کہ تم چترالی ایسا  ہی ہوتا ہے، دبلہ پتلہ۔ ہمارا کیا قصور ہے"۔ میری بھی چترالی ہوتے ہوئے شرافت کا یہ انتہا تھا کہ بس دل میں ہی کہا کہ اس سفر میں لکھ پتا چلے گا ، کہ چترالی دپلے پتلے کیون ہیں۔ جب گاڑی کھڈے عبور کرتے ہوئے قلابازیان کھائے گا، تب دیکھنا کہ اپ کے حجم پہ کیا اثر پڑتا ہے۔ اخر کب تک وہ بیچارے اعتراض کرتے۔ اخر کار وہ چترالی بھائیون نے اپنی شکست تسلیم کیے۔ اور شرافت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اس طول و عرض کے مالک پشتون کے ساتھ بیٹھ گئے۔  کیا کرتے،اور ان کے پاس اور کوئی چناوؑ نیہں تھا ۔ اس کے بعد اللہ کو پتہ ہے، وہ چترالی حضرات  چترال پہنچنے کے بعد گھر پہنچے ہونگے یا ہسپتال پہنچے ہونگے۔  ساتھ ہی اک اعلی معیار کے ایئر کنڈیشن کوسٹر میں بیٹھے کچھ لوگ بڑے انہماک سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ان میں کچھ لوگ طنزیہ مسکراہٹ کا بھی اظہار کر رہے تھے۔ سامنے جا کے گاڑی کا بینر دیکھا تو وہ کوسٹر سوات کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ اس لمحے حکمرانون پہ سخت غصہ ایا کہ کیون ہم چترالیون کو یون تماشہ بنایا جا رہا ہے؟ لیکن فورا" اپنی بے بسی اور شرافت یاد اگیا۔ اور یہ لمحے مجھے سوچنے پہ مجبور کر دیا، کہ حالات اور حکمرانون نے ہم چترالیون کو بے بس اور مجبور کرکے رکھے ہین۔ جس سے ہمارے پاس شرافت کے سوا کوئی چارہ ہی نیہں۔  میں نے اس صاحب کو اک اور واقعہ سنایا۔ کہ چند سال پہلے جب میں کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔پشاور سے کراچی ریلوے ٹرین میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس ٹرین میں میرے ساتھ ایک چترالی ہم سفر تھا۔  وہ بھائی اپنے ساتھ چترال کے مشہور سلاجیت کسی کے لیے گفٹ کے طور پہ لایا تھا۔ ادھے راستے میں دو پولیس اہلکار ٹرین میں داخل ہوئے۔ ہمارے نشست کے قریب اکے رک گئے۔ ہمیں بغور دیکھنے لگے۔ میں ان کو کچھ زیادہ شریف لگا، مجھے چھوڑ کے میرے ساتھ چترالی بھائی کی تلاشی لینا شروع کر دیے۔ اس کے بیگ سے چترالی سلاجیت برامد ہوا۔ پولیس اہلکار نے پلکین اٹھا کے، انگھڑائی لیتے ہوئے روپ دار انداز میں پوچھا، یہ کیا ہے۔ میں نے کچھ ہوشیاری دیکھانے کی کوشش کی اور فورا بولا۔ کہ یہ چترالی سلاجیت ہے۔ پولیس اہلکار نے میری ایسی سرزنش کے ساتھ چپ کرنے کو بولا، کہ ادھی شرافت اور میرے اندر پیدا ہوگئی۔ چترالی بھائی کو اپنے ساتھ پہ کہتے ہوئے لے گئے ۔ کہ تھانے چلو ہمیں یہ چیک کرنا پڑے گا کہ چرس ہے یا واقعی سلاجیت ۔  پولیس اہلکار مجھے اتنے معصوم لگے کہ بس صرف دل میں کہا کہ یہ تو اندھا بھی سمجھ جائے گا کہ سلاجیت ہے۔ چترالی بھائی کو لے کے پولیس اہلکار رفو چکر ہو گئے۔ ٹرین پلیٹ فارم سے اہستہ اہستہ چلنا شروع  ہو گئے۔ اتنے میں وہ بھائی واپس اگیا۔ دل خوش ہو گیا کہ چترالی بھائی واپس اگیا، اگر گاڑی چل پڑتی تو یہ بے چارہ انجان علاقے میں کہان جاتا۔ مجھ سے رہا نہیں گیا۔ فورا پوچھا کہ کیا کہا اُن لوگون نے۔ چترالی بھائی کے چہرے پہ ان چند لمحون میں اتنی شرافت ائی تھی کہ میں خود حیران ہوگیا۔ وہ بھائی انتہائی افسردہ اور شرافت سے بولا۔ کہ مجھ سے وہ سلاجیت سمیت جیب سے پیسے سب لے گئے۔ خیر چترالی ہونے کے ناتے میں نے تسلی دیا۔ اور اپنے جیب سے کجھ رقم نکال کے اس کو دے دیا۔ غرص اور بھی بہت سی باتیں ایسی ہیں جس میں ایک چترالی کے پاس شریف ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

یہ ساری باتیں سن کے اس صاحب نے اور سوال کیے بغیر یہ کہنے پہ اکتفا کر دیا کہ اس قوم کو صحیح معنون میں نا امیدی اور بے بسی  میں دکھیلا جاتا ہے۔

ائیے دیکھتے جائیے اخر کب تک ہم چترالی سپ کے ہاتھون بےبس اور شریف بنتے جائیں گے۔ اور حکمران کب تک ہمٰیں کھلونا بنتے ہوئے  تماشہ دیکھتے جایؑں گے۔ اللہ تعالی ہم سپ کو اک خوشحال زندگی گزارنے اور دیکھنے کا وقت عطا فرمایؑے۔

 

 

 

 


  mail to us at: chitraltimes@gmail.com
| ﺻﻔﺤﻪ ﺍﻭﻝ | ﭼﺘﺮﺍﻝ ﺍﻳﮏ ﺗﻌﺎﺭﻑ | ﻣﻮﺳﻡ | ﺧﻄﻮﻁ | ﺷﻌﺮﻭﺷﺎﻋﺮﻯ | ﺗﺼﺎﻭﻳﺮ | ﺧﻮﺍﺗﻴﻦ | ﻫﻤﺎﺭﻯ ﺑﺎﺑﺖ |
Managed by: FAIZ webmaster@chitraltimes.com Powered by: Schafei