:: Front Page

:: Your Letters

:: Articles

:: Weather Updates

:: Poetry

:: Chitral Info

:: Pictures

:: About Us

 

 

 

 

 

 

 

      October 15, 2013

Detail



 

 پروفیسر عبیدالرحمٰن  : سیماب صفت انسان

پروفیسر محمد سلطان العارفین (سوات)

بقول والدہ صاحبہ میں پروفیسر عبیدالرحمٰن مرحو م سے 10 دن پہلے پیدا ہوا ۔ کہنے کو تو وہ میرے چچا زاد بھائی تھے لیکن ہمارا بچپن ایک ساتھ گزرا ، آپس میں ہمراز اور غمگسار رہے ۔ وہ مجھ سے ایک سال پہلے سکول میں داخل ہوئے اور یہ فرق گریجویشن تک برقرار رہا۔ گریجویشن کے بعد عبیدالرحمٰن مرحوم نے کچھ عرصہ کے لیے قرطبہ پبلک سکول پشاور میں ملازمت اختیار کی۔ اور اسی تجربے کی بنیاد پر چترال میں پہلی دفعہ پبلک سکول قائم ہوا۔اس کو کامیاب بنانے کا سہرا بھی پروفیسر عبیدالرحمٰن کے سر ہے۔چترال کے تمام پبلک سکولوں کے قیام اور کامیابی میں ان کا کسی نہ کسی طرح کلید ی کردار رہا ہے۔ تعلیم عام کر نا ان کا مقصد تھا۔انہوں نے اسے دولت کمانے کا ذریعہ نہیں بنایاکیونکہ اگر وہ چاہتے تو کاروبار کی حیثیت سے اس پیشے کو اختیار کرتے اور تمام لوگوں کیطرح ایک سکول ، کالج بناکر باقی زندگی آرام سے گزارتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے ہر جگہ سکول قائم کئے اور دوسروں کو اس میں اپنا ہمرکاب بنایا اور چترال کے بیشتر علاقوں میں علم کی شمع روشن کی ۔وہ صحیح معنوں میں ایک ماہرتعلیم تھے ۔ 

یونیورسٹی کے زمانے میں ہمارے درمیان پروفیسر شمس النظردَر آئے اور جب پروفیسر عبید الرحمٰن ان کو زیادہ وقت دینے لگے تو مجھے پروفیسر شمس النظر رقیب لگنےلگا۔ان کی رفاقت نے پروفیسر عبید الرحٰمن کی صلاحیتوں کو جِلا بخشی ۔

برخوردارم ابرار الرحمٰن نےاپنے والد صاحب کے لیے بہترین لفظ"سیماب صفت انسان"استعمال کیا ہے۔وہ یقینا سیماب صفت تھے۔ہر وقت متحرک رہتے۔ یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر ۹ میں ان کا سنگل کمرہ تھا۔ ایک دفعہ دیکھتا ہوں کہ اپنے آپ کو مفلر سے کرسی کے ساتھ باندھا ہے۔پوچھنے پر بتایا کہ کچھ عرصے کے لیے اپنے آپ کوپڑھائی پر متوجہ کرنے کےلیے  یہ حربہ استعما ل کیا ہے۔

پروفیسر عبیدالرحمٰن مرحوم نے اچانک حج بیت اللہ کاارادہ کیا۔میں نے کہا کہ کچھ انتظار کر و تاکہ اکھٹے حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کریں مگر وہ کب رکنے والا تھا۔شاید اپنے حصے کا کام وہ جلد مکمل کرنا چاہتا تھا۔
بچپن میں جب ہم کھیلتے تھے تو وہ ہمیں درمیان میں چھوڑ کر چلے جاتے تھے، آج بھی اسی طرح  ہمارے اچانک ہی چھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ وہ تو چلے گئے اب ہم باقی زندگی ان کے بغیر کیسے گزاریں ؟

برادرم ابرارالرحمٰن نے اپنے آنسو وں کو موتی بنا کر دل پر گرائے لیکن ہمارے پاس نہ دل رہا اور نہ آنسووں کو روک کر موتی بنا سکتے ہیں ۔عجیب کیفیت ہے ۔کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ہمیشہ وہی چہرہ نظروں کے سامنے گھومتا ہے اور وہ بیتے لمحات ذہن میں گردش کرتےہیں۔

پروفیسر عبیدالرحٰمن مرحوم واقعی عجیب انسان تھے، ہر کام نرالا کیا اور نرالے انداز میں ہم سے رخصت بھی ہوئے۔


 

 

mail @ chitraltimes@gmail.com

| Front Page | Chitral | Advertisement | Weather | About Us | Bookmark Us |