:: Front Page

:: Your Letters

:: Articles

:: Weather Updates

:: Poetry

:: Chitral Info

:: Pictures

:: About Us

 

 

 

 

 

 

 

  December 27, 2012

Detail

In The Name of ALLAH The Almighty
 

  دل کی بات

مفاهمتوں کا سلسله اورعوام کی بے حسی

 سایره سید

سارا گاؤں اس گورکن کے کرتوتوں کی وجہ سے بہت پریشان تھاکیونکہ مردے دفنانے کے چند دنوں کے اندر ہی کفن چوری ھوجاتی تھی گاؤن والے کرتے بھی کیا کیونکہ یہ گاؤں کی قبرستان کا واحد گورکن خاندان تھا جو برسون سےعلاقے کی خدمت مین مصروف تھا۔ پس علاقے کے لوگ برداشت کرنے پر مجبور تھے۔
لوگوں کی بد دعایئں رنگ لائیں اورایک دن پتہ چلا کہ بڑا گورکن فوت ہوگیا۔اس پر اہل علاقہ  بہت خوش تھے ایک دوسرے کو مبارکباد بھی دی کہ چلو بلاخرکفن چور گورکن سے تو جان ھی چھوٹ گئی اب ہمیں  کفن چوری کا فکر نہیں رہے گا۔ باپ کے بعد بیٹے کو علاقے کا نیا گورکن بنایا گیا اور لوگوں نے نوجوان گورکن کی تقرری کا جشن بھی منایا۔
نوجوان گورکن کے آنے پر لوگ اطمنان کا سانس لیا ہی تھا کہ کچھ ھی عرصے میں لوگوں کو ایک نئی اور بڑی مصیبت  سے واسطہ پڑا۔اس بار کفن چوری کے ساتھ قبر کھلا چھوڑدیا جاتا تھا ۔  لوگ قبرستان جب دعا کیلیے جاتے تو اپنے پیاروں کے لاشوں کو بر ہنہ دیکھتے تو زارو قطار روتے اور نئے گورکن کو گالیوں کے ساتھ بدعائیں بھی دیتے۔ ساتھ اسکے باپ کے وقت کویاد کرتے اور  ایک دوسرے سےکہتے کہ مرحوم بیٹے سے بہت اچھا تھا جو کفن چور ہونے کے باوجود مردوں کی حرمت کا کچھ تو خیال رکھتا تھا۔ کفن لینے کے بعد قبرون کو دوبارہ سے بند کرتا تھا جس سے لاش کم از کم پردے میں تو رہتے تھے۔ اب یہ کمبخت توکفن بھی چراتا ہے اور ساتھ لاشوں کو  بر ہنہ  چھوڑدیتا ہے۔
اب گاؤں والے کر بھی کیا سکتے تھے جنکا پہلے سے ماننا تھا کہ دفنانے کا کام تو صرف گورکن کا ہے اور گورکن جو بھی بنے گا صرف گورکن ۔خاندان سے ھی بنےگا۔اب مزید پریشانیوں کے ساتھ خاموش سمجھوتہ کرنے کے علاوہ ان لوگوں کے پاس کوئی اور چا رہ نہیں تھا۔
آچ میں سوچتی ھوں کہ ہمارے ملک اور اس بدقسمت  گاؤں کے حالات میں کتنا عجیب مماثلت پایا جاتا ہے۔ یہاں بھی لوگ لاکھ ذلت اورٹھوکریں کھانے کے باوجود انہی سیاسی پارٹیوں اور خاندانوں کےلوگوں اورانہی کے اولاد سے اپنے بہتر مستقبل اور تبدیلیوں کی امیدیں لگائے بیٹھتےہیں اور ہمارا بھی ماننا ہیےکہ حکمرانی انہی پارٹیوں اورچندخاندانوں کی میراث ہے۔ یعنی ھم تو کبھی ذ ہنی طور پر آذاد ہی نہیں ھوئے۔ فرنگی کے جانے کے بعد ہم انہی کے غلاموں کی غلامی می اگئے۔ مالکوں کی تبدیلی پر ہم نے آزادی کا جشن بھی منایا۔ بعد میں پتہ چلا کہ فرنگیوں کے تو اپنےکچھ اصول ہوتے تھے ان کےبعد کے حکمران توماسوائے قائدآعظم کےذیادہ تر کسی اصول کی بجائے صرف مفاہمتی پالیسیوں پر یقین رکھتے والے حکمران ہی نکلے۔
پاکستان میں اگلے الیکشن قریب ھیں اورقبلہ گرو جی سمیت کچھ دوسرے کھلاڑی بھی اپنی اگلی نسل کو میدان میں اتارنے جا رہے ہین ۔اس بار ھم بہت سی پورانی سلسلوں کی نئی چھرے بھی دیکھ رہے ہیں۔عوام حسب دستور ان صاحبزادوں،شہزادوں،رجاؤں، چوھدریوں،میاں گاں اور مخدوموں کی اس نئی کھیپ کو پھولون کی پتیوں کے ساتھ استقبال کرنے کی بھر پورتیاری کر رہی ہے۔ عوام کی خوش فہمی کی انتہا تو دیکھئیے کہ لوگ مڈیا اورسوشل مڈیا میں ایک دوسرے کویہ نوید سنارے ہیں کہ فلان فلان صاحب اب سیاست میں آرہا ہے اس ملک کی تقدیر اب بدلنے والی ہے اور پاکستان کے سارے مسائیل ایک چٹکی مین حل ہونے والے ہیں۔ کسی کو یہ فکر ہی نہیں کہ ان صاحبزادوں میں قیادت کی کتنی صلاحیت ہے۔ آور کہیں ایسا تو نہیں کہ آگے جاکے ھمیں بھی کہنا نہ پڑے کہ انکے اجداد کتنے اچھے لوگ تھے جو صرف سرکار کا پیسا کھاتے تھےیہ لوگ تو ملک لوٹنے کیساتھ عوام کا خون بھی پی گئے!!

بہرحال مایوسی گناہ ہے ھم سب کو ایک اچھی امید کے ساتھ ملکر یہ دعا کرنا چاہئے کہ یہ نوجوان اور پڑھے لکھے لوگ ہمارے لیے واقعی میں مخلص و سچے وژن والےسیاستدان ثابت ہوں اور پاکستان کو موجودہ پستیوں اورتاریکیوں سے نکالکر ترقی کی راہوں اور نئی روشنیوں کی طرف لے جائیں۔ ورنہ یقین جانیئے ہماری آئیندہ کی نسلیں ہمارے موجودہ دورکو  بھی '' کیا اچھا زمانہ تھا''  کہکر یاد کریگی۔

 

 

 

 

mail @ chitraltimes@gmail.com

| Front Page | Chitral | Advertisement | Weather | About Us | Bookmark Us |