:: Front Page

:: Your Letters

:: Articles

:: Weather Updates

:: Poetry

:: Chitral Info

:: Pictures

:: About Us

 

 

 

 

 

 

 

  December 04, 2012

Detail

In The Name of ALLAH The Almighty
 

صدر زرداری کا مفاہمتی جمھوریت اور پاکستان

پاکستان مین یہ بات بہت مشھور ہے کہ زرداری کو سمجھنے کےلیےء پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت ہے- لیکن ھم نےپی ایچ ڈی کیے بغیر آپکے سامنے اس  عظیم شخصیت پر بولنے کی جسارت اس لیے کی کہ ایک تو ھم اُنکے بڑھے فین ہیں دوسری بات یہ کہ زرداری بہت بڑے دل کے مالک ہیں جوکہ لوگوں کی بڑی سخت باتون کا بھی بُرا نہی مناتے بلکہ بعض اوقات صرف مُسکرادیتےہیں۔
 

زرداری صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اُنہوں نے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ اتفاق رائے کیساتھ اپنی پسند کے قراردادیں اور بے شمار ترامیم پاس کروایئں۔کاش اگر وہ ملزموں کو سزا دینے اورجرایم کی روکتھام کیلےبھی کچھ قوانیں پاس کروا لیتے تو کتنا ہی اچھا ہوتا۔ بقول انکے اپنے با اثر وزیر ڈاکٹر ملک کے ملزمان قانونی کمزوریوں کا فایدہ لیکر کورٹوں سے نہایت آسانی کیساتھ  چھوٹ جاتے ہیں اور اکثر کا اس وجہ سے ٹرایل ہی نہیں ہوپاتا اورنہ کیس بنتا ہے۔ یوں جرایئم کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل رہا ہے۔ خیر ھم اُنکی اس مجبوری کو  بھی سمجھتے ہیں کہ مفا ہمتی پالیسی کی وجہ سے وہ یہ سب کر کے دوست سیاستدانوں کو ناراض نہیں کر سکتے ھیں جو اسوقت خاص کر کراچی میں خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف عمل ہیں۔

زرداری صاحب جب اقتدار میں آئے تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ذیادہ عرصے تک حکومت نہی کر سکینگے۔ لیکن زرداری نے اپنی مُفاہمتی سیاست کے جادُو سے دنیا کو حیران کر دیا ۔اس فارمولے کے تحت تمام سیاستدانون کی اصلی حیثیت،انکی پسند ،اندرونی کمزوریون ،تواقّعات اور مطالبات کا پہلے تو پتہ چلایا گیا اور بعد میں اُنکے ساتھ ایک ایک کرکے ڈیل کی گئ۔

حیرت کی بات یہ ھے کہ زرداری صاحب نے اپنے پورانے دُشمنوں سے لیکر ان لوگون تک سے ڈیل کی جنکو وہ کل تک بی بی شھیدکا قاتل قرار دیکر ان سے تعذیت تک قبول نہی کرتا تھا۔سیاستدانون نے جب اپنی تواقعات اور اوقات سے بھی بڑ کر دام اورپیشکشین دیکھین تو پہلے انہیں یقین نھیں آیا اور بعد میں تمام ایک ایک کرکےنہ صرف زرداری صاحب کے ساتھ اقتدار میں شریک ھُوئے بلکہ اس بھی بڑھکر خود کو اُنکے بڑے اور چھوٹے بھائ کہلوانے میں بھی فخر محسوس کرنے لگے۔ جو فرنٹ پر نہیں کھیلا وہ کمیٹیوں کے چیرمین بنکر وزیروں کے مراعات لئے اور کوئ فرینڈلی اپوزیشن بنکر مزے لیتا رہا۔ موفاہمتی فارمولے کی جادوگری نے اچ زرداری کوپاکستان کی تاریخ کا مظبوطترین اور کامیابترین صدر ثابت کر دیاہے۔تاریخ کی ستمگری کو دہکھیں کہ جس شخص نے یہ فارمولہ بنایا تھا وہ خود بےچارہ تو دربدر ہوگیا لیکن اُنکا دیا ہوا فارمولہ زرداری صاحب کےلئےنُسخئہ کیمیا ثابت ھوگیا۔ 
آچ تاریخ میں پہلی بار جمھوری حکومت بخیریت اپنی مُدت پوری کر ہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ پاکستان اسوقت پہلے کی نسبت اور زیادہ مظبوط اور مستحکم ھوتا لیکن بدقسمتی سے ایسا بلکل بھی نہیں ھے۔
اس وقت کا پاکستان معاشی طور پر نہایت ہی کمزور اور اسکے زیادہ تر ادارے تباہی و بربادی کے آخری دہانے پر کھڑے ہین۔لوٹ مار اور کرپشن کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔لوڈ شیڈنگ اورجانی ومالی عدم تحفظ کی وجہ سے ملک کی زیادہ تر صنعت پہلی ھی باہر مُنتقل ہوچکی ھے اور جو بچے ھؤے ہیں وہ بھتہ مافیا کے کے ھاتھوں یرغمال بنے ہوے ھیں ۔بھتہ خوری کی لعنت وبا کراچی شہر میں اپنی قدم پوری طرح جمانے کے بعد آہستہ آہستہ ملک کے دوسرے حصون کی طرف پھیل رہا ہے۔

گزشتہ حکومتوں کے دور میں شروع کیئے گئے لواری ٹینل جیسی میگا پراجکٹ اور دیگر ہزاروں  منصوبے حکومت وقت کی غیر زدارانہ پالیسی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے بند پڑے ہیں  اور پورے ملک میں ان نامکمل اور ادھورے ترقیاتی منصوبوں کو دیکھکر لگتا ہے کہ پاکستان نامکمل منصوبون کا عالمی قبرستان بن گیاہے۔آچ ریاست کے اندر کئ ریاست بن چکے ھیں اور ریاست کا اداروں پر کنٹرول روز بروز ختم ہوتا جا رہا ہے۔
 
اگلے الیکشن میں بھی اگر مفاہمتی گروب دوبارہ جیتتا ہے تو اس بار ہم امید کر سکتے ہیں کہ یہ لوگ اس دور میں کچھ نیک کام بھی ضرور کرینگے۔ اگرخُدا نے  چاہا تو یہی زرداری صاحب ہمیں نہ صرف مشرف کے دور کا دس سال پہلے والاہی پاکستان لوٹا سکتے ہیں بلکہ اپنے دوستون جیسی مہر بانی اگر اس بدنصیب قوم پر بھی کیا تو پاکستان بہت کم عرصے میں ایک خوشحال ملک بھی بن سکتا ہے۔کیونکہ اسوقت زرداری صاحب ہی واحد سیاستدان ہیں جو سارے دیگر سیاستدانون کو ایک وقت میں ایک ہی دسترخوان پر بھیٹھا کے انکو کسی نیک کام پہ متفق کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہی اس وقت مولانا صاحب کی پسندیدہ حلوے سے لیکر میاں جی کے دلپسند سری پائے تک سب کی کمزوریوں سے نہ صرف خوب واقف ہیں بلکہ ان تمام حضرات گرامی سے کام نکالنے کا فن بھی جانتے ہیں۔

لیکن ذرا ٹھیریئے اگر آپ صرف زرداری کو ہی اس موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ٹھراتے ہیں تو میرے خیال میں آپ ذیادتی کر رہے ہیں۔ذرا سوچھیں اگر زرداری صاحب ھم اٹھارہ کروڑ عوام کیلیے کام کرہے ہوتے توکیا آپکو نہیں معلوم کہ یہ چند  سیاسی شخسیات اُنکی زندگی کیسے عذاب کردیتے۔کسی کو اسلام خطرے میں نظر آتا،کسی کو ملکی سلامتی داؤ پر لگی نظر آتی،کوئ صوبایئ خود مختاری کا رونا روتا اور کوئ مذھبی ولسانی مسایئل لیکر روڈوں پر آتا اورھم اٹھارہ کروڑ عوام رنگ برنگے جھنڈھیاں اٹھاکراپنے اپنے محبوب قایدیں کے پیچھے پیچھے ھوتے۔ یوں یہ سارے مظلوم ملکر ایک منتخب حکومت کو خواہمخواہ گرادیتے۔ پس صدر زرداری نے اگر کمال ہوشیاری سے اٹھارہ کروڑ نادان عوام کیساتھ مغز خواری کی بجائےصرف چند لوگوں کی خدمت کا فیصلہ کیا تو میری ناقص رائے کیمطابق کوئ برا نہیں کیا،اپ کم از کم مزے کی حکومت کے ساتھ بڑے اطمنان کیساتھ غیرملکی دوروں کا لطف تو اٹھا سکتا ہے نا! کیونکہ پاکستان میں اگر سیاسی قایدیں سُکھی  رہیں تو ھم عوام بھی حالات کیساتھ فورآ سمجھوتہ کرلیتے ہیں۔  اوررہا ایک تیر میں دو شکاروالی بات(حکمرانوں کے یہ سب مزے) تو کوئ خالص جمھوریت موفاہمتی فارمولے کے بغیرمیرے خیال میں تو نہیں دے سکتا ۔

اور آخری بات یہ کہ  صدر زرداری نے تو ثابت کردیا کہ وہ یاروں کے یار ہیں اگر چاہیں توکیا نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر ہمارے محبوب پارٹی و سیاسی قایئدیں کی زندگوں می جو موج اور زبردست تبدیلیاں اس دورمیں آئ ہیں ایسی ترقی کی مثال آپکو دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی نہیں ملے گی ۔ اب  ھماری قسمت میں یہ سب بہاریں کیوں نہیں آتیں ؟ اس بات کے جواب کیئلے ھمین اپنے اجتماعی اعمال کا ایک دفعہ پھر جائزہ لینا ھوگا ۔ کیونکہ قدرت کبھی کسی قوم کیساتھ ذیادتی نہیں کرتا بلکہ قومُوں کے اعمال کا بدلہ چھکاتا ہے۔باقی رہا مفاہمتی جمھوریت ۔۔۔۔۔ جمھوریت تو جمھوریت ہوتا ہے چاہیں ملک کے عام عوام کیلئے ہو یا چند کرپٹ سیاستدانوں کی ذات کیئے!!!


سائرہ سید
گلبرگ،لاہورا


 

 

 

mail @ chitraltimes@gmail.com

| Front Page | Chitral | Advertisement | Weather | About Us | Bookmark Us |